Home / کالم / آرمی چیف کی توسیع اور پاکستان پیپلزپارٹی

آرمی چیف کی توسیع اور پاکستان پیپلزپارٹی

 

آرمی چیف کی توسیع اور پاکستان پیپلزپارٹی
تحریر:زاہد مغل

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں ایک طوفان برپا ہے ہر کوئی نہ صرف اپنی رائے کا ا ظہار کر رہا ہے بلکہ اسے درست سمجھ کر مخالف راے کو جہموریت دشمن اور ملک دشمن کے خطابات سے نواز بھءرہا ہے،پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے،ہر فرد کو حق ہے کے وہ کسی بھی مسلئہ پر اپنی رائے کا اظہار کرئے،مگر جہاں مہذ ب معاشرہ میں اپ کے حقوق اہم ہیں اسی طرح باحثیت شہری گچھ فرائض بھی ہیں۔
آرمی چیف کی توسیع کے معاملے کو جس طرح متنازعہ بنا کر سیاسی جماعتوں پر تنقید ہو رہءہے وہ بلاجواز ہے کیونکہ وزیراعظم کے غیر معمولی اختیارات کے بل کو سول سپرمیسی کے خلاف قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،وزیراعظم کوءبھی آج جنرل باجوہ کو توسیع ملی ہے، توسیع وزیراعظم دی ہے، وہ چاہیں تو نہ دیں،اس قانون کے ذریعے وزیراعظم کو مزید اختیارات دیئے گئے ہیں لیکن سوال سول. سپر میسی پر اٹھایا جا رہا ہے۔
اس بات سے اختلاف نہیں کے ادارے اہم ہو تے ہیں ملک اہم ہو تا ہے افراد نہیں۔نءانے والی ہر حکومت پہلی حکومتوں کا تسلسل ہوتی ہے،اور جہموریت کی کامیابی یہ ہے کے جہمور یت اور سیاسی نظام بغیر کسی رکاوٹ کے لگا تار چلتا رہے،اورمزہبی یہ ہی ایک طریقہ ہے جس سے ملکی میں جہموریت،سیاسی نظام اور معاشی ترقی ممکن ہو سکتءہے،اور جہاں تک ارمی چیف کی تعیناتی کا مسلئہ ہراس کا لیے مناسب طریقہ یہی ہے کے سنئیر جرنیل کو ازخود آرمی چیف کے عہدے پر تعینات ہونے جانا چاہیے جس طریقہ کار سے سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج چیف جسٹس بن جاتا ہے، اس سے ہمیشہ کے لیے pick and choose والہ معاملہ حل ہو جائے گا اور تمام ادارے ایک منظم طریقہ کار سے چلیں گے،اور مستقبل میں یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔
حالیہ آرمی چیف کے پارلیمانیٹ سے توسیع والے معاملے میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ پاکستان پیپلزپارٹی کو بنایا جا رہا ہے اور پارٹی کے عہدےدار اور جیالے کھل کر اپنے راے کا اظہار کر رہے ہیں،جو اس بات کا ثبوت ہے کے پاکستان پیپلزپارٹی ایک جہمور ءاور عوامی جماعت ہے اس کا ہر کارکن ایک سیاسی خاندان کی طرح اپنا حق رکھتا ہے، کے وہ کسی بھی فیصلے پر اپنی رائے کا اظہار کر سکے اور پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے خوش ایئند بات ہے،کے بلاول بھٹو زرداری کے قافلے میں کوئی منافق نہیں ہے،اس کے سارے ساتھ سچے اور کھرے ہیں,مگر تمام پارٹی عہدیداروں آور جیالوں کو یہ بھی ذہین نیشن ہونا چاہیے کے یہ فیصلہ فرد واحد کا فیصلہ نہیں تھا اور نہ یہ تھوڑا پانی گیا،بلکہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سنیٹرل کمیٹی کا طویل اجلاس ہوا،اور تمام ممبران کے اتفاق رائے سے فیصلہ جات ہوے،پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی منجھے ہوئے زیرک سیاستدانوں پر مشتمل ہے، اور بابائے سیاست آصف علی زرداری اور نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ہر فیصلہ اس ملک میں جہمور یت کی بقا کے لیے اداروں کے استحکام کیلئے اور معاشی اور سیاسی طور پر پرامن پاکستان کے لیے ہے،مگر تنقید کا یہ مناسب طرئقہ خار نہیں کے یوں سو شل میڈیا کی نظر کیا جاے،اپنے ضلعی صدور یا ونگز کے صدور کے ذریعے اپنے راے پارٹی کی مرکزی قیادت تک پہنچائی جا سکتءہے، پیپلزپارٹی اج بھی اپنے نظریاتی سیاسی ورثے کو اپنے بینادی منشور کو لے کر آگے بڑھ رہءہے،ایک ایسے انقلاب کی طرف جب اس ملک میں محنت کشوں کا مزدوروں کا ہمارا راج ہو گا۔
اس کے لیے بےنظیر بھٹو شہید نے اپنءجان کا نذرانہ دے کر بھٹو شہید نے پھانسی کے پھندے کو چوم کر دیا، جو ہم پر قرض ہے اس خون کی لاج رکھتے ہوے اپنی سیاسی جماعت کا پیغام بن کر پوری دنیا میں پھیل جایئں،اور پارٹی کو مضبوط کریں کے صرف یہی واحد سیاسی جماعت ہے، جو محروم طبقے کی نمائندگی کر تی ہے۔

Check Also

غلامی سے نجات !

  جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی حقیقت اور دعوےٰ دو الگ الگ باتیں ہیں یہ الگ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *