Home / کالم / آزادی کا سفر۔۔۔۔۔

آزادی کا سفر۔۔۔۔۔

 

 

آزادی کا سفر۔۔۔۔۔!
وطن عزےز پاکستان لازوال قربانےوں سے معرض وجود میں آےا۔اس دھرتی کےلئے برصغےر پاک وہند کے ہر مسلمان نے اپنی حےثےت کے مطابق عظےم قربانےاں دی ہیں جوکہ ناقابل فراموش ہیں۔وطن عزےز کی خاطر بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھر ، گاﺅں اوراپنی زےست کی کمائی سمےت سب کچھ چھوڑ کر آئے ۔اس سفر میںبڑی تکلیفوں اورمشکلات کا سامنا رہا ، راستے میں کئی حملے ہوئے۔ہزاروں افراد موت کے منہ میں چلے گئے ،اس کارواں میں بزرگ، بچے اور بےمار بھی تھے لیکن ان لوگوں نے ہمت نہیں رہی بلکہ اپنے سفر کو جاری رکھا۔ پاکستان پہنچے تو نوزائےدہ ملک میں بھی بے شمار مسائل تھے۔اس وقت برصغےر پاک و ہند کے مسلمانوں نے انثار مدےنہ کی ےاد تازہ کرکے اپنے مہاجرےن بھائےوں کو کھلے دل سے خوش آمدےد کہا ۔©”اس کاروان میں اےک دس سالہ لڑکا شامل تھاجس کا نام نواب تھا۔اب اس کی عمر بےاسی سال ہے۔ اس کا والد خمل اپنے گاﺅں حرسولی کا نمبردار تھا۔حرسولی کی تحصےل گون گڈہ اور رےاست الواری تھی۔ان کی کافی زمینیں اور چوپائے بھی تھے۔انھوں نے بتاےا کہ والد نے اےک شام ہمیںبتاےا کہ اب ہم ےہاں نہیں رہیں گے اور پاکستان جائےں گے۔پاکستان ہمارا ملک ہے۔وہاں ہم اسلام کے اصولوں کے عےن مطابق زندگی بسر کرےں گے۔گاﺅں کے لوگوں نے ان کو پاکستان جانے سے منع کیا۔لوگوں نے ان کو بتاےا کہ کچھ عرصے کے بعد حالات ٹھےک ہوجائےں گے۔ آپ اپناآبائی گھر چھوڑ کر نہ جائےں لیکن گاﺅں کا نمبردار نہ مانا۔نمبردار نے گاﺅں والوں کو بتاےا کہ آپ میرے ساتھ پاکستان چلیں ۔میں اپنے دےس پاکستان جارہا ہوں۔بہرحال گاﺅں والے جانے کےلئے آمادہ نہیں ہوئے ۔ ہم صبح سوےرے بے سرو سامانی کے عالم میں بےل گاڑی میں بےٹھ گئے۔ہمیں اپنے گھر، گاﺅں اور دےگر افراد کو چھوڑنے کا دکھ تھا لیکن ہمیں اپنے ملک جانے کی خوشی بھی تھی۔ہم بےل گاڑی میں بےٹھ کر جارہے تھے اور بار بار اپنے آبائی گھر اور گاﺅں کی طرف بھی دےکھتے رہے۔ جہاں تک نظر آتا رہا ، ہم پلٹ کر اپنے گاﺅں کو دےکھتے رہے۔ مےرے والد نے آخری مرتبہ پلٹ کر دےکھا اور کہا کہ ےہ گھر اور گاﺅں مجھے بہت پیارے ہیں لیکن مجھے میرا دےس پاکستان ان سے بھی زےادہ عزےز ہے۔میں نے اپنے ملک ہی جانا ہے۔اس کارواں میں ماں باپ، اےک بہن اور تےن بھائی تھے ےعنی چھ افراد پر مشتمل قافلہ اپنے ملک کے لئے رواں دواں تھا ۔ہم نے تقرےباً پچاس میل ےعنی اسی کلومےٹر کا فاصلہ بےل گاڑی پر طے کیا۔ ہندوﺅںنے مسلمانوں کے متعدد گاﺅں جلائے ، رےل گاڑےوں کو جلاےا، لوگوں کو قتل کیا اور لوگوں کو لوٹا ۔راستے میں کئی کھٹن مراحل سے گذرنا پڑا اور آخر ہم تےن دن بعداےک رےلوے اسٹےشن پہنچے۔وہاں سے ہم رےل گاڑی کے ذرےعے پاکستان پہنچے۔ہم پہلے مظفر گڑھ گئے ،وہاں اےک ہفتہ رہے۔ پھر وہاں سے لاہور آئے جہاں مہاجرےن کےلئے کیمپ لگاےا گےا۔ مہاجرےن کیمپ میں کھانے پینے کا سامان اور کمبل وغےرہ دےے گئے۔وہاں سے ہم پتوکی گئے اور اس کے بعد پڈھانہ گئے جہاں ہم دو مہینے رہے۔پھر ہم پتوکی واپس آئے، وہاں سے ہم آنجراں گئے جہاں ہمیں کاشت کاری کےلئے زمینیںملیں ۔وہاںہم نے کاشت کاری شروع کی۔ پھر کچھ عرصہ بعد ہم کنگن پور گئے۔ےہ سفر ناقابل فراموش ہے ۔آپ کوےہ بھی بتادوں کہ ہمارے جانے کے بعد ہندوﺅں نے بھارت میں ہمارے پورے گاﺅں کو جلا دےا اور گاﺅں کے متعدد افراد کو لقمہ اجل بناےا ۔اگر گاﺅں کے مکین مےرے والد ےعنی نمبردار کی بات مانتے تو شاےد وہ پاکستان پہنچ جاتے اور ظلم وستم سے محفوظ رہتے لیکن انھوں نے اپنے امےر کی بات نہ مانی۔اپنے امےر کی بات ماننی چاہےے اور بزرگوں کی باتوں میں کامرانی ہوتی ہے۔ انھوں نے بتاےا کہ وطن عزےز پاکستان تحفے میں نہیں ملا بلکہ لا زوال قربانےوںسے حاصل ہوا ۔قائد اعظم محمد علی جناح انگرےزی میں تقرےر کرتے تھے اور مسلمانوں کی اکثرےت انگزےری نہیں جانتی تھی لیکن ان کو ےقےن تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح درست فرماتے ہیں۔قائد اعظم محمد علی جناح کے قول اور فعل میں تضاد نہیں تھا۔ےاد رکھےں کہ لیڈر کے قول اور فعل میں تضاد نہیں ہوتا ۔جس کے قول اور فعل میں تضاد ہو ،وہ لیڈر نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ عصر حاضر میں سےاسی رہنما انتخابی مہم میں عوام کو سبز باغ دکھاتے ہیں لیکن جب منتخب ہوجاتے ہیں تو وہ ساری باتےں فراموش کردےتے ہیں۔ےعنی عصر حاضر کے اکثر سےاست دانوں کے قول اور فعل میں تضاد ہے۔سےاستدانوں کو ےہی چےزےں ختم کرنی چاہےےں۔ وہ بات بالکل نہ کرےں جو کرنہ سکیں ۔انھوں نے کہا کہ پاکستان خوبصورت ترےن ملک ہے۔پاکستان کے لئے اخلاص اور لگن سے کام کرنا چاہےے۔ اداروں سے کرپشن ختم کرنی چاہےے۔ جب تک کرپشن ختم نہیں ہوتی ،ملک ترقی نہیں کرسکتا۔” قارئےن کرام!جن لوگوں نے وطن عزےز پاکستان کےلئے سب کچھ قربان کیا،جب وہ اداروں میں کرپشن اور لوگوں کو راتوں رات امےر ہوتا دےکھتے ہیں تو کتنے افسردہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی کامےابی اور خوشحالی کےلئے سب اداروں کو کرپشن سے پاک کرنا ہوگا۔
٭٭٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خالد خان کالاباغ
صحافی و کالم نگار
لب درےا

Check Also

لاالہ کی بنیادحسین ؑ ہیں

  لاالہ کی بنیادحسین ؑ ہیں تحریر: علی جان(لاہور) شاہ است حسینؑ بادشاہ است حسینؑ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *