Home / کالم / آﺅ “ویلنٹائن ڈے “منائیں!!

آﺅ “ویلنٹائن ڈے “منائیں!!

 

شاہد نسیم چوہدری
ٹارگٹ
undp@hotmail.com

آﺅ “ویلنٹائن ڈے “منائیں!!

ہلکی ہلکی بارش میں راجہ جب کالج سے گھر پہنچا تو وہ مکمل بھیگ چکا تھا،سردی سے اس کے دانت بج رہے تھے، اس نے فورا اپنے کپڑے تبدیل کئے ،اسکی امی نے کھانا دیا،کھانا کھا کر راجہ نے امی سے فرمائش کی کہ مجھے چائے بنا دیں،مجھے سردی لگ رہی ہے،اسکی امی نے کہا کہ ابھی تمہاری بہن کالج سے نہیں آئی،آدھے گھنٹے میں جب وہ آجائے گی تو اکٹھی چائے بنا دوں گی،راجہ نے ہیٹر لگایا اور اپنا سمارٹ فون نکال کر اس پر انگلیاں چلانے لگا،راجہ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا،اسکی بڑی بہن ثمرہ احمد کی ایم اے کرنے کے بعد تین ماہ پہلے ہی شادی ہوچکی تھی،اور چھوٹی بہن نمرہ احمد فائن آرٹس کی طالبہ تھی،جبکہ راجہ بی سی ایس کمپیوٹر سوفٹ ویئرکا کورس کررہا تھا،راجہ کا اصلی نام سفیر احمد تھا، لیکن اکلوتا اور لاڈلا ہونے کی وجہ سے گھر میں سب اسے راجہ کے نام سے ہی پکارتے تھے،وہ پڑھائی میں تواچھا تھا،لیکن ہروقت اسے فیس بک کا اک جنون تھا،اور ہر وقت موبائل ہاتھ میں تھامے مصروف رہتا،اپنی اسی عادت کے تحت چائے کے انتظار میں راجہ مصروف ہو گیا، فیس بک پر انگلیاں پھیرتے پھیرتے راجہ نے نوری شہزادی نامی لڑکی کے پیج پر ایک پوسٹ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے “میرے ہمدم” کے عنوان سے دیکھی جو اسے بہت پسند آئی،اس پوسٹ میں لکھا تھا کہسنو ہمدم میں رستہ بھول بیٹھی ہوںاداسی کا گھنا جنگلمرے احساس پہ ان گنت سائے بچھاتا ہےمجھے آسیب کی صورت ڈراتا ہےہوا کی چیخ میری نیند کو ایسے نگلتی ہےکہ جیسے آگ سوکھی لکڑیوں کو راکھ کرتی ہےجہاں میں پاﺅں رکھتی ہوںوہاں پر وسوسوں کے ناگ پھن پھیلائے بیٹھے ہیںمیں جتنے ذور سے آواز دیتی ہوںمری خاموشیاںاپنے تسلسل میںمجھے آنے نہیں دیتیںمری آوازگھٹ جاتی ہےاندر ہی کہیںپر ڈوب جاتی ہےسنو ہمدم!! میں تنہا ہوںکبھی آﺅپکڑ کر ہاتھلے جاﺅمجھے تاریکیوںکی رات سے روشن دنوں تک ساتھ لے جاﺅ!!!،راجہ کے دل کو یہ پوسٹ بہت اچھی لگی،اسے اپنے تخیل میں یوں محسوس ہوا کہ کوئی اسے پکار رہا ہے، اس نے پوسٹ کو لائک کردیا اور ساتھ ہی کامینٹ کیاکہ “بہت ہی خوبصورت تحریر”،اس پوسٹ کے الفاظ نے راجہ کے دل پر اتنا اثر کیا کہ وہ اس میں کھو کر رہ گیا،راجہ ابھی اس پوسٹ کے سحر میں گم تھا کہ وہ نیند کی گہری وادی میں چلا گیا،شام کو راجہ جب سو کر اٹھا تواس نے پھر سمارٹ فون پر فیس بک اکاﺅنٹ کھولا تو وہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ نوری شہزادی نے میرے ہمدم والی پوسٹ پر راجہ کے دئے گئے کامینٹ کو دل سے لائک کیا ہوا تھا، اورجواب دیا ہوا تھا کہ” اداس لمحوں میں حوصلہ افزائی کا شکریہ” ،راجہ کو تو محسوس ہوا کہ کوئی خزانہ مل گیا ہو،بس پھر کیا تھا کہ راجہ اور نوری میں دوستی کی ابتدا ہو گئی،دن ،رات، صبح شام چیٹنگ ہونا شروع ہو گئی،ایکدوسرے کے متعلق معلومات اکٹھا ہونا شروع ہو گئیں،نوری شہزادی نے اسے بتایا کہ میں گھر میںبہت اکیلی ہو گئی ہوں،بہت اداس ہو گئی ہوں،کچھ عرصہ پہلے میری بہن کی شادی ہو گئی ہے ، میں فائن آرٹس کر رہی ہوں،ایک ہی بھائی ہے جو ہر وقت موبائل پر اپنی دنیا میں گم رہتا ہے،میرے ہمدم والی پوسٹ کے تما م الفاظ میری ہی عکاسی کر رہے ہیں،چند ہی دنوں میں وہ ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہو گئے،لیکن دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیںتھا،کیونکہ نوری نے اپنے اکاﺅنٹ پر تصویر نہیں لگائی تھی، بلکہ آنکھ سے نکلتے ہوئے آنسوکی تصویر لگائی ہوئی تھی، اور راجہ نے بھی اپنے فیس بک اکاﺅنٹ پراپنی تصویر کی جگہ سرخ گلاب کے پھول کی تصویر لگائی ہوئی تھی،اور راجہ نے اپنا نام بھی پرنس لکھا ہوا تھا ،اور اپنی پروفائل میں کافی معلومات بھی غلط دی ہو ئی تھیں،جن کا راجہ نے نوری کو صاف صاف بتادیا،وہ بہت خوش ہوئی اور کہا کہ ادھر بھی معاملہ ایسا ہی ہے،لیکن ہم پیار کرنے والے ہیں،ایکدوسرے سے جھوٹ نہیں بولیں گے، راجہ نے نوری سے اصرار کیا کہ اپنی تصویر مجھے انباکس کرو،لیکن اس نے جواب دیا کہ نہ میں آپ کو تصویر بھیجوں گی،اور نہ ہی میں آپ کو کہوں گی، دو روز کے بعدویلنٹائن ڈے ہے،اس دن ہم با لمشافہ ملاقات کرکے ویلنٹائن ڈے کو “بھرپور” طریقے سے منائیں گے، محبت کا دیوتا بھی خوش ہوگا،اور میں آپ سے کہوں گیسنو ہمدم!! میں تنہا ہوںکبھی آﺅپکڑ کر ہاتھلے جاﺅمجھے تاریکیوںکی رات سے روشن دنوں تک ساتھ لے جاﺅ!!!، راجہ کونوری کی تجویز بہت پسند آئی،اور پوچھا کہ ملاقات کہاں پر ہوگی،نوری نے کہا کہ میںویلنٹائن ڈے کوصبح دس بجے کمپنی باغ میں فاﺅنٹین کی دیوار پر بیٹھی ہوں گی،میں نے لال سوٹ پہنا ہوا ہوگا،لال رنگ کا چشمہ اور لال رنگ کا ہی بیگ میرے پاس ہو گا،جس پر بڑا سا NA لکھا ہوا ہوگا،آپ مجھے آسانی سے پہچان لو گے،آپ نے میرے پاس آکر میرے ہمدم کہنا ہے، میں بھی آپ کو پہچان جاﺅں گی،راجہ خوش ہو گیا،اور ویلنٹائن ڈے کی راہ میں حائل انتظار میںدو دن راجہ نے جیسے گزاررے،وہ وہی جا نتا ہے،ویلنٹائن ڈے کو راجہ نے خوب تیاری کی، نوری کے لال سوٹ کی مناسبت سے لال شرٹ اور بلیک پنٹ پہنی،اور لال رنگ کا ہی چشمہ پہنا، خوب پرفیوم لگایا،اور وقت مقررہ پرکمپنی باغ کے فاﺅنٹین کے پاس دھڑکتے دل کے ساتھ پہنچا،تو سرخ لباس پہنے اور سرخ چشمہ لگائے اور گلے میں لال بیگ جس پر NA لکھا ہوا تھا فاﺅنٹین کی دیوار پراسکی اپنی بہن نمرہ احمد بیٹھی ہوئی تھی،آﺅ ویلنٹائن ڈے منائیں

Check Also

پاکستان سپر لیگ ۰۲۰۲:گیند بلا امن کا ہلا!

  پاکستان سپر لیگ ۰۲۰۲:گیند بلا امن کا ہلا! (شےخ خالد زاہد) ہمارے ادارے خصوصی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *