Home / خبر یں / اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 12 بجے تک کے لئے ملتوی

اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 12 بجے تک کے لئے ملتوی

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت شروع کی تو اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔ اس موقع پر اسحاق ڈار کے معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ حارث 12 بجے تک آئیں گے اور  استدعا کی کہ اسحاق ڈار کو وزارتی امور چلانے ہیں اس لئے آج کی حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔معزز ججز نے ریمارکس دیے کہ قانونی طریقہ تو یہ ہے کہ گواہ کا بیان ملزم کے سامنے رکارڈ کیا جائے اور اسحاق ڈار کی حاضری سےاستثنیٰ کی درخواست پر بحث خواجہ حارث کے آنے پر ہوگی۔عدالت نے اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سماعت 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔سماعت کے موقع پر اسحاق دار کمرہ عدالت میں ہی موجود تھے اور سماعت ملتوی ہونے کے بعد وہ واپس روانہ ہوگئے۔خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر نیب نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے 5 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کیں تھیں۔اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کی جانب سے پیش کردہ گواہ شاہد عزیز پر جرح مکمل کرلی تاہم دوسرے گواہ طارق جاوید پر آج دوبارہ جرح کی جائے گی۔

اسحاق ڈار کی پیشیاں:

وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس سے قبل 4 مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، وہ 25 ستمبر، 27 ستمبر، 4 اور 12 اکتوبر کو اثاثہ جات ریفرنس کا سامنا کرنے کے لئے پیش ہوئے تھے۔

اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس پر پہلی سماعت 14 اور دوسری 20 ستمبر کو ہوئی اور ان دونوں سماعتوں پر وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم اسحاق ڈار نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔

سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا۔

سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

Check Also

اداکارہ میرا کی شادی میں ایک اور رکاوٹ آگئی

لاہور: پاکستانی اسکینڈل کوئین اداکارہ میرا کی شادی میں ایک اور رکاوٹ کھڑی ہوگئی ان کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *