Home / کالم / ”ادبی جھٹکا”

”ادبی جھٹکا”

 

”ادبی جھٹکا”
میمونہ ارم(مونشاہ )
ماہی میری دی گئی تحریر کا کیا بنا کسی ڈائجسٹ میں دی؟؟ اگر دی ہے تو شائع کب ہوگی؟ کس ڈائجسٹ میں بھیجی مجھے جلدی سے بتا¶ میں نے امی بابا کو بتا کر انہیں سرپرائز دینا ہے” رات کے بارہ بجے وہ ہانیہ کی اسائمنٹ مکمل کرنے میں بری طرح سے مگن تھی کہ اچانک اس کے موبائل کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو کال اس کی دوست ثناءکی تھی جیسے ہی اس نے کال اٹینڈ کی ثنا نے سوالوں کی بوچھاڑ شروع کر دی”لڑکی سانس تو لے لو کہانی میں نے دے دی ہے فکر نہ کرو اگلے ماہنامہ میں تمہاری لکھی کہانی ضرور پبلش ہوگی” اس نے مسکرا کر ثنا کو جواب دیا ،ہائے اللہ! ماہی تم جانتی ہو تم بہت اچھی ہو تم نے مجھے بہت خوش کر دیا ہے اچھا میں فون رکھتی میں ذرا گھر والوں کو یہ خوش خبری سنا لوں” ماہی سے اس ڈائجسٹ کا نام اور ادارے کا ایڈریس جاننے کے بعد ثنا نے جس رفتار سے فون کیا تھا اسی رفتار سے فون بند کر دیا ،ماہی مسکرا دی کیونکہ ثنا کی لکھی کہانی قابل اشاعت بالکل بھی نہیں تھی مگر ماہی خود بھی بہت اچھی لکھاری تھی تو اس نے بہت محنت سے تحریر کی درستگی کر کے رسالے کی مدیرہ کو بھیج دی تاکہ اس کی دوست کا اس پر کیا مان نہ ٹوٹے وہ ایسی ہی تھی ہر ایک کے کام آنے والی، اپنا نفع نقصان سوچے بنا دوسروں کے لیے کچھ بھی کرنا اس کی فطرت تھی دن گزرتے چلے گئے آخر وہ وقت آگیا جب ماہی کو اس ماہ کا شمارہ ملا جس میں ثنا کی کہانی شائع ہوئی تھی مگر یہ کیا؟ اس کہانی کے اوپر لکھاری کے نام پر ثناءکی بجائے ماہی کا نام لکھا تھا اسے یہ دیکھ کر کافی حیرت ہوئی وہ اس ڈائجسٹ کی مدیرہ کے پاس گئی جس نے بتایا کہ اسے کسی لڑکی کا فون آیا تھا کہ یہ کہانی ثنا کی بجائے ماہی کی اپنی لکھی ہوئی ہے۔اس مدیرہ نے ماہی کو کافی باتیں سنائیں کہ وہ جھوٹی ہے آئندہ یہاں رابطہ نہ کرے ماہی کو یہ سن کر دکھ ہوا وہ ثنا ءکے گھر گئی جیسے ہی ثنا ءنے دروازہ کھولا بجائے اسے اندر بلانے کے اس نے وہیں کھڑے ہوکر اس کی بے عزتی کرنا شروع کر دی ،کیسی دوست ہو تم ماہی! میری لکھی کہانی پر اپنا نام لکھوا دیا ہے تمہاری وجہ سے سب گھر والے مجھ پر ہنسے ہیںمیں نے تم پر اعتبار کیا اور تم نے توڑ دیاخود کو لکھنا آتا نہیں تھا میری تحریر پر اپنا نام لکھ دیا تم تو دوست کہلانے کے قابل بھی نہیں ہو تم جاسکتی ہو آج سے میں اپنی اور تمہاری دوستی ختم کرتی ہوں” غصے میں ثنا ءکے منہ میں جو آیا وہ بولتی چلی گئی اور دروازہ بند کر دیاکچھ پل وہ وہیں کھڑی رہی جیسے ہی گھر واپس آنے کے لیے اس نے قدم بڑھانا شروع کیے اندر سے بلند ہوتے قہقہوں کے اسے رکنے پر مجبور کردیا”مما دیکھا میں نے اس ماہی کا غرور کیسے توڑا خود کو دوسروں کی بہت بڑی ہمدرد سمجھتی تھی نا! اب کرے دوسروں کی مدد میں نے اسے اس قابل ہی نہیں چھوڑا اور نہ ہی اب کوئی اس پر اعتبار کرے گا” یہ اس کی عزیز دوست ثناءکی آواز تھی
”بری بات ہے بچے! جو بھی تھا وہ تمہاری دوست ہے تمہیں اسے ایسے بے عزت نہیں کرنا چاہیے تھا” یہ شاید اس کی مما تھیں”افففف مما! آپ چھوڑیںچلیں یہ مٹھائی کھائیں کیونکہ میں نے اس ڈائجسٹ کی مدیرہ کو ماہی کی لکھی کہانی پر اپنا نام لکھ کر ای میل کی ہے جسے پڑھنے کے بعد اس نے مجھے کہا کہ اب سے ہر ماہ وہ میری تحریر شائع کرے گی” ثناءکے لہجے میں غرور تھاماہی دل برداشتہ ہو کر گھر واپس لوٹی اپنے کمرے میں آکر وہ سست روی سے آئینے کے پاس چلی آئی اسے وہ وقت یاد آیا جب اس ڈائجسٹ ادارے کے پاس نہ کسی کی تحریر موجود ہوتی تھی اور نہ ہی ڈائجسٹ خریدنے کے لیے کوئی خریدار اس وقت ماہی نے ان کی مدد کی اور آج ایک انجان لڑکی کے فون کرنے پر انہوں
نے اسے کھری کھری سنا دیں اسکا یقین تک نہیں کیادوسری طرف اس کی خود کی دوست نے جھوٹ بول کر اسے اس کی اپنی نظروں میں رسوا کر دیا تھا بظاہر تو وہ خود آئینے کے سامنے کھڑی تھی مگر اسے اپنے عکس میں ان لوگوں کے اصل چہرے نظر آرہے تھے جن پر یقین کر کے اس نے اپنی ذات تک بھلا دی تھی اس نے خود سے عہد لیا کہ اب وہ کسی پر اعتبار نہیں کرے گی کیونکہ ادب کی اس دنیا میں اسے اعتبار ٹوٹنے کا بہت بڑا جھٹکا ملا تھا جس نے اسے اندر تک توڑ کے رکھ دیا تھا۔

Check Also

چابی کے کھلونے

    چابی کے کھلونے جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی کرونا وائرس کے حوالے سے لوگوںمیں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *