Home / کالم / اللہ کو پیاری ہے قربانی

اللہ کو پیاری ہے قربانی

 

ٍ اللہ کو پیاری ہے قربانی
تحریر :علی جان ای میل:

aj119922@gmail.com
یہ فیضان نظرتھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ ہمیں ایک بار پھر اپنے خلیل کی سنت ادا کرنے کا موقع دیا ہرطرف عید سے پہلے عید نظرآرہی ہے سب نے اپنی اپنی گنجائش سے زیادہ انتظام کیا ہوا ہے کسی کے ہاں بکراہے تو کسی نے بکری منگوالی کسی نے دنبہ خریدلیاتوکسی نے گائے میں حصہ ڈال لیا کوئی بیل گھرلے آیا تو کسی نے وچھے کو ترجیح دی کسی کے پاس کئی کئی بکرے ہیں تو کسی نے ایک پر اللہ کا شکرادا کیا ہوا ہے اور رات دن ایک کرکے اس کی خدمت میں جت گئے ہیں کوئی اپنے بیلوں کو گاڑیوں میں گھمانے نکل پڑتے ہیں تو کسی نے اپنے بکرے کو سجا کے گلیوں محلوں کے چکرلگوارہے ہیں اور ہم لوگ ایسے کہتے رہتے ہیں کہ یار حاجی صاحب بڑے نیک آدمی ہیں اتنی اچھی قربانی کی ہے کہ اسی بیل پربیٹھ کرجنت میں جائیں گے اب صرف مرنے کی دیرہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سب دنیا داری اور دکھاوا ہے کوئی دل سے قربانی نہیں کررہا اس کی قربانی قبول نہیں ارے بھئی ہم کون ہوتے ہیں قبول نہ قبول کی سنددینے والے یہ قربانی کرنے والے اور اللہ پاک کا معاملہ ہے اسی وجہ سے ہمیں ان چیزوں سے پرہیز کرنی چاہیے تاکہ اللہ کے حضورہم نہ گناہ گارہوں۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ قربانی حضرت ابراہیم ؑ کی سنت ہے مگرلوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ پاک کا قرب ایسے نہیں مل جاتا اس کیلئے کئی کڑے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے تب جا کرانسان سے خلیل اللہ بنتا ہے یہ توہرمسلمان مانتا ہے کہ اللہ کے بعد انبیاءکرام کا درجہ سب سے افضل ہے جنہوں نے کئی کڑے امتحانوں سے گزرکررب کے سامنے سرتسلیم خم کیاتب ہی جاکے رب کا قرب حاصل کیا اللہ پاک کے ہرنبی کو کئی الگ الگ امتحانوں سے گزرنا پڑا ان میں حضرت ابراہم ؑ انہیں برگزیدہ انبیاءکرام میں سے ایک ہیں۔اللہ پاک نے آپ کو خلیل اللہ کا لقب اسی وجہ سے دیا کیونکہ آپ کڑے سے کڑے امتحان میں ثابت قدم رہے اسی وجہ سے اللہ پاک نے آپکواپنا(خلیل اللہ)گہرادوست بنا لیا۔قربانی سے قبل تین رات متواترآپ ایک ہی خواب دیکھتے رہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابراہیم تواپنے اکلوتے بیٹے کو ہمارے لیے قربان کردے اللہ کا حکم بجا لاتے ہوئے آپ نے اپنے بیٹے کو اپنا خواب بیان فرمایاکہ اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے قربان کررہاہوں تیری کیامرضی ہے؟باپ خلیل اللہ تھا تو توبیٹا کیسے پیچھے ہٹتا تب جب سر اللہ کے حضور تحفہ جانے والا ہو کیونکہ آپ کے صلب اطہرسے آقائے دوجہاں تاجدارانبیاءحضرت محمدﷺ اس جہاں سے دائمی روشنی سے منورکرنے والے تھے اسی وجہ سے آپ ؑ نے باپ کے آگے سرجھا دیا مگرآپ نے فرمایا”اے ابا جان آپ وہی کریںجو آپکو حکم ملا ہے اور اللہ کے حکم سے آپ مجھے صبرکرنے والوں میں پائیں گے“۔حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ آپ نے حضورنبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ اے اللہ کے پیارے حضور قربانی کا ہمیں کتنا اجرملتا ہے توآپ ﷺ نے فرمایا قربانی کے جانورکے ایک ایک بال کے برابرثواب(ابن ماجہ)اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ کوئی عمل زیادہ پیار نہیں ہے قربانی کا جانورآخرت کے روز اپنے سینگ بال اور کھروں کے ساتھ آئے۔ قربانی کرتے ہوئے جانور کا خون زمین پرگرنے سے پہلے اللہ پاک قبول کرلیتے ہیں اسی وجہ سے قربانی خوش دلی سے کرو(ابوداﺅد،ترمذی،ابن ماجہ)حضرت عمرفاروق فرماتے ہیں آپ ﷺ مدینے میں دس سال مقیم رہے اور ہرسال قربانی کی (ترمذی)۔ آجکل درودیوار اخباروں اور سوشل میڈیا پر قربانی کی کھالوں کے متعلق اشتہار لگے ہوتے ہیں ۔ قربانی اللہ کی اور کھال۔۔۔۔کی۔ارے بھئی میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو قربانی کا ثواب حاصل کرسکتا ہے وہ کھال کا کیوں نہیں یا کھال کا ثواب آپ نے دینا ہے ؟ بہتر ہے کسی علماءمصرف سے کھال کے متعلق معلومات لی جائے تب ہی کھال دی جائے یا یہ بھی ہوسکتاہے کہ کھال بیچ کرکسی مستحق کو پیسے دی دیے جائیں مگرذراسوچ سمجھ کراسی لیے کھال کوبوجھ نہیں سمجھنا چاہیے بڑی چھان بین کریں کہ جن ک کھال دے رہے ہیں کیا وہ مستحق ہیں ان پرقربانی حج،زکوةفرض ہویا کھل کا پیسہ کسی جلسے جلوس،اسلحہ یا غلط جگہ پرتواستعمال نہیں کرے گا ۔یادرہے قربانی سے قربانی کی کھال کی اہمیت زیادہ ہے ایسا نہ ہو قربانی اچھی ہواور کام کھال پراٹک جائے جیسا کہ اوپربتا چکا ہوںکہ روز محشرقربانی کا جانورہماری سفارش کرنے آئے گا تو اگرکھال بدن پرنہ ہوگی تو وہ کبھی ہماری شفاعت نہیں کرے گا اسی وجہ سے کھال کے معاملے کو ایزی نہ لیں۔عظیم سنت ابراہیمی ہمیں اس بات کا احساس دلواتی ہے کہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کیلئے ہمیں اپنی پیاری سے پیاری چیز کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے ہم دین کی عظمت اور سربلندی اسلام کی ترویج اسلام کی بقاءکیلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کریں بے شک جذبہ قربانی بارگاہ الٰہی میں ہمارے تقویٰ کا اظہار اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔

Check Also

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج تحریر۔۔۔ رشید احمد نعیم ، پتوکی حضور صلی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *