تازہ ترین خبریں
Home / تعلیم / الےکشن 2018مےں پی کے 8اورپی کے 9سے ہرپارٹی کے لوگوں ٹکٹ کے انتظار

الےکشن 2018مےں پی کے 8اورپی کے 9سے ہرپارٹی کے لوگوں ٹکٹ کے انتظار

 

مٹہ( ) الےکشن 2018مےں پی کے 8اورپی کے 9سے ہرپارٹی کے لوگوں ٹکٹ کے انتظار مےں جبکہ ٹکٹ کے لئے پارٹی رہنماوں سے بھی رابط مہم تےز کردی گئی ہےں
جس کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری ہوگئی مقابلہ کافی سخت ہوگےا، ہر پارٹی کے امےدوار جےتنے کے لئے پر عزم فےصلہ وقت کرےںگا؟؟؟؟؟
الیکشن 2018آنے کو ہے تحصیل مٹہ میں سیاسی گرماگرمی زور شور سے جاری ہے مختلف پارٹیوں کے لوگ دڑادڑ ٹکٹ کے وصول کیلئے کا غذات جمع کر رہے ہیں اب تک کسی بھی پارٹی سوائے اے این پی کے باقی کسی کو معلوم کہ پارٹی کس کو ٹکٹ دے رہے ہیں ہر کوئی اپنے آپکوں لیڈر تصور کر تے ہیں کہ مجھے ٹکٹ دیا جائے گااس طرح کے صورت حال ہر پارٹی کے ورکرز کیساتھ ہیں ہر کوئی سوشل میڈیا پر اپنے آپ کو اُمیداوار سمجھ رہے ہیں او غریب عوام کو پھر سے پسانے کے کوشش کررہے ہیںایک طرف پارٹی کے سر براہوں نے مقامی پارٹیوں کے رہنماوں کو تشویش میں مبتلا کیا ہے کہ وہ کس کو ٹکٹ جاری کریگا جس سے تمام پارٹیوں کے مقامی لوگوں کو امتحان میںڈالے گئے ہیں ہر کوئی اپنا پوزیشن مضبوط کر نے کیلئے کوشش کر رہے ہیں اور اپنے ہر عمل چاہئے فاتحہ خوانی ہو،جنازہ ہو یا بازار میں کسی سے بات چیت ہو کا تصویر سوشل میڈیا ں پر ڈال رہے ہیں تحصیل مٹہ جو کہ دو پی کے اور دو این اے حلقوں پر مشتمل ہیں پی کے 8او9میں تحریک انصاف کے موجودہ وزرا ءجن میں صوبائی محمود خان اور محب اللہ خان اگر اُنکوں ٹکٹ دی جائے تو اُنکے پوزیشن بہتر اسلئے ہیں کہ حکومت میں پانچ سال رہ کر عوام اور علاقے کیلئے کام کر رچکے ہیںلیکن حلقوں میں ردوبدل کیوجہ ان پر بھی بڑا اثر پڑا ہے محمود خان نے یو سی گوالیری اور یوسی بہا میں بڑے تعداد میں ترقیاتی کا م کی لیکن وہ دو یونین کونسل ان سے الگ کر دئے گئے ہیں جس کا فائدہ محب اللہ خان کو ہو گا جو انکے حلقے میں شامل ہو گئے ہیںپی کے 8میں موتوقع اُمیدواران پی ٹی آئی کے محب اللہ خان ،مسلم لیگ (ن) کے عظمت علی خان جو کہ سابق صوبائی وزیر اور سابق سینیٹر فتح محمدخان کا فرزند ہے،پی پی پی کے طرف سے سابق اُمیدوار سید اکبر خان ٹکٹ کو دینے کے امکانات ہیں جبکہ اس حلقے میں تحصیل مٹہ کے طرف سے کئی اور لوگوں نے درخواستیں جمع کی ہے حلقہ پی کے 8جو کہ تحصیل کبل اور مٹہ پر مشتمل ہیں پی کے 9میں مختلف پارٹیوں میں سخت مقابلے کا امکان ہیں پی ٹی آئی کے طرف سے موجودہ صوبائی وزیر محمود خان ،اے این پی کے طرف سے سابق صوبائی وزیر ایوب خان اشاڑی جبکہ ایم ایم اے کے بحال ہو نے کے بعد اگر جمیعت علماءاسلام کے طرف سے ڈاکٹر امجد علی کو ٹکٹ دیا گیا تو وہ ٹپ ٹائم دے سکتے ہیں کیو نکہ وہ پارٹی میں ابھی نیا ہے لیکن اُنہوں نے بہت کم عرصے میں جمیعت علماءاسلام کو جگانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے جس کا زندہ ثبوت گذشتہ ہفتے ایک عظیم الشان جلسہ ہے جس سے جمیعت علماءاسلام کے مرکزی چیرمیں مولانا فصل رحمان اور دیگر قائدئن نے خطاب کیا تھاپی پی پی کے طرف سے اپر سوات کے جنرل سیکریٹری اور حقیقی رہنما انور زمان خان بھی اپنا جلواہ دیکھا سکتے ہیں جبکہ اس حلقے میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کا کوئی خاص اُمیدوار نہیں ہر کوئی اپنے آپ کو لیڈر سمجھتے ہیں اور ہر ایک نے ٹکٹ کے حصول کیلئے درخواستیں جمع کی ہے تحصیل مٹہ نیشنل اسمبلی میں بھی دوحلقوں میں تقسیم ہو گیا ہے این اے 2 اور این اے 4جس کیلئے بھی مضبوط اُمیدوار سامنے آسکتے ہیں این اے 2پر پاکستان تحریک انصاف موجودہ صوبائی وزیر محمو د خان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام کا مقابلہ ہو سکتا ہے جبکہ ایم ایم اے کے بحالی کے بعد مشترکہ امیدوار میدان میں اُتار سکتا ہے جبکہ این اے 4میں پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے مراد سعید اے جمعیت علماءاسلام کے ضلعی امیر قاری محمود متوقع امیدوار ہو سکتے ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے بریگیڈیر (ر) ڈاکٹر محمد سلیم خان فرزند قوم پرست رہنما محمد افضل خان لالا مرحوم کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ این اے فور میں پی ایم ایل این اور پی پی پی کا کوئی خاص اُمیدوار سامنے نہیں ہے

Check Also

سندھ کے تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات31 جولائی تک بڑھانے کا فیصلہ

  کراچی: صوبائی محکمہ اسکولز ایجوکیشن سندھ نے موسمِ گرما کی تعطیلات 31 جولائی تک بڑھانے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *