Home / کالم / امام کعبہ ڈاکٹرعبداللہ عوادکی محفل میں

امام کعبہ ڈاکٹرعبداللہ عوادکی محفل میں

 

 

امام کعبہ ڈاکٹرعبداللہ عوادکی محفل میں
عمرفاروق /آگہی
امام کعبہ ڈاکٹرعبداللہ عوادالجہنی پاکستان کے دورے پرہیں یہاں وہ مختلف تقاریب سے خطاب اورمختلف شخصیات سے ملاقاتیں کررہے ہیں امام کعبہ اورملک کی دینی جماعتوں کے قائدین کے اعزازمیں سعودی عرب کے سفیرنواف سعیدالمالکی نے مقامی ہوٹل میں ایک شاندارتقریب منعقدکی امام حرم کے دورہ پاکستان میں یہ سب سے خوبصورت ترین محفل تھی اس بابرکت محفل میں مجھے بھی شرکت کی سعادت نصیب ہوئی جس میں ملک کی تمام مذہبی قیادت ایک چھت تلے جمع تھی دراصل امام کعبہ کی آمدپربھی مذہبی جماعتیں تقسیم تھیں ہرمذہبی جماعت کی کوشش تھی اورہے کہ امام کعبہ صرف ان کے پروگرام میں ہی شرکت کریں باقی جماعتیں اورافراداس سعادت سے محروم رہیں ایسے حالات میں نواف سعیدنے تمام مذہبی جماعتوں کومتحدکرپیغام دیاکہ جس طرح کعبہ سب کاہے اسی طرح امام کعبہ بھی سب کے ہیں ۔ پاکستان میں تعینات سعودی سفیر پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور انہوںنے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو نئی جہت دی ہے یہ تقریب بھی ان کے وسیع الظرفی کامظہرتھی ۔
یہ ہمارے خوش قسمتی ہے کہ ہرتھوڑے عرصے بعد حرمین کے اماموں سے ایک امام ہمارے ملک میں آتے ہیں اورہماری روح ونگاہوں کی تسکین کاباعث بنتے ہیں پاکستان کے دورے پرتشریف لائے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی کو اسلام کی چار متبرک ترین اورعظیم مساجد ،، مسجد الحرام ، مسجد نبوی ،مسجد قبا اور مسجد قبلتین ،،کی امامت کا شرف حاصل ہے۔ بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی دنیا کی مقدس ترین جگہیں ہیں۔ مسجد قبا مدینہ منورہ کی وہ تاریخی مسجد ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے رکھی تھی۔اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس مسجد کی تعریف فرمائی ہے۔ مسجد قبلتین مدینہ منورہ کی تین تاریخی مسجدمیں سے ایک ہے۔
ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنی 13 جنوری 1976 کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ،انھوں نے بچپن ہی میں قرآن کریم مکمل حفظ کر لیا تھا۔ 16 سال کی عمر میں دو مرتبہ بین الاقوامی مقابلہ حسن قرات میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ مدینہ منورہ کی معروف عالمی یونیورسٹی سے اعلی تعلیم اور کلیة القرآن سے تدریسی سرٹیفکیٹ اعلی اعزاز کے ساتھ حاصل کیا ۔
آپ کو 21 برس کی نوجوانی کی عمر میں پہلی مرتبہ مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے پر تراویح کی امامت کا شرف حاصل ہوا۔ اس سے پہلے آپ مسجد قبلتین میں دو سال تک امام رہے تھے اور پھر چار سال تک مسجد قبا کی امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے تھے۔ 2005میں مسجد الحرام بیت اللہ شریف مکہ مکرمہ میں تراویح کی نماز کی امامت کی اور پھر وہاں آپ کو مستقل امام مقرر کردیا گیا ۔آپ نے جید قرا ءسے شرف تلمذحاصل کیا ۔ان میں سر فہرست ابراہیم الاخضر اور مسجد نبوی کے امام ڈاکٹر علی بن محمد حذیفی شامل ہیں۔آپ امامت کے ساتھ ساتھ درس وتدریس سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد مدینہ منورہ میں اساتذہ فیکلٹی میں معلم کے فرائض انجام دیتے رہے اور اب مکہ مکرمہ کی ام القری یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔
اس بابرکت محفل میں جب امام کعبہ ڈاکٹرعبداللہ عواد نے اپنے خطاب سے پہلے اپنی پرسوزآوازمیں سورہ آل عمران میں سے ایک رکوع سے زائد آیات کی تلاوت کی توتمام حاضرین پریہ کیفیت طاری تھی جیسے وہ کعبة اللہ میں امام صاحب کی تلاوت سن رہے ہیں ۔امام کعبہ نے اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھام لو۔ علماکرام کا کردار موجودہ دور میں نہایت اہم ہے علماکرام وہ ستارے ہیں جن سے امت رہنمائی حاصل کرتی ہے تاہم اس کےلئے علماکرام کو چند باتوں کو مدنظر رکھیں جس میں گہرائی کے ساتھ علم کا حصول کتاب و سنت کے ساتھ پختگی کے ساتھ جڑنا اور اللہ کا خشوع ہے انہوںنے کہاکہ صبر اور یقین کے ساتھ جڑے رہیں یعنی دین کے رستے میں دعوت دیتے ہوئے جو مشکلات آئیں اس پر صبر کرنا اور اللہ رب العزت کی جانب سے جو وعدے ہیں ان پر یقین رکھنا ہے اسی کے زریعے سے سے علماکرام امت کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں انہوںنے کہاکہ صالحین کی زندگی ہمیں اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہوںنے ہر دور میں امت کی رہنمائی کی اور لوگوں تک علم پہنچایا اور اسے چھپایا نہیں علما جوبھی فتوی دیں وہ حق اور سچ پر مبنی ہو ۔
اس موقع پرسعودی عرب کے سفیرنواف سعیدالمالک نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے میں مملکت سعودی عرب کی طرف سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہوں، جس کے نتیجے میں کئی جانی نقصانات ہوئے اور کئی زخمی بھی ہوئے، میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ مملکت سعودی عرب، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ ہر قسم کی شدت پسندی، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور میں مقتولین کے خاندانوں سے اور پاکستانی حکومت اور عوام سے افسوس، دلی ہمدردی اور دکھ کا اظہار کرتا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ زخمیوں کو جلد صحت یابی نصیب ہو۔آج ہماری امت مسلمہ کو اسلامی یکجہتی اور صف بندی کے مفہوم کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ خطروں کا، فتنوں کا، ہماری امت کی طرف نظریں جمائے مصیبتوں کا اور چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے۔ان خطرات میں سب سے آگے ہے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خطرہ، جس کی تکلیف ہماری امت کی کئی قوموں نے برداشت کی، اور یہ ناسور دیگر معاشروں میں بھی سرایت کر رہا ہے۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان علما کرام کے کاندھوں پر اپنے اپنے معاشروں اور امت اسلامیہ کی خاطر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ صف بندی اور یک آواز ہونے کے معاشروں میں استحکام، امت اسلامیہ کے وقار اور زندگی کے معاملات کو درست سمت لے جانے کے بڑے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لئے کہ امن کے بغیر استحکام نا ممکن ہے۔
اس بابرکت تقریب سے سیکرٹری مذہبی امورسعودی عرب ڈاکٹرعبداللہ الصامل، جے یوآئی ف کے سیکرٹری جنرل مولاناعبدالغفورحیدری ،اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹرقبلہ ایاز،جے یوپی کے سیکرٹری جنرل علامہ شاہ اویس نورانی ،سینیٹرساجدمیرودیگرنے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میںمولانا اسعد محمود ، تحریک دفاع حرمین شریفین کے سیکرٹری جنرل مولانافضل الرحمن خلیل،اہلسنت و الجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی ، صاحبزادہ سعید الرشیدعباسی ،مولاناسعید یوسف ، مولانا عبدالواسع،مفتی صلاح الدین۔عبدالغفار عزیز،سابق وفاقی وزیر سردار یوسف ،مولاناظہوراحمدعلوی،علامہ ابتسام الہی ظہیر، مفتی ابرار،مولاناعتیق الرحمن شاہ سمیت دیگر علماکرام وصحافتی شخصیات نے شرکت کی
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی صرف حکومتوں کے درمیان محدود نہیں ہے بلکہ پاکستان کے عوام بھی سعودی عرب کو امت مسلمہ کا رہنما سمجھتے ہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا میں مسلموں کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ فکری یکسوئی اور یکجہتی ہے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ حرمین شریفین کے تحفظ پر پاکستان کا ہر مسلک اور مکتبہ فکر متفق ہے ہم سعودی عرب کے تحفظ کو اپنے ایمان کا حصہ قرار دیتے ہیں ۔ پروفیسر ساجد میر نے کہاکہ سعودی عرب کے دفاع اور سربلندی کےلئے ملک کی تمام دینی جماعتیں متحد ہیں انہوںنے کہاکہ تحفظ حرمین کو سعودی حکمرانوں سے علیحدہ سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں تحفظ حرمین اور تحفظ اہل حرمین کا دفاع دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں۔علامہ شاہ اویس نورانی نے کہاکہ کچھ لوگوں کی طرف سے یہ تاثردیاگیاکہ سعودی عرب صرف ایک مسلک والوں کا ملک ہے جبکہ حقیقت میں اس وقت سعودی عر ب پوری دنیا میں مسلمانوں کا ترجمان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Check Also

بہتر پیداوار اور اعلیٰ معیار کے لیے مٹر کی جنیاتی حالت کا مطالعہ

بہتر پیداوار اور اعلیٰ معیار کے لیے مٹر کی جنیاتی حالت کا مطالعہ نوشی پروین ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *