تازہ ترین خبریں
Home / کالم / امریکا افغان طالبان سے برائے راست مذاکرات پر مجبور

امریکا افغان طالبان سے برائے راست مذاکرات پر مجبور

 

 

مشرقی اُفق
مےرافسر امان ،کالمسٹ
امریکا افغان طالبان سے برائے راست مذاکرات پر مجبور
جےسے افغانستان مےں بلند بالا پہاڑوں کو ختم نہےں کےا جا سکتا اسی طرح اس کے باشندے ،افغانوں کو بھی محکوم نہےںکےا جا سکتا ۔ بڑے بڑے جابروں کو ےہاں آکر پسپا ہونا پڑتا ہے۔ فلسفی شاعر حضرت علامہ اقبال ؒ نے کیا خوب کہا ہے۔ فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
ےا بندا صحرائی ےا مر د کوہستانی
دنےا مےں اللہ نے ان دو طبقوں ، بندہ صحرائی یا مردا کوہستانی ہی سے ظالموں کو عبرت ناک سبق سکھاےا۔ طاقت ور طبقے ہمیشہ، دبی ہوئی اللہ کی غرےب مخلوق کو اس حد تک تنگ کریں کہ ان کا پےمانہ لبرےز ہو جائے اور چھلک جائے تووہ بغاوت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کی تشرےع بقول حضرت علیؓ کہ کفر کی حکومت توچل سکتی ہے ظلم کی حکومت نہےں چل سکتی۔ کےا قریب کی تاریخ میں بر طانےہ، روس اور اب شےطان کبےر امرےکہ نے دنےا اورخصوصاً مسلم دنےا کو دکھوں سے بھر نہےں دےا ؟اللہ تعالیٰ نے قرآن شرےف میںفرماےا ہے کہ اگر اللہ اےک طبقے سے دوسرے طبقے کو شکست سے سبق نہ سکھائے تو دنےا دکھوں سے بھر جائے ۔ اس کی تعبیر دنیا سے برطانیہ کا سیکڑ جانا اورسویت یونین کا شیرازہ بکھرناہے۔اور اب امریکا افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں شکست و ریخت میں مبتلا ہوناہے۔ آہئے برطانیہ،سویت روس اور آخر میں امریکا کی شکست پر تجزیہ کرتے ہیں۔
برصغیر میں مغلوں کی۰۰۶ سو سالہ حکمرانی کی پسپائی کی شروعات کے وقت پرتگالی کپتان واسکوڈیگاما۸۹۴۱ءمےںصرف تےن بادبانی جہازوں کے دستے کے ساتھ جنوبی ہند کی کا لی کٹ بندرگاہ پہنچا اور گواہ کو مستحکم جنگی مرکز بناےا۔۱۰۵۱ءمےں شاہ پرتگال نے فرمان کیا کہ جہاں بھی ممکن ہو موروں( مسلمانوں)کو قتل کےا جائے اور ہندوﺅں کو تعلےم دے کر دفتری کام میں لےا جائے۔ انگرےز اور دوسری ےورپی قوموںکو ہند وستان مےں قدم جمانے کے لےے۰۷سال تک آپس مےں کش مکش کرنی پڑی تھی ۔ بلا آخر برطانوی´ انگرےز کامیاب ہوئے۔ انگریزسوداگروں کی سب سے پہلی تجارتی کوٹھی ۲۱۶۱ءمےں سورت مےں قائم ہوئی۔ بھر رےشادونےوں سے فرنگی سوداگر ہندوستان پر قبضہ جماتے ہوئے افغانستان تک پہنچ گئے۔ آ خر میںاپنی مغربی سرحد کو سرخ کیمونسٹ انقلاب سے محفوظ کرنے کے لیے۳۹۸۱ءمےں افغانستا ن سے برطانےہ نے بےن الاقوامی سرحد کا معاہدہ کےا۔ جو سر مورٹےمر ڈےورنڈ اور افغانستان کے بادشاہ امےر عبدلرحمان کے درمےان ہوا۔ اسی معاہدے کے نام سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد ڈیورنڈ کہلائی۔ پھر مختلف وقتوں میں اس کی تجدےد ہوئی۔ آخر مےں۰۳۹۱ ءمےں افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ سے تجدید ہوئی ۔اسی ڈےورنڈ لےن کا قصہ افغانستان کی قوم پرست حکومت، جس نے قیامِ کے وقت پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا،نے شروع سے پاکستان کے ساتھ چھےڑے رکھا۔انگرےزوں نے سرخ انقلاب کو درےائے آمو تک محدود رکھنے کی غرض سے افغانستان پر۸۳۸۱ءمےں اپنے جنوبی پنجاب اور بمبئی کے مرکزوں سے حملہ کےا اور پٹھو شاہ شجاع کو تخت پر بٹھاےا۔ اس کے بعد افغان قبائل نے انگرےزوں پر حملے شروع کےے۔ کابل مےں انگرےز اےجنٹ سر الےک زنڈر برنےس کو قتل کر کے ٹکرے ٹکرے کر دےا ۔ اسی دوران دوست محمد خاں کا فرزند ، اکبر خاں اپنی جمعےت کے ساتھ حملہ آور افغان قبائل کے ساتھ آ ملا اور انگر ےزوں سے کہا شاہ شجاع کود ست بردار کرےں، انگرےز سپاہ ملک خالی کرےں اس وقت سےاسی اقتدار انگرےز سفےر مےک ناٹن کے ہاتھ مےں تھا۔ اکبر خان نے اسے طلب کےا اس نے اکبر خان سے بدتہذےبی سے بات کی۔ اسے فوراً گولی سے اُڑا دےا گےا۔ تمام توپےں اور گولہ بارود اکبر خان نے قبضے مےں لے لےں۔ باقائدہ فوج جو پانچ ہزار اور گےارا ہزار لشکری تھے ۲۴۸۱ ءکو پشاور کی طرف روانہ ہوئے ان فوجےوںکو کابل کے تنگ درے مےں غلزئی قبائل نے گھےر لےا اور ختم کر دےا کےوں کہ اس قبےلے پر انگرےزوں نے بہت ظلم کےا تھا ۔مشہور ہے کہ پورے لشکر مےں سے صرف اےک فرنگی ڈاکڑ واپس پشاورآےا۔کابل کی دوسری جنگ مےںبھی انگرےزوں نے بازی ہاری اور ۲۴۸۱ ءمےں واپس ہوئی۔خدا کے سوا نہ کوئی افغانستان کے پہاڑوں کو ختم کر سکتا ہے نہ افغانوں کو۔ کیونکہ کہسار باقی افغان باقی۔
موجودہ افغانستان کی آزاد مملکت کا وجود احمد شاہ درانی نے رکھا۔ اس کی حکومت کابل سے پنجاب،کشمےر،سندھ،بلخ وبدخشان اور مشرقی اےران کے اضلاع تک پھیلی ہوئی تھی۔۹۰۸۱ءمےں بارک زئی قبےلے کے پائندہ خان نے کابل کو فتح کےا۔ اس خاندان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ کو سردار دﺅد خان نے معزول کردےا ۔روسےوں نے داﺅد کو بھی خاندان سمےت موت کے گھاٹ اُتار دےا ۔ اپنے پٹھو حکمران بے برک کارمل کو افغانستان پر مسلط کیے۔ تقرےباً۰۵۳ سال سے زار روس کی حکومت اور اس کے بعد اشتراکی روس کی حکومت نے

ترکی سے چین کی سرحد سنکیاک تک کے علاقے فتح کیے۔ سویت یونین دوسری طرف افغانستان کی سرحد درےائے آمو تک پہنچ گیا۔ روسی حکومت کے بانی حکمران اےڈورڈ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ دنےا مےں وہ قوم حکمرانی کرے گی جس کے قبضے مےںخلےج کاعلاقہ ہو گا ۔اس پلائنگ کے تحت روس نے ا فغانستان مےں ظاہر شاہ کے دورحکومت کے دوران کام کرنا شروع کر دےا تھا۔ اےک وقت آےا کہ کابل ےونےورسٹی مےں اشتراکےوں کا قبضہ ہو گےا اور سارے افغانستان کو روشن خےال معاشرے مےں تبدےل کرنے کے اےجنڈے پر کام شروع کر دےا گےا۔کچھ مدت بعد سردار داﺅد نے ظاہر شاہ کو معزول کر کے افغانستان کی حکومت پر قبضہ کر لےا اور ذلفقار علی بٹھو کی حکومت کے دوران پاکستان کا دورہ بھی کےا تھا۔ےہ چےز روس کو پسند نہ آئی اور آ خر کار روس نے سردار داﺅد کو قتل کروا کر اسی بہانے ببرک کارمل روسی اےجنٹ کو روسی ٹنکوں پر سوار ہو کر کے افغانستان پر قبضہ کر لےا۔ افغانوں نے دنےا کی سب سے بڑی مشےن، جس کے پاس اےٹمی ہتھےار کے علاوہ ہر قسم کے جنگی ہتھےار تھے کا مقابلہ درے کی بندوقوں سے شروع کےا۔ اس وقت دنےا دو بلاکوں کے اندر تقسےم تھی۔ اس لےے روس مخالف بلاک امرےکہ نے بھی اس جنگ مےں اشتراکےوں کو شکت سے دو چار کرنے کے لےے جنگ مےں تےن سال بعد شرکت کی۔ مسلمان علماءنے اس جنگ کو جہاد کہا اور دےکھتے ہی دےکھتے پوری دنےا کے مسلمان اس جہاد مےں شرےک ہونے کے لےے افغانستان مےں آنے لگے دنےا کے مسلمان ملکوں کے لوگوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس جنگ مےں حصہ لےامگر ےہ جنگ افغانےوں نے خود لڑی لاکھوں شہد ہوئے ،لا کھوں اپاہچمعذور ہوئے، لاکھوں نے پڑوسی ملکوں اور دنےا مےں مہاجرت کی زندگی اختےار کی اور بلا آ خر روس کو شکت ہوئی ۔افغان تےس سال سے حالت جنگ مےں ہےں مگر زندہ ہےں ۔اس فتح مےں کلےدی امداد مسلمانوں کے اتحاد کی وجہ سے اللہ کی طرف سے تھی ا س جنگ مےں منطقی انجام امرےکہ اور امرےکی بلاک کی امداد اور اسٹنگر مےزائل نے ادا کےا۔ دنےا نے افغانوں کے خون کی وجہ سے سفےد رےچھ سے نجات حاصل کی اس جنگ کے نتےجے مےں مشرقی ےورپ کی کئی رےاستےں آزاد ہوئےں چھ اسلامی رےاستوں قازقستان،کرغےزستان،اُزبکستان،ترکمانستان، آزربائےجان ، اور تاجکستان کی شکل مےں آزاد ہوئےں ۔ تارےخ گواہ ہے کہ افغان کبھی بھی محکوم نہےں رہے۔ کےونکہ کہسار باقی افغان باقی۔
پھر دنےا کے چالےس ملکوں کے نےٹو اتحادی ،امرےکہ اور پاکستانی لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ عرصہ۷۱ سال سے افغانستان پر حملہ آور ہےں۔ پھر ظلم کی داستان شروع ہو ئی۔ بلگرام اور گوانتا موبے جےل کے قےد ی ان ظالموں کی داستا نےں سنا رہے ہےں۔پاکستان کے سابق ڈکٹےٹر پروےز مشرف نے اےک فون کال پر ان کے سارے مطا لبات مان لےے۔ امرےکہ نے تمام افغانستان کو نےست ونابود کر تورابورابنا دیا۔ مگر فاقہ کش افغانوں کے حوصلے پست نہ کر سکا۔ایک ایک کر کے نیٹو فوجی اپنے ملکوں کو چلے گئے۔ا مرےکہ افغانستان سے فرار کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ امرےکہ اپنی جنگ کو پاکستان مےں لے آےا ہے۔ ہمارے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا چکا ہے ۔ہمارے کئی جرنلوں ، فوجیوںسمیت ۰۷ ہزار شہری شہےد ہو چکے ہےں۔ ڈرون حملے نے خود کش حملہ آور پیدا گئے۔ جنہوں نے پاکستان میں بربریت کی انتہا کر دی۔ نےٹو کنٹےنرز کی وجہ سے ہماری سڑکےں تباہ ہوئیں۔غےر ملکی جاسوس ہمارے ملک مےں انسانےت دشمن کاروائےاں کرتے رہے۔ بلےک واٹر دہشت گرد تنظےم ملک دشمن کاروائےاں کرتی رہیں۔ ہماری مساجد،امام بارگاہےں، بزرگوں کے مزار، ہمارے بازار، کرکٹ مےچ کے مہمان،ہمارے سےاسی لےڈر اور ان کے بچے، ہمارے مذہبی رہنما،ہماری بچےوں کے اسکول سمیت ،ہمارے دفاحی اداروں پر حملے ہوئے۔ کےاکچھ ہے جو تباہ نہ ہو گےا ہو؟ اس پر بھی صلےبی امرےکہ خوش نہےں ہے ڈو مور ڈومور کی رٹ لگا رہے ہےں ۔ پاکستان کے محب وطن لوگ چلاتے رہے یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔بلا آخر موجودہ سپہ سالار نے کہہ دیا کہ پاکستان نے دہشت گردی سے لڑنے کے لیے بہت کچھ کیا۔ اب دنیا ڈو مور کرے۔امریکا نے بہت کوشش کی کہ پاکستان کی فوج کو افغان طالبان سے لڑا دیا جائے۔امریکا نے پاکستان پر دباﺅ ڈال کر افغان طالبان سے مذاکرات کے کئی دور کیے۔ مگر افغان طالبان کی ایک ہی بات ہے کہ ہمارے ملک سے بیرونی فوجیں نکل جائیں تو ہم مذاکرات کریں گے۔
صاحبو! امرےکہ کو بھی اللہ شکست سے دوچار کرنے کے لےے افغانستان مےں گھےر لاےاتھا۔ اس کو بھی پہلی دو سپر طاقتوں، برطانیہ اور سویت یونین کی طرح فاقہ مست افغان شکست دے چکے۔ اب فیس سیونگ کے لیے امریکا نے افغان طالبان سے برائے راست مذاکرات پر مجبور ہوا ہے۔ امریکا جلد افغانستان سے نکل جائے گا۔انشاءاللہ۔ اللہ نے افغانستان کے کہساروں کو جب تک قائم رکھنا ہے افغانوں کو بھی قائم رکھے گا۔کیونکہ افغانستان کے کہسار باقی۔۔۔ افغان باقی۔

Check Also

کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “

      ”کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “ یہ بہادر بیٹی کیوں رو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *