Home / کالم / انصاف کی حکومت میں حواکی بیٹی کو انصاف ملے گا

انصاف کی حکومت میں حواکی بیٹی کو انصاف ملے گا

 

 

انصاف کی حکومت میں حواکی بیٹی کو انصاف ملے گا
تحریر:علی جان ای میل:

aj119922@gmail.com
حسن زن سے ہے کائنات میںرنگ یہ مصرعہ کئی عرصہ سے سنتے آرہے ہیں مگرمعاشرے میں ایسے ناسور بھی ہیں جو اس رنگ کو مٹانے میں لگے ہوئے ہیں کبھی غیرت کے نام پر قتل تو کبھی ونی کی بھینٹ چڑھانایا اپنے رسم ورواج کے نام پر وٹہ سٹہ جیسی ناسور بیماری کے گلے باندھ دیتے ہیں تخلیق کائنات سے لے کرآج تک کئی ظلم وستم کی داستانیں رقم کی گئی ہیں اور آج بھی متعدد بہانے بناکے عورتوں پر ظلم وزیادتی کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیںچندماہ پہلے کی ہی بات ہے کہ ایک ماں نے اپنی ہی کوکھ سے پیداہونے والی بیٹی کو دھندہ کروانا شروع کردیا تاکہ باقی بچے عیش کرسکیں اس بچی کی عمر14سال تھی اس عمر میں بچیوں کی اپنی ہی عمرہوتی ہے گڑیوں سے کھیلنے کی مگر اس ظالم ماں نے اسے ہی درندوں کے ہاتھوں دے دیا بل آخراسے 60ہزارروپے میں فروخت کردیا اگرمائیں ہی اپنی بچیوں کے ساتھ ایسے کرتی رہیں تو قیامت دور نہیں ایسے واقعات پاکستان کے ہرعلاقوں میںرونما ہورہے ہیں مگرقبائلی علاقوں اور سرائیکی وسیب میں عورت کے ساتھ ظلم وزیادتی ایک معمولی سا عمل سمجھا جاتا ہے اگرپنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کی بات کی جائے تو یہ ضلع عورتوں پر ظلم وزیادتی کے حساب سے اپنے ماتھے پرسیاہ دھبہ رکھتا ہے اس ضلع میں مشہور زمانہ مختیاراں مائی زیادتی کیس آمنہ مائی خودسوزی کیس کے علاوہ متعدد ایسے واقعات رونماہوئے جن میں مقامی انتظامیہ کا کردار سب کے سامنے کھل کرآگیاان واقعات کے میڈیا میں ہائی لائٹ ہونے کے بعد وزیراعلٰی ،گورنرسمیت اعلیٰ حکام نے نوٹس لیا اور موقع کا فائدہ اٹھا کراپنی سیاست چمکائی اورچند دن میڈیا پر ٹھاٹھیں مارتے رہے جیسے ابھی مجرموں کو تختہ پرلٹکادیں گے مگرجیسے جیسے وقت گزرتاگیا یہ لوگ بھی چھپ گئے اور ان واقعات کو مڑکر نہ دیکھا کہ انتظامیہ اور مقامی پولیس نے ان کے پیچھے کیا گل کھلائے اور نہ ہی ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے موثرحکمت عملی اپنائی گئی جس سے معصوم کلیوں کو کچلنے سے بچایا جاسکے ۔اسی طرح کا ایک اور دردناک واقعہ 15/16جولائی کی درمیانی شب تھانہ سیت پور کی حدود میں رونما ہواجس میں ایک شادی شدہ خاتون سے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کے بعدتیزدھار آلے سے کٹ لگاکرپہلے زخمی کیا گیااس کے بعدبے رحمی سے قتل کردیا گیاروح تک کو چیردینے والا منظرہوگا ہمیں توسن کے ہی ڈرکے مارے پسینہ آنا شروع ہوجاتا ہے مگرجس کے ساتھ ظلم کا پہاڑ توڑا گیا اس کی کیا حالت ہوگی کیونکہ درندہ صفت انسانوں نے اس عورت کے منہ میں اور جسم پرتیزاب انڈیل دیا اہلیان علاقہ کے مطابق لاش دودن بعد گھرکے باہر پڑی ملی نماز جنازہ کیلئے میت غسل کے قابل بھی نہ تھی اور نعش سے اتنی زیادہ SMELL آرہی تھی کہ نماز جنازہ اداکرنا دشوارتھا۔اس عورت کا ناتسلیم مائی تھا جس کے آٹھ بچے تھے ایسے درندوں کی وجہ سے سیت پور کے علاقہ میں خوف وہراس کا عالم چھا گیا ہے ان ملزمان کے خلاف پولیس تھانہ سیت پور نے مقدمہ نمبر140/18درج کیا مگرمدعی محمدتنویرکے بقول تفتیشی آفتاب شہیرکے ملزمان کے ساتھ یارانے ہیں جس وجہ سے اس نے صرف قتل کامقدمہ درج کیا اورقتل کے آلات کلہاڑی،چھری ودیگربرآمدہونے کے باوجود انہیں تھانہ سیت پورضلع مظفرگڑھ میں جمع نہیں کرائے مدعی کا کہنا تھا کہ ملزمان بااثرہیں اور بارہا صلح کیلئے جگہ جگہ سے دباﺅ ڈلوارہے ہیں مدعی مقدمہ کے مطابق تسلیم مائی سے زیادتی اور قتل کے ساتھ اس طرح ظلم وزیادتی صرف شک کی بنا پر کی گئی کیونکہ تسلیم مائی مقدمہ کے نامزد ملزم عامر کے گھرکام کرتی تھی جبکہ مقدمہ کے مدعی تنویربھی انکے ہاں ملازمت کرتا تھا چندماہ قبل ملزم سیدمحمدعامرولدمختیار شاہ بخاری کی بہن کسی کے ساتھ پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی جس کی وجہ سے وہ گھرچھوڑ کربھاگ گئی ملزم عامر کو شک تھا کہ نسیم مائی نے اسکی بہن کو بھاگنے میں مدد کی جبکہ تسلیم مائی نے کئی مرتبہ صفائی بھی دی کہہ اس کے بھاگنے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں جبکہ مقتولہ کو قتل کرنے سے پہلے کئی باردھمکیاں بھی دیں اسی دوران 14/15دن بعد ملزم عامر کی بہن گھرواپس آگئی مگرملزم عامر کو شک کی وجہ سے غصہ تھا جس کی وجہ سے ملزم عامرساتھیوں سمیت تسلیم مائی کوزیادتی کا نشانہ بنایا اسکے بعددردناک اذیت سے بھری موت کے گھاٹ اتاردیا۔ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود پولیس تھانہ سیت پور بااثربخاری خاندان کے چشم وچراغ سیدعامرشاہ کوبچانے کیلئے پورا زور لگا رہا ہے بے حس آفیسرآفتاب شہیراور تھانہ سیت پورایس ایچ او مدعی مقدمہ مقتولہ کی بڑھی والدہ زاہرہ کو تحفظ کے بجائے انہیں صلح کیلئے مجبورکررہے ہیں اور مقامی زمینداراور عامرشاہ کے ورثا ہراساں کررہے ہیں اورمقدمہ سے دستبردار ہونے کیلئے دھمکیاں دے رہے ہیں زاہرہ مائی اور مدعی محمدتنویر نے صحافیوں سے بات گفتگوکرتے ہوئے کہ رہا تھا کہ ہمارے نئے وزیراعظم عمران خان تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہیں ہم تو تب مانیں گے کہہ تبدیلی آگئی ہے کہہ ان جاگیرداروںکوتخت دارپرلٹکا کے تبدلی کے نعرے کو سچ ثابت کرسکیںاور ہمارے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار انصاف کے پیمبرمانے جاتے ہیں ہم تب مانیں گیں کہ وہ سچ میں انصاف کو ترجیح دیتے ہیں جب ہمیں ان ظالموں سے انصاف ملے گا کیا اللہ پاک لوگوں کو پیسہ اس وجہ سے دیتا ہے کہ غریبوں پرظلم کے پہاڑتوڑو غریب لوگوں کے پاس عزت کے سوا اور ہوتا بھی کیا ہے جب یہی عزت ہی لٹ جائے تو خود سوزی کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں بچتا۔پاکستان میںانتہائی افسوسناک صورتحال دیکھنے کوملتی ہے جب انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے انصاف نہ ملے اس کے برعکس ظالموں کوہی تحفظ دیا جائے ۔ضلع مظفرگڑھ تھانہ سیت پورکی حدود میں ظلم وبربریت کی مثال رقم کرنے والے ملزموں کو کیفرکردار تک نہ پہنچایا گیا تو خواتین کے ساتھ ظلم وزیادتی کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور ایسی کئی تسلیم مائیوں کی عزتوں کا کھلواڑ بنتا رہے گا۔

Check Also

مطالعہ جامع ترمذی شریف

      مشرقی اُفق میر افسر امان مطالعہ جامع ترمذی شریف صحاح ستہ حدیث ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *