Home / کالم / اورپھررفاقتیں ٹوٹ گئیں

اورپھررفاقتیں ٹوٹ گئیں

 

 

1 اورپھررفاقتیں ٹوٹ گئیں

3 انتقامی سیاست شروع

تحریر:علی جان ای میل

aj1189922@gmail.com
پاکستان کی کل آبادی 201,403,352ہے جس میں مرد102,337,257جبکہ عورتیں 99,066,095اور پچھلے سال کے مطابق 2کروڑ سے زیادہ بچوں کی پیدائش ہوئی اور848,221لوگ اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے اب جو لوگ اس دنیا سے چلے گئے ہیں وہ اپنے ساتھ کیا لے کرگئے ہیں اگر اس چیز کو سوچا جائے تو الیکشن ہارنے اور جیتنے کے بعد تمام امیدوار انتقامی سیاست نہ کریں گے اور نہ ہی لوگوں کو دھتکاریں گے کیونکہ جیتنے والے اپنی جیت کا جشن منا رہے ہیں اور شکست زدہ شدید تحفظات کااظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں جیتنے والے 100%شفاف الیکشن کے نعرے لگا رہے ہیں اور الیکشن کمیشن ،چیف جسٹس کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں مگر ہارنے والے دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں مگر مجھے یہ کہنا عجیب اور دکھ دے رہا ہے کہ اس الیکشن میں پاک فوج اور عدلیہ جیسے مقدس اداروں کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا ہے اس الیکشن میں بلاول بھٹو اپنے ہی علاقہ سے ہار گئے جہاں پی ٹی آئی کے امیدوار نے 52750ووٹ لیے اور تحریک لبیک کے نے 42345ووٹ لیے اور بلاول تیسرے نمبرپر آئے ۔سابق خادم اعلیٰ شہباز شریف کو تین حلقوں کراچی سوات اور ڈی جی خان میں شکست ہوئی اور وہ صرف این اے 132سے سیٹ لینے میں کامیاب ہوسکے جن سے ن لیگ کو امیدیں تھی ان کی ہار کی وجہ سے ن لیگ کے ارکان بھی خوف میں مبتلا ہوگئے متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمان اور الطاف بھائی کے رائٹ ہینڈ فاروق ستاربھی اپنے دونوں حلقوں سے ہاتھ دھوبیٹھے این اے 7سے بڑا اپ سیٹ ہوا جہاں تحریک انصاف کے امیدوار بشیراحمدنے امیرجماعت اسلامی سراج الحق کو شکست دی دوسری جانب عمران خان نے اپنے پانچوں حلقوں سے الیکشن جیت کر نئی تاریخ رقم کردی انہوں نے اسلام آباد این اے 53میں 92ہزار891ووٹ حاصل کرکے سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کو کلین بولڈ کردیااین اے 243میں ایم کیوایم کے امیدوارعلی رضا کامقابلہ کرتے ہوئے 91ہزار358ووٹ حاصل کیے این اے 131لاہور سے 84ہزار313ووٹ لے کرخواجہ سعدرفیق کو شکست کا مزہ چکھایا میانوالی این اے 92میں 1لاکھ 62ہزار499ووٹ لے کرعبیداللہ کوشکست دی ۔بنوں کے حلقہ این اے35میں 24317ووٹ لے کرمتحدہ مجلس عمل کے رہنما اکرم خان درانی کی وکٹ اڑادی عوامی راج پارٹی کے جمشیددستی مظفرگڑھ کے حلقہ این 182,184,185اوررحیم یارخان کے حلقہ این اے 189 اور پی پی 176سے شکست کھائی عوامی راج پارٹی نے 50سے زائدامیدواروں کو میدان میں اتار مگران میں سے صرف ایک ہی کامیاب ہوسکا جمشیددستی عوامی لیڈرہے اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ اگرآج جنوبی پنجاب(سرائیکی وسیب )کے سیاستدان اپنی گاڑیوں سے نکل کرموٹرسائکلوں پرکمپین کرتے نظرآئے تو یہ ساراکریڈٹ جمشید دستی کو جاتا ہے لیکن جمشیددستی عوامی کام باخوبی کرواتے ہیں مگرانکواپنا فوٹوسیشن ہی لے ڈوبا مگرافسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ابھی چارسے پانچ دن ہی گزر ے ہیں الیکشن ہوئے ہیں عوام کو انتقامی کاروائیوں کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ایک ویڈیو میں نے دیکھی جس میں بخاری گروپ کے کونسلرنے پورے موضع کو انگلی دیکھا کے کہا کہ سب کو دیکھ لوں گا اب اس سے یہ من میں آتا ہے کہ لیڈروں نے ایسی بات کی ہوگی تو ان کے ٹاﺅٹ ایسے بول بچن دے رہے ہیں حالانکہ جس موضع نے اسکو ووٹ دے کراسکی سیاست کی بنیاد رکھی اور اسے کونسلربنایا انہی سے انتقام لینے کی بات کررہا ہے اور وہ بھی ویڈیو پیغام میں تو میں نے اس علاقہ کے ایک دوست کو کہا کہ اس کے خلاف قانونی کارائی ہوسکتی ہے مگرجواب میں اس نے کہا کہ ہمارا علاقہ ایسا ہے کہ جہاں آج بھی جاگیردارا نظام مسلط ہے اگرکوئی قانونی کاروائی کی تو الٹا ہم ہی پھنس جائیں گے۔ یہاں میں عمران خان سے سوال کرنا چاہتا ہوں کیا یہی ہم نیا پاکستان چاہتے تھے؟آپ نے کہا تھا جاگیردارانہ نظام ختم ہوگا،پولیس،کورٹ کچہری کی سیاست نہیں چلے گی تو یہ کیا ہے اگرایسی انتقامی سیاست کرنی تھی تو بتاتے ہم نئے پاکستان کی امید تو نہ رکھتے اس کے علاوہ میرا بخاری گروپ کے قائد سے سوال ہے کہ یہ صرف آپ کے ٹاﺅٹ کا بیان ہے یا آپ کا بیان سمجھیں؟اگرموضع ویداد30سے 40سال بخاری گروپ میں رہا تو آپ نے اس موضع کوکیا دیا اگرووٹ جمہوری حق ہے تو عوام نے اپنا جمہوری حق ادا کیا ہے بخاری گروپ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ30,40سال کی رفاقت ٹوٹی توکیوں ٹوٹی مگراب سب سیاستدان اپنی جیت کے نشے میں دھت ہیں انہیں عوام کا خیال کہاں آنا ہے مگراتنی بدمعاشی کہ ویڈیوپیغام میںعوام کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اس کے علاوہ سرائیکی رہنما اکبرخان ملکانی سے انتقام لینے کیلئے ایف آئی آردرج کرادی گئی آخری اطلاعات کے مطابق سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین رانا فراز نون نے پارٹی کا ہنگامی اجلاس بلا لیا ابھی تو الیکشن کو چنددن ہوئے کہ انتقامی کاروائیاں شروع ہوگئیں اگریہی حالات رہے تو سیاست کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی ختم ہوجائیں گے سردارخرم خان لغاری نے پنجاب کے سب سے کم عمرایم پی بن گئے انہوں نے سابق صوبائی وزیربرائے دفائی پیداور اور جتوئی گروپ کے چیف سردار عبدالقیوم خان جتوئی کو ہرا کرسب کو حیران کردیا خرم خان لغاری نے 48729ووٹ لیے اور عبدالقیوم خان جتوئی نے 34315ووٹ لیے خرم خان لغاری کی جیت کا سہرا لغاری خاندان اجمل خان لغاری،اصغرخان لغاری جیسے مخلص دوستوں کے سرجاتا ہے اور بخاری گروپ کی جیت کا سارا کریڈٹ چنوں خان لغاری سابق صوبائی پارلیمانی سیکرٹری کے سرجاتا ہے ورنہ دس سال سے بخاری گروپ نے جو عوام کو دیا عوام ان کو سود سمیت واپس کرتی چنوں خان لغاری ایک منجے ہوئے سیاستدان کےساتھ خوش اخلاق انسان ہیں انہی کی اسی خوبی کی وجہ سے جیت انکا مقدر ٹھہری آخرمیںبخاری لغاری اتحاد کے لیڈروں کو عرض کرنا چاہتا ہوں کے یہ پاکستان کے 11جنرل الیکشن ہیں نہ کہ آخری اسی وجہ سے اپنے ٹاﺅٹ لوگوں کو سپورٹ کی بجائے ان کو سمجھائیں کیونکہ بلدیاتی الیکشن میں پھر اسی عوام سے ووٹ لینے کیلئے جانا ہے پھر یہ نہ ہو یہی عوام باغی ہوجائے اور جتوئی صاحبان سے ریکویسٹ کروں گا کہ ہار جیت مقدر ہے اگرہارجیت نہ ہوتو الیکشن کا کوئی مطلب نہیں بنتا اسی وجہ سے اپنی خامیاں دور کرنے کیلئے 5سال کا وقت کم نہیں ہار کردبئی لندن جانے کے بجائے اپنے لوگوں میں رہ کر اپنے علاقے میں اپنا مقام واپس بنائیں تاکہ اگلے الیکشن میں حالات آپکے حق میں ہوں۔

Check Also

نور محمدی ﷺ

    نور محمدی ﷺ کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ای میل: ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *