Home / کالم / اےمان اور عشق۔۔۔۔۔ مومن کی پہچان

اےمان اور عشق۔۔۔۔۔ مومن کی پہچان

 

 

اےمان اور عشق۔۔۔۔۔ مومن کی پہچان
صاحبزادہ اشرف عاصمی
دےوانگی اگر حلال و حرام مےں امتےاز ملحوظِ خاطر رکھے تو وہ عشق ہے لےکن اےسی کےفےت جو انسان کو انسانےت کے درجے سے گرا کر حےوانےت کی سطح پر لے آئے تو وہ پھرعشق نہےں رہتا بلکہ وہ تو حےوانےت بن جاتی ہے جس کا مظاہرہ سور سمےت بہت سے جانور ہمہ وقت کرنے کے لےے تےار رہتے ہےں۔ جو کےفےت انسان سے شعور چھےن لے انسان سے فہم وادراک نوچ لے انسان سے اُس کے انسان ہونے کا شرف جاتا رہے تو پھر تو نہ اےمان رہا اور نہ اِسکا کوئی پاس۔خالق نے انسان کو جس صورتحال سے دوچار کر نا ہوتا ہے اُس کے لےے اُس کو اُس طرح کے ماحول کے لےے ہمت عطا فرما دےتا ہے لےکن ےہ سب کچھ تو تب ہوتا ہے جب انسان کے اندر اےمان کی کوئی رتی باقی ہو۔ اگر انسان کے اندر اےمان نہ رہا ہو تو پھر رب سے رحمت مانگنا عجب نہےں ہوگا کہ جس خالق کو مانا ہی نہےں جارہا ہواُس سے پھر اپنے لےے کےسی مددمانگی جائے۔ خالق تو انتظار مےں ہوتا ہے کہ کب اُس سے مانگا جائے اور وہ عطا فرمادئے۔ جس طرح پھول اُس وقت تک مہکتا رہتا ہے جب تک اُسے روشنی پانی ملتی رہے اےمان بھی اُس وقت تک انسان کے اندر حلول رہتا ہے جب تک انسان خود انسان سمجھے اور انسان ہونے کے مرتبے پر فائز رہے۔جب انسان اپنے خالق کو بھلا کر خود کو حےات وممات کے تمام مسلمہ اصولوں سے بالادست سمجھ لےتا ہے تو پھر آگہی و ادراک انسان سے روٹھ جاتا ہے۔ محبت اُنس کے جذبے ، نفرت اور لالچ کی گرداب مےں پھنس جاتے ہےں۔ اِن حالات مےں فہم وفراست کا انسان کے دماغ مےں سے گزر بند ہوجاتا ہے۔ اےمان انسان کو جذبہ عطا کرتا ہے اےمان انسان کو اتنا مضبوط بنادےتا ہے کہ پہاڑ اُس کی ہےبت سے رائی بن جاتا ہے۔ صحرا و درےا اُس کے سامنے نہےں ٹھرتے۔رب پر بھروسہ عشق کی اےسی سےڑھی پر انسان کو گامزن کرتا ہے کہ دنےاوی لالچ دنےاوی رکھ رکھاﺅ دنےا شان و شوکت انسان کے پاﺅں کی ٹھوکر پہ ہوتے ہےں۔پھر اوےس کرنیؓ،بلال حبشی،سلمان فارسی،ؓ سلطان صلاح ا لدےن اےوبیؒ، عبدالقادر جےلانیؒ،سائےں سُچل سرمست، بابا فرےدؒ،داتا علیٰ ہجوےریؒ۔سلطان باہوؒ، حضرت مےاں مےرؒ، حضرت مےاں وڈا صاحبؒ،بابا بلھے شاہؒ،شاہ حسےنؒ بنتے دےر نہےں لگتی۔بس خالق کی عطا ہوتی ہے وہ جب جب چاہتا ہے تب تب عطا کرتا چلا جاتا ہے۔اِس کے لےے اُس نے کونسا کسی سے اجازت لےنی ہوتی ہے۔ وہ تو قادرِ مطلق ہے۔ سراپاِ محبت،وہی وقت ہے وہی خوشبو ہے وہی دن ہے وہی رات ہے وہ ہر ہر رنگ مےں ہے۔ وہ ہر ہر لمحے مےں ہے۔ اُس کی لاپروائی کی کوئی حد نہےں ۔اُس کا کوئی ہم سر نہےں۔ اُس جےسا کوئی بھی تو نہےں۔ انسانی تمدن کی ہزاروں سالوں کیتارےخ بتاتی ہے کہ چاند ستارئے موسم دن رات سب کچھ تو اےک معےن نظام کے تحت جاری وساری ہے ۔کون ہے جو اُس کی طاقت کو للکار سکے کون ہے جس کی زندگی رب کے طفےل نہ ہو ہر کوئی تو محتاج ہے سور ج ہے تو محتاج، زمےن ہے تو محتاج۔چاند بھی اپنی مرضی نہےں کرسکتا۔لےکن جب ہم عشق و محبت اور اےمان کی کسوٹی کے حوالے سے جائزہ لےں تو اےک بات روزِ روشن کی طرح عےاں ہوجاتی ہے کہ خالق کو بھی کسی سے عشق ہے خالق بھی کسی کو محبوب رکھتا ہے حتیٰ کے خالق کا ےہ فرمان کہ مےں نےاے محبوبﷺ اگر آپ ﷺ پےدا نہ کرتا تو ےہ کائنات پےدا نہ کرتا حتیٰ کہ اپنے رب ہونے کا اظہار نہ کرتا۔ ذرا رُکےے خالق اور مخلوق کی محبت کس رنگ مےں کہ خالق اپنے محبوب کے لےے چاند کے ٹکرئے فرما رہا ہے۔ خالق اپنے محبوبﷺکو کہہ رہا کہ وہ ہاتھ جس سے بےتِ رضوان لی تھی وہ ہاتھ ائے مےرئے محبوبؒﷺ آپکا نہےں مےرا ہاتھ تھا۔ ےہ ہے وہ عشق جو خالق اپنے محبوب کی ہستی سے فرما رہا ہے اور اپنے محبوب کے ناز اُٹھارہا ہے ۔ ہے کوئی دنےا مےں کوئی اےسی شخصےت جو خالق کو سب سے زےادہ محبوب ہو تو وہ صرف نبی پاکﷺ کی ہی ہستی ہے۔ گوےا عشق کا اےمان کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اےمان انسان کو وحشت سے دور رکھتا ہے۔ بندئے کا اپنے رب سے تعلق بہار کی طرح کا ہوتا ہے پھول جب تک بہار کے مزئے لوٹ رہا ہوتا ہے وہ مہکتا رہتا ہے جےسے ہی خزاں وارد ہوتی ہے پھول کی پتےاں بکھر جاتی ہےں۔ انسان جب تک اپنے رب سے امےد باندھے رکھتا ہے تب تک اُس کے من کی دنےا آباد رہتی ہے جےسے ہی وہ اپنے رب سے ناامےد ہوتا ہے اور ےاسےت اُس سے روحانی قوت چھےن لےتی ہے جس لمحے بھی بندئے کے دل مےںےہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ اُس کا ےہ کام نہےں ہونا تو گوےا وہ اپنے رب کی ربوبےت کوغےر ارادی طور پر ماننے سے انکاری ہوجاتا ہے ےوں پھر امےد کی کمزوری اُس کے اےمان کو اعتقاد کو اُسکے ےقےن کو کھوکھلا کر دےتی ہے۔ وہ پھر رب کی رحمتوں کے ہالے سے نکل کر وسوسوں کے جال مےں پھنس جاتا ہے بلکل اِسی طرح جےسے مکڑا جال مےں پھنسا ہوتا ہے۔ نہ تو امےد بَر آتی ہے اور نہ وسوسے چےن لےنے دےتے ہےں۔ عبادت گاہوں مےں خاص اہتمام ہوتا ہے کےا رب کا صرف وہےں قےام ہوتا ہے گھر مےں بازار مےں دفتر مےں کےا اےمان کا کام نہےں ہوتا ہے ےونہی مذہب کا نام لے لے کے عقےدتوں کا دم بھر بھر کے عبادت کی رسم ادا ہوتی ہے

Check Also

سعودی سفیر نواف بن سعید کی شخصیت

      سعودی سفیر نواف بن سعید کی شخصیت تقدیراورتدبیر میں بہت فرق ہے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *