Home / کالم / بجٹ میں جنوبی پنجاب کو کیا ملا

بجٹ میں جنوبی پنجاب کو کیا ملا

 

بجٹ میں جنوبی پنجاب کو کیا ملا

تحریر: علی جان ای میل:

aj119922@gmail.com
انصاف حکومت کو 25جولائی کوسال مکمل ہوجائے گاحالانکہ اس حکومت نے الیکشن میں آنے سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ 90دن میں علیحدہ صوبہ بنادیں گے مگرابھی تک کوئی وعدہ وفاہوتا نظرنہیں آرہا حکومت نے سرائیکی لیڈروں کواطمینان میں لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس اکثریت موجود نہیں اسی وجہ سے صوبہ نہیں بن سکتا البتہ ہم جنوبی پنجاب سب سیکرٹریٹ کا قیام عمل لا رہے ہیں پھریکم جولائی کوسب سیکرٹریٹ کا وعدہ کرکے لیڈروں کوٹرخادیامگریکم جولائی گزرجانے کے بعد بھی ابھی تک کوئی سب سیکرٹریٹ نہ بن سکاحالانکہ خطہ سرائیکستان نے تحریک انصاف کونہ صرف بھاری منڈیٹ سے جتوایا بلکہ پاکستان کے بڑے صوبے میں حکومتی قیام میں بھی بھرپورمددکی مگرسنا تھا کچھ لوگ احسان فراموش ہوتے ہیں اب توجیتے جی دیکھ بھی رہے ہیں اب سرائیکی لوگوں کوبھی تحریک انصاف سے امیدیں ختم ہوتی دیکھائی دے رہی ہیں جس طرح دوسری حکومتوں نے ووٹ لے کے وعدے کیے اورسرائیکی خطہ کی عوام کو ماموں بنایا اسی طرح لگتا ہے تحریک انصاف کے وعدے اوردعوے بھی اپنی موت آپ مرجائیں گے آپ کویاد دلاتاچلوں انصاف حکومت نے سرائیکی وسیب کے ساتھ ایک اورظلم کیا پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کیلئے 35%علیحدہ حصہ دینے کا شورمچایا ہواہے یہ بات کہاں تک سچ اورکتنی خردبردہے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ہمیشہ کی طرح جب بھی علیحدہ صوبہ کی بات ہوتی ہے توصوبہ بہاولپور،صوبہ ملتان،صوبہ لودھراں پرسیاست شروع ہوجاتی ہے جس وجہ سے آہستہ آہستہ سب نیندخرگوش لینا شروع کردیتے ہیں ۔ایک انفارمیشن کے مطابق پتاچلا ہے کہ نواب آف بہاولپورکوبھارت نے کہا تھا کہ راجستھان کا کچھ علاقہ ملا کربھارت کے ساتھ الحاق کرلیں مگرنواب صاحب نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔تاریخ میں ہے کہ بہاولپورریاست1727سے قیام میں ہے جس میں امیرصادق اس کے پہلے حکمران تھے ان کی وفات1746میں ہوئی توان کے بڑے بیٹے امیربہاول خان تخت نشین ہوئے یادرہے 1947سے قبل بہاولپورایک آزادریاست تھی تو14اگست 1947کوپاکستان کی آزادی کے بعدمیرصادق عباسی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اوردستاویزپردستخط کیے ۔افسوس ایک عظیم ریاست جواب پاکستان کے پسماندہ اضلاع میں چوتھے نمبرپرہے پاکستان کے تیسرے وزیراعظم محمدعلی بوگرہ نے ون یونٹ کااعلان کیاتونواب آف بہاولپورنے تحریری معاہد کیا کہ جب صوبہ بحالی ہوگی توبہاولپورکوعلیحدہ صوبے کادرجہ دیاجائےگا مگر70سال گزرنے کے باوجود پنجاب پاکستان کا سب سے بڑاصوبہ ہے جسے سیاسی لوگ اپنے مفادکی خاطرتقسیم کرنے سے کتراتے ہیں شایدپاکستان تحریک انصاف کو یہ یاد نہیں کہ سرائیکی خطہ کے لوگوں نے ن لیگ سے کیسے انتقام لیا ہے جب یادآئے گاتوشاید وہ صوبہ بنانے کا سوچیں گے۔راقم کی ذاتی رائے کے مطابق پنجاب کے تین حصے کیے جائیں اور صوبہ سرائیکستان کا قیام ان اضلاع بھکر، لودھراں، چنیوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی،رحیمیار خان، جھنگ، بہاولنگر، ساہیوال، پاکپتن شریف، بہاولپور، ملتان، وہاڑی، اوکاڑہ، لیہ، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازیخان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، راجن پور ، خوشاب، سرگودھا پر مشتمل ہونا چاہیے کیونکہ ان اضلاع میں سرائیکیوں کی اکثریت ہے ۔ اس طرح پاکستان کی تقسیم کچھ اس طرح کے پی کے 13 فیصد، سندھ 22 فیصد، بلوچستان 6 فیصد اور گلگت بلتستان 1.5، سرائیکستان 30 فیصد، جبکہ پنجاب اور ہزارہ کو 27.5فیصد پر قائم کیا جائے تو ملک کے لسانی و دیگر بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور ملک زیادہ تیزی سے ترقی کرنے لگے گا۔ کیونکہ اس تقسیم سے وفاق پر کسی ایک صوبے ، جماعت یا گروہ کا قبضہ نہ ہوگا اور تمام کام ایک دوسرے کی مشاورت سے ہونگے جس سے ملک ترقی کرے گا ملکی ترقی سے مراد وفاق کی مضبوطی ہے تمام سٹیک ہولڈرز فیصلے ایک دوسرے کی مشاورت سے کرینگے۔ کوئی چوری نہیں کر سکے گا۔ کیونکہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی چور کا راستے ضرور روکے گا۔ اور مجھے مکمل یقین ہے کہ ان تمام مراحل سے ملک ترقی کرے گا۔ اور وفاق مضبوط ہوگا، لسانیت، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، ایک صوبے کی دوسرے صوبے سے زیادتی، حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی باتیں دم توڑ دیں گی اور یہ تمام بحث و مباحثے ہی ملک سے ختم ہو جائیں گے۔ سرائیکی تحریک کو سیاسی تحریک بننے تک کاایک لمبا سفر ہے جن میں قربانی دینے والے لوگوں کے نام میرے ذہن میں آتے ہیںجیسے بیرسٹرتاج محمدلنگاہ،استاد فداحسین گاڈی،ملک منظوراحمدبوہڑ،مولانا نوراحمد،سیدزمان جعفری،سیدولایت حسین گردیزی،قاری نورالحق،واحدخان رند اور ایسے سینکڑوں نہیں ہزاروں نام ہیں جو اپنے اپنے پلیٹ فارم سے آواز اٹھاتے رہے انہوں نے تحریک کو تیزسے تیز ترکرنے کیلئے کئی سے کئی طریقے اپنائے کبھی ادبی سنگتیں بنائیں توکبھی سرائیکی لوک سانجھ توکبھی سرائیکی صوبہ محاذپھرپاکستان سرائیکی پارٹی ،سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی،سرائیکستان قومی انقلابی پارٹی،سرائیکی قومی مومنٹ اور سرائیکی نیشنل پارٹی کی شکل میں موجودرہے مگرآج میں عمران حکومت سے زیادہ سرائیکی لیڈروں سے ناراض ہوں کیونکہ جب تک ہم آواز نہیں بلندکریں گے توصوبہ نہیں ملے گا استادفداحسین گاڈی نے کہا تھا”پترجھمر مریسیں تاں صوبہ ملسی“ان کے کہنے کا مطلب یہی ہوگاکہ جب تک آواز نہیں بلندکروگے تب تک صوبہ ملنا مشکل ہے میراسوال ہے رانامحمدفرازنون، نخبہ لنگاہ،حمیداصغرشاہین،عاشق ظفربھٹی،عاشق خان بزدار،مجاہدجتوئی،کانجواورایم اے بھٹہ، کرنل جبارعباسی،ظہوردھریجہ،شاہنوازمشوری او رملک اللہ نواز وینس راشدبھٹہ،راشدہ بھٹہ اورجن سرائیکی لیڈروں کے نام نہیں لکھ سکاسب سے سوال ہے کہ کب تک چپ رہنا ہے یاپھرآپ لوگ بھی سرائیکی صوبہ پرسیاست کررہے ہیںاگرنہیں توآوازبلندکریں یاپھرلیڈرکہلواناچھوڑدیںعمران حکومت نے90دن مانگے تھے اب 345دن سے اوپرہوچکے ہیں۔انصاف حکومت سمجھ رہی ہے کہ صوبہ کے بجٹ میں سے علیحدہ حصہ دے دیں گے تواس خطہ کے لوگوں کے دکھوں کاازالہ ہوجائے گایہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ ڈالرکی اونچی اڑان،مہنگائی،غربت،بے روزگاری،ٹیکسزاورادویات قیمتوں کے اضافے سے جواندرجوالابن رہا ہے وہ پھٹنے والا ہے اوریقینا حکومت کوبہاکے لے جائے گا۔میراسوال یہ ہے کہ اگراپوزیشن بجٹ کی مکمل مخالفت کرتی ہے مگرپھربھی بجٹ پاس ہوجا تا ہے توکیا سرائیکی صوبہ کیلئے ایسا نہیں ہوسکتا؟

Check Also

ڈاکٹر مرسی کی رحلت

  ڈاکٹر مرسی کی رحلت مزاحمتی سیاست کا ایک درخشندہ باب بندہوگیا مصر کے سابق ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *