Home / کالم / بدترین لوڈ شیڈنگ۔واپڈا کا وزیر اعظم عمران خان کو سیلوٹ

بدترین لوڈ شیڈنگ۔واپڈا کا وزیر اعظم عمران خان کو سیلوٹ

 

 

بدترین لوڈ شیڈنگ۔واپڈا کا وزیر اعظم عمران خان کو سیلوٹ
( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )

sabirmughal27@gmail.com
عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی مجموعی طور پر واضح ترین کامیابی جس میں طویل عرصہ بعد تخت لاہور بھی میاں فیملی کے ہاتھوں سرک گیا،پی ٹی آئی کو اس شاندار کامیابی پر مبارکبادوں کے انبار لگ گئے عسکری و سول اداروں کے سربراہان،آفیسرز سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے مبارک دی،مگر اس موقع پپر محکمہ واپڈا کچھ اور ہی تیور چڑھائے بیٹھا تھا اس نے بھی نئی حکومت کو سلامی دی مگر اس کا انداز سب سے جداگانہ ،منفرد اور مختلف تھا،25جولائی کو الیکشن کے بعد5اگست تک بجلی کی فراہمی تقریباً معمول کے مطابق جا ری رہی مگر 6اگست کو واپڈا نے ماضی کی طرح انگڑائی لی اور بجلی کی غیر اعلانیہ کا آغاز کر دیا،شدید ترین گرمی میں بد ترین گرمی پر شہری بلبلا اٹھے مگر یہ سلسلہ بجائے کچھ تھمنے کے مزید بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ قومی اسمبلی میں اراکین قومی اسمبلی کے حلف اٹھانے ،وزیر اعظم عمران خان کی کامیابی ، ان کے حلف برداری کی تقریب،اس کے علاوہ چارو صوبوں کے وزرائے اعلیٰ،سپیکرز ،ڈپٹی سپیکر کے انتخابات ،وفاقی کابینہ کے علاوہ چند صوبوں کی منتخب کابینہ اور حلف برداری کو ملک کی آدھی سے زائد آبادی واپڈا کے خصوصی اختیارات یا نا اہلیوں کے باعث براہ راست دیکھنے سے محروم رہی،شرمناک بات یہ کہ یہ سلسلہ عید الاضحیٰ تک جاری رہا بعض علاقوں میں توعوام عید پر بھی اس نعمت سے محروم سے رہے کتنی شرمناک بات ہے کہ عید کے دنوں میں بھی عوام لوڈ شیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر امڈ آئے،احتجاج کرتے رہے،مظاہرے کئے ،توڑ پھوڑ کی ان پر لاٹھی چارج کیا گیامگر شرم کرنے والوں کو کچھ شر م نہ آئی،عید سے قبل ملک کے کونے کونے میں 12سے18گھنٹے تک بجلی کی بندش سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا،اس حبس زدہ اور گرمی کے اترتے قہر کے دوران عوام کی جو حالت ہوئی وہ الگ بات ہے،جہاں بجلی کو بحال رکھنے کی کوشش کی گئی وہاں ناقص ،بدتر،کرپشن زدہ سسٹم کے تحت بجلی کی روانی برقرار ہی نہ رہ سکی،ہر چند لمحے بعد پھر بجلی بند،اس بار بار بندش پر شہریوں کے کروڑوں روپے کے الیکٹرانک آلات کوڑیوں کے مول ہو گئے،محکمہ واپڈا کی جانب سے عید سے دو ہفتے قبل ہی یہ سب کچھ کیوں ہوا،مانتے ہیں کہ یہ سب کیا دھرا سابق و نگران حکومت کا ہے نئی منتخب حکومت کا اس میں کوئی قصور نہیں مگر نئی حکومت کا یہ قصور ضرور بنتا ہے کہ جب الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر اچانک اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر طوفان اٹھ کھڑا ہو ا تب نئی حکومت کی ملکی حالات مانیٹرنگ کرنے والی ٹیم شاید اقتدار حاصل ہونے کے بعد عالم مدہوشی میں تھی،تعجب تو یہ ہے کہ واپڈا کی جانب سے نئی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد نو منتخب وزیر اعظم کو طویل ترین لوڈ شیڈنگ کا Saluteپیش کرنے کے بعد تبدیلی کے کسی دعویدارکو علم نہ ہو سکا کہ عوام کس ذلت اور پریشانی میں مبتلا ہے اس ذلت آمیز صوتحال کا نوٹس تو کیا لینا تھا بلکہ اس عوامی پریشان کے خلاف کسی نئے پردھان منتری کا بیان تک نہ آیا،اس ملک میں ہمیشہ سے حکومتی نا اہلیوں کا سارانزلہ و بوجھ عوام پر ہی گرا،ذمہ دار جو بھی مگر ان پر کوئی گرفت نہیں ، ذرا یہ نا اہلی ملاحظہ فرمائیں،جس روز نئی قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا اسی روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اجلاس سینیٹر شبلی فراز کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا جس میں دیگر سینیٹرز ممبران کے علاوہ سیکرٹری پاور ڈویژن،سیکرٹری خزانہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی تھی جس میں انکشاف ہوا کہ ملکی گردشی قرضہ1148ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ذمہ 566ارب روپے واجب الادا ہیں یہ رقم کسی ترقیاتی بجٹ کی مد میں نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف قرضہ ہے جس کا 153ارب روپے سود بھی واجب الادا ہے دوسری جانب پاور ڈویژن نے مختلف سرکاری و نجی اداروں سے818ارب روپے وصول کرنے ہیں،سابق دور حکومت میںپاور ہولڈنگ کمپنی بنائی گئی جس کا واحد مقصد یہی تھا کہ ملک میں گردشی قرضہ ختم کرے حیرت تو یہ کہ اس کمپنی میں کیسے کیسے نا اہلوں کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا گیا جو قومی خزانے کو چوس کر کمپنی کو685ارب 86کروڑ روپے کی مقروض بنا چکے ہیں،اس موقع پر سینٹ کمیٹی نے ادارہ شماریات اور وزارت خزانہ کی رپورٹس پر تضادات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار و رپورٹ حقیقت پر مبنی نہیںوزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک کے جاری اعداد وشمار میں بھی کافی فرق ہے حالانکہ دنیا بھر میں کسی بھی ملک کا ڈیٹا لائف لائن ہوتی ہے اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونا چاہئے،یہاںادارہ شماریات باقاعدہ ایک وزارت ہے جس کا سربراہ وفاقی منسٹر ہوتا ہے اس کے سات ممبران ہوتے ہیں ملک بھر میں اس کے 25دفاتر، 3631منظور شدہ آسامیاں کام کر رہی ہیں جبکہ ایک ہزار کے قریب اس وزارت کی آسامیاں خالی ہیںمگر کام ؟؟،سینٹ کمیٹی ارکان کے مطابق گردشی قرضہ کا مسئلہ انتظامی نہیں سیاسی مسئلہ ہے ،یہ مسئلہ انتظامی ہے یا سیاسی مگر عوام کے ساتھ بہت بڑی بے غیرتی ہے،وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم پر یہ واضح رہے کہ زمین پر رینگنے والی اس قوم کو اندھیروں میں دھکیلنے والوں کا کبھی اندھیروں سے واسطہ نہیں پڑا،یہ کردار سیاستدانوں پر مشتمل ہوں یا بیوروکریسی پرسبھی کی عوام سے متعلق ایک ہی سوچ ہے ایک ہی نظریہ ہے سب انہیں جیسے انسان سمجھتے ہی نہیں حالانکہ اسی مظلوم طبقے کو بھیجے جانے والے بلوں سے بجلی کی قیمت کے علاوہ سالانہ 160ارب روپے بطور ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں ،اس با اختیارات طبقے کی ناقص اور گھٹیا ترین پالیسی کی بدولت کروڑوں افراد کا سکون اور غارت و برباد ہو جاتا ہے مگر ان لا پرواہوں اور بے حسوں کو اس سے کچھ غرض نہیں،یہ آج تک ماہ رمضان میں مکمل بجلی فراہم نہیں کر سکے،تقریباً ہر جمعةا لمبارک کو بوقت نماز بجلی بند ہوتی ہے،شب معراج ہو یا شب برات اندھیرا لازمی ہو گا،سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم پر کیسا طبقہ مسلط ہے جسے عوامی استحصال کی کھلی چھٹی حاصل ہے ،کوئی ان کو لگام ڈالنے کے قابل نہیں،عید گذر چکی ہے لوڈ شیڈنگ کا یہ سلسلہ پھر جاری رہے گا وزیر اعظم آف پاکستان واپڈا کی جانب سے کئے اس مبارکبادی Salute کا لازمی جواب دیں نہیں تو اس سیلوٹ کی دھمک میں عوام مری جا رہی ہے،ان کا سکون تباہ،روزگار تباہ ہو چکا ہے۔

صابر مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد

Check Also

نور محمدی ﷺ

    نور محمدی ﷺ کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ای میل: ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *