Home / کالم / بھارتی آرمی چیف کا نشہ اتارنا ہوگا

بھارتی آرمی چیف کا نشہ اتارنا ہوگا

 

 

بھارتی آرمی چیف کا نشہ اتارنا ہوگا
تحریر عقیل خان
aqeelkhancolumist@gmail.com
شام کا وقت ، سہانا موسم ، مطلع ابر آلود ، خنک ہوا، دوستوں کی محفل اور حالات حاضرہ پر بحث و مباحثہ جاری کہ اچانک ایک دوست آیا اور دھماکہ خیز اطلاع دی کہ آج بھارتی آرمی چیف نے بڑا بیان دیا ہے۔ میرے منہ سے فی البدیہ نکلا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں ان کا کیا؟ اس کے ساتھ ہی بیٹھے دوست نے کہا نہیں خان صاحب یہ حقیقت ہے بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کوآج دھمکی دی ہے۔ مطلب کہ بھارت ایک بار پھر ہواکے گھوڑوں پر سوا ر ہے۔
گھر آکر جب نیوز چینل دیکھے تاکہ پتا چلے بھارتی آرمی چیف نے کیا دھمکی دی ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ تو دیکھا ہر چینل پربھارتی آرمی چیف کا بیان موضوع بحث تھا۔ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کا کہنا تھا” وقت آگیا ہے کہ پاکستانی فوج سے بدلہ لیا جائے، ہم اپنی حکمت عملی آشکار نہیں کریں گے۔ عسکری کارروائی ہمیشہ سرپرائز ہوتی ہے، پاکستان کو اس کی زبان میں جواب دیا جائے گا۔ ہم پاکستانی فوج کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں، پاکستان کو درد محسوس کرانا چاہتے ہیں۔ ہتھیاروں کی ضرورت ہے، خریدتے رہیں گے۔ پاکستان جو کرتا ہے کرتا رہے، جوابی اقدامات بھی ہونگے۔“
بھارتی سورما کا یہ بیان سن کر مجھے فوری وہ کہاوت یاد آگئی کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو ہمیشہ شہر کارخ کرتا ہے ۔ ہندو بنیے اچھی طرح مسلمانوں کی طاقت سے واقف ہیں۔ ابھی دس محرم الحرام کی مثال ان کے سامنے ہے۔ شہادت کربلا کے بعد یزید کا مقدر ہر طرف سے لعنت و پھٹکار ہے جب کہ حضرت امام حسن ؓاور حضرت امام حسینؓ کے چاہنے والے آج بھی ہر جگہ ، ہر گھر اور ہر علاقے میں موجود ہیں۔بھارت چھوٹا ہے کیونکہ پاکستان پہلے آزاد ہوا اور انڈیا بعد میں ۔ انڈیا پاکستان سے پہلے آزاد ہوکر دکھاتا۔ بھارتیوں کو پاکستانیوں کا شکرگزار ہوناچاہیے کہ ان کی بدولت آج وہ آزاد ہیں ۔ پاکستان آزاد ہوا تو اس کے بعد انڈیا کو آزادی ملی ورنہ ابھی تک انگریزوں کے جوتے صاف کررہے ہوتے۔ حالانکہ یہ کام وہ ابھی بھی اسی جوش و جذبے سے کررہے ہیں ۔
ایک بات اور واضح کر دوں کہ جب بھی پاکستان میں نئی حکومت آتی ہے بھارت پاکستانی حکومت پر دھاک بٹھانے کے لیے ایسے بیانات دیتا ہے مگر اس کو نہیں معلوم کہ ہمارے ملک میں صرف حکومتیں تبدیل ہوتی ہیںملک میں رہنے والے نہیں، آرمی نہیںاور نہ ہی ہمارے جذبے۔ ہماری عوام میںسیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر پاکستان کی بقا کے لیے ہم سب ایک ہیں۔ پاکستان کی طرف بری نظر سے دیکھنے والوں سے ٹکرانے اور ان کا سر کچلنے کے لیے ہم میں کوئی تفریق نہیں۔ بھارتی آرمی چیف کی دھمکی دراصل ان کو لاحق بد ہضمی ہے۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے پاس ان کا موثر علاج ہے۔ بھارتی آرمی چیف کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ نارمل پوزیشن میں نہیں تھے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس طرح وزیراعظم پاکستان نے انہیں مذاکرات کی دعوت دی وہ اس پر بات کرتے ہوئے انڈیا مثبت جواب دیتا مگر پہلے حکمران دم دبا کر بھاگے اور اس کے بعد اب گاو¿ ماتا کے ”سوسو“ کے نشے میں دھت انڈین آرمی چیف ایسا بیان دے بیٹھا جس سے نہ صرف بھارتی عوام بلکہ خود حکمران سکتے میں آگئے ہیں۔
پاکستانی وزیراعظم نے جذبہ خیر سگالی کے تحت کہا تھا کہ اگر بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے تو اس کامطلب یہ ہرگز نہ لیا جائے کہ یہ الفاظ صرف مذاکرات کے لیے ہیں بلکہ اگر ہم سے جنگ کے میدان میں ملے تو وہاں بھی اپنے رب کے کرم سے دو قدم آگے ہی پاو¿ گے۔
بقول وزیراعظم پاکستان ”بڑے عہدے پر بیٹھے چھوٹے شخص (جس کو ہمارے معاشرے میں ”کمی“کہا جاتا ہے )کی سوچ ہمیشہ چھوٹی ہی رہتی ہے۔“کسی بھی ملک میں بظاہر وزیراعظم اور آرمی چیف کا عہدہ بہت بڑا ہوتا ہے مگر بھارت میں ان عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی سوچ اور بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خطے میں امن نہیں بلکہ کچھ اور چاہتے ہیں۔ جس کے لیے پاکستان ہر طرح سے تیار ہے۔ بھارتی آرمی چیف کی دھمکی کے جواب میں پاکستانی حکومت اور اپوزیشن نے بیک وقت ایک ساتھ جواب دے کر یہ ثابت کردیا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ اور تیرا میرا رشتہ کیا لاالہالااللہ “کا نعرہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔
بھارت ہماری شرافت کو کمزوری سمجھ رہا ہے تو اس کی بہت بڑی غلطی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہنود ویہود نے گہری سازش کے تحت ہم کو فرقہ واریت میں الجھا دیا ، ہم کو علاقائی و لسانی بنیادی پر لڑایا جا رہا ہے ، ہم غیروں کی لگائی ہوئی دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہے ہیں ۔اس آگ کی حدت وشدت نے ہماری روحوں کو بھی تڑپا دیا ہے۔ ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم پاکستانی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں، یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ پیسے کی ہوس بھی شاید ہم میں بہت زیادہ آگئی ہو گی ۔ اس بات سے بھی انکاری نہیں کہ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف بولتے ہیں اور بظاہر ہم اپنے اداروں کا احترام بھی نہیں کرتے مگر گیدڑو تمہاری گیڈر بھبکیوں سے ڈرنے والے نہیں ۔ بھارتی سورماو¿ ! یاد رکھنا کہ ہم اپنے ملک میں کیسے بھی رہیں مگر تمہیںسبق ایسا پڑھائیں گے کہ تمہاری آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ کان کھول کر سن لو اور یہ بات اپنے دل و دماغ میں اچھی طرح بٹھالو کہ تم نے پاکستان پر حملہ کرناتو دور کی بات جب کبھی بھی بری نظر سے دیکھا تو یہی پاکستانی قوم جو تقسیم در تقسیم نجانے کن کن گروہوں ، ٹولیوں ، گروپوں ،جماعتوں ، علاقوں اور مسلکوںمیں بٹی ہوئی ہے ۔ وہ اپنے ملک بلکہ اپنے نلک کے ایک ایک انچ کے لیے ایک بند مٹھی اور سیسہ پلائی دیوار کی طرح مضبوط تمہارے سامنے کھڑی ہو گی اور اس قوم کے معوذ و معاذ انڈیا کے ابوجہلوں اور بپن راوتوں کا سر کچلنے کے لیے بے تاب ہوں گے کیونکہ ان کا اپنے رب کے وعدہ پر کامل یقین ہے جس میں وہ فرماتاہے کہ بڑھو اپنے رب کی جنت کی طرف جس کی وسعت زمین و آسمانوں سے بڑھ کر ہے۔

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *