تازہ ترین خبریں
Home / تعلیم / بھارت: سکہ اچھال کر پروفیسر کا انتخاب، وزیر تعلیم کا اپنے اقدام کا دفاع

بھارت: سکہ اچھال کر پروفیسر کا انتخاب، وزیر تعلیم کا اپنے اقدام کا دفاع

 

چندی گڑھ: بھارتی ریاست پنجاب میں وزیر برائے فنی تعلیم کے سکہ اُچھال کر پروفیسر منتخب کرنے کے طریقہ کار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور واقعے کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی بھارت کے تعلیمی معیار پر سوالات اُٹھنے لگے ہیں، تاہم وزیر موصوف اپنے موقف پر قائم ہیں۔انٹرنیٹ پر وائرل ایک ویڈیو کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب کے وزیر برائے فنی تعلیم چرنجیت سنگھ چھنی نے دو امیدواروں کے درمیان اُن کی قابلیت کی بنا پر فیصلہ کرنے کی بجائے سکہ اُچھال کر ایک کو مکینیکل پروفیسر کے طور پر منتخب کرلیا۔اس ویڈیو کے وائرل ہوتی ہی تنقید کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا، جس میں مذکورہ وزیر کو سکہ اچھالتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔تاہم وزیر فنی تعلیم چرنجیت سنگھ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ عمل کرپشن کے بغیر شفاف طریقے سے کیا گیا۔نیو انڈین ایکسپریس کی ایک  کے مطابق وزیر تعلیم پنجاب نے دعویٰ کیا کہ دونوں امیدوار قابلیت کے لحاظ سے ایک جیسے تھے اور انہوں نے خود ہی یہ سکہ اچھال کر کسی ایک کا انتخاب کرنے کی تجویز دی تھی۔بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے چرنجیت سنگھ نے کہا، ‘میرے پاس 37 امیدوار تھے، اس سے قبل اس سارے عمل میں بہت کرپشن ہوتی تھی، لہذا میں نے یہ روایت توڑی اور ان 37 امیدواروں کو بلایا اور انہیں ان کے مطلوبہ اسٹیشنز الاٹ کردیئے، لیکن دو امیدوار ایسے تھے جو ایک ہی اسٹیشن چاہتے تھے اور قابلیت کے لحاظ سے بھی ایک جیسے تھے، یہی وجہ ہے کہ امیدواروں نے خود ہی سکہ اچھال کر ٹاس کی تجویز دی، اس معاملے میں کوئی غیرقانونی سرگرمی نہیں ہوئی بلکہ یہ سارا عمل کرپشن سے پاک تھا’۔

Check Also

ایشیا کپ میں پاک بھارت ٹاکرا: شوبز ستاروں کی جانب سے بھی نیک تمناؤں کا اظہار

    دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والے ایشیاء کپ کے سلسلے میں آج روایتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *