Home / کالم / بے نظیر اوربے ضمیر

بے نظیر اوربے ضمیر

 

بے نظیر اوربے ضمیر

سینیٹ میں حالیہ اپ سیٹ کے بعدزخمی اپوزیشن کاآپے سے باہرہونافطری امر ہے تاہم ان کے نشیمن پربجلیاں گرانیوالے ان کے اپنے ہیں۔سینیٹ میں ہیوی ویٹ اپوزیشن نے خودکواووراسٹیمیٹ اورصادق سنجرانی کوانڈراسٹیمیٹ کرلیا تھا،اپوزیشن کے پرانے ”بابوں”اورسیاسی” بونوں”کی طرف سے جس کپتان کواناڑی کہا جاتا ہے اس اناڑی نے ہماری قومی سیاست کے ایک نام نہاد”بھاری”سیاستدان پر بہت کاری ضرب لگائی۔نوازشریف کانامزدنامراد رہا،نوازشریف بادشاہ رہا نہ بادشاہ گربلکہ قدرت نے اسے قیدی بنادیاہے ۔کپتان کے سٹینڈ جبکہ بلوچستان کے باکمال اورفعال وزیراعلیٰ میرجام کمال خان ،بلوچستان کے سابق نڈر اور انتھک وزیرداخلہ سرفرازخان بگٹی اوربلوچستان کے سابق پروفیشنل ترجمان سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے سنجرانی کی کامرانی میں کلیدی کرداراداکیا،جس عمران خان کونوازشریف کی واسکٹ کاٹوٹاہوابٹن نہ دینے کابلندبانگ دعویٰ کیا گیا تھا آج وہ کپتان پاکستان کا بادشاہ اوربادشاہ گر ہے ۔راقم سمیت حکمران اتحاد کی چندسنجیدہ شخصیات نے اپوزیشن قیادت کوچیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی واپسی کامفت مشورہ دیا تھا مگراس وقت ان کے تدبر پرتکبراورہوش پرجوش کاغلبہ تھا، انہیں اپنی کامیابی کی محض امید نہیں تھی بلکہ ا طمینان اورایقان تھالیکن چودہ سینیٹرز نے اپنے اپنے قائدین کے چودہ طبق روشن کردیے ہیں ۔سینیٹ میں صادق سنجرانی کے ہاتھوں بے نظیر شکست اورخفت کے بعداپوزیشن نے اپنے 14سینیٹرز کوبے ضمیر کہنااورانہیں دھمکاناشروع کردیا ہے۔ایک اپوزیشن رہنما ءکہتا ہے ہم اپنے ضمیرفروش سینیٹرز کوبے نقاب کریں گے دوسراکہتا ہے حکومت بے نقاب ہوگئی اب ان میں سے کس کوسچاماناجائے۔متحدہ اپوزیشن کی قیادت بتائے اگر آصف زرداری کے حکم پر پیپلزپارٹی کے سینیٹرز صادق سنجرانی کوووٹ دیں تواس صورت میںوہ باضمیر ہیں لیکن اگر ریاست اورجمہوری نظام کی بقاءکیلئے بے نظیر کرداراداکرنیوالے سینیٹرز اپنے ضمیر کی آواز پرصادق سنجرانی کیخلاف ووٹ نہ دیں توانہیںبے ضمیر قراردے دیاگیا۔جس جس نے ان چودہ سینیٹرز کوبے ضمیر کہا انہیں باضمیرہونے کاسرٹیفکیٹ کس نے دیا ہے،کون بے نظیر ،باضمیراوربے ضمیر ہے اس کافیصلہ تاریخ پرچھوڑدیاجائے۔کیا منتخب سینیٹرز اپنے قائدین کے ہاتھوں میں غلام یاکٹھ پتلی بنے اوروہ انہیںاپنے اشاروں پرنچاتے رہیں تواس صورت میںانہیں زندہ ضمیراور وفادار ماناجائے گا جبکہ ان کا پارٹی قیادت کی کسی بات سے متفق نہ ہوناکیامردہ ضمیری کے زمرے میں آئے گا۔ایک منتخب سینیٹر یاپارلیمنٹرین اپنی مرضی ومنشاءسے اپنے پسندیدہ امیدوار کوووٹ کیوں نہیں دے سکتا،وہ اپنے قائد کے جائزیاناجائزفیصلے کاپابندکیوں ہے۔اگرعا م انتخابات میں ووٹر اپنے پسندیدہ امیدوار کے نشان پر خفیہ طور پرمہر ثبت کرتے ہیں توایوانوں میں منتخب نمائندوں کیلئے اپناووٹ ظاہرکرناکیوں ضروری ہے۔شکست کے بعدسینیٹ میںخفیہ ووٹ کاطریقہ کارختم کرنے کامطالبہ کیوں کیاجارہا ہے،امید ہے حکمران اتحاد یہ نہیںہونے دے گا ۔ جس وقت پیپلزپارٹی نے صادق سنجرانی کوجتوایاتھااس وقت مسلم لیگ (ن)نے تنہا بلیم گیم کی انتہاکردی تھی لیکن آج جب حکمران اتحاد نے اپوزیشن اتحاد کوشکست فاش دی ہے تو پھر سے آئینی اداروں پرسیاسی حملے کئے جارہے ہیں ۔
آپ کویادہوگاآصف زرداری نے سیاسی طورپرصادق سنجرانی کی کامیابی کابہت کریڈٹ لیا اورمسلم لیگ (ن) کو بہت زچ کیاتھا۔ایک زرداری سب پربھاری کے نعرے بھی لگائے گئے تھے۔مگر پھر نیب کے آسیب کاڈرمیدان سیاست کی دونوں بدترین دشمن پارٹیوں کوایک چھتری تلے لے آیا۔نوازشریف اورآصف زرداری کواحتساب سے بچاﺅ کیلئے ایک ناﺅمیں بیٹھناپڑامگراحتساب کا سونامی ان کی ناﺅبہالے گیا۔اپوزیشن نے سوچاتھا صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد سے حکومت دفاعی پوزیشن پر آجائے گی اوران کے اسیرنیب زدگان کو رہاکردیاجائے گا مگرایساکچھ نہیں ہوا ۔عمران خان نے جہاں ایک ملاقات میں صادق سنجرانی کواپوزیشن کیخلاف ڈٹ جانے کامشورہ دیا وہاں وہ خود بھی ان کی پشت پرکھڑے ہوگئے اورڈٹ کران کادفاع کیا ۔ میرجام کمال خان ، سرفرازخان بگٹی اور سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے صادق سنجرانی سے دوستی کابھرپورحق اداکیا۔
الحمدللہ راقم نے 12جولائی کے اپنے کالم”صادق سنجرانی سے انوارالحق کاکڑتک” میں انتہائی وثوق سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم کی ناکامی کونوشتہ دیوارقراردیا تھا اور جوتجزیہ سپردقرطاس کیا تھا وہ درست رہا۔اپنے اُس کالم سے چندسطورپیش خدمت ہیں۔”متحدہ اپوزیشن نے پی ٹی آئی حکومت کوانڈرپریشر کرنے اورکرپشن کیخلاف جاری آپریشن روکنے کیلئے معتدل ، مخلص،محب وطن،بے ضروراورتحمل مزاج والے صادق سنجرانی کو تحریک اعتماد کی مددسے ہٹانے کافیصلہ کرتے ہوئے قرارداد سینیٹ سٹاف کے سپردکردی۔اس تحریک عدم اعتماد کافیصلہ اپوزیشن پارٹیوں کی اے پی سی میں کیا گیا تھا مگرخفیہ ووٹنگ کے نتیجہ میںاپوزیشن کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے۔متحدہ اپوزیشن میں دم ہے توعدم اعتماد کافیصلہ خفیہ رائے شماری سے ہونے دے۔اگرعام انتخابات میں شہریوں کیلئے اپنا ووٹ خفیہ رکھناانتہائی ضروری ہے توپھر ایوانوں میں ووٹ کاسٹ کر تے وقت اس قانون کااطلاق کیوں نہیں ہوتا ۔نام نہاد منتخب حکمران اپنی شخصی آمریت کے استحکام اور دوام کیلئے جمہوری اقدار کی دھجیاں بکھیرتے رہے ۔ پارٹی فیصلے کیخلاف ووٹ دینے کی صورت میں ممبر اسمبلی ڈی سیٹ ہوجائے گا،یہ قانون کسی فوجی ڈکٹیٹرکے فرمان سے نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کے درمیان گٹھ جوڑ سے بناتھا۔اس قانون نے منتخب نمائندوں کواپنی اپنی پارٹی قیادت کاغلام بنادیا ہے،وہ اپنے ضمیر کی آواز نہیں سن سکتے ۔اگراے پی سی کی ناکامی کے بعد متحدہ اپوزیشن کومردہ اپوزیشن کہاجائے توبیجانہیں ہوگا،احتساب کے سونامی کاسامنابلکہ مقابلہ کرناہرکسی کے بس کی بات نہیں اسلئے اپوزیشن کوبار بار اپنی پوزیشن پرکمپرومائز کرنا پڑے گا۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک اعتمادکے دوران اپوزیشن کی پوزیشن یعنی عددی برتری پوری طرح کلیئر ہوجائے گی اوران کازعم ایک زخم بن کررہ جائے گا۔میں عنقریب اپوزیشن پارٹیوں کوباہم دست وگریباں ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔جس جس پارٹی کی قیادت نے ملک وقوم کے ساتھ فراڈکیا اس اس میں فاروڈبلاک ضروربنے گا ۔ اپوزیشن نے حاصل بزنجوکوچیئرمین سینیٹ کیلئے نامزدکیا ہے مگر متحدہ اپوزیشن کی کاوش” لاحاصل ”رہے گی۔” راقم نے لکھا خفیہ ووٹنگ کے نتیجہ میں اپوزیشن کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے اوراپوزیشن ناکام ہوگئی جبکہ راقم نے جو ”لاحاصل”کی اصطلاح استعمال کی تھی وہ بھی خاصی مقبول ہوئی۔صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی سے جہاں اپوزیشن کی بدنامی ہوئی وہاں رسوائی کے اس بوجھ سے ان کی سیاست کاجنازہ بھی اٹھ گیا ہے۔
تحریک عدم کی ناکامی کے نتیجہ میں متحدہ اپوزیشن مردہ اپوزیشن بن جائے گی اورعنقریب یہ ایک دوسرے کاگریبان چاک کریں گے ،راقم نے یہ بھی لکھا تھا ۔تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعداپوزیشن والے خود اپنی سیاسی پوزیشن پرخود کش حملے کررہے ہیں ۔متحدہ اپوزیشن کے متفقہ امیدوارنے باوقاراندازمیں شکست تسلیم اورچیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کومبارکبادپیش کرنے کی بجائے خفت مٹانے کیلئے آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کوسیاست میں گھسیٹ لیا تاہم آئی ایس پی آر کے دبنگ اورزیرک ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے بروقت اور دوٹوک انداز میں اس پروپیگنڈے کی تردید کرتے ہوئے اس جھوٹ کے تابوت کو دفنادیا۔اگرکسی آ ئینی ادارے نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتمادمیں مداخلت کی ہوتی تو 14کی بجائے 28سینیٹرز بغاوت کرتے۔اپوزیشن کے 64سینیٹرز کاتحریک عدم اعتماد کی کارروائی میں شریک اوراپنے متفقہ امیدوار کے حق میںکھڑے ہونااس بات کی غمازی ہے کہ مداخلت نہیں کی گئی۔ بلوچستان کے باوفااورباصفاوزیراعلیٰ میرجام کمال خان ، سرفرازخان بگٹی،وفاق پاکستان کے علمبردار سینیٹر انوارالحق کاکڑ اورپی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کیلئے ہرمرحلے پر ہراول دستہ کی حیثیت سے متحرک رہے۔ انہوں نے متحدہ اپوزیشن کے سینیٹرز کا ضمیربیدارکرنے کیلئے جودستک دی تھی وہ رائیگاں نہیں گئی ۔ان گمنام چودہ سینیٹرز بلکہ ہیروز نے کسی ڈر، زریازور نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی آواز پربے ضرر اورسراپاپاکستانیت صادق سنجرانی کیخلاف ووٹ نہیں دیا ۔ان سینیٹرز نے صادق سنجرانی کوناکامی نہیں بلکہ مادروطن پاکستان کوایک بڑے آئینی بحران اورسیاسی طورپرعدم استحکام سے بچایا ہے۔ان سینیٹرز کاسیاست کی بجائے ریاست بچانے کافیصلہ درست اوردوررس ہے۔متحدہ اپوزیشن کی اقتدار پرست قیادت کاان سینیٹرز کوبے ضمیر کہناکوئی اہمیت نہیں رکھتاکیونکہ وہ تاریخ کے اوراق میں گمنام ہیروز کی حیثیت سے یادرہیں گے ۔صادق سنجرانی کے چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے سے ان کیخلاف تحریک عدم ناکام ہوناسیاسی طورپرزیادہ اہم اوربڑاواقعہ ہے ،اب ان پر آصف زرداری کاکوئی احسان بھی نہیں رہا ۔ سینیٹ کے سربلند چیئرمین صادق سنجرانی اب زیادہ آزادانہ ،دانشمندانہ ،جرا¿تمندانہ اورآبرومندانہ انداز سے اپنافرض منصبی انجام دیں گے۔

Check Also

الزام ان کو دیتے تھے

  الزام ان کو دیتے تھے تمام سیاستدان جمہوریت ۔۔ جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *