تازہ ترین خبریں
Home / بزنس / تاجروں نے ایف بی آر کا انٹیگریٹڈ سسٹم سمجھنے کیلیے مہلت مانگ لی

تاجروں نے ایف بی آر کا انٹیگریٹڈ سسٹم سمجھنے کیلیے مہلت مانگ لی

اسلام آباد: ملک کے بڑے چین اسٹورز اور تاجروں نے لیدر اور ٹیکسٹائل سیکٹر کیلیے اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی پر 6 فیصد سیلز ٹیکس کی رعایتی شرح کے اطلاق کو ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ منسلک کرنے کیلیے مقررکردہ تاریخ میں توسیع کرنے کا مطالبہ کردیا ہے کہ ایف بی آر کے انٹیگریشن سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے خلاف سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت آڈٹ اور تحقیقات نہ کی جائیں۔’’ملک کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور تاجر تنظیموں کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو لیٹر موصول ہوئے ہیں جن میں درخواست کی گئی ہے کہ تاجروں کو ایف بی آر کے انٹیگریٹڈ سسٹم کو سمجھنے کیلیے مہلت دی جائے اور تاجروں کے اس سسٹم کو سمجھنے تک انٹیگریٹڈ سسٹم سے منسلک ہونے کیلیے تاریخ میں توسیع کی جائے۔دستاویز کے مطابق چیمبر آف کامرس کی جانب سے ایف بی آر کو لکھے جانے والے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے خلاف سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت آڈٹ اور تحقیقات چھوڑ دی جائیں۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ لیدر اور ٹیکسٹائل سیکٹر کیلیے اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سُپلائی پر چھ فیصد سیلز ٹیکس کی رعایتی شرح کے اطلاق کو ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم سے منسلک کرنے کی شرط کو لاگو کرنے سے پہلے ایف بی آر کے انٹیگریٹڈ سسٹم اور اس کے کاروبار پر مرتب ہونے والے اثرات کو رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے ساتھ شیئر کیا جائے۔واضح رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گزشتہ ماہ (اگست) میں لیدر اور ٹیکسٹائل سیکٹر کیلیے اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی پر چھ فیصد سیلز ٹیکس کی رعایتی شرح کے اطلاق کو ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے سے مشروط کردیا تھا اور ٹیکس دہندگان سے کہا تھا کہ جو ٹیکس دہندگان و یونٹس ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ منسلک نہیں ہوں گے انہیں تین فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اقدام کا بنیادی مقصد لیدر اور ٹیکسٹائل یونٹس کی مقامی سپلائی کی مانیٹرنگ کرنا ہے جس کیلیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے باضابطہ طور پر سرکلر جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھاکہ لیدر اور ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ ٹیکس دہندگان و مینوفیکچررز اور یونٹس کو اپنی تیار کردہ اشیا کی مقامی سپلائی پر چھ فیصد سیلز ٹیکس کی رعایتی شرح کے اطلاق کیلیے اپنے یونٹس اور ٹیکس دہندگان کو ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا جس کیلیے ٹیکسٹائل و لیدر سیکٹر کے ٹیکس دہندگان کو پندرہ اگست تک خود کو ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ منسلک کرنے سے متعلق رضامندی کے حوالے سے آگاہ کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی ایک بڑی تعداد ابھی تک خود کو ایف بی آر کے اس انٹیگریٹڈ ٹیکس سسٹم کے ساتھ منسلک نہیں کراسکی ہے جس کیلیے اب تاجر برادری تاریخ میں توسیع کرنیکا مطالبہ کررہی ہے کیونکہ جن یونٹس نے پندرہ اگست تک ایف بی آرکو اپنی رضامندی کے بارے میں آگاہ کیا ہے انہیں اشیا کی لوکل سُپلائی پر چھ فیصد رعایتی سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کی جارہی ہے اور جو لوگ ابھی تک ایف بی آر کے سسٹم سے منسلک نہیں ہوئے ان کیلیے اشیا کی لوکل سُپلائی پر تین فیصد اضافی شرح کے ساتھ چھ فیصد کے بجائے9 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ٹیکسٹائل و لیدر سیکٹر کے جو ٹیکس دہندگان خود کو ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹ کرنے کیلیے رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود اپنے یونٹس کو عملی طور پر ایف بی آر کے سسٹم کے ساتھ منسلک نہیں کر رہے انہیں بھی چھ فیصد رعایتی سیلز ٹیکس کی سہولت نہیں دی جائے گی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایف بی آر کے آن لائن سسٹم کے ساتھ منسلک نہ ہونے والے لیدر و ٹیکسٹائل ٹیکس و ٹیکس دہندگان کو اشیا کی مقامی سپلائی پر 9 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لاگو کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق یکم جولائی 2018 سے کیا گیا ہے تاہم اس بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیوحکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد لیدر اور ٹیکسٹائل یونٹس کی مقامی سُپلائی کی مانیٹرنگ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو یونٹس ایف بی آر کے اس سسٹم کے ساتھ منسلک ہوں گے وہ اپنی تیار کردہ اشیا کی جو بھی لوکل سپلائی کریں گے اس کی انوائس آن لائن براہ راست ایف بی آر کے پاس آجائے گی جس سے ایف بی آر کو ان یونٹس کی اصل سیل کا ریکارڈ دستیاب ہوگا جس سے ان شعبوں سے مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔مذکورہ افسر نے بتایا کہ یہ بین الاقوامی ماڈل ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک میں نافذ ہے جہاں اس طرح کے یونٹس کے سیل پوائنٹس ان کی ٹیکس اتھارٹیز کے آن لائن سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹڈ (منسلک) ہیں اور وہاں کی ٹیکس اتھارٹیز ان سیلز پوائنٹس کی انوائسز کی مانیٹرنگ کررہی ہوتی ہیں۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ اس اقدام سے ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے دی جانے والی 6 فیصد رعایتی سیلز ٹیکس کی سہولت کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی اور ریونیو بڑھے گا۔

Check Also

پی آئی اے نے برسوں سے رائج امریکن سسٹم سیبر کو خیر باد کہہ دیا

کراچی:  پی آئی اے انتظامیہ نے برسوں سے رائج امریکن ایئرٹکٹنگ، بورڈنگ اور ریزرویشن سسٹم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *