Home / کالم / تبدیلی آکے چلی گئی سرکار مہنگائی کی تبدیلی میں کروٹ

تبدیلی آکے چلی گئی سرکار مہنگائی کی تبدیلی میں کروٹ

 

 

تبدیلی آکے چلی گئی سرکار
مہنگائی کی تبدیلی میں کروٹ
ت

حریرعلی جان(جوہرٹاﺅن لاہور) ای میل:

aj119922@gmail.com
25جولائی 2018کا دن کوئی بھول ہی نہیںسکتا کیوںکہ ہرایک شخص کی زبان پر تبدیلی کے نعرے تھے ٹی وی چینل لگائیں تو تبدیلی کی باتیں سوشل میڈیا آن کریں تو تبدیلی کی پوسٹیں سیاستدان کیا عام عوام بھی ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے دکھائی دیئے مگرانہیں پتا نہ تھا یہ تبدیلی چند دن کی ہے کیونکہ ساری نئی حکومت ہے کسی کو کوئی تجربہ تک نہیں جس وجہ سے کوئی بھی بل ان کے پاس جائے بنا سوچے اس پر سگنیچرکردیتے ہیںاس وجہ سے مہنگائی تلے عوام دبتی جارہی ہے نئی حکومت میں نااہلوں کے ٹولے نے عوام کا جینا دوبھرکردیا ہے اگرکوئی بات کریں تو کہتے ہیں حکومت کو کچھ وقت دو حکومت کو تین ماہ ہونے کو آئے مگرنئی حکومت نے مہنگائی کے سوا کچھ بھی نہیں دیا تبدیلی کے نعرے دھرے کے دھرے رہ گئے جولوگ پروٹوکول کے خلاف تھے خود پروٹوکول میں لگے ہیں وزیراعظم سے لے کر چھوٹے سے ایم پی اے کو دیکھیں تو پروٹوکول کے بھوکے نظرآتے ہیں صرف باتیں تھیں جوالیکشن سے پہلے ہوئی تھیں ان پرکچھ بھی عمل دکھائی نہیں دے رہاوزیرخزانہ اسدعمرنے کہاتھا کہ گیس پر 145%ٹیکس لگایا کیونکہ یہ امیرلوگ استعمال کرتے ہیں میں اس معزز شخص اسدعمرسے پوچھنا چاہتاہوں کہہ جولوگ رکشہ چلاکے چونائی پلسترکی مزدوری کرکے یاریڑھی والا 500سے700دیہاڑی کما کرگھرلے جاتا ہے اور اسکے گھربدقسمتی سے گیس لگی ہے تووہ ٹیکس تواسے بھی اداکرنا ہوگا یا آپ ان کے گھرآکے گیس فری کراکے جائیں گے اس کے علاوہ عوام پر183ارب کے نئے ٹیکس لگایئے گئے ہیںجن میں سگریٹ،گاڑیوں،موبائل وغیرہ شامل ہیں مگراس تبدیلی نے یہاں تک بریک نہیں لگائی سبزی منڈی سے ہوکے دودھ دہی والے دکان سے چکرلگا آٹاگھی،چینی،دال،مرچ وغیرہ سے ہوتی ہوئی پھل فروٹ والے سے ملاقات کرکے کپڑے جوتے والے سے ہوکے پتا نہیں کہاں کہاں چکرلگائے جس کی وجہ سے ہرچیزمہنگی ہوگئی دودھ 80روپے اور دہی 90روپے ملنے لگی کوئی بات کرنے پر دکاندار دھتکاردیتے ہیں جیسے ہم دودھ دہی نہیں ووٹ لینے آئے ہوںسیب 250سے اوپرانگوربھی250روپے پھلانگنے میں کامیاب ہوگیا انارکی توبات ہی نہ پوچھیں جس نے 300سے نیچے آنے کا نام نہیں لیاآڑو125تک بکنے لگا گرما90سے100روپے پپیتا90سے 110روپے یہ توعام نرخ ہیں مگرکئی جگہوں پر اس سے بھی زائدپیسے وصول کیے جاتے ہیں سبزی کی بات کریں تو عورتیں سرخ مرچ کی طرح لال ہوجاتی ہیں اس وجہ سے بھئی ہم مردوں کی بھلائی اسی میں ہے سبزی کی بات گھر میں کریں ہی نہ کیوں کہ نئی حکومت کا غصہ ہم پر نکل جائے گا اور بیگم کا بیلن اور ہم ۔۔۔۔۔نابابا ہمیں توڈرلگتاہے۔شلجم 120ٹینڈے100مٹر160 جبکہ سواتی مٹر205کریلے 120پالک 50روپے فی کلوادرک 150روپے چائینہ ادرک 185روپے شملہ مرچ125روپے کلو لہسن140روپے پیاز 40روپے کلومرغی نے 170سے200تک اپنی سیٹنگ کرلی چھوٹا گوشت850روپے لال مرچ280روپے دال چنا95باریک85روپے مونگ دال موٹی 95باریک 85روپے مسور دال باریک110موٹی100روپے چاول باسمتی110پرانہ130سے اوپرپھلانگ گیاٹماٹر50روپے سے80ہواتوسبزمرچ55سے80روپے کوپہنچ گئی اب غریب آدمی کے چوہلے پر بھی ڈالہ حیرانی ہوتی ہے اس کے ساتھ مجھے اکثرعمران خان کی بات یاد آتی ہے کہ میں رولاﺅں گا اس وقت تو ہم کسی پارٹی کا سمجھتے تھے مگراب محسوس ہوتا ہے وہ عوام کورلانے کی بات کرتاتھا ہم ایسے ہی بے وجہ خوش ہوتے تھے اس بار کے منی بجٹ نے اس حکومت کوبھی عوام دشمن قراردیاہے اس بجٹ کی وجہ سے کچھ دنوں میں مہنگائی کا تناسب بڑھے گا نہ کے کم ہوگامجھے حیرت ہوتی ہے ہمارے ملک میں اتنی زیادہ مہنگائی ہے تھرمیں لوگ بھوک پیاس سے مررہے ہیں 60%سے زائدلوگ آج بھی غربت کی لکیرسے نیچے زندگی بسرکررہے ہیں بجائے اس کے کہ حکومت آٹا گھی چینی وغیرہ کی قمیتوں میں کمی کرتی مگرمہنگائی کرکے افغانستان کو 40,000ٹن گندم تحفہ دینے کی بات کرکے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیامہنگائی سے ہمیں کوئی گلہ نہیں کیوں کہ یہ توسال میں 365دن ہی آتی جاتی رہتی ہے گلا ہے تواپنے حکمرانوں سے جو ہمیں جھوٹے خواب دکھلاتے ہیں یہ حکمران منہ میں سونے کاچمچہ لے کرپیداہوئے ہیں انہیں ہمارے دکھ درد سے کیا لینا دیناحکومتی نمائندے اس منی بجٹ کو عوام دوست کہہ رہے ہیں تومیں ان سے ہاتھ جوڑ کرکہنا چاہتا ہوں۔۔۔اپنے قرضے معاف کروا لو،جتنی گاڑیاں سونے زیوارت گفٹ لینے ہیں لے لو،قومی خزانے کو ویسے بھی تولوٹ کے خالی کررہے ہواس پراورمزیدجتنے چاہوشب روز خون مارلو،ظلم وزیادتی کرلو،جتنے ممالک میں چاہوں اپنے محلات کھڑے کرلو،اقرباءپروری،بدعنوانی،کرپشن کی بدترین مثالیں قائم کرلو،صحت اور تعلیم پر زرابرابربھی ترس نہ کھاﺅ،ملک کاسارابجٹ اپنی عیاشیوں اوراپنی مراعات پر لگالومگرخدارا۔۔آٹا،گھی،چینی،سبزی،مرچ وغیرہ سستی کردوتاکہ ایک مڈل کلاس فیملی کودووقت کی روٹی توآسانی سے مل سکے اگرعمران حکومت کو کامیاب ہونا ہے توعوام کوریلیف دیں ایسے نہیں کہ عوام کو مزیدٹیکسوں اور قرضوں کے بوجھ تلے دباتے جاﺅاسدعمرکی تقریرعمران خان کی تقریربھی عوام کی سمجھ میں نہیں آتی مگرجب اپنے کچن کا بجٹ خراب ہوجاتا ہے تب ان کی باتیں سمجھ آنا شروع ہوجاتی ہیںتومحسوس ہوتا ہے تبدیلی آکے چلی گئی ہم جس کاانتظار

Check Also

مطالعہ جامع ترمذی شریف

      مشرقی اُفق میر افسر امان مطالعہ جامع ترمذی شریف صحاح ستہ حدیث ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *