Home / کالم / تبلیغی جماعت کا چہچہاتا بلبل خاموش ہوکر محو استراحت ہوگیا

تبلیغی جماعت کا چہچہاتا بلبل خاموش ہوکر محو استراحت ہوگیا

 

 

 

تبلیغی جماعت کا چہچہاتا بلبل خاموش ہوکر محو استراحت ہوگیا
تحریر: مفتی محمد وقاص رفیع
M.waqqasrafi1986@gmail.com
آج مو¿رخہ 18 نومبر سنہ 2018ءبروز اتوار صبح نمازِ فجر کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے یہ جاں کاہ خبر موصول ہوئی کہ تبلیغی جماعت پاکستان کے امیر حضرت حاجی عبد الوہاب صاحب رحمہ اللہ اس دارِ فانی کوچ فرماگئے ہیں۔ اس سے قبل بھی حاجی صاحبؒ سے متعلقہ افواہیں اور جھوٹی خبریں آئے دن سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں جنہیں ہم پرکاہ کی بھی حیثیت نہیں دیتے تھے، لیکن چوں کہ اس بار حاجی صاحبؒ اپنی زندگی کے آخری سٹیج پر تھے اور ہسپتال میں انتہائی سیریز وارڈ میں داخل تھے، اس لئے اس بار ہم نے حاجی صاحبؒ کی وفات کی خبر کی تصدیق کے لئے براہِ راست رائے ونڈ مرکز اپنے ہم درس مولانا حسین احمد صاحب زید مجدہم سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے خیر و عافیت دریافت کرنے کے بعد بغیر کسی تمہید کے خود ہی یہ خبر سنادی کہ ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے فجر کے وقت حاجی صاحب ؒ کا مرکز ہی میں انتقال ہوگیاہے۔
حاجی عبد الوہاب صاحبؒ سنہ 1923ءکو ہندوستان کے مشہور شہر ”دہلی“ میں پیدا ہوئے۔زمانہ¿ طفولیت میں قرآنِ مجید پڑھا اور اسلام کی بنیادی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد اسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے، جہاں سے آپ نے عصری علوم کی تکمیل کی اور تحصیل دار کے منصب پر فائز ہوئے۔
آپؒ کا اصلاحی تعلق اسی کالج کی پڑھائی کے زمانہ ہی میں ابتداءً حضرت مولانا احمد علی لاہور رحمہ اللہ سے ہواتھا پھر اس کے بعد حضرت اقدس قاضی عبد القادر رائے پوری (جھاوریاں والے) رحمہ اللہ سے قائم ہوگیاتھا ، علاوہ ازیں شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد خان صاحب ؒ کے پیر و مرشد مولانا محمد احمد صاحبؒ سے بھی آپؒ کا اصلاحی تعلق رہا۔ جس کی بدولت ہمہ اطراف سے آپؒ کی خوب اچھی اور نیک تعلیم و تربیت ہوئی۔
یہ اسی نیک اور عمدہ تربیت کا اثر تھا کہ ابتداءً آپؒ مجلس احرار اسلام سے وابستہ ہوئے اور پھر آپؒ نے بانی¿ تبلیغ مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ کی خدمت میں آناجانا شروع کردیا، اللہ کے اس ولی¿ کامل نے آپؒ پر ایسے قلندرانہ پُرتاثیر نگاہ ڈالی کہ آپؒ تبلیغی کام سے منسلک ہوکر فنافی التبلیغ گئے، یہاں تک کہ اس کام کی خاطر ملازمت تک ترک کردی۔ اولاد وغیرہ تو ویسے بھی کوئی نہیں تھی صرف ایک اہلیہ تھیں اور وہ بھی کچھ عرصہ بعد انتقال کرگئیں، اس لئے اس کے بعد آپؒ نے اپنے آپ کو ہمہ تن دعوت و تبلیغ کے کام کے لئے وقف کردیا۔
تقسیم ہند کے فوراً بعدسنہ 1948ءمیں حاجی صاحبؒ کی تشکیل ہندوستان سے پاکستان کے شہر کراچی ہوئی۔ اور پھر سنہ 1952ءمیں حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ کے سفر پاکستان کے بعد آپؒ کی تشکیل رائے ونڈ ہوگئی۔ جس امانے میں حاجی صاحبؒ رائے ونڈ تشریف لائے اس زمانے میں رائے ونڈ مرکز کی جگہ کی صورت حال ایک خار دار گھنا جنگل کی تھی ،جہاں ہر طرف کیکر کے درخت، کانٹے دار جھاڑیاں، تاریک موسم، بلکہ مرکز میں جہاں پہلے پرانا مطبخ اور ابھی نئی مسجد ہے وہاں ہندو مردے جلایا کرتے تھے، کھانے پینے کو کچھ نہ ملتا تھا، لکڑی اور گھاس پھونس کی ایک جھونپڑی نما مسجد تھی، گشتوں اور ملاقاتوں کے سلسلے میںر وزانہ پیدل لاہور آنا جانا عام تھا۔ لیکن حاجی صاحبؒ کی مسلسل جد و جہد اور پرمشقت محنت و مجاہدہ کی برکت سے آج اللہ تعالیٰ نے رائے ونڈ مرکز کو مرجع عام و خاص بنادیا ہے ،جہاں سے آج تعلیم و تعلم کے چشمے پھوٹ رہے ہیں،دعوت و تبلیغ کی ہوائیں چل رہی ہیں، اور رشد و ہدایت کے جھونکے اٹھ رہے ہیں، اور آج پوری دنیا کے انسان مختلف شکلوں، مختلف زبانوں اور مختلف علاقوں سے آکر اس کھاٹ کا پانی پی رہے ہیں اور اس کی ٹھنڈیا ور تازہ ہواو¿ں کے جھونکوں سے محظوظ ہورہے ہیں۔مولانا عبد الرحمان صاحب سے لے کر مولانا طارق جمیل صاحب تک اور بھائی سعید انور سے لے کر بھائی جنید جمشید مرحوم اور بھائی نعیم بٹ تک پوری دنیا کے ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں اور اربوں کھربوں لوگ یہیں کے ہی تربیت یافتہ ہیں۔
حاجی صاحبؒ کے دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں اندرون و بیرون اسفار ضبط تحریرسے باہر ہیں۔ آپؒ نے اپنی پوری زندگی اشاعت اسلام اور اعلائے کلمة اللہ میں گزار دی۔ اندرون و بیرون ملک آپؒ کی گراں قدر دعوتی و تبلیغی خدمات قابل رشک ہیں۔ آپؒ ہاتھ پر سینکڑوں غیر مسلموں نے کلمہ پڑھا۔آپؒ نے اندرونِ ملک کے علاوہ دنیا بھرکے چھ بر اعظموں سمیت بطور خاص جن ممالک کے اسفار کیے ہیں ان میں عرب اور یورپین ممالک ا مریکہ، افریقہ اور آسٹریلیا یہاں تک کہ دُنیا کا سب سے آخری ملک فیجی لینڈ الجزائر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
حاجی صاحبؒکا سنہ 1948ءسے لے کر تادم واپسیںسنہ 2018ءتک قیام رائے ونڈ مرکز میں ہی رہا، جہاں آپ پہلے سنہ 1948ءسے لے کر سنہ 1959ءتک ابتداءمیں رائے ونڈ مرکز کی مختلف دعوتی و تبلیغی ذمہ داریاں نبھاتے رہے اور پھر سنہ 1960ءکو جب رائے ونڈ مرکز میں مدرسہ کی بنیاد پڑی تو آپؒ پر ایک کے بجائے دو ذمہ داریاں آپڑیں، جنہیں آپؒ اس وقت سے لے کر ابھی تک نہایت ہی عمدگی اور حسن تدبیر سے چلاتے رہے۔ سنہ 1992ءمیں جب محترم الحاج بھائی محمد بشیر صاحب کا انتقال ہوگیا تو آپؒ کو تبلیغی جماعت پاکستان کا امیر مقرر کردیا گیا۔
چشم فلک نے ابن نباطہؒ سے لے کر ابن جوزیؒ تک اور سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ سے لے کر مولانا طارق جمیل تک بیسیوں مشاہیر خطباءکو ملاحظہ کیا ہوگااور مادرِ گیتی نے حضرت حسن بصریؒ سے لے کر شیخ جنید بغدادیؒ تک اور شیخ عبد القادر جیلانیؒ سے لے کر حکیم الامت حضرت تھانویؒ تک دسیوں واعظین کو جنا ہوگا، لیکن کبھی کسی ایسے مبلغ اور داعی کا بھی مشاہدہ کیا ہے جو گھنٹوں گھنٹوں سینکڑوں اور ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کے سامنے بھرے مجمع میں برسرمنبر چہکتا بھی ہو اور مہکتا بھی ہو، بولتا بھی ہو اور سوتا بھی ہو؟نہیں اور ہرگز نہیں!۔یہی وجہ ہے کہ عمان کے تحقیقی ادارے ”رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹیڈیز سینٹر“ نے اکتوبر 2014ءکے 500 عالمی بااثر شخصیات میں سے حاجی صاحبؒ کو 10 ویں نمبر پر رکھا ہے۔
حاجی عبد الوہاب صاحبؒ اگرچہ باضابطہ کوئی حافظ یا عالم نہیں تھے لیکن دعوت و تبلیغ کی محنت پیہم اور جہد مسلسل کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو قطب و ابدال جیسے خاص مقام پر فائز فرمارکھا تھا۔ آپؒ کے سینے میں امت کا غم اور فکر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ آپؒ ہمیشہ اسی تگ و دو میں رہے کہ کس طرح پوری امت اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر آجائے اور جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والی بن جائے۔ آپؒ نے دعوت و تبلیغ والے کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنارکھا تھا۔ نہ راحت و آرام کا کوئی پتہ اور نہ ہی کھانے پینے کی کوئی فکر ، بس ایک ہی غم، فکر اور کڑھن تھی کہ کس طرح تمام اللہ تعالیٰ کا یہ مبارک دین پوری دنیا کے تمام انسانوں کی زندگیوں میں آجائے اور تمام انسان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے والے بن جائیں۔
چنانچہ استاذِ محترم مولانا احسان الحق صاحب دامت برکاتہم نے خود یہ واقعہ سنایا کہ تمہیں کیا احساس کہ فکر و کڑھن کسے کہتے ہیں؟ فکر سیکھنی ہے تو محترم حاجی صاحبؒ سے سیکھو! بندہ ناشتہ لے کر حاضر ہوا، اس وقت مہمانوں سے ملاقات کا وقت بمشکل نکالا جاتا ہے، حاجی صاحبؒ نے لقمہ توڑا اور منہ کی جانب لے جانے لگے کہ اتنے میںمہمان آگئے، ان سے دعوت کی بات شروع کردی، ان کو ہدایات و نصائح سے رخصت کیا، لقمہ منہ کے قریب تھا کہ اور مہمان آگئے، ان سے دعوت کی بات شروع فرمادی، حتیٰ کہ یہ سلسلہ چلتا رہا، مہمانوں کی آمد و رفت میں دعوتی فکر غالب رہی، تقریباً بیالیس منٹ بعد حاجی صاحبؒ وہ لقمہ منہ میں رکھا۔یہ فرماتے ہوئے مولانا احسان الحق صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
چند سال قبل کی بات ہے کہ پاکستان کے مشہور ڈرامے” طارق عزیز شو“ میں ایک مرتبہ یہ سوال اٹھایا گیاکہ اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ بولنے والا شخص کون ہے؟ تو اس سوال کے چاروں طرف سے مختلف جوابات سامنے آئے، کسی نے کس کا نام لیا اور کسی نے کس کا؟ لیکن اس کا سب سے بہترین اور عمدہ جواب جو کسی نے دیا اور اسے ترجیحی بنیادوں پسند کیا گیا وہ یہ تھا کہ اس وقت پوری دنیا میں سب سے بولنے والے شخص تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبد الوہاب رحمہ اللہ ہیں!۔
چنانچہ خوب یاد پڑتاہے کہ 2002ء زمانہ¿ طالب علمی میں جب ہم چلے میں چل رہے تھے تو ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ صبح فجر کی نماز کے بعد تقریباً ساڑھے چھ بجے حاجی صاحبؒ کا بیان شروع ہوا اور چلتاہی گیا، یہاں تک کہ گیارہ بج گئے، ہم چار گھنٹے مسلسل ایک ہی جگہ پر بیٹھے بیٹھے تھک گئے، اس لئے دل نے چاہا کہ تھوڑی دیر کے لئے باہر نکلا جائے، اور تھکاوٹ وغیرہ کو دور کرکے تازہ دم ہواجائے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے چند ضروری کام بھی نمٹاتے چلیں، چنانچہ ہم چند ساتھی وہاں سے اٹھے، وضو تقاضا کیا اور اپنے کام نمٹائے ،یہاں تک کہ دن کا ایک بج گیا، اب ہم نے واپسی کی ظہر کی نماز کی تیاری کرکے دوبارہ مسجد میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حاجی صاحبؒ اسی طرح صبح سے لے کر ابھی تک بیان فرمارہے ہیں، اس لئے ہم دوبارہ بیان میں بیٹھ گئے اور بیان سننا شروع کردیا،یہاں تک کہ ڈیڑھ پونے دو بج گئے اور ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا ،تب حاجی صاحبؒ نے اپنا بیان ختم فرمایا اور ہمیں کو ظہر کی نماز کی تیاری کے لئے وقت دیا۔
گفتار کی طرح رفتار میں بھی حاجی صاحب کا کوئی ثانی نہیں تھا، آپؒ مختلف عوارض و امراض کے باوجود بڑھاپے میں بھی اتنا تیز چلتے تھے کہ کوئی نوجوان چلنے میں آپؒ کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا، بلکہ وہ دوڑ تے ہوئے چل کر آپؒ تک پہنچ سکتا تھا۔ سنہ 2007ءمیں جب آپؒ نے حج کے لئے رخت باندھا تو اس وقت آپؒ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے اور وہیل چیئر پر اِدھر اُدھر آتے جاتے تھے، لیکن جوں ہی آپؒ دیارِ حرم میں پہنچے ، تو آپؒ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کہ” زم زم کا پانی جس جائز مقصد کے لئے پیاجائے اس سے وہ مقصد حاصل ہوجاتاہے(مسنداحمد، ابن ماجہ)“ زم زم کا پانی اس نیت سے پیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت و تندرستی عطاءفرمائے اور میں دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل ہوجاو¿ں تو اللہ تعالیٰ نے آپؒ کا یہ مقصد حل فرمایا اور اسی وقت آپؒ کو صحت یاب فرمادیا۔
انہیں دنوں بات ہے کہ استاذِ محترم شیخ الحدیث مولانا جمشید صاحب علی خان صاحب رحمہ اللہ بھی چلنے پھرنے سے قاصر تھے اور وہیل چیئر پر اِدھر اُدھر آتے جاتے تھے۔چنانچہ حاجی صاحبؒ نے اسی وقت حرم پاک سے مولانا جمشید صاحب رحمہ اللہ کی طرف رائے ونڈ فون کیا اور اپنا واقعہ سنایا کہ میں نے زم زم کا پانی اس نیت سے پیا تا کہ اس سے مجھے اللہ تعالیٰ صحت و تندرستی نصیب فرمائیں اور میں دوبارہ چلنے پھرنے لگ جاو¿ں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت و تندرستی عطا فرمادی اور میں نے وہیل چیئر کو چھوڑ کر اب اپنے قدموں پر چلنا پھرنا شروع کردیا ہے، لہٰذا آپ بھی زم زم کا پانی اس نیت سے استعمال فرمائیں اور وہیل چیئر کو چھوڑ کر اپنے قدموں پر چلنا شروع کردیں۔مولانا جمشید صاحب رحمہ اللہ کا بدن مبارک چوں کہ حاجی صاحبؒ کی بہ نسبت خاصا بھاری بھرکم تھا، اس لئے ہم نے دیکھا کہ مولانا جمشید صاحب رحمہ اللہ نے وہیل چیئر پر بیٹھنا تو ترک کردیا، لیکن بھاری بھرکم جسامت کی وجہ سے آپؒ کے لئے چلنا پھرنا پہلے تو قدرے دشوار ہوا، لیکن پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو صحت عطا فرمادی اور آپ نے بھی وہیل چیئر پر بیٹھنا ترک کردیا۔ پھر اخیر عمر میں جب بالکل آپؒ ضعیف و ناتواں ہوگئے اور پہلے والی ہمت و طاقت ختم ہوگئی تو دوبارہ آپؒ وہیل چیئر پر بیٹھنے لگ گئے۔
حاجی صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ نے خشیت و للہیت اور تقویٰ وطہارت کے سبب غنائے ظاہری و باطنی جیسی بے بہا دولت سے بھی نواز رکھا تھا۔ آپؒنے پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آپ کے قدموں میں ڈال رکھا تھا۔
چنانچہ نوے کی دھائی کے اواخر کی بات ہے کہ ایک مرتبہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب اپنے دوسرے دورِ اقتدار ( 17 جون 1997ءتا 12 اکتوبر 1999ء) میں رائے ونڈ مرکز حاجی صاحبؒ سے ملاقات کرنے کے لئے حاضر ہوئے، حاجی صاحب ؒ نے میاں صاحب کو دین کی دعوت دی اور انہیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقت لگانے کے لئے کہا، میاں صاحب نے کہا کہ: ” وقت تو میرے پاس نہیں ہے، البتہ یہ کچھ ہدیہ آپؒ کے لئے لایا ہوں ”تین ارب اسی کروڑ روپے “یہ قبول فرمالیجئے! “ حاجی صاحبؒ نے فرمایا: ” میاں صاحب! ہمیں آپ کی رقم کی ضرورت نہیں ،ہمیں تو آپ کا وقت چاہیے، آپ بس ہمیں تین دن دے دیں! “میاں صاحب نے کہا : ”حاجی صاحبؒ! میرے پاس وقت نہیں ہے ، میں تین دن نہیں دے سکتا!“ حاجی صاحب نے فرمایا : ”پھر ہمیں آپ کی اس رقم کی کوئی ضرورت نہیں ، آپ اسے واپس لے جایئے!“ میاں صاحب یہ نہیں جانتے تھے کہ اس بے تاج بادشاہ کے سامنے ٹھیکریاں اور اشرفیاں ایک برابر ہیں، اس لئے انہوں نے دولت کے نشے میں مخمور ہوکر کہا : ”حاجی صاحبؒ ! اتنی بڑی رقم آج تک کسی نے آپؒ کو نہیں دی ہوگی!“ حاجی صاحبؒ نے فوراً پلٹ کر جواب دیا کہ: ” اتنی بڑی رقم آج تک کسی نے ٹھکرائی بھی نہیں ہوگی، جاو¿ اپنے اپنی رقم اٹھاکر لے جاو¿، ہمیں تمہاری رقم کی کوئی ضرورت نہیں!“ چنانچہ میاں صاحب نے اپنا بریف کیس بغل میں دبایا اور جاتی امراءکو چلتے بنے۔
خشیت و للہیت اور تقویٰ و طہارت کے ساتھ ساتھ حاجی صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل اعتماد اور کامل بھروسہ بھی حاصل تھا، چنانچہ کئی بار دیکھنے اور سننے میں آیاہے کہ حاجی صاحبؒ کے ڈرائیور سے کبھی گاڑی کہیں لگ گئی یا کہیں اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تو دنیا داروں کی طرح یہ نہیں کہ اس کی پٹائی شروع کردی، یا اس کی ماں بہن ایک کردی یا اسے نوکری سے علیحدہ کردیا، بلکہ آپؒ ؒ رضاءبالقضاءپر عمل کرتے ہوئے ڈرائیور سے فرماتے کہ بھائی ! کوئی بات نہیں بس ہمارے مقدر میں یہ مصیبت اور دکھ سہنا لکھا ہوا تھا جو ہمیں مل کر رہا لہٰذا تم ہی نے آئندہ بھی گاڑی چلانی ہوگی۔
اسی طرح دنیا بھر میں اگر کہیں دعوت و تبلیغ سے متعلق کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آجاتا یا کوئی خاص سانحہ رونما ہوجاتا جیسے مثلاً مرکز میں کسی نے دھماکہ کردیا، یا جماعت والوں کو کسی نے زدو کوب کرکے زخمی کردیا یا کسی نے ان کو شہید کردیا تو اس پر شور و واویلا مچانے یا اخبارات و مجلات اور میڈیا پر اس کی تشہیر کرکے عالمی فورم پر اپنی آواز اٹھانے کے بجائے فوراً اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ ہوتے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی ہی عاجزی و انکساری کا اعتراف کرتے کہ یا اللہ! تو ہمیں معاف فرمانا کہ ہماری ہی کم زوری اور ہماری ہی لاپرواہی کے سبب یہ سانحہ پیش آیا کہ ہم نے ہی صحیح طرح سے دین کی محنت کرنے میں سستی و کاہلی سے کام لیا اور لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے روشناس نہ کرایا۔
حاجی صاحبؒ رائے ونڈمرکز کے عمومی مطبخ (جہاں روزانہ دو وقت تقریباً پندرہ سے بیس ہزار اللہ تعالیٰ کے راستے میں چلنے والے مہمان کھانا کھاتے ہیں) کھانا کھانے کے بارے میں ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ ”روٹی سالن کے ساتھ لگاکر کھایا کرو، سالن روٹی ساتھ لگاکر مت کھایا کرو!“ جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ روٹی سالن میں ثرید بناکر مت کھایا کرو بلکہ روٹی سالن کے ساتھ لگاکر کھایا کرو!۔
اسی طرح جماعت کے ساتھیوں کو ہدایات دیتے ہوئے حاجی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ : ” جب تم چار چیزوں کو تھکادوگے تب اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت کا سورج بنائے گا(۱)زبان کو دعوت میں (۲)قدموں کو گشت میں (۳)دماغ کو فکر و کڑھن میں (۴) اور آنکھوں کو آنسو بہانے میں، یہاں تک کہ زبان بولنے سے عاجز آجائے۔ قدم چلنے سے انکار کردیں۔ دماغ پھوڑے کی طرح دکھنے لگے اور آنکھیں رو رو کر پتھراجائیں۔“ یقینا حاجی صاحبؒ نے اپنے آپؒ کو ان چاروں کاموں میں تھکا اور گھسادیا تھا، جس کے سبب آپؒ ایک لمبا عرصہ صاحب فراش رہے، تاہم اس کے باوجود آپؒ کا وجودِ مسعود نئے اور پرانے ہمہ قسم کے فتنوں کے پھلنے پھولنے کے راستے میں رکاوٹ تھا اور ان کے شرور و فتن سے بچے رہنے میں حصار کا کام دے رہا تھا، لیکن چوں کہ موت کا وقت ہر انسان کا مقرر ہے، جس پر اس نے بہرحال اس فانی دُنیا سے کوچ کرکے اپنے رب یہاں جانا ہے، اس لئے حاجی صاحبؒ بھی ایک طویل مدت علیل رہنے کے بعد اپنی حیات مستعار کی لگ بھگ ساڑھے نو بہاریں دیکھنے کے بعد اپنے پس ماندہ گان میں لاکھوں تربیت یافتوں اورکروڑوں عقیدت مندوں کو سسکیاں لیتے اور ہچکیاں بھرتے ہوئے چھوڑ کر اس دارِ فانی سے دارِ بقاءکی طرف ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ان للہ ما ا¿خذ ولہ ما ا¿عط¸ وکل ش¸¿ٍ عندہ با¿جل مسم¸ ۔
ژ….ژ….ژ
﴾…. کوائف نامہ….﴿
نام : مفتی محمد وقاص رفیع
مستقل ایڈریس : محلہ فضل آباد (بڑی بن) نیو کچہری والی گلی راولپنڈی روڈ فتح جنگ
موجودہ ایڈریس : جامع مسجد کلثوم، ایبٹ آباد روڈ، لب ٹھٹھو، اسلام پور، واہ کینٹ، ضلع راولپنڈی
ای میل ایڈریس : M.waqqasrafi1986@gmail.com

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *