Home / کالم / تحقیقی مواد :تاریخی دستاویز

تحقیقی مواد :تاریخی دستاویز

 

 

تحقیقی مواد :تاریخی دستاویز
ڈاکٹرشجاع اختراعوان
تنقید کا آغازتذکروں کی روایت سے ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں محمدحسین آزاد کی کتاب ”آبِ حیات“ خاصے کی چیز ہے کہ جس میں انھوں نے شعرا ءکے حالاتِ زندگی لکھنے کے ساتھ ساتھ اُن کی شاعری اور شخصیت پر اپنے تاثرات کابے لاگ اظہار کیا ہے۔ اس سے پیچھے جائیں تو میرتقی میر، غلام ہمدانی مصحفی، انشاءاللہ خان اورشیفتہ کے تذکرے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہردور میں شعرا کے حالات وواقعات کو سپردِ قرطاس کی روایت رہی ہے۔ انسان کے اندر اِسی مادہ¿ تحقیق کی بدولت آج ہم اپنی مذہبی اور تہذیبی تاریخ سے آشنا ہیں(گوکے اِس معاملے میں کئی محققین کے تعصب اورجانبداری کی نتیجے میں تاریخی حقائق مسخ ہوئے ہیں)
کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کرکے کھڑے کھوٹے اور اصلی ونقلی مسودے میں امتیاز کرنااور قواعدوضوابط کے مطابق استعمال میں لاکر اشاعت آشنا کرنا بہت بڑا اور دقت طلب کام ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں تحقیقی علم کافی اہمیت کاحامل ہے اور تحقیق کے بعدجوکتاب شائع کی جاتی ہے کہ وہ ایک مکمل دستاویزکی حیثیت رکھتی ہے اور قابلِ قدر تصنیف کہلاتی ہے۔ دوجلدوں پر مشتمل ”شخصیاتِ اٹک“ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جو پروفیسرسیّدنصرت بخاری کے علمی وتحقیقی تجربے اور وسیع مطالعے ومشاہدے کامنہ بولتاثبوت ہے۔ جس میں انھوں نے انتہائی اختصارلیکن جامعیت کے ساتھ مختلف شخصیات کاتعارف اور اُن کے کارہائے نمایاں کو اُجاگر کیا ہے۔ موجودہ دور میں تحقیق کی اہمیت بڑھ گئی ہے اورایسے میں پروفیسرنصرت بخاری کی یہ کا وشِ ہرلحاظ سے خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔
ضلع اٹک کواللہ تعالیٰ نے بے شمار اعلیٰ شخصیات سے نوازا ہے جنھوں نے اٹک کے نام کوچارچاند لگائے۔ سیاست سے لے کر ادب تک اور بیوروکریٹ افسران سے لے کر علمائے کرام تک اور کھیل کے میدان سے لے کر صحافت کی دنیا تک، الغرض زندگی کاکوئی ایساشعبہ نہیں جہاں اِس زرخیزعلاقے کے لوگوں نے اپنی عظمتوں کے جھنڈے نہ گاڑھے ہوں۔ نصرت بخاری نے بھی ”شخصیاتِ اٹک“ میں ان تمام شخصیات کوشامل کیا ہے جنھوں نے مختلف فیلڈز میں نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوایا بلکہ بین الاقوامی سطح پر اُنھیں داد وتحسین سے نوازا۔اس حوالے سے غلام جیلانی برق، قاضی انوار الحق، پروفیسرمحمدعثمان،دیوندراسر، نذرصابری ،سائیں کلوسرکار،باباجی اٹکی، باباجی دریاشریف، بابانورمحمدچوراہی، پیراحمد میروی ،شہیدِ صحافت محمد اسماعیل خان ، منصب دار خان وغیرہ کے نام سرِ فہرست شمار کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیسیوں نام ہیں جنھیں بطور حوالہ پیش کیاجاسکتاہے۔ سیدنصرت بخاری نے اٹک کے اِنھی درخشندہ ستاروں کے حالاتِ زندگی کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور مسلسل اپنے مشن کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگلی جلد وں میں ضلع اٹک کے چنیدہ لوگوں کوضرورشامل کیاجائے گا جنھیں ترجیحی بنیادوں پر پہلی ہی اشاعت میں شائع کردیناچاہیے تھا۔
یہ بات محلِ نظر ہے کہ تحقیق کے لیے محنت، جستجو اورمطالعہ کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام بھی ضروری ہے، وہ اس لیے کہ بعض لوگوں کی معلومات ٹیلی فون یاانٹرنیٹ سے حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ اس کے دوردراز کے سفر کرناپڑتے ہیں۔بعض دفعہ ایک آدھ بات کی تصدیق کے لیے کئی کئی لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔ تب کہیں جاکر تحقیق، معیاری اور قابلِ قدر بنتی ہے۔ اس تناظر میںسیّدنصرت بخاری کی تحقیقی سرگرمیاں خوش آئند ہے۔ انھوں نے روایتی محققین کی طرح محض سنی سنائی باتوں پر اپنی تحقیق کی عمارت کھڑی نہیں کی بلکہ اس سلسلے میں وہ بنفسِ نفیس کئی مقامات پر گئے۔ سائیں کلو باباؒ اور پیرانورشاہؒ کشمیری کے بارے میں معلومات کے لیے راقم خود بخاری صاحب کا ہم سفر تھا۔ جہاں انھوں نے پچاسی سالہ بزرگ نیازحسین شاہ سے سوال وجواب کےے جواِس وقت سائیں کلوباباؒ اور پیرانورشاہؒ کے دربار کی نگرانی پرمامور ہیں ۔اُنھیں یہ اعزازحاصل رہا کہ وہ ساری زندگی سائیں کلو بابا کے خادمِ خاص کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔
سیّدنصرت بخاری نے تحقیق کے کینوس کو محدود نہیںرکھا یعنی صرف ادبی یاسیاسی شخصیات کو پیشِ نظرنہیں رکھا۔ اس سے قبل اٹک کے کسی محقق نے ہرشعبہ¿ زندگی کی نمایاں شخصیات کے کارنامے منظر عام پر لانے کی کوشش نہیں کی۔ اُن سے قبل ارشدسیماب ملک نے ”تذکرہ¿ شعرائے اٹک“ میں محض شعرائے اٹک جبکہ اُس سے بھی پہلے ڈاکٹرارشد محمودناشاد نے بھی اٹک کی ادبی شخصیات پرکام کیا۔ بخاری صاحب نے ہردومصنّفین سے استفادہ کے ساتھ ساتھ تحقیقی امور میں اپنے کام کو مستندبنانے میں محنتِ شاقہ کامظاہرہ کیا ہے۔ جونہ صرف اٹک کے نوآموز محققین کے لیے روشنی کی کرن ہے بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں اس نوعیت کاکام کرنے والے ”شخصیاتِ اٹک“ سے اُسلوبیاتی فیض حاصل کرسکتے ہیں۔
میرے خیال میں اس پر مزیدکام کی ضرورت ہے جس کااعتراض نصرت بخاری نے شخصیات اٹک کی جلد دوم کے ابتدائیہ میں بھی کیا ہے۔ اٹک ایک وسیع وعریض ضلع ہے جس میں دورافتادہ علاقے اور دیہات شامل ہیں۔ ضلع کاہردیہات اور قصبہ تاریخی اہمیت کاحامل ہے جہاں پر متعددشخصیات کسی نہ کسی حوالے سے معتبر ہیں ۔اُن کااحاطہ کرنااور اُن تک رسائی کرنا یقینا ایک محنت طلب کام ہے جو اب تک حکومتی سرپرستی کے بغیر سرانجام دیاگیا ہے۔ حکومتی سطح پر مختلف تحقیقی ادارے اِس سلسلے میں کام کررہے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ بھی مضافاتی علاقوں کے زرخیزذہنوں کو نظرانداز کررہے ہیں ۔جس وجہ سے باامرِ مجبوری ”اپنی مددآپ “کے تحت محققین اپنے اپنے علاقوں کے قیمتی سرمائے محفوظ رکھنے کے لیے نہ صرف دوردراز تک کاسفر کرتے ہیں بلکہ خطیررقم خرچ کرکے کتابیں بھی شائع کرتے ہیں۔ شخصیاتِ اٹک کی دونوں جلدیں اِس حوالے سے مثال کے طورپر پیش کی جاسکتی ہیں۔
تحقیق کی خارہ گداز وادیاں عبور کرنا اُنھی کو سزاوار ہوا کرتا ہے جو تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ چارکتابیں پڑھ کر محقق بن جانا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اِس معاملے میں سروخروی اُنھیں کوحاصل ہوتی ہے جو نہ صرف وسیع مطالعہ رکھتے ہیں بلکہ تحقیق کے جملہ اصولوں سے واقفیت بھی رکھتے ہیں۔ پروفیسر نصرت بخاری صاحب تخلیق کار ہیں، اُن کاافسانوی مجموعہ ”گھاﺅ“اور شعری مجموعہ”سخن یہ ہے “مقبولیت کی منازل طے کرچکا ہے نیز اُن کے ایم فل کا مقالہ بھی کتابی صورت میں شائع ہوچکا ہے۔ یوں اُن کے تحقیقی کام کو مستنددستاویز کادرجہ حاصل ہے ۔
ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
37101-1774390-5

تحقیقی مواد :تاریخی دستاویز
ڈاکٹرشجاع اختراعوان
تنقید کا آغازتذکروں کی روایت سے ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں محمدحسین آزاد کی کتاب ”آبِ حیات“ خاصے کی چیز ہے کہ جس میں انھوں نے شعرا ءکے حالاتِ زندگی لکھنے کے ساتھ ساتھ اُن کی شاعری اور شخصیت پر اپنے تاثرات کابے لاگ اظہار کیا ہے۔ اس سے پیچھے جائیں تو میرتقی میر، غلام ہمدانی مصحفی، انشاءاللہ خان اورشیفتہ کے تذکرے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہردور میں شعرا کے حالات وواقعات کو سپردِ قرطاس کی روایت رہی ہے۔ انسان کے اندر اِسی مادہ¿ تحقیق کی بدولت آج ہم اپنی مذہبی اور تہذیبی تاریخ سے آشنا ہیں(گوکے اِس معاملے میں کئی محققین کے تعصب اورجانبداری کی نتیجے میں تاریخی حقائق مسخ ہوئے ہیں)
کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کرکے کھڑے کھوٹے اور اصلی ونقلی مسودے میں امتیاز کرنااور قواعدوضوابط کے مطابق استعمال میں لاکر اشاعت آشنا کرنا بہت بڑا اور دقت طلب کام ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں تحقیقی علم کافی اہمیت کاحامل ہے اور تحقیق کے بعدجوکتاب شائع کی جاتی ہے کہ وہ ایک مکمل دستاویزکی حیثیت رکھتی ہے اور قابلِ قدر تصنیف کہلاتی ہے۔ دوجلدوں پر مشتمل ”شخصیاتِ اٹک“ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جو پروفیسرسیّدنصرت بخاری کے علمی وتحقیقی تجربے اور وسیع مطالعے ومشاہدے کامنہ بولتاثبوت ہے۔ جس میں انھوں نے انتہائی اختصارلیکن جامعیت کے ساتھ مختلف شخصیات کاتعارف اور اُن کے کارہائے نمایاں کو اُجاگر کیا ہے۔ موجودہ دور میں تحقیق کی اہمیت بڑھ گئی ہے اورایسے میں پروفیسرنصرت بخاری کی یہ کا وشِ ہرلحاظ سے خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔
ضلع اٹک کواللہ تعالیٰ نے بے شمار اعلیٰ شخصیات سے نوازا ہے جنھوں نے اٹک کے نام کوچارچاند لگائے۔ سیاست سے لے کر ادب تک اور بیوروکریٹ افسران سے لے کر علمائے کرام تک اور کھیل کے میدان سے لے کر صحافت کی دنیا تک، الغرض زندگی کاکوئی ایساشعبہ نہیں جہاں اِس زرخیزعلاقے کے لوگوں نے اپنی عظمتوں کے جھنڈے نہ گاڑھے ہوں۔ نصرت بخاری نے بھی ”شخصیاتِ اٹک“ میں ان تمام شخصیات کوشامل کیا ہے جنھوں نے مختلف فیلڈز میں نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوایا بلکہ بین الاقوامی سطح پر اُنھیں داد وتحسین سے نوازا۔اس حوالے سے غلام جیلانی برق، قاضی انوار الحق، پروفیسرمحمدعثمان،دیوندراسر، نذرصابری ،سائیں کلوسرکار،باباجی اٹکی، باباجی دریاشریف، بابانورمحمدچوراہی، پیراحمد میروی ،شہیدِ صحافت محمد اسماعیل خان ، منصب دار خان وغیرہ کے نام سرِ فہرست شمار کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیسیوں نام ہیں جنھیں بطور حوالہ پیش کیاجاسکتاہے۔ سیدنصرت بخاری نے اٹک کے اِنھی درخشندہ ستاروں کے حالاتِ زندگی کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور مسلسل اپنے مشن کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگلی جلد وں میں ضلع اٹک کے چنیدہ لوگوں کوضرورشامل کیاجائے گا جنھیں ترجیحی بنیادوں پر پہلی ہی اشاعت میں شائع کردیناچاہیے تھا۔
یہ بات محلِ نظر ہے کہ تحقیق کے لیے محنت، جستجو اورمطالعہ کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام بھی ضروری ہے، وہ اس لیے کہ بعض لوگوں کی معلومات ٹیلی فون یاانٹرنیٹ سے حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ اس کے دوردراز کے سفر کرناپڑتے ہیں۔بعض دفعہ ایک آدھ بات کی تصدیق کے لیے کئی کئی لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔ تب کہیں جاکر تحقیق، معیاری اور قابلِ قدر بنتی ہے۔ اس تناظر میںسیّدنصرت بخاری کی تحقیقی سرگرمیاں خوش آئند ہے۔ انھوں نے روایتی محققین کی طرح محض سنی سنائی باتوں پر اپنی تحقیق کی عمارت کھڑی نہیں کی بلکہ اس سلسلے میں وہ بنفسِ نفیس کئی مقامات پر گئے۔ سائیں کلو باباؒ اور پیرانورشاہؒ کشمیری کے بارے میں معلومات کے لیے راقم خود بخاری صاحب کا ہم سفر تھا۔ جہاں انھوں نے پچاسی سالہ بزرگ نیازحسین شاہ سے سوال وجواب کےے جواِس وقت سائیں کلوباباؒ اور پیرانورشاہؒ کے دربار کی نگرانی پرمامور ہیں ۔اُنھیں یہ اعزازحاصل رہا کہ وہ ساری زندگی سائیں کلو بابا کے خادمِ خاص کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔
سیّدنصرت بخاری نے تحقیق کے کینوس کو محدود نہیںرکھا یعنی صرف ادبی یاسیاسی شخصیات کو پیشِ نظرنہیں رکھا۔ اس سے قبل اٹک کے کسی محقق نے ہرشعبہ¿ زندگی کی نمایاں شخصیات کے کارنامے منظر عام پر لانے کی کوشش نہیں کی۔ اُن سے قبل ارشدسیماب ملک نے ”تذکرہ¿ شعرائے اٹک“ میں محض شعرائے اٹک جبکہ اُس سے بھی پہلے ڈاکٹرارشد محمودناشاد نے بھی اٹک کی ادبی شخصیات پرکام کیا۔ بخاری صاحب نے ہردومصنّفین سے استفادہ کے ساتھ ساتھ تحقیقی امور میں اپنے کام کو مستندبنانے میں محنتِ شاقہ کامظاہرہ کیا ہے۔ جونہ صرف اٹک کے نوآموز محققین کے لیے روشنی کی کرن ہے بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں اس نوعیت کاکام کرنے والے ”شخصیاتِ اٹک“ سے اُسلوبیاتی فیض حاصل کرسکتے ہیں۔
میرے خیال میں اس پر مزیدکام کی ضرورت ہے جس کااعتراض نصرت بخاری نے شخصیات اٹک کی جلد دوم کے ابتدائیہ میں بھی کیا ہے۔ اٹک ایک وسیع وعریض ضلع ہے جس میں دورافتادہ علاقے اور دیہات شامل ہیں۔ ضلع کاہردیہات اور قصبہ تاریخی اہمیت کاحامل ہے جہاں پر متعددشخصیات کسی نہ کسی حوالے سے معتبر ہیں ۔اُن کااحاطہ کرنااور اُن تک رسائی کرنا یقینا ایک محنت طلب کام ہے جو اب تک حکومتی سرپرستی کے بغیر سرانجام دیاگیا ہے۔ حکومتی سطح پر مختلف تحقیقی ادارے اِس سلسلے میں کام کررہے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ بھی مضافاتی علاقوں کے زرخیزذہنوں کو نظرانداز کررہے ہیں ۔جس وجہ سے باامرِ مجبوری ”اپنی مددآپ “کے تحت محققین اپنے اپنے علاقوں کے قیمتی سرمائے محفوظ رکھنے کے لیے نہ صرف دوردراز تک کاسفر کرتے ہیں بلکہ خطیررقم خرچ کرکے کتابیں بھی شائع کرتے ہیں۔ شخصیاتِ اٹک کی دونوں جلدیں اِس حوالے سے مثال کے طورپر پیش کی جاسکتی ہیں۔
تحقیق کی خارہ گداز وادیاں عبور کرنا اُنھی کو سزاوار ہوا کرتا ہے جو تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ چارکتابیں پڑھ کر محقق بن جانا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اِس معاملے میں سروخروی اُنھیں کوحاصل ہوتی ہے جو نہ صرف وسیع مطالعہ رکھتے ہیں بلکہ تحقیق کے جملہ اصولوں سے واقفیت بھی رکھتے ہیں۔ پروفیسر نصرت بخاری صاحب تخلیق کار ہیں، اُن کاافسانوی مجموعہ ”گھاﺅ“اور شعری مجموعہ”سخن یہ ہے “مقبولیت کی منازل طے کرچکا ہے نیز اُن کے ایم فل کا مقالہ بھی کتابی صورت میں شائع ہوچکا ہے۔ یوں اُن کے تحقیقی کام کو مستنددستاویز کادرجہ حاصل ہے ۔
ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
37101-1774390-5
0312-2878330
٭٭٭

Check Also

چہرے پہ چہرہ

      چہرے پہ چہرہ کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ای ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *