Home / کالم / تخت لاہور کا معرکہ پی ٹی آئی کے سردار عثمان بزدار کے نام

تخت لاہور کا معرکہ پی ٹی آئی کے سردار عثمان بزدار کے نام

 

 

تخت لاہور کا معرکہ پی ٹی آئی کے سردار عثمان بزدار کے نام
( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) sabirmughal27@gmail.com
ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے اور پہلی بار ایم پی اے منتخب ہونے والے سردار عثمان بزدار نے تخت لاہور کا معرکہ اپنے نام کرتے ہوئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ اپنے نام کر لی ہے،مرکز کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ میں بھی تبدیلی کا رنگ چھا گیا اور مسلم لیگ (ن) کو یہاں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا،پنجاب اسمبلی میں رائے شماری کے وقت سردار عثمان بزدار کے لئے سپیکر کے دائیں جانب جبکہ میاں حمزہ شہباز شریف کے لئے بائیں جانب جگہ مختص کی گئی ،سردار عثمان بزدار186ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ حمزہ شہباز کو 159ووٹ حاصل کر پائے ،پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اراکین کی تعداد 119 تھی بعد میں29آزاد اراکین ،خواتین کی مخصوص نشستیں 33اور4اقلیتی نشستیں ملاکر کل 179بن گئیں جبکہ مسلم لیگ (ق) کے 7منتخب ایک اقلیتی اور دو خواتین نشستوں کے بعد ان کی تعداد بھی دس ہو گئی ان کے مقابل مسلم لیگ (ن)الیکشن میں 129نشستیں لینے کے بعدخواتین ،اقلیتی ممبران اور ایک آزاد ممبر کے ساتھ کل تعداد164ہوگئی ،نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو آزاد ارکان معاویہ عظیم اور محسن جگنو نے بھی ووٹ دیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں مرکز کی طرح یہاں بھی مکمل لاتعلق رہی،عثمان بزدار کے مقابلے میں سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے صاحبزادے میاں حمزہ شہباز کو لایا گیا تھا جو 159ووٹ حاصل کر سکے،مسلم لیگ (ن) کے دو ارکان حج پر ہونے کے باعث ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے،ووٹنگ کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے جیسے ہی نو منتخب وزیر اعلیٰ کی کامیابی کا نام لیا تو ایوان نعروں سے گونج اٹھا ،تبدیلی کی یہ لہر مسلم لیگ (ن) کو ہضم نہ ہوئی تو ان کے ارکان نے شدید احتجاج شروع کر دیا گیا،1985سے تخت لاہور میاں فیملی کے زیر اثر تھا پرویز مشرف دور میں مسلم لیگ (ق) کے پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ رہے ،سابق صدر آصف علی زرداری نے 2008میں گورنر راج نافذ کرتے ہوئے گورنر سلمان تاثیر کو اقتدار دے دیا جو اعلیٰ عدلیہ کے بعد کے بعد ختم کر دیا گیا یوں یہ دور شامل کر کے میاں شہباز شریف مجموعی طور پر چار بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہے،سردار عثمان بزدار ،کئیر ٹیکر وزرائے اعلیٰ منظور الہٰی ،میاں محمد افضل حیات ،شیخ اعجاز نثار ،نجم سیٹھی اور حسن عسکری کے علاوہ منتخب وزرائے اعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ،میاں ممتاز دولتانہ ،سر فیروز خان نون ،عبدالحمید دستی،ملک معراج خالد،غلام مصطفےٰ کھر،حنیف رامے،صادق حسین قریشی ،میاں نوا ز شریف،غلام حیدر وائیں،سردار عارف نکئی ،میاں منظور احمد وٹو(دو بار)،میاں شہباز شریف (چار بار)چوہدری پرویز الہٰی اور دوست محمد کھوسہ کے بعد منتخب ہوئے ہیں،نو منتخب وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے منتخب ہونے کے بعد تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عمران خان کے ویژن کو کامیاب بنائیں گے،حقیقی معنوں میں صوبہ بھر میں تبدیلی لائی جائے گئی میرا تعلق انتہائی پسماندہ علاقے سے ہے اور مجھے علم ہے کہ ایسے علاقوں کے کیا مسائل ہوتے ہیں میرا ہر رکن اسمبلی خود کو وزیر اعلیٰ ہی سمجھے ،انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی مجموعی طور پر شاندار کامیابی کے بعد صوبہ پنجاب کے لئے وزیر اعلیٰ کے نام پر طرح طرح کی پیش گوئیاں کی گئیں ،تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشدہ ،علیم خان اور شاہ محمود قریشی سمیت کئی ارکان کے نام زیر گردش رہے مگر عمران خان نے بطور وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے تخت لاہور کے لئے ڈیرہ غازی خان کے پسماندہ ترین علاقے سے تعلق رکھے اور پہلی بار ایم پی اے منتخب ہونے والے سردار عثمان بزدار کا نام سامنے لا کر سب کو متحیر کر دیا جہاں اس نئے نام پر عوام حیران رہ گئی وہیں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین بھی ششدر رہ گئے ک،نو منتخب وزیر اعلیٰ کو یہ بھی انوکھا اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ان کی اسمبلی میں سب سے پہلی پاس ہونے والی قراد داد حضور نبی مکرم ﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں سے متعلق مذمتی قرار داد منظور ہوئی،سردار عثمان بزدار ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ کے قبائلی علاقہ بارتھی میں1969کو سردار فتح محمد بزدار کے گھر پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اپنے گاﺅں کے سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کی ،ملتان میں بہاﺅلدین زکریا یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر اور ملتان لاءکالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی،ان کے والد سردار فتح محمد سابق صدر ضیا ءالحق کی مجلس شوریٰ کے رکن اور ان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے،وہ تین بار ایم پی اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے بیٹے اور نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغا ز یونین کونسل کے کونسلر کے طور پر کیا ،مشرف دور میں مسلم لیگ (ق)کی جانب سے تحصیل تونسہ کے ناظم رہے ،2013میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر صوبائی حلقہPP221سے حصہ لیا مگر پیپلز پارٹی کے امیدوار خواجہ ناظم المحمود کے ہاتھوں شکست کھائی ،انتخابات 2018سے قبل صوبہ جنوبی پنجاب محاذ میں شرکت کی اور آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے کر کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بن گئے، ان کا آبائی گاﺅںبارتھی تونسہ شہر سے 61کلومیٹر دور کوہ سلیمان کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گاﺅں ہے جسے یونین کونسل کا درجہ حاصل ہے،ڈیرہ غازی خان ضلع جو اپنی جغرافیائی حیثیت سے ملک کے چاروں صوبوں کے وسط میں واقع ہے یہ خطہ پہاڑی ،دامانی ،میدانی اور دریائی علاقوں پر مشتمل ہے اسی ضلع کی تحصیل تونسہ شہر انڈس ہائی وے پرڈیرہ غازی خان کی جانب جائیں تو قصبہ مکوال کے قریب چوکی والاسے بائیں جانب بارتھی روڈ کے نام سے ایک سڑک نکلتی ہے یہ انتہائی شکستہ اور پر پیچ سڑک اس گاﺅں تک جاتی ہے،ڈیرہ غازی خان سے صدر مملکت ،وفاقی و صوبائی وزراءمنتخب ہوتے رہے مگر اس علاقہ کی پسماندگی دور کرنے کے لئے کسی کا دھیان نہیں گیانو منتخب وزیر اعلیٰ کے گاﺅں میں بجلی نام کی کوئی چیز نہیں شاید یہ پاکستان کے واحد رکن اسمبلی ہیں جس کے گھر بجلی نہیں ہے، بزدار قبلیہ بنیادی طور پر چراگاہی پیشہ سے تعلق رکھنے والا بلوچ خاندان ہے فارسی زبان میں بز ۔بکری ۔کو کہتے ہیں،اب بھی اس علاقہ کے لوگوں کی بیشتر تعداد مال مویشی پال کر اپنی روزی کماتے ہیں نوجوانوں کی ایک تعداد مشرق وسطیٰ میں روزگار کے سلسلہ میں جا چکے ہیں بعض لوگ کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں کجھور کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں،یہ پسماندہ ترین علاقہ گیس اور تیل جیسی معدنی دولت سے مالا مال ہے یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے یورینیم دریافت ہوئی جس کی بدولت پاکستان آج خد کے فضل سے ایٹمی قوت ہے،یہ قبیلہ ڈومانی قبائل میں منقسم ہیں یہ لوگ دیگر قبائل کے مقابلے میں مہذب اور عمل پیرا مسلمان ہیں، پنجاب میں ان کی اکثریت ڈیرہ غازی خان ،راجن پور کے علاوہ سندھ ،بلوچستان میں کثیر تعداد آباد ہیں یہ لوگ بلوچی ،فارسی اور سرائیکی زبان بولتے ہیں،تحریک پاکستان میں اس بلوچ خاندان کی اپنی ایک قومی شناخت ہے گو یہ قبیلہ چند دہائی قبل قوم پرستی میں پیش پیش تھا اور یہ چاہتے تھے کہ ڈیرہ غازی خان،راجن پور،جیکب آباد اور تونسہ صوبہ بلوچستان میں شامل کیا جائے ،سردار عثمان بھی کبھی یہی چاہتے تھے مگر بعد میں انہوں نے اپنے اس مﺅقف پر قوم سے معافی مانگ لی تھی،15صدی میں بلوچ قبائل نے اس علاقہ کو اپنا مسکن بنایا تھا،اس ضلع میں بزدار قبیلہ کے علاوہ بلوچ ممتاز بلوچ قبائل لغاری،کھوسہ،کھلول،کھلکھلی،گورچان،کھیتران،قیصرانی،جہانانی،شاہانی،شادمانی،چاکرانی،شاہوانی،متھوانی،جلالانی،روستحانی،غلامانی،،سآباد ،آباد ہیں،سردار عثمان کا نام بطور وزیر اعلیٰ پنجاب سامنے آتے ہی میڈیا پر شور مچ گیا کہ یہ تو کریمنکل شخصیت ہے ،1998 میں ان پر ان کے والد او ربھائی وغیرہ کے خلاف الیکشن کے دوران 6افراد کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا،بعد میں یہ 75لاکھ روپے دیت دے کر اس مقدمے سے بری ہوئے تاہم ان کا مﺅقف یہ تھا کہ وہ اس قتل میں ملوث نہیں تھے انہیں دفعہ109کے تحت نامزد کیا گیا اورپولیس نے انہیں بے گناہ قرا دیا تھا اور دیت کی یہ رقم قاتل اور مقتول پارٹیوں کے درمیان صلح کے دوران ادا کی گئی ،ان پر بطور تحصیل ناظم 300جعلی بھرتیوں کا الزام بھی لگایہی کیس نیب میں بھی چلا مگر بعد میں انہیں اس انکوائری سے فارغ کر دیا گیا،سردار عثمان بزداری کے خلاف اس مہم پر وزیر اعظم عمران خان خود میدان میں آئے اور کہا کہ ہم نے تمام ضروری چھان پھٹک مکمل کرنے کے بعدان پر اعتماد کیا وہ ایک دیانتدار اور باوقار شخص ہیں ان کی سوچ نئے پاکستان کے ویژن کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہے ،ان کا تعلق چونکہ ایک پسماندہ علاقے سے ہے اور وہ جانتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے میں ہر لحاظ سے ان کے ساتھ ہوں،اجلاس کے بعد اور پہلے میڈیاسے بات اور خطاب کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ ہم جمہوریت کے تسلسل پر اسمبلی میں آئے ہیں مگر دھاندلی زدہ انتخابات پر عوام پریشان ہیں کہ ہم نے ووٹ تو شیر کو دیا تھا وہ چلا کہاں کیا اس لئے الیکشن میں ہونے والی بد ترین دھاندلی پر تحقیقات کرنے کے لئے فوری طور پر کمیشن تشکیل دیا جائے ہم اپنا آئینی کردار ادا کرتے رہیں گے،,

صابر مغل ۔۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد

Check Also

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع گوانگچو، چین، 17 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانی

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *