Home / کالم / تمام مسائل حل ہوسکتے ہےں!….مگر

تمام مسائل حل ہوسکتے ہےں!….مگر

تمام مسائل حل ہوسکتے ہےں!….مگر
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے جب سے بنی نوع انسان کوتخلےق فرماےا ،اس وقت سے لے کرآج تک ،خوشی اورغمی کے لمحات اس کےلئے لازم وملزوم کردئےے گئے۔ہردورمےں انسان کو مسائل کاسامنارہا،چھوٹے،بڑے اورگھمبےرمسائل رہے ،ضروری نہےں کہ انسان کوتمام مسائل سے نجات مل جائے ،ہاں ےہ ضروری ہے کہ اس کے بنےادی مسائل حل ہوجائےں توےقےنا اےسا ہی ہوتاہے کہ اس کے تمام مسائل حل ہوگئے۔اس وقت سے لےکرآج تک ،گھرکے اےک فرد سے لےکر اےک خاندان کے افراد،اےک گلی اورمحلے کے افراد ،اےک شہرےااےک ضلع کے افراد ےہاں تک کہ صوبائی اورملکی سطح پر اےک عام سے لےکر خاص تک ہر انسان کوآج بھی کئی طرح کے مسائل کاسامنا ہے بلکہ موجودہ دورکومسائل سے بھرپوردورکہاجائے توبے جانہ ہوگا۔ہم جس معاشرے مےں رہ رہے ہےں ہم بخوبی آگاہ ہےںکہ اےک فردکوکتنے مسائل کاسامناہے؟اےک خاندان کواپنے اہل وعےال کی زندہ رکھنے کےلئے کتنے مسائل درپےش ہےں؟اےک لوکل گورنمنٹ سے لےکر صوبائی اورقومی سطح پر حکومتوںکوکن کن مسائل کاسامنا ہے ؟موجودہ دورانسانےت کےلئے انتہائی تکلےف دورثابت ہواہے،کہےں غربت،بےروزگاری اورمہنگائی سمےت بڑے بڑے گھمبےرمسائل نے انسانےت کوجھنجھوڑکررکھ دےاہے۔اےسے دورمےں رزق حلال کماناانتہائی دشوارگزارہوگےاہے،اکثرےت جائز اورناجائز طرےقے سے اپنی جےب بھرنے کے چکرمےں اپنے خونی رشتوںتک کواپنی ہوس کانشانہ بنانے سے بھی گرےز نہےں کررہی۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ کی ذات اقدس کے بارے مےں مشہورہے کہ وہ ذات پاک اپنے بندے سے 70ماﺅںسے بھی بڑھ کرپےار اورمحبت فرماتاہے،پھر ےہ کےسے ہوسکتاہے کہ آج کے دورمےں اسی کے بندے انسانےت کے اعلیٰ ترےن مقام سے اتنے گرجائےں کہ خود انسانےت بھی شرمندہ ہوجائے۔ہمارے لئے لمحہ فکرےہ ہے !وہ کون سے مسائل ہےں جن کی بنےاد پرانسان آ ج انسانےت کے اعلیٰ مقام سے اتناہی گرگےا ہے کہ اےک طرف تواس نے اپنے 70ماﺅں سے بڑھ کرپےار فرمانےوالے خالق ومالک اورسچے معبود کوبھلادےا ہے اوردوسری طرف اس نے اپنے تمام قےمتی رشتوںکوبھی اپنی ہوس اورلالچ کی بھےنٹ چڑھادےا ہے۔
اےک وقت تھا کہ اسی انسان کوتمام فرشتوںسے سجدہ کراےاگےااورآج وہی انسان ،انسانےت کے اس اعلیٰ ترےن مقام سے کےوں اتناگِرگےا ہے ؟
جب تک انسان کواہل نظرہستےوںکی صحبت،نسبت اوران سے عقےدت ومحبت رہی ،ےہ انسان فرشتوںسے بھی اعلیٰ ترےن مقام پر فائز رہا،کبھی سےدنا آدم صفی اللہ علیٰ نبےنا علےہ السلام کی صورت مےں ،کبھی سےدنانوح النجی اللہ علیٰ نبےنا علےہ السلام کی صورت مےں،کبھی سےدنا ابراہےم خلےل اللہ علیٰ نبےنا علےہ السلام کی صورت مےں،کبھی سےدنا اسماعےل ذبےع اللہ علیٰ نبےنا علےہ السلام کی صورت مےں،کبھی سےدنا داﺅد خلےفتہ اللہ علیٰ نبےنا علےہ السلام کی صورت مےں،کبھی سےدنا موسیٰ کلےم اللہ علیٰ نبےنا علےہ السلام کی صورت مےں،کبھی سےدنا عےسیٰ روح اللہ علیٰ نبےنا علےہ السلام اورکبھی وجہ تخلےق کائنات ،مختارکل ،حبےب اعظم ،سےدالمرسلےن خاتم النبےن حضورنبی کرےم روف الرحےم سےدنا محمدرسول اللہ ﷺ کی صورت مےں ےہ اہل نظرہستےاں انسانےت کوحےوانےت سے نکال کرانسانےت کے اعلیٰ وارفع مقام پر فائز کرتی رہےں۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے سلسلہ رشد وہداےت کوےہاں تک ختم نہےں فرمادےابلکہ اسی سلسلے کواپنے حبےب اعظم ﷺکے وارثےن کے ذرےعے قائم رکھاجوتاقےامت جاری رہےگا۔خاتم المرسلےن حضورپرنورﷺ کے ظاہری پردہ فرماجانے کے بعد آپﷺ کے وارثےن (اہل نظرہستےوں)مےں سب سے پہلے امام العاشقےن حضورسےدنا صدےق اکبرؓ ،آپؓ کے بعد مرادرسولﷺحضورسےدنا عمرفاروق اعظم ؓ،آپ ؓکے بعد امےر المومنےن امام المتقےن حضورسےدنا عثمان غنی ذوالنورےنؓاورپھر آپؓکے بعد مولائے کائنات سےدنا علی المرتضیٰ شےر خداکرم اللہ وجہ الکرےم ؓنے مسند وراثت سنبھالی۔اس دورمےں بھی جن خوش نصےبوںکوان اہل نظرہستےوںکی صحبت ،نسبت،سنگت اورعقےدت ومحبت نصےب ہوئی وہ ےقےنا ےقےنا نہ صرف ہرطرح کے مسائل سے بچے بلکہ مسائل مےں گھرے ہوئے لوگوںکوبچانے والے بن گئے۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اسی پاک سنگت کوجوازل سے قائم فرمائی اورچونکہ اس کوقےامت تک قائم بھی رکھنا ہے،وہی پاک سنگت ان نفوس قدسےہ کے بعد جاری رہی ،کبھی مخدوم امم ،سےد الواصلےن حضورسےدنا داتاگنج بخش علی ھجوےری ؒ کے روپ مےں،کبھی پےران پےر،روشن ضمےر،محبوب سبحانی شہبازلامکانی،غو ث الصمدانی حضورسےدنا عبدالقادرجےلانی ؓغوث الاعظم دستگےرکے روپ مےں،کبھی حضورسےدنا مجددالف ثانی ؒ کی صورت مےں،کبھی سلطان العارفےن سلطان باہوؒ کے روپ مےں،کبھی سلطان الہندحضورسےدنا خواجہ معےن الدےن چشتی اجمےری ؒ کے روپ مےں،کبھی زہدالانبےاءحضوربابا فرےد الدےن گنج شکر ؒ کے روپ مےں،کبھی سخی لعل شہباز قلندر ؒ کے روپ مےں ،کبھی امےر ملت پےر سےدجماعت علی شاہ محدث علی پوری ؒ کے روپ مےں اورکبھی پےر جن وبشر،غوث الاغےاث ،مرشد اکمل حضورسےدنا ولی محمد شاہ چادروالی سرکار ؒ کے روپ مےں جاری ہے اوراہل نظرہستےوںکاےہ سلسلہ اسی طرح جاری وساری ہے۔
فرمان خداوندی ہے کہ ”فسئلوااھل الذکران کنتم لاتعلمون”پس (اے منکرو)تم پوچھو(سوال کرو)اہل ذکرسے اگر تم (خودحقےقت حال کو)نہےں جانتے “(سورة الانبےاء07)توکہےں فرمان مبارک ہوتاہے کہ ”الرحمن فسئل بہ خبےرا“”وہ رحمن ہے سو تو پوچھواس کی تعرےف کسی واقف حال سے “(القرآن)….انہی اہل ذکراورباخبرہستےوںکوہی تواہل نظرکہتے ہےں اورجوان سے جڑجاتے ہےں وہ اللہ تعالیٰ سے جڑجاتے ہےں،وہ اللہ تعالیٰ کے ہوجاتے ہےں اوراللہ تعالیٰ ان کاہوجاتاہے ۔
اہل نظرکی رائے مےں
اےک فرد ،خاندان،علاقے ،شہرےاملک کی بات نہ کی جائے کہ ان کے بنےادی مسائل ختم ہوں ،ترقی اورخوشحالی آئے بلکہ آپ ملک پاکستان سمےت دنےا بھرکے حالات وواقعات کوبدلناچاہتے ہےں اورمسائل حل کرناچاہتے ہےں توپھرےقےنا ےقےنا ….سب مسائل حل ہوسکتے ہےں ….مگر….شرط اولےن ےہی ہے کہ آج بھی انہی نفوس قدسےہ اوراہل نظرہستےوں کی سنگت ،صحبت اوران سے عقےدت ومحبت کواپنے اوپرلازم کرلےاجائے ،ان کے دامن محبت کومضبوطی سے تھام لےںتوپھرکوئی وجہ ہی نہےں ہے کہ آپ نہ صرف اپنے حالات بدل سکتے ہےں بلکہ دنےا جہاںکے حالات بدلنے والے بن سکتے ہےں۔چونکہ آج بھی ازل سے شروع ہونےوالا اہل نظرکاسلسلہ جاری وساری ہے اوراس پاکےزہ سلسلہ سے جومنسلک ہوگئے وہ ہرطرح کے مسائل پرقابوپانے والے بن گئے بلکہ بڑے سے بڑے مسائل کوپلک جھپکنے مےں حل کرنےوالے بن گئے۔آج سے پھر وہی انسان جوانسانےت کے اعلیٰ مقام سے حےوانےت کی اتھاہ گہرائےوں مےں گِرچکاہے ،اس اعلیٰ وارفع مقام پر فائز ہوسکتاہے اوج ثرےاتک پہنچ سکتاہے ،انسانےت کانجات دہندہ بن سکتاہے،بس شرط اتنی سی ہے کہ انہی نفوس قدسےہ سے ٹوٹے ہوئے رشتے کودوبارہ سے جوڑلےاجائے توپھر ےقےنا کوئی وجہ نہےں کہ پاکستان توکےا روئے زمےن کی تمام انسانےت ترقی اورخوشحالی کے خواب کوتعبےر ہوتاہوادےکھے گی انشاءاللہ ۔اللہ تعالیٰ جل شانہ کی بارگاہ اقدس مےں دعاگوہےں کہ ہمےں ان نفوس قدسےہ اہل نظرہستےوں سے سچی عقےدت ومحبت کےساتھ ان کی سنگت ،صحبت اورنسبت پاک پردائمی استقامت عطا فرمائے۔آمےن

Check Also

ملت افغاں درآں پیکر دل است

اٹکل عنوان:۔ملت افغاں درآں پیکر دل است! تحریر:۔ ملک شفقت اللہ امریکہ افغانستان میں وہی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *