Home / کالم / توجہ طلب مسئلہ

توجہ طلب مسئلہ

 

 

توجہ طلب مسئلہ

تحریر ۔ کنیز بتول کھو کھر، سرگودھا
دور حاضر کا ہر انسان ملکی حالات سے با خبر رہناچاہتا ہے یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے قوم کو عرض پاک میں اتنی دلچسپی پیدا ہوئی کہ اپنی ذات سے نکل کر ملکی سطح پر سوچنے کی فرست اور ضرورت محسوس کی اس پر ہم کہہ سکتے ہیں، تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آچکی ہے، دیر آئی درست آئی لیکن قابل ذکر بات تو یہ کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ماضی میں کوئی سنسنی خیز خبر سننے کو ملتی تو باعث توجہ اس لےے نہ بن پاتی کہ چند دنوں کے بعد دب جائے گی اب ایکشن سے زیادہ ری ایکشن لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر واتا ہے کہ اب کیا ہو گا اس سسپینس نے زندگی کی کہانی میں جان ڈال دی اور اس کا سہرا عدلیہ کے آزادانہ فیصلوں کے سر ہے جب منصف ایماندار ہوگا تو ہر فیصلہ قابل قبول ہو گا جہاں کسی کے ساتھ بے انصافی ہونے لگے تو ان کو یقین ہوتا ہے کہ چیف جسٹس سے ضرور انصاف ملے گا اگر ان تک پہنچ پائے تو ملکی قوانین میں تبدیلی پر غورو خوز ہو رہا ہے کوئی بھی منصوبہ ایک دن میں مکمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی بیک وقت تمام کاموں کا آغاز تر تیب کے لحاظ سے جو مسئلہ زیا دہ اہمیت کا حامل ہو گا اس کو صف اول میں شمار کیا جائے گا۔ہر انسان کا کوئی نہ کوئی مذہب ہوتا ہے ایک مذہب رکھنے وا لوں کی تعداد بڑجائے تو وہ قوم کہلاتی ہے قومیں اپنے لےے دستور حیا ت بناتی ہیںجو اس معاشرے کی تہذیب و ثقافت رسم و رواج رہن سہن کے مطابق مذہبی حدود کے اندر رہ کر تیارکیے جاتے ہیں مذہبی تعلیم دینے والوں کو اپنے اپنے مذاہب میں مخصوص نام دیے جاتے ہیں دین اسلام میں ان کو علمائے اکرام کہا جاتا ہے سرورکونین محمدﷺنے ارشاد فر مایا مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا اور تمام علماءمیرے وارث ہوں گے اس سے ہم مقام اور مرتبے کا اندازہ لگا سکتے ہیںپھر ان کی زمہ داریاںمعاشرے میں ان کا کردارکیا ہوگا اسے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے بہت کم افعال ایسے ہیں جو سعی و خطا سے درست ہوتے ہیں ورنہ تو زندگی میں کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کا علم حاصل کرنالازمی ہو تا ہے بالکل یہی معاملہ دین کا ہے چونکہ اسلام تو سر سے لے کر پاﺅ ں تک اللہ کی غلامی میںآناہے کیسے آنا ہے قرآن اور سنت نبویﷺ کو سیکھنے سے پتہ چلے گا اگر چہ ہمارے تعلیمی نظام میں اسلامیات کا مضمون لازمی ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اس کا مطالعہ ہم کرتے ہیں سیکھتے نہیں یہاں تک کہ اس خاکسار کو ایسے بھی تعلیم یافتہ ایم اے اسلامیات سے ملنے کا اتفاق ہوا جن کو نماز آدا کرنے کا صحیح طریقہ بھی نہیں آتا ۔اس کے بر عکس مساجد میں عملی جامہ پہنایا جاتا ہے اس سے یہ عیاں ہوا کہ امام مسجد کا رول کتنی اہمیت کا حا مل ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معلم کی تعلیم کیا ہے اکثر کی صرف حفظ قرآن یعنی وہ یہ نہیں جانتے قرآن پاک جس کی تعلیم وہ دے رہے ہیںا س میں لکھا کیا ہے یہ جاننے کے لےے انہیں کسی اور سے مدد لینا پڑتی ہے پڑھا کیا رہے ہیں سیکھا کیا رہے ہیں اس میں مطابقت بھی ہے یا تضاد وہ مکمل طور پر لا علم دوسری طرف معاشرے میں سے کچھ لوگوں کا ایسے انتخاب کیا جاتا ہے جیسے دودھ سے بلائی پھر اس ذہین و فطین گرہ کو مخصوص انداز سے تعلیم وتر بیت کے مراحل سے گزار کر حساس اداروں کی زمہ داری دی جاتی ہے اب لمحہ فکریہ ہے کہ اس فہرست میں معلم اورمساجد نہیں آتیں بلکہ یہ تو کسی ریاستی ادارے میں بھی نہیں آتیں،سب سے حساس معاملہ تو مذہب کا ہوتا ہے جو ہر خاص و عام کی زندگی کے لےے لازم ہے پاکستان بننے سے لے کر اب تک اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جس مقصد کے تحت یہ ریاست معرض وجود میں آئی تھی ان نظریات سے مساجد کے معلم بے خبر اور جہاں نظریہ رٹوایا جاتا ہے ان کا عمل کے ساتھ کم ہی واسطہ پڑتا ہے اس خلیج کو عبورکرنے کے لےے کوئی درمیانہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو علم اور عمل کے درمیان پل کاکر دار اداکرے اس کے لےے اہم اقدام کی اشد ضرورت ہے اور وہ اسی صورت ممکن ہے جب امام مسجد کو معاشرے میں کوئی خاص مقام دیا جائے کیونکہ معلم مولوی بن گیا ہے جس کی تنخواہ محلے دار، یا گاﺅں کے زمیندار آداکرتے ہیں اس طرح مولوی کم اور ملازم زیادہ ہونے کی وجہ سے مالک کے اشاروں پر بولنا پڑتا ہے جو اجرت دیتے ہیں اگر ایک مسلک والاکسی دوسرے مسلک والے سے مل لے تو اس پر فتویٰ صادر کر دیا جاتا ہے کہ یہ اپنے فرقہ سے پھر گیا لِہٰذا اس کی چھٹی اس لےے مسلک نہ صرف سیکھنا پڑتا ہے بلکہ جس کے زیادہ خلاف ہوںاس کو برا بھلابھی کہنا پڑتا ہے ورنہ روزی روٹی کا کہیں اور بندو بست کر لے اب زرا آگے چلتے ہیں گاﺅں کا کلچر کچھ ایسا ہوتا ہے کام کرنے والوں کو سالانہ فصل سے کچھ حصہ دیا جاتا ہے اور امام مسجد کا حصہ بھی ان کے ساتھ نکالا جاتا ہے یہ وہ پیشہ جس کے لےے ہمارے دلوں میں عزت اور اس تک پہنچنے کی حسرت ہونی چائے تھی ۔حالات اس کے برعکس کیوں؟اسی لےے ہمارے معاشرے کے امرااس کو اپنا نے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں ان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ پیشہ مفلس طبقہ کے حصے میں آتا ہے دوسری طرف وہ علماءجو قرآن وسنت کا مکمل علم رکھتے ہیں یا تو وہ مصلہ پر قرب حق تلاش کرنے کے لےے اپنے ارد گرد قدم بوسی کرنے والوں کی بونڈری بنالیتے ہیں کہ اس ریڈار کے اندرکوئی گناہ گارنہ آنے پائے یا دنیاوی عزت و جاہ کی غرض سے اپنے اپنے مدرسے بنا کر باعزت کاروبار کے ذریعے خوب مال ومتاع جمع کر نے مصروف حقیقت میں وہ عالم کہلانے کے مستحق ہی نہیں کیونکہ جو یہ نہیں جانتاکہ علم بذات خود ایک بلند مرتبہ ہے اسے بڑی کوئی دولت ہو بھی نہیں سکتی جو اس نقطے کو نہیں سمجھ سکتا وہ غورخوض نہیں کرتا جو غورخوض نہیں کرتا وہ نکل کرتا ہے اور نقل کرنے والاعامل تو سکتا ہے لیکن عالم نہیں اس تمام بحث سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریا ست کو اپنی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے مساجد کو رجسٹرڑ کرکے اپنی تحویل میں لے کر مدارس بنانے چاہئے اساتذہ اور علماءکی مذہبی تعلیمی قابلیت کے مطابق ان کا انتخاب کیا جائے تاکہ وہ آزادانہ طور پر قرآن پاک کی تعلیم دے سکیںجب یہ ادارہ حکومت اپنے ہاتھ میں لے گی تب اس میں تبدیلی آئے گی ورنہ تو ہر بندہ اپنے لیے مسجد بنا کر بیٹھاہے جب تک ہم قرآن و سنت کو نہیں سمجھتے ہماری تمام تر تعلیم ادھوری ہے وہ قرآن جو عمل کی کتاب ہے جس کو آسان فہم میں اتارا گیا ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ:اور تحقیق آسان کیا ہم نے قر آن کو واسطے نصیحت کے کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔ (سورة القمر ۔۔آیت نمبر ۷۱۔)قرآن پاک چونکہ مکمل ضابطہ حیات ہے اس لےے اس کو ایک الگ مضمون کے طور پر نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لےے اپنی زبان میں پڑھنا لازمی ہونا چاہئے تب کہیں ہم غفلت کی جھیل میں ڈوبنے سے بچ سکتے ہیں ورنہ تو پھر وہی ہوگا ۔(والعصران الاانسان لفی خسر)۔ اورا سلام در گزر کی تعلیم دیتا ہے ۔جاہل سے تو بحث بھی نہیں کرنی چاہئے۔ (واذاخاطبھم الجھٰلونا قالو اسلٰما)الفرقان ۔۳۶۔ شدت پسندی کو کم کرنا کسی ایک انسان کے بس کی بات نہیں اس سے اوپر سے شروع کیا جائے حکومتی سطح سے کیونکہ کوئی بھی مسلمان کم عاشق رسولﷺنہیں ہوتا بس بات صرف اظہار کی ہوتی ہے لفظوں کا انتخاب ایک جیسا نہیں ہوتا پھر اندازتکلم جداہونے سے لہجے میں فرق آتا ہے کہنے کو تو یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں لیکن یہ بہت بڑے تضاد کا باعث بنتی ہیں ہم ایک مسلمان قوم ہیں ہمارا اللہ ایک ہمار نبیﷺ ایک ہمارا قرآن ایک کاش ہم سب بھی ایک ہو جائیں کیا ہم صرف مسلمان بن کر نہیں رہ سکتے تاکہ ہم آپس کے ردالفساد سے نکل کر اللہ کے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوںایک حدیث پاک کا مفہوم کچھ ایسے ہے کہ مسلمان قوم پر کوئی کافر غالب نہیں آسکتاجب تک کہ اس قوم کا ایمان کمزور نہ ہوجائے اب ہم کہاں کھڑے ہیںکبھی غور کیا۔یہ مسئلہ بہت ہی توجہ طلب ہے جناب چیف جسٹس صاحب آ پ ہی اس پر ازخود نوٹس لیں۔

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *