Home / کالم / تیرے بن کیا جینا

تیرے بن کیا جینا

 


تیرے بن کیا جینا
(قسط دہم)
تحریر ۔۔۔نرجس بتول علوی
عظمی ایک مہینے کے بعد اپنے میکے آتی ہے .ارے واہ ؟آج تو عظمی صاحبہ آءہوءہیں .بڑی آپا نے اماں کے کمرے میں مجھے دیکھ کر خوشی سے نعرہ بلند کیا .بھئی تمھارے مہاراجہ کہاں ہیں ؟آج تمھاری جدائی کیسے برداشت کر لی ؟کہیں گھر بیٹھے.المیہ گیت تو نہیں گنگنارہے .وہ ایک آنکھ دبا کر شرارت سے ہنسیں.تو میں بھی مسکرائے بنا نہ رہ سکی .اللہ ،عظمی تم کیسے راستہ بھول گئی بڑی بھابھی مجھے دیکھ کر لاڈ سے بولیں ،آج آپ سب لوگ بہت یاد آ رہے تھے .اس لیے چلی آئی.چل جھوٹی ،تجھے اب بی اے کے سوا کوئی یاد نہیں ،خواہ مخواہ جھوٹ نہ بول .آپا نے مجھے آنکھیں دکھائیں .نہیں آپا .اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے .چل چل زیادہ باتیں نہ بنا .تجھے تو بی اے کے سوا کسی سے محبت ہی نہیں رہی .دیکھ رہی ہیں اماں ،آپ آپا کو میں روہانسی ہو کر بولی .ارے کیوں ستارہی ہو میری بیٹی کو میاں سے محبت کرنا کوئی بری بات ہے کیا،خدا اس کی محبت سلامت رکھے .تب میں ہونٹ کاٹ کر جزبز سی ہو گئی ،تمھارے عاشق نامدار کب آ ئیں گے? بڑی بھابھی نے شرارت سے پوچھا .شام کو آئیں گے .میں یہ کہتے ہوے ہنس دی .بھئی بہت عاشق دیکھے ہیں مگر بی اے جیسانہیں .جسکا عشق وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے آپا نے بڑے فخر سے کہا .آپا یہ تو اچھی بات ہے نا “?میں روتے روتے دل کو قابو کرکے بولی .ہاں عظمی .ایسی حقیقتیں عشق کی معراج ہوا کرتی ہیں .تو واقعی بہت خوش نصیب ہے ،حقیقت میں خوش بخت ،عظمی ان سب کی باتیں سن کر دل ہی دل میں کہہ رہی تھی کے تم سب کو کیا بتاو¿ں کے بی اے اپنی زبان کی تلوار سے میرے دل پر کتنے گہرے زخم دیتا ہے .وہ تو صرف پھوپھو کی عزت کی خاطر مجھے گھر برداشت کر رہا ہے .ورنہ وہ تو مجھے اک پل بھی برداشت نہیں کرتا ہے .بی اے آج بھی وفا کی محبت میں گرفتار ہے .بی اے کا وفا کے بعد پروڈکشن آفس میں دل نہ لگتا .اس لیے بی اے نے پروڈکشن کو چھوڑ کر صحافت کی طرف رجوع کیا . بی اے نے پروڈکشن کی طرح صحافت میں بھی بے حد نام پایا.تھوڑی ہی محنت کے بعد بی اے کے آفس کے باہر شوبز سٹار کا ہجوم نظر آنے لگا .ثوبیہ نے ابھی شوبز میں نیا نیاقدم رکھا تھا .ثوبیہ ایک خوبصورت 22سالہ لڑکی تھی .دیکھنے میں خوبصورت اور دلکش لڑکی تھی .بی اے اور ثوبیہ کی دوستی ہو گی .اور کچھ ملاقاتوں کے بعد یہ دوستی محبت میں بدلنے لگی بی اے اور ثوبیہ نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا .ایک شام بی اے گھر آیا اور عظمی سے کہا کے میرا بیگ تیار کر دو میں دو ہفتے کے لیے شہر سے باہر ھا رہا ہوں،عظمی نے کہا آپ کب تک واپس آ ئیں گے .کل امی کے گھر گئی تھی .میری چھوٹی بھتیجی کی منگنی ہے .اور امی کہہ رہی تھیں کہ ا تم دونوں نے پہلے آنا ہے.عظمی دوپٹہ سنبھالتے ہوئے بولی .بی اے نے عجیب سے لہجے میں تو میں کیا کروں ..میں نے کبھی روکا ہے تمھیں کیا ?عظمی آپ اگر میرے ساتھ نہ گئے تو خاندان والے پوچھیں گے کس کس کو جواب دوں گی .جتنے منہ اتنی باتیں .عظمی یہ بات غصے سے بولی .بی اے نے تکیے بیڈ سے نیچے پھینک دیے اور عظمی کی چٹیا سے پکڑا .دیکھو سوال کرنا تیری عادت اور جواب سننا میری فطرت نہیں .تمھاری ماں نے تمھاری کو ئی تربیت نہیں کی کے شوہرکہیں جا رہا ہو تو اس کے گلے میں نہیں پڑتے اسی طرح بی اے گھر سے چلا گیا ‘ .ادھر بی اے اور ثوبیہ کا عشق رنگ پکڑچکا تھا انہوں نے کورٹ میں جا کر نکاح کر لیا کسی کو کچھ پتا ہی نہیں چلا ،کمرہ پھولوں سے سجا ہے اور ثوبیہ سیج پر بیٹھے بی اے کا انتظار کر رہی ہے ۔(جاری ہے)

Check Also

“شبِ برات، برکتوں اور رحمتوں کی رات”

    “شبِ برات، برکتوں اور رحمتوں کی رات” محمدعاصم فاروقی/حیدرآباد ممبر:۔اسلامک رائٹرزموومنٹ پاکستان شب ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *