Home / کالم / جلال الدین حقانی  ۔ایک عہدسازشخصیت 

جلال الدین حقانی  ۔ایک عہدسازشخصیت 

جلال الدین حقانی  ۔ایک عہدسازشخصیت
عمرفاروق /آگہی
 سانسوں کا چلنا،دلوں کا دھڑکنا اور نبضوں کا حرکت میں رہنا ہی زندگی کی نوید نہیں ہوا کرتا، موت سے مفر تو کسی کو بھی نہیں سب نے ہی مٹی تلے دفن ہو جانا ہے مگر اصل زندگی کردار و عمل کی ہوتی ہے۔ کتنے ہی لوگ برساتوں کی مانند ہوتے ہیں،کتنے ہی انسان رم جھم کی پھواریں بن کر دل پر برسنے لگتے ہیں،کتنے ہی رب کے ولی، رحمتوں کی برکھا بن کر تن من کو اجال دیتے ہیں۔ جلال الدین ایک ایسی ہی شخصیت تھی جو صدیوں تک تاریخ کے اوراق میں دمکتی رہے گی۔ملاحقانی ایک استعارہ بن چکا ہے،سادگی کا۔۔۔استقامت اور بہادری کا۔۔جلال الدین حقانی 79برس کی عمر میں 3ستمبرکو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے ،
 افغانستان میں کنگ ظاہر شاہ کی 1973 میں جلاوطنی/معزولی کے بعد سردار محمد داد افغانستان کے حکمران بنے 1978 میں پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی آف افغانستان نے ایک خونی انقلاب(انقلاب ثور)کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو بہت سے افغان رہنمائوں نے جلاوطنی اختیار کی۔ جلال الدین اپنے خاندان اور رشتہ داروں سمیت خوست سے ملحق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان منتقل ہوگئے تھے اور انہوں نے میران شاہ کے ایک نواحی گاوں ڈانڈے درپہ خیل میں نہ صرف اپنا ایک مرکز بلکہ ایک مدرسہ بھی “دارلعلوم منبع العلوم” کے نام سے قائم کیا تھا۔اسی مرکز سے حقانی نے سابق سوویت یونین کے خلاف مسلح مزاحمت کا آغاز کیا تھا۔
 جب عظیم مجاہد پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ عزام نے عرب نوجوانوں کو یہاں جہاد افغانستان کی دعوت دی تو ان کی نظر حقانی پر پڑی، وہ ان کی گھنی اور بڑی داڑھی کے ساتھ ساتھ ان کی جہادی حکمت عملی اورجرات  سے بہت متاثر تھے، معرکہ خوست کے ذریعے جلال الدین حقانی کی شہرت ایک بہادر اور نظریاتی جہادی کے طور پر سامنے آئی۔معرکہ خوست، افغانوں کی صدیوں پرانی گوریلا مزاحمتی تکنیک کے برخلاف ، دشمنوں سے لڑنے کا نیا انداز تھا افغانوں نے تاریخ میں پہلی بار جارح اور غاصب فوج کا سامنا کیا براہ راست پنجہ آزمائی کی۔ ظاہر ہے اس معرکہ آرائی میں اسامہ بن لادن اور شیخ عبداللہ عزام کی فکر اور عرب تکنیک شامل تھی اس معرکے کے نتیجے میں حقانی کی شہرت بین الاقوامی ہو گئی۔ خوست جلال الدین حقانی کا مرکز تھا، جہاں عرب نوجوانوں کی تربیت کا بندوبست کیا گیا تھا اسامہ بن لادن نے بھی یہاں ہی عسکری تربیت حاصل کی۔ جلال الدین حقانی نے میزبانی اور مہمانداری کے فرائض سر انجام دیئے اور عربوں کو اپنی جرات و شائستگی سے خوب متاثر کیا ۔
اپنے جہادی عمل میں حقانی وسعت اور گنجائش کے منہج پر تھے۔ اِس معاملہ میں ان کا طریقہ شدت پسند گروہوں کی راہ سے ہٹ کر نظر آتا ہے۔ بلکہ اِس حوالہ سے وہ عبداللہ عزام کے منہج کے قریب نظر آتے ہیں۔ یعنی جہاد کے حق میں دستیاب امکانات کو بھرپور طور پر لینا۔ مسلم ملکوں، ان کی حکومتوں اور ان کے اداروں سے، اپنے جہادی عمل میں تعاون دینے اور لینے کے معاملہ میں سلبی نہ ہونا۔ نیز یہاں کسی قسم کا محاذ کھولنے سے گریز کرنا۔ مسلم ملکوں کی قیادتوں کے ساتھ غایت درجہ صبر اور وسعتِ نظر اختیار کرنا؛ اور اِس معاملہ میں کسی ممکنہ بھلے وقت کا راستہ اپنے ہی ہاتھوں مسدود نہ کر لینا۔ تکفیر اور تصادم کے لہجوں سے از حد دور رہنا۔ یہ ایک کمال بردباری اور دوراندیشی کا متقاضی راستہ ہے، جس سے اللہ نے جلال الدین حقانی کو بہرہ مند کر رکھا تھا۔
 ٹیکنالوجی اور توکل کے مابین ڈیڑھ عشرہ  سے زائدعرصہ پرمحیط طویل گرم جنگ!حق اور باطل کی یہ جنگ تو قیامت تک رکنے والی نہیں۔ لیکن کچھ لوگ ہیں جو اپنے زمانے میں حق و باطل کی اِس جنگ کا باقاعدہ عنوان ہوتے ہیں! غیرتِ دینی، حمیتِ ایمانی، امت کی عزت اور آبرو کچھ دیر کیلیے انہی کا دوسرا نام ہوتا ہے!اللہ کایہ بندہ جلال الدین حقانی اپنے دور کا ایسا ہی ایک کردار تھا۔ اس کا جینا اور مرنا، اس کا ٹوٹنا اور جڑنا، اس کی محبت اور اس کا بغض، اس کی دوستی اور اس کی دشمنی، اس کا دینا اور نہ دینا، اس کا ماننا اور اس کا اڑ جانا، اس کا لڑنا اور اس کا روپوش رہنا، اس کی سب تگ و تاز۔ اللہ کے کلمہ کی نصرت تھی اور اس کی سب قربانیاں تاریخ کے اِس منفرد ترین عہد میں تیرے دین کی اقامت اور اللہ کے دشمن کے کلمہ کو پست کرنا۔امت کی کھوئی ہوئی امیدوں کو بحال کر لانے اور عہدِ رفتہ کو اپنے دور میں واپس لے آنے میں اس شخص کا جو کردار رہا وہ بڑوں بڑوں کو حیران کر گیا۔
پہلا افغان جہاد، جس میں روسی سپرپاور کو گرایا گیا، اس میں پورا مغربی بلاک اپنے اسلحہ اور سہولیات سمیت مجاہدین کے ساتھ کھڑا تھا، عالم اسلام کے بہت سے ممالک اپنے بھاری بھرکم امکانات کے ساتھ اس کی پشت پر تھے۔ ایک بڑی سطح پر، یہ دو بلاکوں ہی کی جنگ تھی۔ پھر بھی مجاہدین کو ایسی ایسی فِدائی مہمات انجام دینا پڑیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔ مگرجہاد کا یہ مرحلہ جو امریکہ کے خلاف پچھلے ڈیڑھ عشرہ میں لڑا گیا، یہاں تو سب سہارے ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ مدمقابل اس قدر عظیم عسکری اتحاد اور اِدھر ایک مٹھی بھر جماعت جس کے ساتھ کوئی نہیں! اِس صورتحال پر تو لوگ ہنس ہنس کر پاگل ہو رہے تھے؛ اور ایسا تو بلاشبہ روس کے خلاف جہاد کے موقع پر بھی پیش نہ آیا تھا۔ یہ تو گویا ایک معجزہ تھا۔ ایک تہی دست مجاہد کا اللہ پر توکل کرنا یہاں عقول کو جس طرح مبہوت کرتا ہے، اس کی کہیں مثال نہیں۔ پوری ایک قوم کا جہاد ایک قائد نے کسی دنیوی سہارے کے بغیر لڑ کر دکھایا… اور دشمن کو ناکوں چنے چبوائے،
 حملے کے وقت امریکا یہ بالکل بھول چکا تھا کہ افغانستان کے ماضی کا ایک ایک لمحہ گواہ ہے کہ یہاں بیرونی طاقتوں کے لیے رتی برابر جگہ نہیں البتہ ان کے لیے قبرستانوں کی جگہ بڑی وسیع ہے،یہاں سکندر اعظم نے حملہ کیا، آریا آئے،منگولوں نے قبضہ کیا،ازبک یہاں حکومت کرنے کے لیے آئے او ربرطانیہ تو کئی بار حملہ آور ہو ا مگر کوئی ایک ملک بھی یہاں ٹھہر نہ سکا،انہیں افغانستان کی مٹی میں دفن کر دیا گیا۔حیرت ہے کہ امریکہ کو افغانستان کے قبرستانوں میں دفن ہوتی یہ بڑی بڑی طاقتیں کیوں دکھائی نہ دیں،یہ طاقت کا زعم تھاجس نے اس سے بصارت اور بصیرت دونوں چھین لی تھیں۔ امریکا کو اس بات کا بھی احساس نہ رہا کہ روسی فوجی امریکیوں سے زیادہ دلیر اور بہادر تھے،آج امریکا ذلت آمیز شکست کو مختلف مرحلوں میں تقسیم کر کے مذاکرات کی بھیگ مانگ رہا ہے مگر دنیا اچھی طرح باخبر ہے کہ افغانستان کے کہساروں میں اس کی طاقت بھی دفن ہو چکی۔
جلال الدین حقانی نے ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا جس میں افغانوں کی تاریخی گوریلا طرز جنگ بھی شامل تھی اور ماڈرن جنگی حکمتِ عملیاں بھی انکے آپریشنز میں شامل تھیں قدیم اور جدید طرز جنگ کے اشترا ک نے حقانی نیٹ ورک کو دشمن کے خلاف ایک خطر ناک ہتھیار اور ناقابل تسخیر جنگی مشین بنادیا ۔2001 میں جلال الدین حقانی نے نیٹ ورک کی قیادت اپنے بیٹے سراج الدین حقانی کے سپرد کر دی اور وہ خود ایک بڑے رہبر کے طور پر گروپ کی سر پرستی کررہے تھے 2012 میں امریکہ نے حقانی نیت ورک کو خطر ناک عالمی دھشت گرد تنظیم قرار دیا تھا اور سراج الدین حقانی کے سر کی قیمت 50 لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی تھی۔  اپنی وفات سے دس برس قبل جلال الدین حقانی کو رعشہ کا مرض لا حق ہو گیا تھا اور وہ صاحب فراش تھے ۔

Check Also

نور محمدی ﷺ

    نور محمدی ﷺ کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ای میل: ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *