Home / کالم / جمہوریت یاملوکیت

جمہوریت یاملوکیت

جمہوریت یاملوکیت

ہزاروںکااجتماع،خوبصورت اندازمیں سجا سٹیج ، خاص خاص مہمانوں کے گلے میںتازہ پھولوں کے ہار اورپنڈال میں آویزاں رنگ برنگے پوسٹروںکا اپنا ہی حسن تھا، ٹولیوںکی شکل میں آتے جاتے لوگ رونق بڑھارہے تھے ،بچوںکا اشتیاق دیدنی،عورتیںبھی گھریلوکام کاج چھوڑ چھاڑ کر
اوربیشتر فصلوں کے معاملات سے جان چھڑا کر ایسے چل پھررہی تھیں جیسے پکنک پر آئی ہوں چندلڑکیاں اپنی سکھیوںسے بات چیت کرتی نظر آتیں تھیں مردوں کی تعداد زیادہ تھی پنڈال میں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے بھی کم نہ تھے اکثروبیشتر ڈرے ڈرے ،سہمے سہمے ایک دوسرے سے خوفزدہ۔۔ ماتھے پہ بہتا پسینہ ،چہرہ چہرہ سوالی۔ اتنے میں سٹیج سے نعرے بازی شروع ہوگئی آتش بازی، پٹاخے اور نعروںکا شور لوگوںنے دیکھا دور ڈھول مٹی اڑاتی کئی پجیرو گاڑیاں ان کی جانب آرہی تھیں۔۔ آنے والوں میں زیادہ سفید کلف لگے کپڑوں میں ملبوس تھے کچھ سوٹڈ بوٹڈ بھی تھے۔آنے والے وڈیرے ، ان کے مہمانوں سے پنڈال میں جمع لوگ جھک جھک کر سلام کررہے تھے۔نعروں کی گونج میںسٹیج پر بیٹھے لوگوںکا تعارف ، حاضرین کو ووٹ دینے کی تلقین اور دھواں دھار تقریریں آخر میں تمام لوگوں کےلئے جوس کے ڈبے اورڈبہ پیک بریانی۔۔کئی بچے حیرت سے یہ سب کچھ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہے تھے۔یہ ہے پاکستانی جمہوریت کی اندر کی کہانی کس طرح جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے سیاست اور جمہوریت کو یرغمال بنا رکھاہے ان کے مزارع اور طفیلی جن کےلئے اپنی مرضی سے ووٹ دینا بھی گناہ سمجھا جاتاہے۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے تمام حکمران سب کے سب اور موجودہ سیاستدانوں میں بیشتر فوجی اسٹیلشمنٹ کی پیداوارہیں ان کے دل میں جمہوریت کا درد کیونکرہوسکتا ہے نسلدر نسل سدا اقتدارمیں رہنے کی خواہش ہمیشہ جوان رہتی ہے۔۔وہ یہ بھی چاہتے ہیں ان کے منہ سے نکلے ہر لفظ کو قانون سمجھا جائے۔ ان کی ہاں میں ہاں ملانے والوں کا جھڑمٹ ہو لیکن اختلاف کرنا والا ایک بندہ بھی نہ ہو۔۔ان کی دلی تمنا ہے وہ اپنی سیاسی پارٹی کو موروثی لمیٹڈ کمپنی کی طرزپر چلائیں صدر ،وزیر ِ اعظم ان کے خاندان سے ہویاپھر بادل ِ نخواستہ ان کے منظورِ نظر آتے اور جاتے رہیں۔ اور تاقیامت حکمرانی ان کے گھرکی لونڈی بن کررہ جائے ۔۔ ان خواہشات کے مقابل یہ اس سے بھی عجیب تر نہیں پھر دن رات جمہوریت کی شان میں قصیدے پڑھتے رہیں۔۔کسی کواپنی بات سے اختلاف کرنے کا حق بھی نہ دیا جائے۔۔ آپ اپنے ہی ارکان اسمبلی سے ملنا بھی پسند نہ کریں۔۔ کارکنوںکےلئے آپ کے پاس وقت نہ ہو۔۔باربار اقتدار میں آنے کے باوجود عوام کی حالت نہ بدلے۔محرومیاں ہی محرومیاں غربیوںکا مقدر بنی رہیں۔سرکاری نوکریاں اور کاروبار کرنے کے وسائل پر عام آدمی کا کوئی استحقاق نہ ہو، پڑھے لکھے نوجوان بیروزگارپھرتے رہیں اور نااہل لوگ آگے آتے جائیں ۔۔ جناب یہ کون سی جمہوریت ہے ؟ کیسے جمہوری تقاضے؟دل نہیں مانتا ،ذہن تسلیم نہیں کرتا کہ سارے وسائل میں عام آدمی کےلئے کچھ بھی نہیں۔۔ لگتاہے بیشتر قومی رہنماﺅں میں سے کوئی بھی دل سے موجودہ سسٹم کو تبدیل کرنا نہیں چاہتا سب کی خواہش ہے یہ موج میلہ ایسے ہی ہوتا رہے اب عوام اس نتیجہ پر پہنچی ہے انہیں ایسی جمہوریت نہیں چاہیے۔ ایسا نظام نہیں چاہیے۔ ایسا لیڈر نہیں چاہیے جنہوںنے غربت کو عوام کےلئے بد نصیبی بنا دیاہے شاید اس کی بنیادی وجہ یہ ہو کہ عام انتخابات کا مروجہ طریقہ ¿ کاردرست نہیں اس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں جب تک موجود ہ استحصالی نظام موجود ہے بہتری کی کوئی امید نہیں ۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے سب کے سب حکمران اور موجودہ سیاستدانوں میں بیشتر فوجی اسٹیلشمنٹ کی پیداوار جن کی خواہشات کا نام جمہوریت۔ سیاست جن کےلئے کھیل اور جمہوریت عوام کےلئے سانپ سیڑھی والی گیم جب منزل قریب آنے لگتی ہے سانپ ڈس لیتاہے دھت تیرے کی۔ جمہوریت تو پاکستان میں بادشاہت ہوگئی یاپھر ، ملوکیت کی بدترین شکل ۔۔ دونوں صورتوں میں عوام کا پٹرا اور اشرافیہ کی پانچوں گھی میں۔۔ پیپلزپارٹی کی زرداری مارکہ سابقہ حکومت جمہوریت کے لئے زہرِقاتل ثابت ہوئی جس میں پہلی بار مائنس اپوزیشن کا تصور پیش کیا گیا مفاہمت کے نام پر تمام چھوٹی بڑی پارٹیاں شریک ِ اقتدار۔۔۔ مذہبی جماعتوںنے بھی بہتی گنگا سے اشنان کرنے کو مذہبی فریضہ جان لیا اوریوں اس حمام میں بیشتر ایک جیسے ہوگئے۔ سیاستدان حکومت میں ہوتے ہیں یا اپوزیشن میں یہ مفاہمت کے نام پر حکومت میں بھی رہے اور اپوزیشن میں بھی ۔۔۔ یہ کتنی بڑی منافقت ہے اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا یہ تو ایسے ہی ہوا جیسے کوئی مسلمان بھی ہو ااور ہندو بھی۔۔۔ عوام میں اتنا شعورتو پیداہونا چاہےے کہ کسی لیت و لال کے ایسی سیاست پر چارحرف بھیج سکیں ۔ ظاہر ہے جب تک کچھ قبضہ گروپوں نے سیاست کو یر غمال بنا رکھاہے کوئی حاجی لق لق بھی آجائے کچھ نہیں کرسکتا۔ جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے سیاست اور جمہوریت کو یرغمال بنا رکھاہے ان کے مزارع اور طفیلی جو اپنی مرضی سے ووٹ نہیں دے سکتے تبدیلی کیسے لا سکتے ہیں؟ جو لوگ اپنے حقوق کےلئے بھی دوسروںکی طرف دیکھیں وہ جان لیں پھر سسک سسک کرجینا،گھٹ گھٹ کر مرنا ، لقمے لقمے کو ترستے رہنا ان کے مقدرمیں لکھدیا گیاہے ۔ملک میں تبدیلی کا نعرہ دو رہنماﺅں نے لگایا تھا جو ایک دوسرے کے حلیف بھی ہیں اور حریف بھی دونوں کی کاز ایک ہے لیکن ایک دوسرے سے ناراض ناراض۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اور طاہرالقادری کا مشن ایک ہے۔ تیسرے شیخ رشید ہیں جو بیک وقت دونوں کے ساتھ ہیںسچی بات تو یہ ہے ماضی میں تینوں نے حکومت کی باں باں کرا رکھی تھی ان سے ایک سونامی لانا چاہتا ہے دوسرے کی خواہش انقلاب ہے ۔ جو لوگ میاںنوازشریف اورزرداری کے اب تلک ساتھ ہیں کچھ تو ایسے ہیں جن کے مفادات مشترکہ ہیں ۔۔کچھ کے پاس سیکنڈ آپشن نہیں اور کچھ خوفزدہ ہیں کہ کہیں اس کے نتیجہ میں موجودہ سسٹم ہی زمین بوس نہ ہو جائے جب سے عمران خان وزیر اعظم بنے ہیں یہ لوگ اس سسٹم کا دفاع کررہے ہیں انہوںنے عمران خان کو فبول نہیں کیا اس کھینچا تانی میں معیشت کا بھٹہ بیٹھ رہاہے روپے کی بے قدری بڑھ رہی ہے یہ لوگ استحصالی نظام کو بچانے کےلئے 22کروڑ عوام کو مشکلات میں دھکیل رہے ہیں کیونکہ اختیارات،عزت، دولت ،شہرت اورملکی وسائل پرقبضہ موجودہ استحصالی نظام ہی کی بدولت ممکن ہے ان لوگوںکی خواہش، کوشش اور حسرت ہے کہ یہ جوںکا توں اسی طرح سسٹم چلتا رہے کیونکہ موجودہ جمہوری سسٹم کے طوطے میں ان کی جان ہے۔ میری پیش گوئی ہے کہ پاکستانی عوام اور عمران خان کے لئے 2019ء بڑااہم ہے اگر ہم مشکلات سے نکل گئے تو باقی چارسال ترقی کی رفتار تیزرفتار ہوگی ورنہ یہ حکومت فیل ہونے کے نتیجہ میں مڈٹرم الیکشن بھی ہوسکتے ہیں میاںنوازشریف اورزرداری یہی چاہتے ہیں س اور تحریک ِ انصاف اس سے بچنے کی ہرممکن کوشش کرے گی سچ تو یہ ہے جمہوریت کے لبادے میں چھپے ملوکیت کے بت پاش پاش کئے بغیر تبدیلی کی ہرکوشش بے نتیجہ ثابت ہوگی۔

Check Also

‫ ویب فونٹین گروپ ایف زیڈ-ایل ایل سی (Webb Fontaine Group FZ-LLC) نے نیپال (Nepal) حکومت کے ساتھ قومی سنگل ونڈو (Single Window) یعنی تجارتی سہولت، کے نفاذ کے معاہدے پر دستخط کی ہے

‫ ویب فونٹین گروپ ایف زیڈ-ایل ایل سی (Webb Fontaine Group FZ-LLC) نے نیپال (Nepal) ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *