Home / کالم / جنت کی عورتوں کی سردار حضرت سےدہ فاطمہ الزہراءؓ

جنت کی عورتوں کی سردار حضرت سےدہ فاطمہ الزہراءؓ

 

 

 

جنت کی عورتوں کی سردار حضرت سےدہ فاطمہ الزہراءؓ
حضرت فاطمہ ؓ کی ولادت: حضرت حسن وحضرت حسےن رضی اللہ عنہما کی والدہ اور نبی اکرمﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہراء ؓ کی ولادت‘ بعثت نبوی سے تقرےباً پانچ سال قبل حضرت خدےجہ ؓ کے بطن سے مکہ مکرمہ مےں ہوئی۔ حضرت فاطمہ ؓ کی ولادت کے وقت نبی اکر مﷺ کی عمر تقرےباً۵۳ سال تھی ۔ اور ےہ وہ وقت تھا جب کعبہ کی تعمےر نو ہورہی تھی۔ اسی تعمےر کے موقع پر حضور اکرم ﷺ نے بہترےن تدبےر کے ساتھ حجر اسود کو اس کی جگہ رکھ کر باہمی جنگ کے بہت بڑے خطرے کو ٹالا تھا اور آپﷺ کی اس تدبےر نے عرب کے تمام قبائل مےں آپ ﷺ کی عظمت واحترام مےں اضافہ کردےا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کی تمام اولاد نرےنہ کی وفات بالکل بچپن ہی مےں ہوگئی تھی چنانچہ آپﷺ کے تےنوں بےٹوں مےں سے کوئی بھی بےٹا ۲۔۳ سال سے زےادہ باحےات نہ رہ سکا۔ چاروں بےٹےوں مےں سے بھی تےن کی وفات آپ ﷺ کی حےات ِمبارکہ ہی مےں ہوگئی تھی۔ حضرت فاطمہ ؓ کا انتقال آپﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد ہوا۔ آپﷺ کی چاروں بےٹےوں مےں سے کوئی بھی بےٹی ۰۳ سال سے زےادہ با حےات نہ رہ سکی۔ نبی اکرمﷺ کی زندگی کے آخری سالوں مےں تو رسول اللہﷺ کی توجہات ومحبت کا مرکز فطری طور پر حضرت فاطمہ ؓ بن گئی تھےں، ےوں بھی وہ حضور اکرمﷺ کی بہت ہی چہےتی بےٹی تھےں۔ آپﷺ کی چاروں بےٹےاں مدےنہ منورہ کے مشہور قبرستان (البقےع) مےں مدفون ہےں۔
حضرت فاطمہ ؓ کی تربےت: حضرت فاطمہ زہراء ؓنے اپنی والدہ ماجدہ حضرت خدےجہ ؓ کے زےر ساےہ تربےت اور پرورش پائی۔ ابھی حضرت فاطمہ ؓ۵۱ سال کی تھےں کہ ماں کی شفقت سے محروم ہوگئیں۔ حضرت خدےجہ ؓ کے انتقال کے بعد آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کی خصوصی تربےت فرمائی۔ نبی اکرمﷺ کی آےا (مربےہ): حضرت ام اےمن ؓ اور حضرت علیؓ کی والدہ: حضرت فاطمہ ؓبنت اسد نے بھی حضرت فاطمہ ؓ کی تربےت اور پرورش مےں اےک اہم کردار ادا کےا۔ ان کے علاوہ حضرت فاطمہ ؓ کی بہنوں نے بھی حضرت فاطمہ ؓ کی ہمہ وقت دل جوئی فرمائی ۔
حضرت فاطمہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے مشابہ تھےں: حضرت فاطمہ ؓ جس وقت چلتےں تو آپ کی چال ڈھال رسول اللہﷺ کے بالکل مشابہ ہوتی تھی (مسلم) اسی طرح حضرت عائشہ ؓ کی رواےت ہے کہ مےں نے اٹھنے بےٹھنے اور عادات واطوار مےں حضرت فاطمہ ؓ سے زےادہ کسی کو رسول اللہﷺ سے مشابہ نہےں دےکھا۔ (ترمذی) غرضےکہ حضرت فاطمہ ؓ کی چال ڈھال اور گفتگو وغےرہ مےں رسول اللہﷺ کی جھلک نماےاں نظر آتی تھی۔
رسول اللّٰہ ﷺ کی خدمت: حضرت فاطمہ زہراء ؓ بچپن سے ہی رسول اللہﷺ کی بڑی خدمت کرتی تھےں ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہےں کہ اےک مرتبہ رسول اللہﷺ مسجد حرام مےں نماز پڑھ رہے تھے، قرےش کے چند بدمعاشوں نے شرارت کی غرض سے اونٹ کی اوجھڑی لاکر نبی اکرمﷺ پر ڈال دی اور خوشی سے تالےاں بجانے لگے۔ کسی نے حضرت فاطمہ ؓ کو خبر دی تو وہ دوڑی دوڑی آئےں اور حضور اکرمﷺپر سے اوجھڑی کو اتار کر پھےنکا۔ اسی طرح اےک مرتبہ نبی اکرمﷺ مکہ کی اےک گلی سے گزر رہے تھے کہ کسی بدبخت نے مکان کی چھت سے آپﷺ کے سر مبارک پر گندگی پھےنک دی۔ آپﷺ اسی حالت مےں گھر تشرےف لائے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے ےہ حالت دےکھی تو رونے لگےں اور پھر سر مبارک اور کپڑوں کو دھوےا۔ حضرت فاطمہ ؓ نہ صرف عمومی حالات مےں بلکہ سخت ترےن حالات مےں بھی نہاےت دلےری اور ثابت قدمی سے اللہ کے رسولﷺ کی خدمت کرتی تھےں چنانچہ جنگ احد مےں جب اللہ کے رسولﷺ کے دندان مبارک شہےد ہوگئے تھے اور پےشانی پر بھی زخم آئے تھے تو حضرت فاطمہ ؓ احد کے مےدان پہونچیں اور اپنے والد محترم کے چہرے کو پانی سے دھوےا اور خون صاف کےا۔ غرضےکہ حضرت فاطمہؓ نے اپنے والد کی خدمت کا حق ادا کےا۔
حضرت فاطمہ ؓکی مدےنہ منورہ کو ہجرت: حضرت فاطمہ ؓ کا بچپن دےن کے لئے تکلےفےں سہنے مےں گزراحتی کہ رسول اللہﷺ نے قرےش کی اےذاو¿ں سے بچنے کے لئے حضرت ابوبکر ؓ کو رفےق سفر بناکر مدےنہ منورہ کو ہجرت فرمائی۔ آپﷺ اپنے اہل وعےال کو مکہ مکرمہ مےں چھوڑ گئے تھے۔ کچھ مدت کے بعد نبی اکرمﷺ نے اپنے اہل وعےال اور حضرت ابوبکر ؓ کے اہل وعےال کو مدےنہ منورہ بلانے کا انتظام کےا۔ اس طرح حضرت فاطمہ ؓاپنے والد کے پاس مدےنہ منورہ ہجرت فرماگئےں۔
حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح: ۲ھ مےں غزوہ¿ بدر کے بعد حضور اکرمﷺ نے اپنی سب سے چھوٹی بےٹی حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی ؓ بن ابو طالب کے ساتھ کردےا۔ مسند احمد مےں حضرت علی ؓ کا واقعہ خود ان کی زبانی نقل کےا گےا ہے : جب مےں نے حضور اکرمﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کے بارے مےں اپنے نکاح کا پےغام دےنے کا ارادہ کےا تو مےں نے (دل مےں) کہا کہ مےرے پاس کچھ بھی نہےں ہے ، پھر ےہ کام کےونکر انجام پائے گا؟ لےکن اس کے بعد ہی دل مےں حضور اکرمﷺ کی سخاوت اور نوازش کا خےال آگےا۔ لہذا مےں نے حاضر خدمت ہوکر پےغام نکاح دے دےا، آپﷺ نے سوال فرماےا : تمہارے پاس (مہر مےں دےنے کے لئے) کچھ ہے؟ مےں نے عرض کےا: نہےں۔ آپﷺ نے فرماےا: تمہاری زرہ (Shield) کہاں گئی؟ مےں نے کہا: جی ہاں وہ تو ہے۔ آپﷺ نے فرماےا: اس کو (فروخت کرکے مہر مےں) دے دو۔
﴾وضاحت﴿: اہل سےر ومو¿رخےن نے تحرےر کےا ہے کہ نبی اکرمﷺ کے فرمان پر حضرت علی ؓ نے اپنی زرہ فروخت کی تھی جو حضرت عثمان غنی ؓ نے خرےدی تھی لےکن بعد مےں حضرت عثمان غنی ؓ نے حضرت علی ؓ کو ےہ زرہ بطور ِ ہدےہ واپس کردی تھی۔ اِس واقعہ سے مہر کی ادائےگی کی اہمےت کا اندازہ لگاےا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے مہر کی ادائےگی کے لئے حضرت علی ؓ کی پسندےدہ چےز کو فروخت کرادےا تھا۔
حضرت فاطمہ ؓ کا مہر : حضرت فاطمہ ؓ کے مہر کی مقدار کے متعلق چند رواےات وارد ہوئی ہےں جن کا خلاصہ¿ کلام ےہ ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ کا مہر ۰۰۴ درہم سے ۰۰۵ درہم کے درمےان تھا۔ درہم چاندی کا اےک سکہ ہوا کرتا تھا جو عموماً 2.975 گرام چاندی پر مشتمل ہوتا تھا۔ اگر 480 درہم والی رواےت کو لےا جائے تو حضرت فاطمہ ؓ کا مہر (2.975 x 480) 1428گرام چاندی ہوگا، جس کو امت مسلمہ مہر فاطمی سے جانتی ہے۔ ﴾وضاحت﴿: مہر عورت کا حق ہے، اس کو نکاح کے وقت متعےن اور رخصتی سے قبل ادا کرنا چاہئے۔ مہر مےں حسب استطاعت درمےانہ روی اختےار کرنی چاہئے نہ بہت کم اور نہ بہت زےادہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس موضوع کی اہمےت کے پےش نظر قرآن کرےم مےں تقرےباً ۷ جگہوں پر مہر کا ذکر فرماےا ہے، لہذا ہمےں مہر ضرور ادا کرنا چاہئے۔ اگر ہم بڑی رقم مہر مےں ادا نہےں کرسکتے ہےں اور لڑکی کے گھر والے مہر مےں بڑی رقم متعےن کرنے پر بضد ہےں جےساکہ ہمارے ملکوں مےں عموماً ہوتا ہے،تو ہمےں حسب استطاعت کچھ نہ کچھ مہر ضرور نقد ادا کرنی چاہئے( اورباقی مو¿جل طے کرلےں) جےساکہ نبی اکرمﷺ نے حضرت علیؓ کی زرہ فروخت کراکے مہر کی ادائےگی کرائی۔ آج ہم جہےز اور شادی کے اخراجات مےں بڑھ چڑھ کر حصہ لےتے ہےں لےکن مہر کی ادائےگی جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس سے کتراتے ہےں۔
حضرت فاطمہ ؓ کا جہےز: تمام رواےات کو جمع کرنے کے بعد جنت مےں ساری عورتوں کی سردار کا جہےز صرف چند چےزوں پر مشتمل تھا: ۱) اےک چارپائی۔ ۲) اےک بچھونا۔ ۳) اےک چمڑے کا تکےہ جس مےں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ ۴) اےک چکی (بعض رواےات مےں ۲ چکےوں کا تذکرہ ہے) ۵) دو مشکےزے۔ (جس کے ذرےعہ کوئےں وغےرہ سے پانی بھر کے لاےا جاتا ہے) ﴾وضاحت﴿: حضرت فاطمہؓ نبی اکرم ﷺ کی سب سے زےادہ پےاری اور چہےتی صاحبزادی تھےں، ان کو نبی اکرم ﷺ نے جنت کی عورتوں کی سردار بتاےا ہے، ان کی شادی کس سادگی سے نبی اکرمﷺ نے انجام دی کہ حضرت علی ؓ نے نکاح کا پےغام دےا، آپﷺ نے حضرت فاطمہؓ کے سامنے اس کا تذکرہ کےا ، آپ خاموش رہےں جو رضامندی کی دلےل ہوا کرتی ہے۔ آپﷺ نے حضرت علیؓ کے نکاح کے پےغام کو قبول فرمالےا اور مہر متعےن کرکے اسی وقت چند صحابہ¿ کرام کی موجودگی مےں نکاح پڑھادےا۔ چند ماہ بعد سادگی کے ساتھ رخصتی ہوگئی۔ کتب حدےث وتارےخ مےں مذکور ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو جو جہےز دےا تھا وہ درحقےقت اسی رقم سے خرےدا تھا جو حضرت علیؓ نے بطور مہر ادا کی تھی۔ اور جہےز بھی انتہائی مختصر تھا جس کے لئے حضور اکرمﷺ نے نہ کسی سے ادھار لےا اور نہ اس کی فہرست لوگوں کو دکھائی اور نہ جہےز کی چےزوں کی تشہےر کی۔ آج بےشتر لوگ جہےز مےں بڑھ چڑھ کر حصہ لےتے ہےں خواہ اس کے لئے کتنی بھی رقم ادھار لےنی پڑے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہر شخص کسی نہ کسی حد تک اس مےں مبتلا ہے جس کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے، کےونکہ جہےز کی کثرت کی وجہ سے بے شمار لڑکے اور لڑکےاں شادی سے رکے رہتے ہےں اور سماج مےں متعدد برائےاں پھےلنے کا سبب بھی جہےز ہے۔ لڑکے ےا ان کے گھرانے کی طرف سے اب جہےز کے لئے متعےن سامان ےا پےسوں کا عموماً مطالبہ بھی ہونے لگا ہے، نےز جہےز دےنے کے پےچھے اےک دوسرے سے سبقت لے جانے کا جذبہ بھی کارفرما ہوتا ہے خواہ اس کے لئے ناجائز طرےقوں سے مال حاصل کرکے ہی خرچ کرنا پڑے، جو جائز نہےں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اس مہلک بےماری سے حفاظت فرمائے۔ آمےن۔
حضرت فاطمہ ؓ کی رخصتی اور ولےمہ: حضرت فاطمہؓ کی رخصتی صرف اس طرح ہوئی کہ حضرت ام اےمن ؓ کے ساتھ نبی اکرمﷺنے ان کو دولہا کے گھر بھےج دےا۔ ےہ دونوں جہاں مےں سب سے افضل بشر کی صاحبزادی کی رخصتی تھی جس مےں نہ دھوم دھام نہ پالکی اور نہ روپےوں کی بکھےر، نہ حضرت علیؓ گھوڑے پر سوار ہوئے، نہ حضرت علیؓ نے بارات چڑھائی، نہ آتش بازی کے ذرےعے اپنا مال پھونکا۔ دونوں طرف سے سادگی سے کام لےا گےا، قرض ادھار لے کر کوئی کام نہےں کےا گےا۔ آج ہم سب حضور اکرمﷺ سے محبت کے دعوے کرتے ہےں لےکن ان کی اتباع اور اقتدا مےں اپنی اور خاندان کی ذلت اور عار سمجھتے ہےں۔حضرت علیؓ نے دوسرے روز (مختصر) اپنا ولےمہ کےا جس مےں سادگی کے ساتھ جو مےسر آےا کھلادےا۔ ولےمہ مےں جو کی روٹی، کھجورےں، حرےرہ ، پنےر اور گوشت تھا۔ (سےرت سرور کونےن ۔ مفتی محمد عاشق الہی مدنی ؒ)
کام کی تقسےم: حضرت علیؓ کے پاس کوئی خادم ےا خادمہ نہےں تھی، اس لئے حضور اکرمﷺنے حضرت فاطمہؓ اور حضرت علی ؓ کے درمےان کام کو اس طرح تقسےم کردےا تھا کہ حضرت فاطمہ ؓ گھر کے اندر کے کام کےا کرتی تھےں مثلاً چکی سے آٹا پےسنا، آٹا گوندھنا، کھانا پکانا اور گھر کی صفائی وغےرہ اور حضرت علیؓ گھر سے باہر کے کام انجام دےا کرتے تھے۔ (زاد المعاد)
تسبےح فاطمی: اےک مرتبہ حضور اکرمﷺکی خدمت مےںکچھ غلام اور باندےاں آئےں تو حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کو مشورہ دےا کہ اس موقع پر تم حضور اکرمﷺ کی خدمت مےں جاکر اےک خادمہ کا مطالبہ کرو ، جو تمہاری گھرےلو ضرورےات مےں تمہارے ساتھ تعاون کرسکے۔ چنانچہ حضرت فاطمہ ؓ اسی غرض سے حضور اکرمﷺ کی خدمت مےں حاضر ہوئیں۔ اُس وقت آپﷺ کی خدمت مےں کچھ لوگ حاضر تھے ، اس لئے حضرت فاطمہ ؓ واپس آگئےں۔ بعد مےں حضور اکرمﷺ حضرت فاطمہ ؓ کے گھر تشرےف لائے تو اس وقت حضرت علیؓ بھی موجود تھے۔ حضور اکرمﷺ نے درےافت فرماےا کہ فاطمہؓ تم اُس وقت مجھ سے کےا کہنا چاہتی تھےں؟ حضرت فاطمہؓ تو حےا کی بنا پر خاموش رہےں، لےکن حضرت علیؓ نے عرض کےا کہ ےارسول اللہ! چکی پےسنے کی وجہ سے فاطمہؓ کے ہاتھوں مےں چھالے اور مشکےزہ اٹھانے کی وجہ سے جسم پر نشان پڑ گئے ہےں۔ اس وقت آپ کے پاس کچھ خادم ہےں تو مےں نے ہی ان کو مشورہ دےا تھا کہ ےہ آپ سے اےک خادم طلب کرلےں تاکہ اس مشقت سے بچ سکےں۔ حضور اکرمﷺ نے ےہ سن کر فرماےا کہ اے فاطمہ! کےا تمہےں اےک اےسی چےز نہ بتادوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔ جب تم رات کو سونے لگو تو ۳۳ مرتبہ سبحان اللّٰہ، ۳۳ مرتبہ الحمد للّٰہ اور ۴۳ مرتبہ اللّٰہ اکبر پڑھ لےا کرو۔ (ابو داو¿د ج۲ ص ۴۶) غرضےکہ آپﷺ نے اپنی چہےتی بےٹی کو خادم ےا خادمہ نہےں دی بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کا بہترےن بدلہ ےعنی تسبےحات عطا فرمائےں، ان تسبےحات کو امت مسلمہ تسبےح فاطمی کے نام سے جانتی ہے۔
حضرت فاطمہ ؓ کے بعض فضائل ومناقب: ٭ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرماےا: فاطمہ ؓ مےرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کےا اس نے مجھے ناراض کےا۔ دوسری رواےت مےں ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرماےا: حضرت فاطمہ ؓکے رنج سے مجھے رنج ہوتا ہے اور اس کی تکلےف سے مجھے تکلےف ہوتی ہے۔ (مسلم) ٭ حضور اکرمﷺ جب سفر مےں تشرےف لے جاتے تو سب سے آخر مےں حضرت فاطمہ ؓ سے مل کر روانہ ہوتے تھے اور جب واپس تشرےف لاتے تھے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ ؓ کے پاس تشرےف لے جاتے تھے۔ (مشکوة) ٭ حضرت حذےفہ ؓ فرماتے ہےں کہ مےں نبی اکرمﷺ کی خدمت مےں حاضر ہوا، آپﷺ نے اس وقت فرماےا کہ بے شک ےہ فرشتہ ہے جوزمےن پر آج کی اس رات سے پہلے کبھی نازل نہےں ہوا ، اپنے رب سے اجازت لے کر مجھے سلام کرنے اور ےہ بشارت دےنے کے لئے آےا ہے کہ ےقےنا حضرت فاطمہؓ جنت کی عورتوں کی سردار ہےں اور حضرت حسنؓ وحضرت حسےنؓ جنت کے جوانوں کے سردار ہےں۔ (مشکوة)
حضور اکرم ﷺ کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ ؓ:حضرت فاطمہ زہراء ؓ کو حضور اکرمﷺ کی وفات کا بہت شدےد رنج ہوا تھا،چنانچہ حضور اکرمﷺ کی تدفےن کے بعد انہوں نے خادم رسول حضرت انس ؓ سے اےسی بات کہی تھی جس سے اُن کے دلی کرب وبے چےنی کا اظہارہوتا ہے اور جو اُن کے دلی غم کی عکاسی کرتا ہے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے فرماےا : اے انسؓ! رسول اللہ کے جسم اطہر پر مٹی ڈالنا تم لوگوں نے کس طرح گوارا کرلےا۔ (مشکوة ص ۷۴۵) حضرت فاطمہؓ کی والدہ حضرت خدےجہؓ ، تےن بہنےںاور تمام چھوٹے بھائی حضرت فاطمہؓ کی زندگی مےں ہی وفات پاگئے تھے۔ اور پھر آخر مےں آپ کو بہت چاہنے والے باپ کی وفات ہوگئی، باپ کی وفات پر جتنا بھی رنج ہوا ہو کم ہے۔ حضور اکرمﷺ کے انتقال پر اگرچہ حضرت فاطمہؓ نے پورے صبر وضبط کا مظاہرہ کےا ، لےکن پھر بھی حضور اکرمﷺ کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ ؓ بہت مغموم رہا کرتی تھےں چنانچہ آپﷺ کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ ؓ صرف ۶ ماہ ہی باحےات رہ سکےں۔
حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد: حضرت فاطمہ ؓ کے بطن سے تےن صاحبزادے حضرت حسنؓ ، حضرت حسےن ؓ اور حضرت محسنؓ اور دو صاحبزادےاں حضرت زےنب ؓ اور حضرت ام کلثوم ؓ پےدا ہوئےں۔ حضرت محسنؓ کا انتقال بچپن مےں ہی ہوگےا تھا۔ حضرت حسنؓ اور حضرت حسےن ؓ کے ذرےعہ ان کے نانامحترم حضور اکرمﷺ کا سلسلہ¿ نسب چلا۔ حضور اکرمﷺ کی ےہ خصوصےت ہے کہ آپﷺ کی صاحبزادی سے جو نسل چلی وہ آپﷺ کی نسل سمجھی گئی ورنہ قاعدہ ےہ ہے کہ انسان کی نسل اس کے بےٹوں سے چلتی ہے۔
حضرت فاطمہ ؓ کی وفات: نبی اکرمﷺ کی وفات کے تقرےباً چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ ؓ چند روز کی علالت کے بعد ۳ رمضان المبارک ۱۱ ہجری کو بعد نماز مغرب ۹۲ سال کی عمر مےں انتقال فرماگئےں اور عشاءکی نماز کے بعد دفن کر دی گئےں۔ بعض مو¿رخےن کی رائے کے مطابق حضرت فاطمہ ؓ کی تارےخ وفات ۳ جمادی الثانی ۱۱ہجری ہے۔
ڈاکٹر محمد نجےب قاسمی سنبھلی

Check Also

مطالعہ جامع ترمذی شریف

      مشرقی اُفق میر افسر امان مطالعہ جامع ترمذی شریف صحاح ستہ حدیث ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *