Home / کالم / جنوبی ایشاءمیںامریکی بے چینی کی اصل وجہ !

جنوبی ایشاءمیںامریکی بے چینی کی اصل وجہ !

 


جنوبی ایشاءمیںامریکی بے چینی کی اصل وجہ !
کالم نگار : پروفیسر ضیاءالرحمن کشمیری ۔
ای میل:zia744@hotmail.com
دنیا پر بالادستی کا خواب دیکھنے والا امریکا ایک طرف ان دنوں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر محتاط روئیے اور غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی وجہ سے شدید عالمی رد عمل کا شکار ہے تو دوسری جانب امریکی سینیٹ، امریکی محکمہ خارجہ ، پینٹا گون اور امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور بیانات میں واضح فرق اور اختلاف دیکھنے میں آرہا ہے۔ شمالی کوریا نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دی جانے والی دھمکی کے جواب میں ہائیڈروجن بم کو امریکا کے خلاف استعمال کرنے کے تجربات شروع کر دئیے تو امریکی محکمہ خارجہ کو یہ وضاحت جاری کرنا پڑی کہ ” امریکا ، شمالی کوریا کے خلاف کسی بڑی فوجی کارروائی کے متعلق نہیں سوچ رہا ۔“محکمہ خارجہ کی یہ وضاحت صدر ٹرمپ کی دھمکی کو گیدڑ بھبکی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔مزید برآں!امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ری پبلکن چیئرمین باب کروکرنے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا ایٹمی ممالک کو للکارنا خطرناک ثابت ہوگا، ٹرمپ نے امریکا کو عالمی جنگ کی راہ پر ڈال دیا ہے۔“ باب کروکر کا مزید کہنا تھا کہ ” صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے شمالی کوریا کو دھمکی دینا ، امریکا کو ایک نئی آزمائش سے دو چار کر سکتا ہے۔ اگر صدر نے یہ طرز عمل تبدیل نہ کیا تو امریکا کو کسی بڑے حادثے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔“ شمالی کوریا کو ٹرمپ کی طرف سے دی جانے والی دھمکی کے اثرات کم کرنے کے لیے امریکی وزیر خارجہ’ ریکس ٹلر سن‘نے شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت بھی دی تاکہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان قائم ہونے والے کشیدہ ماحول میں کچھ کمی آسکے لیکن امریکی وزیر خارجہ کے اس اقدام پر صدر ٹرمپ نے اپنے ہی وزیر خارجہ کو بے وقوف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات بے سود ہیں ، اسے فوجی کارروائی سے ہی سبق سکھایا جائے گا۔ “اس صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا کے اندر بھی اداروں کے درمیان ٹکراﺅکی کیفیت موجود ہے جو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ اپنے ہی وزیر خاجہ کو بے وقوف کہنے والا صدر ٹرمپ ، شمالی کوریا کے سربراہ ’کم جونگ ان‘کو پاگل شخص قرار دیتاہے جبکہ شمالی اتحاد کا سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبطی اور پاگل کہتا ہے۔ دنیا پریشان ہے کہ ان دونوں میںسے صحیح کون کہہ رہا ہے؟ راقم الحروف کے خیال میں دونوں ہی بالکل درست کہہ رہے ہیں اور دنیا کو ان دونوں کی باتوں کو درست تسلیم کرنا چاہئے۔
جس طرح کا دھمکی آمیز رویہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے خلاف استعمال کیا ، ایسا ہی طرزِ عمل صدر ٹرمپ نے چند روز قبل پاکستان کے متعلق بھی اختیارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ”پاکستان میںدہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں ، اگر پاکستان نے ان دہشت گردوںکے خلا ف ایکشن نہ لیا تو امریکا از خود براہ ِ راست ان دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اندر سرجیکل اسٹرائیک کرے گا۔ “اس دھمکی کے جواب میں شمالی کوریا کی طرح پاکستان کی حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور سول سوسائٹی نے بھی شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی دھمکی کو مسترد کر دیا ہے۔اس سے قبل امریکانے بھارت کی خوشنودی کے لیے مقبوضہ کشمیر میں بر سر پیکار کشمیری حریت پسندوں کی سب سے بڑی تنظیم حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے ساتھ متحدہ جہاد کونسل کے سپریم ہیڈسید صلاح الدین کو بھی عالمی دہشت قرار دیا تھا ، جس کو پاکستان کی وفاقی حکومت نے یکسر مسترد کرتے ہوئے امریکا کے اس اقدام کی مذمت کی تھی ۔ علاوہ ازیں ! امریکا کی طرف سے اندر خانہ شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنے کا دباﺅ بھی موجود ہے، جس پر پاکستان کی طرف سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔ اس انکار پر امریکا بری طرح سیخ پا ہے۔ اس طرح کے متعدد امریکی اقدامات ، الزامات ، دھمکیاں اور مطالبات ہیں ، جس کی وجہ سے گزشتہ کچھ ماہ سے پاک امریکا تعلقات انتہائی کشید گی کا شکار ہیں ۔حکومت پاکستان نے امریکا کے ناروا روئیے کی وجہ سے امریکا کے ساتھ سخت ترین سفارتی پالیسی اختیار کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت حکومت ِ پاکستان کی طرف سے 3آپشنز پر بتدریج عمل در آمد کیا جائے گا ۔ ان آپشنز میں امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کو محدود کرنا ، دہشت گردی کے معاملات پر امریکا کے ساتھ باہمی تعاون میں کمی اور افغانستان کے لیے امریکی حکمت عملی میں عدم تعاون شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کو دھمکی دینے اور بے جا الزامات عاید کرنے کے برعکس امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے اور پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت کو بھی اچھی طرح سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع کی طرف سے پاکستان کے خلاف ٹرمپ کے بیانات اور سخت رویہ کی مخالفت کی جارہی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ ” افغانستان کے معاملے میں پاکستان کو ساتھ لے کر چلیں ۔ “ اس کے ساتھ صدر ٹرمپ کو یہ بھی باور کر ایا گیا ہے کہ ” پاکستان کی طرف سے عدم تعاون سے امریکا کو افغانستان میں ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیاءکے خطے میں نقصان ہوگا۔ “ امریکی محکمہ دفاع نے صدر ٹرمپ کو یہ بھی انتباہ کیا ہے کہ ” اگر پاکستان نے صرف نیٹو سپلائی لائن منقطع کر دی تو افغانستان میں جاری آپریشن بری طرح متاثر ہو جائے گا۔ “امریکا کے محکمہ خارجہ اور دفاع کی طرف سے پاکستان کی وکالت کا تسلسل ہی ہے کہ اب امریکا اور پاکستان کے درمیان موجود سخت کشیدگی اور تناﺅ کو کم کرنے کے لیے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کریںگے اور وزیر خارجہ کے بعد امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا دورہ بھی طے ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک کے سفارتی ذرائع نے ان دوروں کی تصدیق کر دی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کا دورہ¿ پاکستان کن نتائج کا حامل ہو گا؟ یہ دورے دونوں ممالک کے درمیان موجود تلخی اور کشیدگی کو بڑھاتے ہیں یا کم کرتے ہیں ؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امریکا کے روئیے میں پاکستان کے خلاف پیدا ہونے والی تمام تر سختی اور بے چینی کے پیچھے اگر کوئی بڑی وجہ ہے تو وہ ’سی پیک‘ اور ’ون روڈ ون بیلٹ ‘ منصوبہ ہی ہے۔ اس کا اظہار امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس گزشتہ روز امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں ان الفاظ کے ساتھ کر چکے ہیںکہ ” امریکا سی پیک اور ون روڈ ون بیلٹ منصوبے کا مخالف ہے کیونکہ اس منصوبے کا ایک حصہ پاکستان میں متنازعہ علاقہ سے ہو کر گزرتا ہے۔ہمیں ایک مربوط حکمت عملی کے تحت چین کا مقابلہ کرنا ہے۔“یہ وہ اصل دکھ اور در دہے جس کی وجہ سے امریکا ، چین اور پاکستان پر بار بار مختلف الزامات کے تحت دباﺅ بڑھا رہا ہے۔ جیمز میٹس کے بیان سے صاف عیاں ہے کہ امریکا ، عوامی جمہوریہ چین کی روز افزوں دفاعی و معاشی ترقی سے بری طرح خائف ہے۔ امریکا کے تھنک ٹینکس روس کے زوال کے بعد اس نکتہ پر متفق ہو چکے تھے کہ جب تک چین کو روس کی طرز پر دفاعی اورمعاشی اعتبار سے کمزور نہیں کر دیا جا تا ، اس وقت تک پوری دنیا پر بالا دستی کا امریکی خواب شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔یہی وجہ ہے کہ امریکا، بھارت اور افغانستان کے ساتھ مل کر کسی بھی قیمت پر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کو ثبوتاژکرنا چاہتا ہے۔ امریکا اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تو امریکا کی دنیا پر اجارہ داری ختم ہوجائے گی اور نہ صرف چین دنیاکی نئی نمبر ون سپر پاور بن جائے گا بلکہ پاکستان بھی معاشی اور دفاعی اعتبار سے اپنے قدموں پر کھڑا ہو کر امریکا کی ” محتاجی “ سے ہمیشہ کے لیے باہر نکل جائے گا۔ یہی پریشانی ہے جو امریکا کو ہلکان کیے ہوئے ہے او روہ پاکستان اور چین کے خلاف مسلسل بھونڈے قسم کے الزامات عائد کر تا چلا جا رہا ہے۔ون بیلٹ ون روڈمنصوبہ پر امریکی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے چینی وزارت ِ خارجہ نے کہا ہے کہ ” اس منصوبے کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔ یہ ایک عالمی منصوبہ ہے۔ 100سے زاید ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں اس منصوبہ کی بھر پور حامی ہیں ۔ 70سے زیادہ ممالک اور عالمی تنظیموں نے اس منصوبہ میںچین کے ساتھ تعاون کے مختلف منصوبوں اور معاہدوں پر دستخط کئے ہوئے ہیں ۔ سی پیک کے تحت چین اپنے ہمسایہ دوست ملک پاکستان کو سڑکوں ، ریلوے ، پائپ لائنز اور فائبر آپٹیکل کیبلز کے 3ہزار کلومیٹر طویل نیٹ ورک کے ذریعے باہم منسلککرے گا۔ اس منصوبے سے چین کوگوادر پورٹ کے ذریعے بحیرہ عرب اور پھر پوری دنیا تک رسائی ملے گی ۔ چین ، بھارت اور امریکا کی سی پیک اور ون روڈ ون بیلٹ منصوبہ کے خلاف ہر قسم کی سازشوں سے آگاہ ہے اور ان کا مو¿ ثر اور بھر پور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ “ چین کی وزارت ِ خارجہ کی طرف سے یہ عزم اس بات کا اظہار ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کسی بھی صورت اس عظیم منصوبہ پر امریکا اور بھارت کے ناپاک سازشی منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ اس سے زیادہ خوش کن اور حوصلہ افزاءامر یہ ہے کہ سی پیک اور ون روڈ ون بیلٹ منصوبہ کے پاکستان میںسب سے بڑے پشتیبان سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی عد م استحکام کے باوجود وفاقی حکومت ، حزبِ اختلاف کی جماعتیں ، عسکری قیادت اور 20کروڑ پاکستانی عوام پوری کمٹمنٹ کے ساتھ سی پیک کی تائید و حمایت میںمتحد ہو کر کھڑے ہیں اور غیر اعلانیہ طور پر سی پیک اور ون روڈ ون بیلٹ منصوبہ کی مخالفت کرنے کو ” قومی جرم “ قرار دے دیا گیا ہے۔پاکستان اور چین کی اس منصوبہ کے ساتھ مضبوط کمٹمنٹ ہی ہے کہ اب تک ہر سطح پر امریکا اور بھارت کوتمام تر سازشوںکے باوجودمکمل مایوسی کا سامنا ہے۔ چین اور پاکستان اگر اسی اخلاص و اتحاد سے آگے بڑھتے رہے تو آئندہ بھی پاک چین دوستی اور سی پیک کے دشمن ممالک اسی طرح منہ کی کھاتے رہیں گے۔ رواں ماہ کے آخر میںامریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے دورے میںبظاہر تو پاک افغان معاملات اور دہشت گردی کا موضوع ہی ایجنڈے پر ہو گا لیکن اس دورے میں بھی پسِ پردہ سی پیک کی مخالفت ہی کار فرما ہو گی ، جس کا اظہار جیمز میٹس نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں کیا ہے۔ حکومت پاکستان کو اس حوالے سے پوری تیاری کے ساتھ ان امریکی وزراءکے ساتھ ملاقات کرنی چاہئے اور معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے کھل کر انھیں بتا دینا چاہئے کہ ” اگر پاک چین تعلقات اور ان دونوں ممالک کے درمیان جاری منصوبوں کے خلاف امریکا نے بھارت کے ساتھ مل کر کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو نہ صرف پاک امریکا سفارتی تعلقات محدود تر کر دئیے جائیں گے بلکہ نیٹو سپلائی لائن بند کرنے کے ساتھ افغانستان کے حوالے سے جاری ہر قسم کی سہولت اور تعاون بھی ختم کر دیا جائے گا ۔“ اگر ہمت اور جرا¿ت کر کے پاکستان نے ان امریکی وزراءکو یہ پیغام دے دیا تو شمالی کوریا کو وضاحتیں دینے والا امریکی محکمہ خارجہ پاکستان کو بھی وضاحتیں دینے پر مجبور ہو جائے گا ، کیونکہ یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ پاکستان کی لاجسٹک سپورٹ اور تعاون کے بغیر امریکا افغانستان میں ایک مہینہ بھی اپنا وجود برقرار نہیںرکھ سکتا ۔ پس کوئی ہے جو ان باتوں پر غور و فکر کرے !!

Check Also

انڈی میوزک کے لیے جاپان میں بننے والا سپورٹ پلیٹ فارم الفانوٹ بھارت میں جاری

انڈی میوزک کے لیے جاپان میں بننے والا سپورٹ پلیٹ فارم الفانوٹ بھارت میں جاری ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *