Home / کالم / حجاج کرام ان امور پر خاص توجہ دےں

حجاج کرام ان امور پر خاص توجہ دےں

حجاج کرام ان امور پر خاص توجہ دےں
حج اےسی عبادت ہے جوزندگی مےں اےک مرتبہ صاحب استطاعت پر فرض ہے، اگرچہ اےک سے زےادہ مرتبہ حج کی ادائےگی کی ترغےب حضور اکرم ﷺ کی تعلےمات مےں واضح طور پر ملتی ہےں، چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: پے درپے حج وعمرے کےا کرو۔ بے شک ےہ دونوں (حج اور عمرہ) فقر ےعنی غرےبی اور گناہوں کو اس طرح دور کردےتے ہےں جس طرح بھٹی لوہے کے مےل کچےل کو دور کردےتی ہے۔ (ابن ماج©ہ) انسان کو اپنی زندگی مےں بار بار حج کرنے کی توفےق عام طور پر نہےں ملتی ہے۔ حج کے مسائل کچھ اس نوعےت کے ہےں کہ حج کی ادائےگی کے بغےر ان کا سمجھنا بظاہر مشکل ہے ،نےز پہلے سے خاطر خواہ تےاری نہ ہونے کی وجہ سے بھی عام حاجی اپنے حج کی ادائےگی مےں غلطےاں کرتا ہے۔ بعض غلطےاں حج کے صحےح نہ ہونے ےا دم کے واجب ہونے کا سبب بنتی ہےں۔ لہذا عازمےن حج کو چاہئے کہ وہ حجاج کرام سے سرزد ہونے والی مندرجہ ذےل غلطےوں کو اچھی طرح ذہن نشےن کرلےں تاکہ حج کی ادائےگی صحےح طرےقہ پر ہو اور ان کا حج حج مبرور بنے جس کا بدلہ جنت الفردوس ہے جےسا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: اےک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمےان سرزد ہوں اور حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے۔ (بخاری ومسلم)
۱) حج کے اخراجات مےں حرام مال کا استعمال کرنا۔ حج اور عمرہ کے لئے صرف پاکےزہ حلال کمائی مےں سے خرچ کرنا چاہئے کےونکہ رسول اللہ ﷺ کاارشاد ہے: اللہ تعالیٰ پاکےزہ ہے اور پاکےزہ چےزوں کو ہی قبول کرتاہے۔ حضرت ابوہرےرہ رضی اللہ عنہ سے رواےت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرماےا: جب آدمی حج کے لئے رزق حلال لے کر نکلتا ہے اور اپنا پاو¿ں سواری کے رکاب مےں رکھ کر (ےعنی سواری پر سوار ہوکر) لبےک کہتا ہے تو اس کو آسمان سے پکارنے والے جواب دےتے ہےں، تےری لبےک قبول ہو اور رحمت الہی تجھ پر نازل ہو، تےرا سفر خرچ حلال اور تےری سواری حلال اور تےرا حج مقبول ہے اور تو گناہوں سے پاک ہے۔ اور جب آدمی حرام کمائی کے ساتھ حج کے لئے نکلتا ہے اور سواری کے رکاب پر پاو¿ں رکھ کر لبےک کہتا ہے تو آسمان کے منادی جواب دےتے ہےں تےری لبےک قبول نہےں، نہ تجھ پر اللہ کی رحمت ہو، تےرا سفر خرچ حرام، تےری کمائی حرام اور تےرا حج غےر مقبو ل ہے۔ (طبرانی) ہمےشہ ہمےں حلال رزق پر ہی اکتفاءکرنا چاہئے خواہ بظاہر کم ہی کےوں نہ ہو۔ حرام رزق کے تمام وسائل سے ہمےشہ بچنا چاہئے۔ جےساکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: حرام مال سے جسم کی بڑھوتری نہ کرو کےونکہ اس سے بہتر آگ ہے۔ (ترمذی) ۲) حج کے سفر سے قبل حج کے مسائل کو درےافت نہ کرنا۔ لہذا عازمےن حج کو چاہئے کہ وہ حج کی ادائےگی پر جانے سے قبل علماءکرام سے رجوع فرماکر مسائل حج کو اچھی طرح ذہن نشےن کرےں۔ ۳) بعض لوگوں نے مشہور کررکھا ہے کہ اگر کسی نے عمرہ کےا تو اس پر حج فرض ہوگےا، ےہ غلط ہے۔ اگر وہ صاحب استطاعت نہےں ہے ےعنی اگر اس کے پاس اتنا مال نہےں ہے کہ وہ حج ادا کرسکے تو اس پر عمرہ کی ادائےگی کی وجہ سے حج فرض نہےں ہوتا ہے اگرچہ وہ عمرہ حج کے مہےنوں مےں ادا کےا جائے پھر بھی عمرہ کی ادائےگی کی وجہ سے حج فرض نہےں ہوگا۔ ۴) اپنی طرف سے حج کئے بغےر دوسرے کی جانب سے حج بدل کرنا۔ ۵) سفر حج کے دوران نمازوں کا اہتمام نہ کرنا۔ ےاد رکھےں کہ اگر غفلت کی وج©ہ سے اےک وقت کی نماز بھی فوت ہوگئی تو مسجد حرام کی سو نفلوں سے بھی اس کی تلافی نہےں ہوسکتی ہے۔ نےز جو لوگ نماز کا اہتمام نہےں کرتے وہ حج کی برکات سے محروم رہتے ہےں اور ان کا حج مقبول نہےں ہوتاہے۔ ۶) حج کے اس عظےم سفر کے دوران لڑنا، جھگڑنا حتی کہ کسی پر غصہ ہونا بھی غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: حج کے چند مہےنے مقرر ہےں اس لئے جو شخص ان مےں حج کو لازم کرلے وہ اپنی بےوی سے مےل مےلاپ کرنے، گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑا کرنے سے بچتا رہے۔( سورة البقرہ آےت ۷۹۱) نےز نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: جس نے حج کےا اور شہوانی باتوں اور فسق وفجور سے بچا، وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جےسے اس دن پاک تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔ (بخاری ومسلم) ۷) بڑی غلطےوں مےں سے اےک بغےر احرام کے مےقات سے آگے بڑھ جانا ہے۔ لہذا ہوائی جہاز پر سوار ہونے والے حضرات اےرپورٹ پر ہی احرام باندھ لےں ےا احرام لے کر ہوائی جہاز مےں سوار ہوجائےں اور مےقات سے پہلے پہلے باندھ لےں۔ ۸) بعض حضرات شروع ہی سے اضطباع (ےعنی داہن©ی بغل کے نےچے سے احرام کی چادر نکال کر بائےں کندھے پر ڈالنا) کرتے ہےں، ےہ غلط ہے بلکہ صرف طواف کے دوران اضطباع کرنا سنت ہے۔ لہذا دونوں باز¶ں ڈھانک کر ہی نماز پڑھےں۔ ۹) بعض حجاج کرام حجر اسود کا بوسہ لےنے کے لئے دےگر حضرات کو تکلےف دےتے ہےں حالانکہ بوسہ لےنا صرف سنت ہے جبکہ دوسروں کو تکلےف پہونچانا حرام ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خاص طور سے تاکےد فرمائی تھی کہ دےکھو تم قوی آدمی ہو حجر اسود کے استلام کے وقت لوگوں سے مزاحمت نہ کرنا، اگر جگہ ہو تو بوسہ لےنا ورنہ صرف استقبال کرکے تکبےر وتہلےل کہہ لےنا۔ ۰۱) حجر اسود کا استلام کرنے کے علاوہ طواف کرتے ہوئے خانہ کعبہ کی طرف چہرا ےا پشت کرنا غلط ہے، لہذا طواف کے وقت آپ کا چہرہ سامنے ہو اور کعبہ آپ کے بائےں جانب ہو۔ اگر طواف کے دوران آپ کا چہرا کعبہ کی طرف ہوجائے تو اس پر دم لازم نہےں ہوگا، لےکن قصداً اےسانہ کرےں۔ ۱۱) بعض حضرات حجر اسود کے علاوہ خانہ کعبہ کے دےگر حصہ کا بھی بوسہ لےتے ہےں اور چھوتے ہےں جو غلط ہے، بلکہ بوسہ صرف حجر اسود ےا خانہ کعبہ کے دروازے کا لےا جاتا ہے۔ رکن ےمانی اور حجر اسود کے علاوہ کعبہ کے کسی حصہ کو بھی طواف کے دوران نہ چھوئےں، البتہ طواف اور نماز سے فراغت کے بعد ملتزم پر جاکر اس سے چمٹ کر دعائےں مانگنا حضور اکرم ﷺ سے ثابت ہے۔ ۲۱) رکن ےمانی کا بوسہ لےنا ےا دور سے اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرنا غلط ہے، بلکہ طواف کے دوران اس کو صرف ہاتھ لگانے کا حکم ہے وہ بھی اگر سہولت سے کسی کو تکلےف دئے بغےر ممکن ہو ۔ ۳۱) بعض حضرات مقام ابراہےم کا استلام کرتے ہےں اور اس کا بوسہ لےتے ہےں، علامہ نووی ؒ نے اےضاح اور ابن حجر مکی ؒ نے توضےح مےں فرماےا ہے کہ مقام ابراہےم کا نہ استلام کےا جائے اور نہ اس کا بوسہ لےا جائے، ےہ مکروہ ہے۔ ۴۱) بعض حضرات طواف کے دوران حجر اسود کے سامنے دےر تک کھڑے رہتے ہےں، اےسا کرنا غلط ہے کےونکہ اس سے طواف کرنے والوں کو پرےشانی ہوتی ہے، صرف تھوڑا رک کر اشارہ کرےں اور بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر آگے بڑھ جائےں۔ ۵۱) بعض حجاج کرام طواف کے دوران اگر غلطی سے حجر اسود کے سامنے سے اشارہ کئے بغےر گزر جائےں تو وہ حجر اسود کے سامنے دوبارہ واپس آنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہےں جس سے طواف کرنے والوں کو بے حد پرےشانی ہوتی ہے، اس لئے اگر کبھی اےسا ہوجائے اور ازدحام زےادہ ہو تو دوبارہ واپس آنے کی کوشش نہ کرےں کےونکہ طواف کے دوران حجر اسود کا بوسہ لےنا ےا اس کی طرف اشارہ کرنا سنت ہے واجب نہےں۔ ۶۱) طواف کے دوران رکن ےمانی کو چھونے کے بعد (حجر اسود کی طرح) ہاتھ کا بوسہ دےنا غلط ہے۔ ۷۱) طواف اور سعی کے ہر چکر کے لئے مخصوص دعا کو ضروری سمجھنا غلط ہے، بلکہ جو چاہےں اور جس زبان مےں چاہےں دعا کرےں۔ ۸۱) ازدہام کے وقت حجاج کرام کو تکلےف دے کر مقام ابراہےم کے قرےب ہی طواف کی دو رکعات ادا کرنے کی کوشش کرنا غلط ہے، بلکہ مسجد حرام مےں جہاں جگہ مل جائے ےہ دو رکعات ادا کرلےں۔ ۹۱) طواف اور سعی کے دوران چند حضرات کا آواز کے ساتھ دعا کرنا صحےح نہےں ہے کےونکہ اس سے دوسرے طواف اور سعی کرنے والوں کی دعا¶ں مےں خلل پڑتا ہے۔ ۰۲) بعض حضرات کو جب طواف ےا سعی کے چکروں مےں شک ہوجاتا ہے تو وہ دوبارہ طواف ےا سعی کرتے ہےں، ےہ غلط ہے بلکہ کم عدد تسلےم کرکے باقی طواف ےا سعی کے چکر پورے کرےں۔ ۱۲) بعض حضرات صفا اور مروہ پر پہونچ کر خانہ کعبہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہےں، اےسا کرنا غلط ہے بلکہ دعا کی طرح دونوں ہاتھ اٹھاکر دعائےں کرےں، ہاتھ سے اشارہ نہ کرےں۔ ۲۲) بعض حضرات نفلی سعی کرتے ہےں جبکہ نفلی سعی کا کوئی ثبوت نہےں ہے۔ ۳۲) بعض حجاج کرام عرفات مےں جبل رحمت پر چڑھ کر دعائےں مانگتے ہےں، حالانکہ پہاڑ پر چڑھنے کی کوئی فضےلت نہےں ہے بلکہ اس کے نےچے ےا عرفات کے مےدان مےں کسی بھی جگہ کھڑے ہوکر کعبہ کی طرف رخ کرکے ہاتھ اٹھاکر دعائےں کرےں۔ ۴۲) عرفات مےں جبل رحمت کی طرف رخ کرکے اور کعبہ کی طرف پےٹھ کرکے دعائےں مانگنا غلط ہے بلکہ دعا کے وقت کعبہ کی طرف رخ کرےں خواہ جبل رحمت پےچھے ہو ےا سامنے۔ ۵۲) عرفات سے مزلفہ جاتے ہوئے راستہ مےں صرف مغرب ےا مغرب اور عشاءدونوں کا پڑھنا صحےح نہےں ہے، بلکہ مزدلفہ پہونچ کر ہی عشاءکے وقت مےں دونوں نمازےں ادا کرےں۔ ۶۲) بعض حضرات عرفات سے نکل کر مزدلفہ کے مےدان آنے سے قبل ہی مزدلفہ سمجھ کر رات کا قےام کرلےتے ہےں۔ جس سے ان پر دم بھی واجب ہوسکتا ہے، لہذا مزدلفہ کی حدود مےں داخل ہوکر ہی قےام کرےں۔ ۷۲) مزدلفہ پہونچ کر مغرب اور عشاءکی نماز پڑھنے سے پہلے ہی کنکرےاں اٹھانا صحےح نہےں ہے، بلکہ مزدلفہ پہونچ کر سب سے پہلے عشاءکے وقت مےں دونوں نمازےں ادا کرےں۔ ۸۲) بہت سے حجاج کرام مزدلفہ مےں ۰۱ ذی الحجہ کی فجر کی نماز پڑھنے مےں جلد بازی سے کام لےتے ہےں اور قبلہ رخ ہونے مےں احتےاط سے کام نہےں لےتے جس سے فجر کی نماز نہےں ہوتی۔ لہذا فجر کی نماز وقت داخل ہونے کے بعد ہی پڑھےں نےز قبلہ کا رخ واقف حضرات سے معلوم کرےں۔ ۹۲) مزدلفہ مےں فجر کی نماز کے بعد عرفات کے مےدان کی طرح ہاتھ اٹھاکر قبلہ رخ ہوکر خوب دعائےں مانگی جاتی ہےں، مگر اکثر حجاج کرام اس اہم وقت کے وقوف کو چھوڑ دےتے ہےں۔ ۰۳) بعض حضرات وقت سے پہلے ہی کنکرےاں مارنا شروع کردےتے ہےں حالانکہ رمی کے اوقات سے پہلے کنکرےاں مارنا جائز نہےں ہے۔ پہلے دن ےعنی ۰۱ ذی الحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد سے کنکرےاں ماری جاسکتی ہےں، بعض فقہاءنے صبح صادق کے بعد سے کنکرےاں مارنے کی اجازت دی ہے، مگر ۱۱ اور ۲۱ ذی الحجہ کو زوال آفتاب ےعنی ظہر کی اذان کے بعد ہی کنکرےاں ماری جاسکتی ہےں۔ ہاں اگر کوئی شخص غروب آفتاب سے قبل کنکرےاں نہ مارسکا تو ہر دن کی کنکرےاں اُس دن کے بعد آنے والی رات مےں بھی مارسکتا ہے۔ ۱۳) بعض لوگ کنکرےاں مارتے وقت ےہ سمجھتے ہےں کہ اس جگہ شےطان ہے اس لئے کبھی کبھی دےکھا جاتا ہے کہ وہ اس کو گالی بکتے ہےں اور جوتا وغےرہ بھی ماردےتے ہےں۔ اس کی کوئی حقےقت نہےں بلکہ چھوٹی چھوٹی کنکرےاں حضرت ابراہےم علےہ السلام کی اتباع مےں ماری جاتی ہےں۔ حضرت ابراہےم علےہ السلام جب اللہ کے حکم سے حضرت اسماعےل علےہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے لے جارہے تھے تو شےطان نے حضرت ابراہےم علےہ السلام کو انہےں تےن مقامات پر بہکانے کی کوشش کی، حضرت ابراہےم علےہ السلام نے ان تےنوں مقامات پر شےطان کو کنکرےاں ماری تھےں۔ ۲۳) بعض خواتےن صرف بھےڑ کی وج©ہ سے خود رمی نہےں کرتیں بلکہ ان کے محرم ان کی طرف سے بھی کنکرےاں ماردےتے ہےں، اس پر دم واجب ہوگا کےونکہ صرف بھےڑ عذر شرعی نہےں ہے اور بلا عذرشرعی کسی دوسرے سے رمی کرانا جائز نہےں ہے۔ عورتےں اگر دن مےں کنکرےاں مارنے نہےں جاسکتی ہےں تو وہ رات مےں جاکر کنکرےاں مارےں، ہاں اگر کوئی عورت بےمار ےا بہت زےادہ کمزور ہے کہ وہ جمرات جاہی نہےں سکتی ہے تو اس کی جانب سے کوئی دوسرا شخص رمی کرسکتا ہے۔ ۳۳) بعض حضرات ۱۱، ۲۱ اور ۳۱ ذی الحجہ کو پہلے جمرہ اور بےچ والے جمرہ پر کنکرےاں مارنے کے بعد دعائےں نہےں کرتے، ےہ سنت کے خلاف ہے، لہذا پہلے اور بےچ والے جمرہ پر کنکرےاں مارکر ذرا دائےں ےا بائےں جانب ہٹ کر خوب دعائےں کرےں۔ ےہ دعاو¿ں کے قبول ہونے کے خاص اوقات ہےں۔ ۴۳) بعض لوگ ۲۱ ذی الحجہ کی صبح کو منی سے مکہ طواف وداع کرنے کے لئے جاتے ہےں اور پھر منی واپس آکر آج کی کنکرےاں زوال کے بعد مارتے ہےں اور ےہےں سے اپنے شہر کو سفر کرجاتے ہےں۔ ےہ غلط ہے ، کےونکہ آج کی کنکرےاںمارنے کے بعد ہی طواف وداع کرنا چاہےے۔
ڈاکٹر محمد نجےب قاسمی سنبھلی

Check Also

‫ ویب فونٹین گروپ ایف زیڈ-ایل ایل سی (Webb Fontaine Group FZ-LLC) نے نیپال (Nepal) حکومت کے ساتھ قومی سنگل ونڈو (Single Window) یعنی تجارتی سہولت، کے نفاذ کے معاہدے پر دستخط کی ہے

‫ ویب فونٹین گروپ ایف زیڈ-ایل ایل سی (Webb Fontaine Group FZ-LLC) نے نیپال (Nepal) ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *