Home / کالم / حضرت ابراہےم علےہ السلام اےک برگزےدہ نبی اور رسول

حضرت ابراہےم علےہ السلام اےک برگزےدہ نبی اور رسول

حضرت ابراہےم علےہ السلام اےک برگزےدہ نبی اور رسول
حضرت ابراہےم علےہ السلام، جو اللہ کے برگزےدہ نبی اور پےغمبر ہےں، جن کو خلےل اللہ (اللہ کا دوست) کہا جاتا ہے، تقرےباً چار ہزار سال قبل عراق مےں پےدا ہوئے۔ تےن بڑے مذاہب (ےہودےت، عےسائےت اور اسلام) کے عظےم پےغمبروں مےں سے اےک ہےں۔ ےہودی اور عےسائی بھی حضرت ابراہےم علےہ السلام کو اپنا پےشوا مانتے ہےں۔ مذہب اسلام مےں ان کو بڑی قدر کی نگاہ سے دےکھا جاتا ہے، چنانچہ قرآن کرےم کی چودھوےں سورت ”سورة ابراہےم“ ان ہی سے موسوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کرےم مےں متعدد جگہوں پر حضرت ابراہےم علےہ السلام کے احوال واوصاف بےان فرمائے ہےں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کرےم مےں انہےں ”امت“ اور ”امام الناس“ کے لقب سے پکارا ہے۔ اور انہےں متعدد مرتبہ ”حنےف“ بھی کہا ہے۔ قرآن کرےم مےں انہےں ”مسلم“ بھی کہا گےا ہے۔ قرآن کرےم مےں بہت سارے اےسے انبےاءکرام کا تذکرہ ہے جو حضرت ابراہےم علےہ السلام کی نسل مےں سے ہےں۔
حضرت ابراہےم علےہ السلام کو بچپن سے ہی قلب سلےم عطا کےا گےا تھا، چنانچہ انہوں نے ابتدا ہی سے بت پرستی کی مخالفت کی۔ اللہ کی مخلوقات مےں غور وفکر کے بعد انہےں ےقےن ہوگےا تھا کہ ساری کائنات کو پےدا کرنے والا اےک معبود حقےقی ہے، جس کا کوئی شرےک نہےں ہے، جےساکہ فرمان الہٰی ہے: اور اس طرح ہم ابراہےم کو آسمانوں اور زمےن کی سلطنت کا نظارہ کراتے تھے، اور مقصد ےہ تھا کہ وہ مکمل ےقےن رکھنے والوں مےں شامل ہوں۔ چنانچہ جب ان پر رات چھائی تو انہوں نے اےک ستارہ دےکھا۔ کہنے لگے: ےہ مےرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گےا تو انہوں نے کہا: مےں ڈوبنے والوں کو پسند نہےں کرتا۔ پھر جب انہوں نے چاند کو چمکتے دےکھا تو کہا کہ: ےہ مےرا رب ہے۔ لےکن جب وہ بھی ڈوب گےا تو کہنے لگے، اگر مےرا رب مجھے ہداےت نہ دے تو مےں ےقےنا گمراہ لوگوں مےں شامل ہوجاو¿ں۔ پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتے دےکھا، تو کہا: ےہ مےرا رب ہے، ےہ زےادہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ غروب ہوا تو انہوں نے کہا: اے مےری قوم! جن جن چےزوں کو تم اللہ کی خدائی مےں شرےک قرار دےتے ہو، مےں اُن سب سے بےزار ہوں۔ مےں نے تو پوری طرح ےکسو ہوکر اپنا رُخ اُس ذات کی طرف کرلےا ہے جس نے آسمانوں اور زمےن کو پےدا کےا ہے۔ اور مےں شرک کرنے والوں مےں سے نہےں ہوں۔ (سورہ الانعام ۴۷ ۔ ۹۷)
حضرت ابراہےم علےہ السلام نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کی بابت جب سمجھنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی مثال کے ذرےعہ اُن کو ےہ راز سمجھاےا، جےساکہ اللہ تعالیٰ نے سورة البقرہ آےت ۰۶۲ مےں بےان فرماےا ہے: اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب ابراہےم نے کہا تھا کہ مےرے پروردگار! مجھے دکھائےے کہ آپ مردوں کو کےسے زندہ کرتے ہےں؟ اللہ نے کہا: کےا تمہےں ےقےن نہےں؟ کہنے لگے: ےقےن کےوں نہ ہوتا؟ مگر (ےہ خواہش اس لئے کی ہے) تاکہ مےرے دل کو اطمےنان حاصل ہوجائے۔ اللہ نے کہا: اچھا تو چار پرندے لو اور انہےں اپنے سے مانوس کرلو، پھر (ان کو ذبح کرکے) ان کا اےک اےک حصہ ہر پہاڑی پر رکھ دو، پھر ان کو بلاو¿، وہ چاروں تمہارے پاس دوڑے چلے آئےں گے۔
ان کا والد آزر مذہبی پےشوا تھا، بت بناکر بےچا کرتاتھا۔ حضرت ابراہےم علےہ السلام نے زمانہ¿ طفولت سے ہی بتوں کی عبادت کی مخالفت کی۔ حضرت ابراہےم علےہ السلام کی کھل کر بتوں کی مخالفت کے بعد ان کو قتل کرنے اور گھر سے نکالنے کی دھمکی دی گئی۔ حضرت ابراہےم علےہ السلام کا اےک عبادت گاہ مےں گھس کر بڑے بت کے علاوہ تمام بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا واقعہ پےش آےا، جس کا ذکر قرآن کرےم (سورة الانبےاء۸۵ ۔ ۳۶) مےں ہے: چنانچہ ابراہےم نے ان کے بڑے بت کے سوا سارے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردےا، تاکہ وہ لوگ اُن کی طرف رجوع کرےں۔ وہ کہنے لگے کہ: ہمارے خداو¿ں کے ساتھ ےہ حرکت کس نے کی ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم تھا۔ کچھ لوگوں نے کہا: ہم نے اےک نوجوان کو سنا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے مےں باتےں بناےا کرتا ہے۔ اسے ابراہےم کہتے ہےں۔ انہوں نے کہا: تو پھر اس کو سب لوگوں کے سامنے لے کر آو¿ تاکہ سب گواہ بن جائےں۔ (پھر جب ابراہےم کو لاےا گےا تو) وہ بولے: ابراہےم! کےا ہمارے خداو¿ں کے ساتھ ےہ حرکت تم ہی نے کی ہے؟ ابراہےم نے کہا: نہےں، بلکہ ےہ حرکت ان کے اس بڑے سردار نے کی ہے۔ اب انہی بتوں سے پوچھ لو اگر ےہ بولتے ہوں۔۔۔ سورة الصافات ۸۸ ۔ ۹۸ مےں مذکور ہے کہ وہ کوئی جشن کا دن تھا جس مےں ساری قوم شہر چھوڑکر کہےں جاےا کرتی تھی۔ حضرت ابراہےم علےہ السلام نے ان کے ساتھ جانے سے معذرت چاہی اور جب سارے لوگ چلے گئے تو بت خانے مےں جاکر سارے بتوں کو توڑ ڈالا، صرف اےک بت کو چھوڑ دےا۔ بعض رواےات سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی کلہاڑی بھی اس کی گردن مےں لٹکاکر چھوڑدی۔ اس عمل سے حضرت ابراہےم کا مقصد ےہ تھا کہ وہ لوگ اپنی آنکھوں سے ان بتوں کی بے بسی کا منظر دےکھ سکےں۔ اور ےہ سوچےں جو بت خود اپنا دفاع نہےں کرسکتے، وہ دوسروں کی کےا مدد کرےں گے۔۔۔ اور پھر نمرود بادشاہ کے ساتھ مناظرہ ہوا۔ مناظرہ مےں حضرت ابراہےم علےہ السلام کے منطقی جواب پر غور کرنے کے بجائے ےہ شاہی فرمان جاری کےا گےاکہ اس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔ حضرت ابراہےم علےہ السلام کو آتش نمرود مےں ڈالے جانے کا واقعہ پےش آےا مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ حضرت ابراہےم علےہ السلام کے لئے ٹھنڈی ہونے کے ساتھ سلامتی اور آرام کی چےز بن گئی، جےساکہ فرمان الہٰی ہے:وہ (اےک دوسرے سے) کہنے لگے: آگ مےں جلا ڈالو اس شخص کو، اور اپنے خداو¿ں کی مدد کرو، اگر تم مےںکچھ کرنے کا دم خم ہے۔ (چنانچہ انہوں نے ابراہےم کو آگ مےں ڈال دےا اور) ہم نے کہا: اے آگ! ٹھنڈی ہوجا،ا ور ابراہےم کے لئے سلامتی بن جا۔ (سورة الانبےاء۸۶ و ۹۶) غرضےکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ آگ حضرت ابراہےم علےہ السلام کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکی۔
اس قوم کی بدنصےبی کی حد ےہ تھی کہ اتنا بڑا معجزہ دےکھنے کے باوجود اےک آدمی بھی اےمان نہےں لاےا۔ چنانچہ حضرت ابراہےم علےہ السلام عراق چھوڑکر ملک شام تشرےف لے گئے۔ وہاں سے فلسطےن چلے گئے اور وہےں مستقل قےام فرماکر اسی کو دعوت کا مرکز بناےا۔ اےک مرتبہ حضرت ابراہےم علےہ السلام اپنی بےوی حضرت سارہ کے ہمراہ مصر تشرےف لے گئے۔ وہاں کے بادشاہ نے حضرت ہاجرہ کو حضرت ابراہےم کی اہلےہ حضرت سارہ کی خدمت کے لئے پےش کےا۔ اس وقت تک حضرت سارہ کی کوئی اولاد نہےں ہوئی تھی۔ مصر سے حضرت ابراہےم علےہ السلام پھر فلسطےن واپس تشرےف لائے۔ حضرت سارہ نے خود حضرت ہاجرہ کا نکاح حضرت ابراہےم علےہ السلام کے ساتھ کروادےا۔ بڑھاپے مےں حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعےل علےہ السلام پےدا ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق علےہ السلام پےدا ہوئے۔
اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہےم علےہ السلام نے اپنی بےوی حضرت ہاجرہ اور بےٹے حضرت اسماعےل علےہ السلام کو مکہ مکرمہ کے چٹےل مےدان مےں بےت اللہ کے قرےب چھوڑ دےا، جےسا کہ فرمان الہٰی ہے: اے ہمارے پروردگار! مےں نے اپنی کچھ اولاد کو آپ کے حرمت والے گھر کے پاس اےک اےسی وادی مےں لابساےا ہے جس مےں کوئی کھےتی نہےں ہوتی۔ ہمارے پروردگار! (ےہ مےں نے اس لئے کےا) تاکہ ےہ نماز قائم کرےں، لہٰذا لوگوں کے دلوں مےں ان کے لئے کشش پےدا کردےجئے اور ان کو پھلوں کا رزق عطا فرمائےے تاکہ وہ شکر گزار بنےں۔ (سورة ابراہےم ۷۳) حضرت ابراہےم علےہ السلام کی دعا اےسی قبول ہوئی کہ دنےا بھر کے مسلمانوں کے دل مکہ مکرمہ کی طرف کھنچے چلے جاتے ہےں، چنانچہ ہر مسلمان کی ےہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کم از کم اےک مرتبہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی ضرور زےارت کرے۔ اور پھلوں کی افراط کا ےہ عالم ہے کہ دنےا بھر کے پھل بڑی تعداد مےں وہاں موجود ہےں۔
جب کھانے پےنے کے لئے کچھ نہ رہا تو حضرت ہاجرہ بے چےن ہوکر قرےب کی صفا اور مروہ پہاڑےوں پر پانی کی تلاش مےں دوڑےں۔ چنانچہ پانی کا چشمہ زمزم جاری ہوا۔ کچھ مدت کے بعد اےک قبےلہ بنو جرہم کا ادھر سے گزر ہوا ۔ پانی کی سہولت دےکھ کر انہوں نے حضرت ہاجرہ سے قےام کی اجازت چاہی، حضرت ہاجرہ نے وہاں قےام کرنے کی اجازت دے دی۔
حضرت ابراہےم علےہ السلام کو خواب مےں دکھاےا گےا کہ وہ اپنے اکلوتے بےٹے (حضرت اسماعےل)کو ذبح کررہے ہےں۔ نبی کا خواب سچا ہوا کرتا ہے ، چنانچہ اللہ کے اس حکم کی تکمےل کے لئے فوراً فلسطےن سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے، جےسا کہ فرمان الہٰی ہے: پھر جب وہ لڑکا ابراہےم کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگےا تو انہوں نے کہا: بےٹے! مےں خواب مےں دےکھتا ہوں کہ تمہےں ذبح کررہا ہوں، اب سوچ کربتاو¿، تمہاری کےا رائے ہے؟ جب باپ نے بےٹے کو بتاےا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہےں ذبح کرنے کا حکم دےا ہے تو فرمانبردار بےٹے اسماعےل علےہ السلام کا جواب تھا : ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دےا جارہا ہے، اسے کرڈالئے۔ ان شاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں مےں پائےں گے۔ (سورة الصافات ۲۰۱)
اور پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے حضرت ابراہےم علےہ السلام نے تارےخ انسانی کا وہ عظےم الشان کارنامہ انجام دےا جس کا مشاہدہ نہ اس سے پہلے کبھی زمےن وآسمان نے کےا، اور نہ اس کے بعد کرےں گے۔ اپنے دل کے ٹکڑے کو منہ کے بل زمےن پر لٹادےا، چھری تےز کی، آنکھو ںپر پٹی باندھی اور اُس وقت تک پوری طاقت سے چھری اپنے بےٹے کے گلے پر چلاتے رہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ےہ صدا نہ آگئی۔ اے ابراہےم! تو نے خواب سچ کر دکھاےا، ہم نےک لوگوں کو اےسا ہی بدلہ دےتے ہےں۔ (سورة الصافات ۵۰۱)۔۔۔ چنانچہ حضرت اسماعےل علےہ السلام کی جگہ جنت سے اےک مےنڈھا بھےج دےا گےا جسے حضرت ابراہےم علےہ السلام نے ذبح کردےا۔ اس واقعہ کے بعد سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جانوروں کی قربانی کرنا خاص عبادت مےں شمار ہوگےا۔ چنانچہ حضور اکرم ﷺ کی امت کے لئے بھی ہر سال قربانی نہ صرف مشروع کی گئی، بلکہ اس کو اسلامی شعار بناےا گےا اور حضرت ابراہےم علےہ السلام کی اتباع مےں حضور اکرم ﷺ کے طرےقہ پر جانوروں کی قربانی کا ےہ سلسلہ کل قےامت تک جاری رہے گاان شاءاللہ ۔
اس عظےم امتحان مےں کامےابی کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہےم علےہ السلام کو حکم دےا کہ دنےا مےں مےری عبادت کے لئے گھر تعمےر کرو۔ چنانچہ باپ بےٹے نے مل کر بےت اللہ شرےف (خانہ کعبہ) کی تعمےر کی، جےساکہ فرمان الہٰی ہے: اور اس وقت کا تصور کرو جب ابراہےم بےت اللہ کی بنےادیں اٹھارہے تھے، اور اسماعےل بھی (ان کے ساتھ شرےک تھے اور دونوں ےہ کہتے جاتے تھے کہ:) اے ہمارے پروردگار! ہم سے (ےہ خدمت) قبول فرمالے۔ (سورة البقرة ۷۲۱)
بےت اللہ کی تعمےر سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دےا کہ لوگوں مےں حج کا اعلان کردو۔ حضرت ابراہےم نے حج کا اعلان کےا،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہےم علےہ السلام کا اعلان نہ صرف اس وقت کے زندہ لوگوں تک پہونچا دےا بلکہ عالم ارواح مےں تمام روحوں نے بھی ےہ آواز سنی، جس شخص کی قسمت مےں بےت اللہ کی زےارت لکھی تھی اس نے اس اعلان کے جواب مےں لبےک کہا۔ فرمان الہٰی ہے: اور لوگوں مےں حج کا اعلان کرو، کہ وہ تمہارے پاس پےدل آئےں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنےوں پر سوار ہوکر آئےں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔ (سورہ الحج ۷۲)دنےا کے کونے کونے سے لاکھوں عازمےن حج ‘ حج کا ترانہ ےعنی لبےک پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچ کرحضور اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے طرےقہ پر حج کی ادائےگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہےم علےہ السلام اور حضرت اسماعےل علےہ السلام کی عظےم قربانےوں کے ساتھ جوڑتے ہےں۔ حج کو اسی لئے عاشقانہ عبادت کہتے ہےں کےونکہ حاجی کے ہر عمل سے وارفتگی اور دےوانگی ٹپکتی ہے۔ حج اس لحاظ سے بڑی نماےاں عبادت ہے کہ ےہ بےک وقت روحانی، مالی اور بدنی تےنوں پہلوو¿ں پر مشتمل ہے، ےہ خصوصےت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہےں ہے۔
ڈاکٹر محمد نجےب قاسمی سنبھلی

Check Also

نور محمدی ﷺ

    نور محمدی ﷺ کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ای میل: ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *