Home / کالم / حقوق ِنسواں تبدیلی کی نظر

حقوق ِنسواں تبدیلی کی نظر

حقوق ِنسواں تبدیلی کی نظر
رانا اسد منہاس
adiminhas562@gmail.com
اسلام سے قبل معاشرے کی حالت کسی سے مخفی نہیں ہے ۔تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ قبل از اسلام پورا کا پورا معاشرہ مختلف سنگین جرائم اور اخلاقی و تمدنی برائیوں کا شکار تھا۔معاشرت اور معاشرتی اصولوں سے لوگ بالکل ناواقف تھے۔مذہب کا نام ونشان نہ تھا، چونکہ اس وقت گزشتہ انبیاءاکرام کی شریعتیں ٹوٹی پھوٹی اشکال میں موجود تھی لیکن ان شریعتوں کے پیر وکار آٹے میں نمک کے برابر تھے ۔
حالات اس قدر گھمبیر تھے کہ تھوڑا بہت مذہب سے واقف لوگ بھی اپنے ایمان کو معاشرے کی گندگیوں سے بچانے کے لیے کہیں دور جنگلوں میں رہائش پذیر اپنی اپنی عبادتوں میں مگن تھے۔
قبل ازاسلام اگر عورت کے مقام و مرتبے اور قدر و قیمت پر نظر دوڑائےں تو ہمیں ےہ معلوم ہو گا کہ اسلام سے قبل عورت ہر قسم کے حقوق سے محروم تھی بلکہ اگر میں ےوں کہوں تو ناانصافی نہیں ہو گی اس وقت کی عورت حقوق نامی لفظ سے بھی ناآشنا تھی۔صنف نازک کا مقام پاﺅں کے جوتے کے برابر سمجھا جاتا اور لوگ اس کوحقیر سمجھتے تھے۔جہالت کا یہ عالم تھا کہ عورت بچہ پیدا ہونے سے قبل جنگل میں چلی جاتی اور وہاں ایک گھڑا کھودتی اگر بیٹا پےدا ہوتا تو اسے سینے سے لگا کر گھر لے آتی اور اگر بیٹی پےدا ہوتی تو ماں اپنے ہاتھوں سے بیٹی کو اس گھڑے میں زندہ درگور کردیتی ،کےوںکہ معاشرہ بیٹی کو قبول نہیں کرتا تھا۔عورت کے وجود کو ناپاک اور شیطانی تصور کیا جاتا تھا۔
قارئےن کرام ظلم کی ےہ داستانیں بہت طویل ہیں، اگر ہم تاریخ کے اوراق کو کھنگالیں تو قبل از اسلام جہالت کے ایسے ایسے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں جن کا صرف تصور کرنے سے ہی سخت سے سخت دل انسان کی آنکھیں بھی بلاختیار چھلک پڑتی ہیں ۔عورت صرف خدمت اور نفس کی خواہشات کی کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی ۔مﺅرخین لکھتے ہیں کہ رومی لوگ عورت کو روح انسانی سے خالی جانتے تھے اور وہ اسے قےامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ساسانی بادشاہوں کے زمانے میں عورت کو محض خرید و فروخت کی شے سمجھا جاتا تھا۔ہندو اور پارسی عورت کو فتنہ و فساد کی جڑ سمجھتے تھے۔چین کے ایک مشہور فلاسفر کونفوشیوس نے لکھا کہ عورت حکم و احکام دینے کے قابل نہیں ہے ،عورت کوگھر میں بند رہنا چاہیے تا کہ لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔
اس پرفتن اور جہالت کی تاریکیوں کے دور کے بعد اسلام کا سورج طلوع ہواجس کی کرنوں سے دور جہالت اختتام پزیر ہوا۔شمس اسلام نے کائنات کے ہر شخص کوتقویت بخشی اور شرک و بدعات کی گندگےوں سے پاک کےا۔اس سورج کی کرنیں جب عورت پر پڑیں تو عورت ذلت کی پستیوں سے نکل کرعزتوں کے اعلی مقام پر فائز ہو گئی۔اسلام نے عورت کو ماں،بہن،بیٹی اورزوجہ کا درجہ دیا۔اگر وہ بیوی ہے تودنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہے،اگر وہ بیٹی ہے تودوزخ کی آگ سے بچانے کا ذریعہ اور آنکھوں کی رعنائی ہے،اور اگر ماں ہے تو اس کے پاﺅں کے نیچے جنت رکھ کر عورت کے مقام کو بام عروج تک پہنچا دےا۔اللہ پاک نے قرآن مقدس میں کئی مقامات پر اپنی نیک بندیوں کا ذکر فرماےا اور سب سے بڑھ کر ایک سورہ مبارکہ کا نام سورہ المرےم رکھ کر عورت کو کتاب مقدسہ کی زینت بنا دےا اور ارشاد فرماےاکہ
”پس تحقیق ہم نے مرےم کو برگزیدہ بنایا اور پاک کےااور ان کو تمام جہانوں کی عورتوں پر فضیلت بخشی۔المرےم ۳۴“
قرآن مقدس کے بعد اگرکتب احادیث کا مطالعہ کریں تورسول اللہ ﷺنے بے بہا مقامات پر عورت کے مقام و مرتبے کو واضح کیا ہے۔ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ رسول اقدس ﷺنے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر فرمایا کہ جس نے اپنی دو بیٹیوں کی پرورش کی وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح میرے ساتھ ہوگا۔ایک اور حدیث مبارکہ میں آتا ہے حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی تمام چیزوں میں مجھے دو چیزیں سب سے زےادہ محبوب ہیں ان میں سے ایک عورت ہے۔
قارئین کرام !اسلام نے جس طرح عورت کو اعلیٰ و ارفع مقام بخشا اور اسے دنیا کی بدترین چیز سے بہترین چیز بنا دیا اسی طرح اس بہترین چیز کی عزت،عظمت اور ناموس کی حفاظت کے لیے کچھ حدیں قائم کیں ۔ہر عورت کو ان حدوں کے حصار میں زندگی بسر کرنے کا حکم دےا کیونکہ ایک چیز بنانے والا ہی بہتر جانتا ہے کہ اسکی حفاظت اور بقاءکس طرح ممکن ہے۔
عربی زبان میں جسم کا وہ حصہ جو چھپانے کے قابل ہو اسے عورت کہا جاتا ہے ۔مثال کے طور پر مردوں میں عورت کا لفظ ناف اور گھٹنے تک کے لیے استعمال ہوتا ہے۔کوئی شخص اپنے جسم کا یہ حصہ شرعی طور پر کسی دوسرے شخص کے سامنے ننگا نہیں کر سکتا۔عربی زبان میں عورت کو المئراتہ کہتے ہیں حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرماےا [المراتہ عورتہ]یعنی عورت سر سے لے کر پاﺅں تک چھپانے کے لائق ہے۔نیز اللہ تعالی نے قرآن مقدس کے مختلف مقامات پر روز مرہ زندگی کی احتیاطوں سے باخبر کیا تا کہ یہ ایک محفوظ اور باوقار زندگی بسر کر سکیں۔ارشاد باری تعالی ہے کہ ا ے نبی ﷺ! مومن عورتوں سے فرما دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زیب و زینت ظاہر نہ کریں۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالی فرماتے ہیں اے نبیﷺ اپنی بیویوں،بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے فرما دیجیے کہ وہ اپنے اوپر چادروں کا کچھ حصہ لٹکا لیا کریں ،اس طریقے سے اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی تو ان کو ستاےا نہیں جائے گا۔چنانچہ عورت بالکل اس موتی کی مانند ہے جسے ڈبیہ میں بند کر کے رکھا جاتا ہے ۔
قارئین کرام !ایٹم بم اس دنیا کی سب سے خطرناک شے ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مفید شے بھی ہے کیونکہ ہم اسے مختلف شعبہ زندگی میں استعمال کر سکتے ہیں مثال کے طور پر ہم اس کی انرجی کو استعمال کر کے مختلف کارخانے چلا سکتے ہیں اور اسکو زرعی ترقی میں استعمال کیا جا سکتاہے لیکن اس کے برعکس اگر اسکا غلط استعمال کیا جائے تو اس سے دنیا بھی تباہ و برباد ہو سکتی ہے جس کی مثالیں موجود ہیں۔ بالکل اسی طرح اگر ہم عورت کو ایٹم بم سے تشبیہ دے کر اس سے استدلال کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ عورت دنیا کی بہترین شے ہے۔ جیسے اوپر احادیث مبارکہ میں بےان ہوا۔چونکہ عورت کسی بھی معاشرے کا اہم جزو ہے۔لہٰذا اگر عورت کو حدوداللہ کے اندر رہ کر کام کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر عورت حدوداللہ کو پامال کر کے اسلام کے حصار سے باہر آجائے تو یہ ایک ایٹم بم کی طرح کسی بھی معاشرے کو تباہ وبرباد بھی کر سکتی ہے ،کیونکہ کہ عورت کو شیطان کا سب سے بڑا جال بھی کہا گیا ہے،اور فرمایا کہ عورت شیطان کا ہتھےار ہے۔
ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں موجودہ دور میں اگر صنف نازک کے مقام ومرتبے اور حقوق نسواں کا بغور جائزہ لیں تو ہمیں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عورت پھر اسی مقام پر پہنچ چکی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔پہلے تو آزادی اور حقوق نسواں کے نام پر عورت کو گھر کی دہلیز پار کرائی گئی بعد میں حوس کے پجارےوں نے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے عورت کو ننگا کر کے بازاری نمائش کے لیے پیش کر دےا۔
آج عورت کو بازار کی زینت بنا دےا گےا ہے اور تشہیر کا اہم ٹول(رول) سمجھا جاتا ہے۔یونیوسٹیز اور کالجز کے اندر مخلوط نظام تعلیم اور فیورٹزم کی لعنت نے عورت کے مقام ومرتبے کو تباہ و برباد کر کے رکھ دےا ہے۔دکھ اس بات کا ہے کہ آج کی عورت ان تمام جرائم میں با خوشی ملوس ہے اور ان تمام کاموں کو فیشن کے نام پر اپنا رہی ہے۔گزشتہ دنوں میں نے فیوٹزم کے اس گندے نظام کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے سوشل میڈیاپر تنزےہ لہجے میں لکھا کہ آج کے سسٹم کے مطابق طلباءکو امتحانات میں اچھے نمبروں میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے محنت کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عورت ہونا بھی ضروری ہے تو مختلف خواتین و حضرات نے اپنے اپنے فہم کے مطابق اس پہ تبصرے کیے اور اکثر نے بجائے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کہ میری مخالفت کی اور گفتگو کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔تنقید کرنے والوں میں بیشتر تعداد خواتین کی تھی جن کو گفتگو بظاہر بری لگی لیکن اس میں کڑوا سچ موجود تھا۔ہمارے وطن عزیز میں اس طرح کے کافی واقعات ہو چکے ہیں جن میں فیورٹزم کے چکر میں نجانے وہ کتنے اساتذہ تھے جنہوں نے اپنی ہی سٹوڈنٹس سے بےاہ رچا لیے۔
میرا مقصد عورتوں پہ تنقید کرنا یا ان کی عزتوں پہ شک کرنا ہرگز نہیں ہے۔اپنی ان باتوں پرمزید راسخ کرنے کے لیے میں حضرت علیؓ شیر خدا کا ایک قول نقل کرنا چاہوں گا ©آپؓ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مجھ پر اعتبار کرو اور مجھے اپنی عورتوں میں آنے کی اجازت دو تو وہ بالکل حرامی ہےؒ اور شیطان کا ایجنٹ ہے ۔
عورت کو آزادی کے نام پر بازار میں نمائش کے لیے پیش کر دینا بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی قصاب گوشت کو کتے کے سامنے لا کر رکھ دے اور پھر یہ امید رکھے کہ کتا اسے نہیں کھائے گا۔ حقوق نسواں کی باتیں کرنے والے نام نہاد لوگ سردیوں کی ٹھٹھرتی ہوئی راتوں میں خود گرم کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں اور ساتھ زنانی ننگی لے کر آتے ہیں۔صاف بات ہے کہ یہ صرف ننگے ہونے کی آزادی ہے ۔آزادی کے نام پر عزتوں کو تار تار کیا جا رہا ہے۔ بیشتر ممالک میں برقعہ پہننے پر بالکل پابندی عائد کر دی گئی ہے اورکچھ شہر اور بستےاں ایسی آباد کر لی گئی ہیں جہاں صرف ننگا ہو کر داخل ہونے کی اجازت ہے۔صرف نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے عورتوں کو ہر شعبہ میں مردوں کے مقابلہ میں ترجیح دی جاتی ہے ۔مجھے ان کمپنیوں کے اشتہارات دیکھ کر تعجب اور حیرانگی ہوتی ہے ،جن پر واضح لکھا ہوتا ہے کہ کنواری لڑکیوں کو ترجیح دی جا ئے گی۔آخر میں تمام ماﺅں،بہنوں اور بیٹیوں سے گزارش کروں گا کہ خدا را اغیار کی سازشوں کو سمجھیں اورآزادی کے نام پر اللہ اور اس کے رسولﷺکے احکام کی دھجیاں نہ اڑھائیں،جونہی وہ دین کے حصار کو توڑ کر باہر نکلیں گی پھرہوس کے پجاریوں کا شکار ہونگی ۔ موجودہ حالات کو دیکھ کر مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ کا عذاب ہم پر مسلط کر دےا جائے۔دور حاضر کی صورتحال دیکھ کر مصور پاکستان علامہ محمد اقبال ؒکا ایک شعریاد آگیاکہ
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

Check Also

2019 South & Southeast Asia Commodity Expo and Investment Fair held in Kunming, China’s Yunnan

2019 South & Southeast Asia Commodity Expo and Investment Fair held in Kunming, China’s Yunnan ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *