Home / کالم / حکومت پاکستان اور شوکت خانم ہسپتال

حکومت پاکستان اور شوکت خانم ہسپتال

 

 

حکومت پاکستان اور شوکت خانم ہسپتال
پاکستانی سپرسٹار کرکٹر عمران خان نے اپنی والدہ شوکت خانم کی یاد میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کیا اور 1991 میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا گیا جبکہ 1994 میںاس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے ہسپتال کا افتتاح کیا۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا اگر میاں نواز شریف کے والد میاں شریف آگے بڑھ کر ہسپتال کے لئے پچاس کروڑ روپے چندہ نہ دیتے اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں نوازشریف ہسپتا ل کےلئے لاہور میں قیمتی اراضی الاٹ نہ کرتے میاں نوازشریف کی ہسپتال کے لئے لگن کی بدولت ہی اس وقت عمران خان نے نوازشریف سے ہسپتال کا افتتاح کروایا اور افتتاح کی تختی طویل مدت تک ہسپتال میں نصب رہی جو بعد ازاں سیاست کی وجہ سے ہٹا دی گئی۔
عمران خان نے ہسپتال کےلئے ملک گیر اور عالمگیر چندہ مہم کا آغاز کیا اور پاکستان کے چھوٹے سے چھوٹے قصبے سے لیکر دنیا بھر کے ممالک تک جا کر لوگوں سے چندہ مانگتے، سکول کے بچوں سے دس دس روپے چندہ سے لیکر امریکہ اور بر طانیہ میں شوکت خانم کےلئے لاکھوں پاﺅنڈز اور ڈالرز جمع کرنے کےلئے عمران خان خود جاتے تھے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران خان نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ جہاز میں سفر کر رہے تھے کہ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی خاتون نے ایک ہزار روپے کا نوٹ آگے بڑھایا تاکہ عمران خان کا آٹوگراف اس پر لے سکے مگر خان صاحب نے وہ نوٹ جھپٹ کر پکڑا اور جیب میں ڈال لیا۔ بلاشبہ شوکت خانم ہسپتال کے لئے عمران خان نے دن رات ایک کیا اور پاکستان میں کینسرجیسے موذی مرض کےلئے ایک بہترین ہسپتال فراہم کر کے پاکستانی عوام کی خدمت کی
شوکت خانم کے نئے فیز کا اعلان، چندہ مہم کا آغاز، پاکستان تحریک انصاف کا قیام چندہ مہم کا آغاز، لاہور سونامی جلسہ کا اعلان چندہ مہم کا آغاز، آزادی مارچ 2014 اور چندہ مہم کا آغاز، اسلام آباد لاک ڈاﺅن کا اعلان اور چندہ مہم کا آغاز۔ انکے اس طرز عمل کے بعد بغیر کسی شک و شبہے کے امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر حکومت پاکستان انکے ہاتھ لگ گئی تو وہ ملک چلانے کےلئے بھی بنیادی فارمولہ یہی اپنائیں گے کہ چندہ مانگا جائے اور زیادہ سے زیادہ مانگا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے انتخابات جیتنے کے فوری بعد جب وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تو قوم سے اپنے پہلے خطاب میں دیامیربھاشا ڈیم کےلئے قائم چیف جسٹس فنڈ کو اپناتے ہوئے وزیراعظم اور چیف جسٹس فنڈ برائے دیامیربھاشا ڈیم کا نام دیا اور چندہ کی اپیل کر دی۔
عمران خان نے آتے ہی حسب سابق پاکستان کی تمام سابق حکومتوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور اپوزیشن بن کر اپوزیشن پارٹیوں پر ملک لوٹنے کا الزام لگاتے ہوئے قوم کو بتایا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا، اکانومی تباہ ہو چکی ہے، ملک ڈوب رہا ہے، انکی اس پالیسی کو اپناتے ہوئے تمام وزراءنے بھی ملک کے ہر ٹی وی چینل پر بیٹھ کر یہی رونا رویا کہ ملک واقعی تباہ ہو چکا ہے قرضے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا، پاکستان کی معیشت مکمل تباہ ہو چکی ہے، لوٹی ہوئی دولت واپس لائے بغیر ملک نہیں چلایا جا سکتا جس کا اثر یہ ہوا کہ سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ سمیٹنا شروع کو دیا پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج بیٹھ گئی، ڈالر نے اڑان بھری اورایک سو پینتیس روپے پر پہنچ گیا۔ وزیرخزانہ نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا اعلان کیا اور آئی ایم ایف نے صورتحال کے پیش نظر کڑی شرائط سامنے رکھ دیں جن پر عملدرآمد کرنا تحریک انصاف کو ختم کر دینے کے مترادف تھا لہذا عمران خان نے اپنا آزمودہ نسخہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور قومی معیشت کو مستحکم کرنے کےلئے جو سب سے بڑی اہم ترین پالیسی اختیار کی گئی وہ تھی ”چندہ مانگو“۔ عمران خان نے سعودی
عرب سے امداد کی اپیل کی اور سعودی حکومت سے پاکستان میں اربوں ڈالر رکھنے کی تجویز دی جسے سعودی حکومت نے پہلے پہل خاطر میں نہیں رکھا تاہم بعد ازاں اپنی شرائط جو یقینا کبھی نہیں بتائی جائیں گی منوانے کے بعد پاکستان کو ایک سال کے لئے تیل ادھار دینے کے علاوہ تین ارب ڈالر پاکستان کے بنک میں رکھنے کی منظوری دی پاکستان یہ پیسے بغیر خرچ کئے ایک سال بعد واپس کرے گا۔ ناقابل استعمال چندہ ملنے سے قومی معیشت کو تھوڑی سی بریک لگی تو خان صاحب نے دورہ چین کا بھی اعلان کر دیا تاکہ روایتی دوست چین سے بھی ”چندہ©©“ مانگا جا سکے۔ عمران خان چین پہنچے اور چین سے سعودی فارمولہ کی طرز پر ڈیڑھ ارب ڈالر پاکستانی بنک میں رکھنے اور دیگر معاملات پر گفتگو کی۔ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند ہے اور اسکا اظہار دونوں اطراف سے ستر سال سے ہوتا آرہا ہے مگر حقیقت میں چین ہماری طرح جذباتی خارجہ پالیسیاں نہیں بناتا بلکہ اسکے تعلقات چینی مفادات کو مدنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں اور چینی سفارتکاری میں پاک چین دوستی باہمی مفادات پر مشتمل بتائی جاتی ہے لہذا چینی حکام نے پاکستان کی چندہ اپیل سے متاثر ہوئے بغیر سی پیک پر ہی کام کو تیزی سے مکمل کرنے کی حامی بھری ہے۔ عمران خان نے چین کے شہر شنگھائی میں چار سو سے زائد چینی کاروباری کمپنیوں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ عروج پر ہے، پاکستان کی معیشت غیرمستحکم ہو چکی، وائٹ کالر کرائم عروج پر ہیں، ہم چین سے سیکھیں گے کہ انہوں نے کرپشن اور وائٹ کالر کرائمز پر کیسے قابو پایا ہے، پاکستانی معیشت کی زبوں حالی اور لوٹ مار کا رونا رونے کے بعد انہوں نے چینی کمپنیوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی ہے ۔ اب ظاہر ہے چینی کمپنیاں پاکستانیوں کی طرح جذباتی نہیں کاروباری کمپنیاں ہیں لہذا اس تقریر کے بعد وہ سرمایہ کاری کرنے سے پہلے سوچیں گی کہ آیا انکا سرمایہ محفوظ بھی رہے گا یا نہیں؟۔

عمران خان کی ملک چلانے کےلئے چندہ مہم اسی زور و شور سے جاری رہی تو امکان ہے پاکستان کو عالمی برادری سے چندوں اور امداد کی مد میں آٹھ دس ارب ڈالر مل جائیں اور اس پر مزید آئی ایم ایف، ورلڈ بنک ، ایشین ڈویلپمنٹ بنک، اسلامک ڈویلپمنٹ بنک وغیرہ سے پانچ سات ارب ڈالر قرضہ بھی مل جائے جس کے بعد حکومت پاکستان ملک کو بہتر انداز میں چلانے کی پالیسیاں بھی بنانے میں کامیاب ہو جائے جبکہ دوسری جانب خدشہ بھی ہے کہ چندہ مہم کی کامیابی تک پاکستان کی معیشت چندے سے دو گنا زیادہ نقصان کر چکی ہوگی کیونکہ ملک چندوں سے نہیں سازگار ماحول فراہم کرنے سے چلتے ہیں۔ اسی ملک میں جب طول و عرض میں دہشت گردی، اندھیرے پھیلے تھے، زرمبادلہ کے ذخائر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھے اور عالمی جریدے اور تجزیہ نگار 2018 کو پاکستان ختم ہونے کا سال قرار دے رہے تھے نواز شریف نے چین کو پاکستان میں 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر نہ صرف تیار کر لیا تھا بلکہ سی پیک کی صورت اس پر تیزی سے کام بھی جاری تھا، سعودی عرب سے عمران خان جتنی ناقابل استعمال امداد لیکر آئے ہیں اتنے نوازشریف کو وزیراعظم بننے پر سعودی عرب نے تحفے میں دے دیئے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ نوازشریف پاکستان میں سرمایہ کاری پالیسی اپنائے ہوئے تھے اور عمران خان ”روتے رہو اور چندہ مانگو“ پالیسی پر گامزن ہیں

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *