Home / کالم / حکومت کسانوںکی مددکرے ورنہ

حکومت کسانوںکی مددکرے ورنہ

 

حکومت کسانوںکی مددکرے ورنہ
تحریر:علی جان(جوہرٹاﺅن لاہور) ای میل

:aj119922@gmail.com
زراعت کونئے تقاضوں کے متعلق لے کے جانا چاہیے کیونکہ زراعت کا شعبہ ترقی کرے گا توملک ترقی کرے گاحکومت کوبھی چاہیے کسانوں کی عارضی امداد کے بجائے انہیں جدیدتقاضوں سے روشناس کرایا جائے اللہ پاک نے ہمارے پیارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیںرکھی جس میں ٹھاٹھیں مارتا سمندر،معدنیات سے مالا مال فلک بوس پہاڑ،بہترین نہری نظام،جفاکش کاشتکاراورچاروں موسم عطیہ خداوندی ہے زراعت کے شعبہ کو مضبوط کرنے کیلئے چھوٹے کسانوں کو مالکانہ حقوق دینے ہوں گے اورملک کومعاشی طورپرمضبوط بنانے کیلئے کمزورطبقہ کو حقوق دے کرزمین سمیت قدرتی وسائل پرحصہ داربنانا ہوگایہ توحقیقت ہے کہ نچلے حصہ کی غربت کرنے کازرعی اشیائ،اجناس اور مصنوعات سے براہ راست تعلق ہے مگرایک لمحہ فکریہ ہے کہ چھوٹے کسانوں سے انکی زمینیں ہتھیانے کی تعدادمیں مسلس اضافہ ہورہا ہے فارم ہاﺅسز کے شوقین دولت مندحضرات ان کسانوں سے ان کی زمینیں اونے پونے داموں میں خریدکرانہیں ان کی زمینوں سے محروم کررہے ہیں چھوٹے طبقے کے کسانوں کی زمینیں یہ رہائشی سکیمیں بھی لے کرزراعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اس سے قبل بہت دیرہوجائے اس کوسمجھنے اورپالیسیوں کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زراعت کو بربادہونے سے بچایا جاسکے ۔کسانوں کی مالی مدد کی جائے ورنہ زراعت کو دونمبرزرعی ادویات،کھادسپرے بیچنے والے نام نہاد سماج ہمدرد ریڑھ کی ہڈی کاکچومرکررہے ہیں حکومت کوچاہیے کاشتکاروں کوسبسڈی ،اورکھاد ،بیج ،ڈیزل وغیرہ رعائتی قیمتوں پردیں جیسے کاشتکاروں کیلئے یہ چیزیں ضروری ہیں۔اگر2015سے 2019تک کی بات کریں توپتہ چلاکہ2015میں گنے ریٹ 180اور2019میں بھی 180ہی ہے مگرحکومت کے نئے اعلان کے مطابق 20روپے فی من اضاہ کے ساتھ گنا200روپے فی من قیمت مقررکی گئی ہے جو کہ کسان کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ ان پانچ سال میں چینی45روپے سے75روپے،شیرہ کاریٹ5500سے 15000مڈھ کاریٹ 1200دے 3000بگاس کاریٹ1800سے 3100ہوگیاہے جوحکومت کے ساتھ عام عوام کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ کسان کی کمرتوڑی جارہی ہے تحریک انصاف کوچاہیے کسان کے ساتھ نہ صرف انصاف کرے بلکہ گزشتہ 5برس کی گئی زیادتیوں کاازالہ بھی کرے اورگنے کی قیمت 300روپے فی من مقررکرکے کسان کوبچائیں تاکہ کاشتکاربحران سے نکل سکیں اورہماراملک ترقی کرسکے ۔ ہمارے ملک میں آج بھی70فیصدلوگ زراعت سے مردعورت،بچے بڑھے مشتمل ہیں ملکی معشیت میں اس طبقے کا بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ضرورہوتا ہے ہماراملک آج بھی معاشی بدحالی اور کئی قرضوں میں مبتلا ہے کئی دہائیوں سے ہماری حکومتیں کسانوں کی بہتری کیلئے اصلاحات کے زبانی دعوے کرتے آئے ہیں مگرآج تک ان باتوں کو تکمیل تک نہیں پہنچایاالیکشن قریب آتے ہیں کبھی کسانوں کوسبسڈی دے دی جاتی ہے توکبھی انہیں قرضے دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کے ووٹ حاصل کرکے الیکشن جیت سکیں مگراپنی جیت کے بعد اس شعبہ کو بالکل ہی نظراندازکردیتے ہیں زرعی پیداواربڑھانے کیلئے ہمیں نئی پالیسیوں کی ضرورت ہے اورپرانی پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے اگرہم پیدوارترقی کے اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں نچلی سطح پرچھوٹے کسانوں کومالکانہ حقوق دینے کی ضرورت ہے۔ایک سوال ہے جو میرے ذہن میں آتا ہے اوریقیناًہرباشعورانسان کے دماغ میں یہ سوال آتا ہوگاکہ پاکستان ایشیاءکے دیگرممالک سے زراعت کے شعبہ میں اتنا پیچھے کیوں ہے؟؟ میرے ذہن میں توآتا ہے کہ اس کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں جنہوں نے زراعت کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا ہوا ہے ،بغیرٹیسٹ کے کاشتکاری کرنا،ساراسال نہری پانی نہ ملناجس کی وجہ سے فصل نہ توطاقت ورہوتی ہے اور نہ ہی پیداواراچھی ہوتی ہے اسکے علاوہ زرعی ماہرین کا مکمل طورپرتوجہ نہ دینااس کے علاوہ ہمارے کاشتکار ناخواندہ ہیں اور جو تھوڑے بہت پڑھے لکھے ہیں انہیں قرضوں نے برباد کیا ہواہے ان پڑھ ہونے کی وجہ سے اسے زمین مٹی کے ٹیسٹ کرانے کے فوائد کا نہیں پتہ اسی وجہ سے لاکھوں روپے بنک سے قرض لے کراپنے بیٹے بیٹی کی شادی کرتا ہے مگر20روپے خرچ کرکے مٹی کاٹیسٹ کروانا گوارانہیں کرتااگرہمارے کسان کو نقصان اورفوائد کا پتہ چل جائے تو کسان خوشحال ہوجائے مگربات توصرف لاعلمی کی ہے اب ہمارے کسان کونامیاتی مادہ کا نہیں پتا اور یہ بھی نہیں پتا نامیاتی مادہ کتنا ہونا چاہیے زیادہ کس وجہ سے ہوپوداخوراک کس وجہ سے لیتا ہے ہماراکسان جانتا تک نہیں کہہ DAPکس زمین کی ضرورت ہے اورنہ ہی وہ جانتا ہے کہ میرے علاقے کے فیلڈاسسٹنٹ کے کیا فرائض ہیں یہ صرف اسی وجہ سے نہیں ہوتا کیونکہ میرے ملک کازمیندارپڑھا لکھا نہیں اسی وجہ سے اکثرکسانوں کے بیٹے بھی پڑھے لکھے نہیں ہوتے کیونکہ ان کی سوچ ہوتی ہے ویسے بھی اس نے اپنی زمینیں سنبھالنی ہیں مگرانکو کون سمجھائے پڑھائی سے انسان اور جانور میں فرق محسوس ہوتا ہے اور کسان کو اپنے مسائل اور وسائل کا درست پتاچلتا ہے جس کا حل پڑھالکھا زمیندارآسانی سے نکال سکتا ہے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارے کسانوں کو یہ تک نہیں پتا کہ کوئی فصل کاٹنے کے بعدمثلاً گندم ،کماد وغیرہ کاٹنے کے بعدآگ لگادیتے ہیں جس کی وجہ سے زمین کی جلد مسام جل جاتے ہیں جن کےساتھ دوست کیڑے بھی مرجاتے ہیں اور اس کا ازالہ اگلی فصل کوبھگتنا پڑتا ہے اسی وجہ سے چاہیے ہمارے پڑھے لکھے کسان ان پڑھ کسانوں کو زراعت کے متعلق بتائیں تاکہ زراعت کے شعبے میں ترقی ہوکیونکہ حکومت نے اس شعبہ کی طرف دیکھنا تک نہیں۔ غریب لوگ زراعت اور زرعی صنعت سے وابستہ ہونے کی وجہ سے سرسبز فصلوں سے محتاج ہورہے ہیں جن کی وجہ سے صنعتی شعبہ میں ٹیکسٹائل ملزاوردیگرپیداورای ملیں چلتی ہیں اوران میں کام کرنے والے مزدوروں کی زندگی کا پہیہ رواں دواں ہے۔اگرکاشتکارگنے کے ریٹ پرکپاس کے قیمتوں پراحتجاج کریں توبھی کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں کپڑے کی صنعت کے فروغ اور ہماری برآمدات کا انحصاربھی اسی زراعت کے مرہون منت ہے کس قدرتکلیف کی بات ہے کہ 70سال سے کوششوں کے باوجود ہم ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں ہوئے حالانکہ ہمارے پاس محنت کش افرادی قوت اوروسیع زراعی رقبہ موجود ہے ہم وزیراعظم عمران خان سے امیدکرتے ہیں کہ زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کریں گے اورکسانوں کے مسائل حل کریں گے ۔آخرمیں صرف اتنی التماس کروں گاکہ ضلع مظفرگڑھ میں بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے فضلیں کو آفت زدہ قراردے کر کسانوں کی مالی مدد کی جائے ورنہ زراعت جسے ریڑھ کی ہڈی کہاجاتاہے اسے دونمبرزرعی ادویات،کھادسپرے بیچنے والے حرام خوراس ریڑھ کی ہڈی کوتوڑرہے ہیں حکومت کوچاہیے کاشتکاروں کوسبسڈی ،اورکھادسپرے ،بیج ،ڈیزل وغیرہ رعائتی قیمتوں پردیں جیسے کاشتکاروں کیلئے یہ چیزیں ضروری ہیں اس کے علاوہ بجلی بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے انڈسٹری بحران کاشکار ہے جس طرح میرے ملک کانہری نظام ، کپاس ،گندم،چاول دنیامیں مشہورہیںاگراچھی سٹریٹیجی نہ اپنائی گئی توہماراملک مزیدغربت کی دلدل میں ددھنستاجائے گا

Check Also

پیڈوفیلیا کے مضمرات!

  اٹکل ۔ پیڈوفیلیا کے مضمرات! تحریر:۔ ملک شفقت اللہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *