تازہ ترین خبریں
Home / کالم / خدارا”دو نہیں ایک پاکستان “کے نعرے کی پاسداری کریں

خدارا”دو نہیں ایک پاکستان “کے نعرے کی پاسداری کریں

 

 


تحریر :کرامت مسیح
رنجیت سنگھ اورامیت سنگھ جگری یار تھے اک لمحے کے لیے بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے تھے دکھ میں سکھ میں بھی کبھی نہ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑتے رنجیت سنگھ گاﺅں کی اک لڑکی جس کا نام سنتو تھا اس کو بہت پسند کرتا تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا اور یہ بات صرف امیت سنگھ کو پتہ تھی یہاں تک کے خود سنتو کو بھی نہیں علم تھا کہ رنجیت سنگھ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے ایک دن ایسا ہوا کہ رنجیت سنگھ کھیتوں میں کام کر رہا تھا تو امیت سنگھ پھولی ہوئی سانس کے ساتھ انتہائی گھبراہٹ کی حالت میں اس کے پاس آکر کہنے لگاکہ رنجیت سنگھ ُتو برباد ہو گیاجس پر رنجیت سنگھ نے پریشانی کے عالم میں پوچھا ہوا کیا ہے؟تب امیت سنگھ نے بتایاکہ سنتو کسی اور مرد کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہے جس پر رنجیت سنگھ نے زورسے قہقہہ لگایا اور کافی دیر تک مسکراتا رہا امیت سنگھ کو شک ہونے لگا کہ رنجیت سنگھ صدمے کی وجہ سے پاگل ہو گیا ہے جبکہ رنجیت سنگھ نے جواب دیاکہ میں نہیں مانتا کہ سنتو گھر سے بھاگ گئی ہے امیت سنگھ کو حیرت ہو ئی اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ وہ سچ میں بھا گ گئی ہے مگر رنجیت سنگھ کا وہی جواب تھا تب امیت سنگھ نے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تو میرے قسم کھانے پر بھی یقین نہیں کر رہا جس پر رنجیت سنگھ نے تسلی سے کہا کہ میں تو اس دن یقین کروں گا جس دن سنتو میرے سا تھ بھاگے گی۔
پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے اور عمران خان صاحب کوپاکستان کا 22 وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں پاکستان کی 71سالہ تاریخ میں یہ پہلا الیکشن ہے جس میں دو جماعتی نظام کو مات ہوئی اور تیسری جماعت برسراقتدار آئی اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی عوام میںسیاسی شعور بیدار ہو گیا ہے اور عوام اب سب سے بڑھ کر یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کی پسماندگی ختم ہواس لیے پاکستان کی عوام نے اس بار ©” پاکستان تحریک انصاف”کو مینڈیٹ دیاہے کہ وہ پاکستا ن کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے “دو نہیں ایک پاکستان، نیا پاکستان اور تبدیلی”کے نعرے کی صد ابلند کی اور اس نعرے کی ہر مذہب،ہر فرقے نے پاسداری کی کیونکہ دوران الیکشن پی ٹی آئی نے بارہا مرتبہ یہ کہا کہ ہم قائد اور اقبال کا پاکستان بنائیں گے جس میں تمام پاکستانیوں کو برابرکہ حقوق میسرآئیں گے اور بلا امتیاز سب کو ترقی ،خوشحالی اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم ہونگے اس لیے ہر مذہب اور فرقے نے بڑھ چڑھ کر پی ٹی آئی کی کامیابی کے لیے اپنا حصہ ڈالا اب جب وفاق اور دو صوبوں میں مکمل طور پر اور بلوچستان میں کولیبریشن کے ساتھ پی ٹی آئی کی حکومت بن چکی ہے وزیراعظم عمران خان صاحب نے اقتدار میں آتے ہی حکومتی اخراجات کو کم کرنے اور تمام گورنر ہاﺅسز اور سی ایم ہاﺅسز اوراسی طرح پرائم منسٹر ہاﺅس اور پریزیڈنٹ ہا ﺅس کو عام عوام کی فلاح کے لیے استعمال میںلانے کا جو اعلان کیا ہے وہ واقعی قابل ستائش ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اعلان پر کب تک عمل درآمد ہو گا مگر میں یہاں پر اس بات کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بیان کرنا چاہوں گا کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے جو بات کی تھی کہ ” قائد کا پاکستان بنائیںگے،دو نہیں ایک پاکستان “اس کی نفی اپنی پہلی چال پے ہی کر دی جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اپنی 21رکنی کابینہ میں کسی ایک بھی اقلیتی ممبر کو شامل نہیں کیا اور یہ بات پاکستان کی اقلیتوں کے لیے تشویشناک ہے جبکہ پی ٹی آئی کو تقریباََ 10 سیٹیں اقلیتی ممبرز کی قومی اسمبلی میں ملی ہیںاگر ماضی میں نظر دوڑائیں تو جب قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی کابینہ تشکیل دی تو اس میں اقلیتی ممبرکو اہم وزارت دی ، میری ذاتی رائے ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اپنے نعرے کی پاسداری نہیں کی اور خود ہی سب سے پہلے دو نہیں ایک پاکستان والے نعرے کی مخالفت کردی ہے حالانکہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کو اس منصب تک پہچانے میں اقلیتوں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے مگر افسوس کی با ت یہ کہ آپ نے نئے پاکستان میں اقلیتوں کو فراموش کر کے ایک بار پھر پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے جذبات مجرو ح کر دیے ہیں کیونکہ محمدعلی جناح کے بعد اقلیتوں نے آپ سے قوی امید وابستہ کی تھی کہ آپ ان کی محرومیوں کو ختم کریں گے مگر آپ نے یہ قدم اٹھا کر تما م ریکارڑ توڑ دیے ہیں حالانکہ جتنی بھی حکومتیں آپ سے پہلے پاکستان میں آئیں ان تمام نے اپنی کابینہ میں اقلیتوں کو شامل کیا یہی وجہ ہے کہ آ ج بھی رنجیت سنگھ کی طر ح اقلیتں کیسے یقین کریں کہ ان کو برابر کے حقوق میسر ہیں اور کیسے مان لیں کہ ہر میدان میں ان کو نظر انداز نہیں کیا جاتا میں اپنے قارئین کے گوش گزار کرتا جاﺅں کہ پاکستان کے لیے تما م اقلیتوں نے ہر طرح کی قربانی دی ہے اور یہ ملک بھی ایک اقلیتی ووٹ کی صورت میں معرض وجود میں آیا اس کا ثبوت پاکستان کے پرچم میں سفید رنگ ہے اور اس ملک کے دفاع،سلامتی ،ترقی اور خوشحالی میں تمام اقلیتوں نے ماضی سے لیکر آج تک دل وجان سے اپنا کردار ادا کیا اور با فضل خدا رہتی دنیا تک پاکستان کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہیں گی آخر میں میر ی وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب سے التماس ہے حقیقت میں دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے کی پاسداری کریںکیونکہ رنجیت سنگھ کی طرح اس نعرے پر بھروسہ اقلیتیں اس دن کریں گی جس دن ہر ایک بات میں آپ ان کو اہمیت دیںگے۔

Check Also

کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “

      ”کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “ یہ بہادر بیٹی کیوں رو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *