Home / کالم / خدارا جاگو!! آخری قسط

خدارا جاگو!! آخری قسط

خدارا جاگو!! آخری قسط

تحریر:۔ ملک شفقت اللہ

شخصی آمریت ہمیشہ موروثی سیاست کی جانب لے جاتی ہے ۔ایوب خان کی مثال ہمارے سامنے ہے گوہر ایوب نے خوب پر پرزے نکالے بس زیادہ وقت نہیں مل سکا اسے لیکن پیپلز پارٹی صرف بھٹو کی ذات بھٹو کا نام رہا ہے بڑے سے بڑا لیڈر دو نمبر ہی رہے گا اس پارٹی کا سربراہ کبھی نہیں بن پایا جیسے ذوالفقار بھٹو کے بعد اس کی دختر بے نظیر بھٹو سربراہ رہیں کیونکہ ان کے دونوں بھائی بھی سائیڈ لائن کر دئیے گئے تھے اور ان کے بعد ان کے بیٹے جو قانوناََ اور شرعاََ تو زرداری ہیں لیکن نام کے ساتھ بھٹو ضرور لکھواتے ہیں۔ اسی طرح نواز شریف جو اب تک رہا ہے اور ان کے حالیہ دور حکومت میں مریم نواز نے بھی پر پرزے تو خوب نکالے ہیں لیکن پاناما کی وجہ سے آگے نہیں آ پائیں اس کے با وجود کلثوم نواز کو وزارتِ عظمیٰ کا موقع دیا جا رہا ہے جبکہ ن لیگ میں بڑے منجھے ہوئے سیاستدان ہیں لیکن موروثیت جاری ہے پاکستان میں جس سیاسی جماعت کو بھی مقبولیت ملی وہ صرف ایک خاندانی جماعت بن کر ہی رہی یوں لگتا ہے کہ سو سال تک اور پاکستان اس موروثی سیاست سے نجات حاصل نہیں کر پائے گا اور اس کے نتیجے میں اقربا ء پروری ،مصاحب نوازی ، خوشامد، سفارش ،رشوت۔۔۔۔ آج جس سطح پر ہے نہ تو اس کا تصور ہم آج کر سکتے ہیں اور نہ ہی آئندہ دنوں میں کر پائیں گیاور اس کو میری نظر میں فوج کے علاوہ کوئی نہیں روک پائے گا صرف اللہ ہی سب کچھ جانتا ہے لیکن حالاتِ حاضرہ کو دیکھتے ہوئے اپنے شعور کی روشنی میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جس طرح پہلے فوج نے بارہا مداخلت کی اسی طرح آگے بھی کرنی پڑے گی ہر نام نہاد جمہوری حکومت کا خاتمہ پہلے بھی فوج کے ہاتھوں ہوا اب بھی اسی کے ہاتھوں ہو گا لیکن اس میں بہتری اب تک تو صرف ظاہری طور پر ہوئی لیکن خرابیاں اس سے زیادہ بڑی ہوں گی اور پھیلیں گی ۔اس بارے میں ایوب خان کی مثال تو بڑی حوصلہ افزاء ہے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ ایوب خان ا س قوم کے محسن ثابت ہوئے انہوں نے ملک کو ہر طرح سے مستحکم کیا خاص طور پر معاشی اعتبار سے لیکن بعد میں آنے والوں میں صرف پرویز مشرف ہی ان جیسے ثابت ہونے لگے ۔وائے نصیب کہ بعد میں پرویز مشرف بھی ان خوشامدیوں کے ہتھے چڑھ گئے جو ملک کو تباہ کرنے والے ہیں ۔جن امکانات کا میں نے ذکر کیا ان کی بات کرتا چلوں کہ ایسے بے شمار امکانات ہیں ۔ فوج کا اقتدار زیادہ مستحکم ہوتا ہے اور وہ بھی اپنے اقتداروں میں کرپشن میں ملوث رہی جس کی وجہ سے فوج کا ڈسپلن بھی آزمائش میں پڑا قوم فوج سے محبت کرتی ہے اور یہی اس کی طاقت کا سرچشمہ اور اس کے گرد حفاظتی حصار ہے ان معاملات کی وجہ سے زیادہ نہیں لیکن کہیں مبالغہ آرائی بھی ہوئی اور یہ سب قومی نقصان تھے اور فوج کے بار بار نام نہاد جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنے کی وجہ سے بہت برا تاثر بہر حال قائم ہوا ہے افواج کی طاقت اسلحے کے زور پر ہے جس سے سیاست دان محروم ہے پھر سیاسی قوتیں بھی بالآخر اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہیں کہ فوج کی حمایت کے بغیر حکومت نہیں کی جا سکتی۔اور اگر جمہوری حکومتیں فوج کی بالادستی قبول کریں گی تو ان کے تمام جائز و ناجائز مطالبے بھی پورا کریں گی اور یہ بہت بری صورتحال ہے ۔یہاں ہمیشہ یاد رکھنے کی یہ بات ہے کہ کہ سیاسی عدم استحکام ہی معاشی عدم استحکام کی طرف لے جاتا ہے پھر پاکستان اپنے محل وقوع کے لحاظ سے ہمیشہ سے ہی عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور رہے گا۔جو یہاں اپنا اثرو نفوذ بڑھانے کی کو شش کریں گے اور عدم استحکام ان کیلئے فائدہ مند ثابت ہوااللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور اسے امان میں رکھے اور ان شا ء اللہ ایسا ہی ہوگا ۔لیاقت علی خان کے شہید کے آخری الفاظ یہی تھے ۔ان شا ء اللہ ۔۔۔ بدترین صورتِ حال میں بھی اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے گا ،یہ ملک بنا ہی اللہ کی رحمت سے ہے۔اسلام کی اور پاکستان کی محبت ایک چراغ ہے اور ہمیں چراغ سے چراغ کو جلانا ہے تاکہ مستقبل میں چراغاں ہو پاکستان کی قدرو اہمیت وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہیں علم ہے کہ ملک کو حاصل کرنے کیلئے کتنی قربانیاں دی گئیں کتابوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ تو حکمرانوں کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی لیکن پاکستان کی بقاء و ترقی کیلئے ضروری ہے کہ ہماری نسل پاکستان کے نظریے اور تاریخ سے واقف ہو یہ نہ ہوا تو شیرازہ بکھر جائے گا ۔آمریت کے ادوار میں ایوب خان ،ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی آمریت پر شدید تنقید کی جاتی ہے لیکن میرے خیال میں عام آدمی انہی ادوار میں خوشحال رہا ہے جنہیں بعد میں سیاستدانوں اور مفاد پرست لوگوں نے ورغلا کر آمریت کو ایک گالی کا درجہ دیا ۔ایوب خان کا دور عام آدمی کا دور کہلاتا ہے ضیا ء الحق کے دور میں گیارہ سالوں میں گیارہ روپے فی من آٹے کی قیمت بڑھی۔مشرف کے دور میں لوگوں کو میرٹ پر نوکریاں ملیں اور میرٹ کی بنیاد اُسی نے ڈالی ۔ضیاء الحق کی گود سے ہی نواز شریف نے جنم لیاآمریت کی انگلی پکڑ کر چلنے والے آج جمہوریت کا درس دیتے کچھ اچھے نہیں لگتے ۔میری رائے میں پاکستان پر ایک ٹیکنو کریٹک حکومت نافذ کر دینی چاہئے اور اقتدار محب وطن اور اسلام سے محب کرنے والے شخص کے ہاتھ سونپنا چاہئے یہ اقتدار کم سے کم پندرہ سال طویل ہو ،جو قابل اور اہل لوگوں کو اوپر لے آئیں اور ملک کو ایک دفعہ پھر سے استحکام کی جانب گامزن کیا جائے۔ سب جان لیں کہ پاکستان نہ ہوتا تو ہم ہندوؤں کے غلام ہوتے اور خدا نخواستہ یہ ملک نا رہا تو ہم ہندوؤں کی غلامی کریں گے اور غلامی سے نجات برسوں میں نہیں صدیوں میں ملتی ہے ابھی بھی ہم مختلف روپ میں غلامی ہی کر رہے ہیں کیونکہ زمین پر قبضہ غلامی کا ثبوت نہیں ہوتا بلکہ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے جو ہمارے درمیان مختلف صورتوں میں موجود ہے جسے میں اور ہم سب دیکھ تو رہے ہیں لیکن یہ طوق اپنے گلے سے نکال کر پھینک دینے سے قاصر ہیں

Check Also

خوراک کا عالمی دن اوراقوام متحدہ کی رپورٹ

  خوراک کا عالمی دن اوراقوام متحدہ کی رپورٹ تحریر میاں نصیراحمد خوراک کا عالمی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *