Home / کالم / دھوپ چھاو¿ں الیاس محمد حسین

دھوپ چھاو¿ں الیاس محمد حسین

 

دھوپ چھاو¿ں الیاس محمد حسین
جب سازش بے نقاب ہوئی
سلطان نور الدینؒ زنگی اسلامی تاریخ کے انتہائی بہادر،زیرک اور جنگی مہارت رکھنے والے حکمران تھے انہوںنے سب سے بڑے مسیحی اتحاد کے چھکے چھڑا دئےے ان کے مقابلہ میں دنیابھر کے عیسائی اکھٹے ہوگئے تھے لیکن سلطان نے انہیں شکست پہ شکست دے کر حال سے بے حال کردیا کہا جاتاہے کہ عیسائی مائیں سلطان نور الدینؒ زنگی کا نام لے کر اپنے بچوںکو ڈرایا کرتی تھےں کہ چپ ہوجاﺅ ورنہ زنگی آجائے گا ۔سلطان نور اؒلدین زنگی کو ایک انتہائی منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ ا نہیں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی سعادت حاصل ہوئی یہ واقعہ تاریخ کی تقریباً تمام کتب میں موجود ہے۔ اس کا ذکر شیخ محمد عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمہ نے بھی اپنی کتاب “تاریخ مدینہ” میں تین بڑی سازشوں کے ساتھ کیا ہے جس میں سے یہ واقعہ سب سے مشہور ہے۔
سمہودی کے قول کے مطابق مسیحیوں نے یہ سازش 557 ھ میں مرتب کی۔ اس وقت شام کے بادشاہ کا نام سلطان نورؒ الدین زنگی تھا اور اس کے مشیر کا نام جمال الدین اصفہانی تھا۔ ایک رات نمازِ تہجّد کے بعد سلطان نورؒ الدین زنگی نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو سرخی مائل رنگت کے آدمیوں کی طرف اشارہ کرکے سلطان سے کہہ رہے ہیں کہ “مجھے ان کے شر سے بچاو¿۔” سلطان ہڑبڑا کر اٹھا۔ وضو کیا’ نفل ادا کئے اور پھر اس کی آنکھ لگ گئی۔ خواب دیکھنے کے بعد آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ اس کا اب کسی سے ذکر نہ کریں اور فوراً مدینہ روانہ ہوجائیں۔ ” اگلے روز سلطان نے بیس مخصوص افراد اور بہت سے تحائف کے ساتھ مدینہ کے لیے کوچ کیا اور سولہویں روز شام کے وقت وہاں پہنچ گیا۔ سلطان نے روضہ¿ رسول ﷺ پر حاضری دی اور مسجدِ نبوی میں بیٹھ گیا۔ اعلان کیا کہ اہل مدینہ مسجد نبوی میں پہنچ جائیں جہاں سلطان ان میں تحائف تقسیم کرے گا۔ لوگ آتے گئے اور سلطان ہر آنے والے کو باری باری تحفہ دیتا رہا۔ اس دوران وہ ہر شخص کو غور سے دیکھتا رہا لیکن وہ دو چہرے نظر نہ آئے جو اسے ایک رات میں تین بار خواب میں دکھائے گئے تھے۔ سلطان نے حاضرین سے پوچھا۔ “کیا مدینہ کا ہر شہری مجھ سے مل چکا ہے۔؟” جواب اثبات میں تھا۔ سلطان نے پھر پوچھا۔ “کیا تمہیں یقین ہے کہ ہر شہری مجھ سے مل چکا ہے؟” اس بار حاضرین نے کہا۔ “سوائے دو آدمیوں کے۔ ” راز تقریباً فاش ہوچکا تھا۔………. سلطان نے پوچھا۔ “وہ کون ہیں اور اپنا تحفہ لینے کیوں نہیں آئے۔؟” بتایا گیا کہ یہ مراکش کے صوم و صلوٰة کے پابند دو متقی باشندے ہیں۔ دن رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود سلام بھیجتے ہیں اور ہر ہفتے مسجدِ قبا جاتے ہیں۔ فیاض اور مہمان نواز ہیں۔ کسی کا دیا نہیں لیتے۔ سلطان نے کہا۔ “سبحان اللہ !” اور حکم دیا کہ ان دونوں کو بھی اپنے تحائف وصول کرنے کے لیے فوراً بلایا جائے۔ جب انہیں یہ خصوصی پیغام ملا تو انہوں نے کہا۔ “الحمد للہ ! ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے اور ہمیں کسی تحفے تحائف یا خیر خیرات کی حاجت نہیں۔ ” جب یہ جواب سلطان تک پہنچایا گیا تو اس نے حکم دیا کہ ان دونوں کو فوراً پیش کیا جائے۔ حکم کی فوری تعمیل ہوئی۔ ایک جھلک ان کی شناخت کےلئے کافی تھی تاہم سلطان نے اپنا غصہ قابو میں رکھا اور پوچھا۔ “تم کون ہو۔.؟ یہاں کیوں آئے ہو؟” انہوں نے کہا “ہم مراکش کے رہنے والے ہیں۔ حج کےلئے آئے تھے اور اب روضہ¿ رسول ﷺ کے سائے میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ ” سلطان نورؒ الدین زنگینے سختی سے کہا۔ “کیا تم نے جھوٹ بولنے کی قسم کھا رکھی ہے؟” اب وہ چپ رہے۔ سلطان نے حاضرین سے پوچھا۔ یہ کہاں رہ رہے ہیں؟” بتایا گیا کہ روضہ ¿ نبوی کے بالکل نزدیک ایک مکان میں جو مسجدِ نبوی کے جنوب مغرب میں دیوار کے ساتھ تھا۔ سلطان فوراً اٹھا اور انہیں ساتھ لے کر اس مکان میں داخل ہو گیا۔ سلطان مکان میں گھومتا پھرتا رہا۔ اچانک نئے اور قیمتی سامان سے بھرے ہوئے اس مکان میں اس کی نظر فرش پر پڑی ہوئی ایک چٹائی پر پڑی۔ نظر پڑنی تھی کہ دونوں مراکشی باشندوں کی ہوائیاں اڑ گئیں۔ سلطان نے چٹائی اٹھائی۔ اس کے نیچے ایک تازہ کھدی ہوئی سرنگ تھی۔ سلطان نے گرج کر کہا۔ “کیا اب بھی سچ نہ بولو گے؟؟؟” ان کے پاس سچ کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ مسیحی ہیں اور ان کے حکمران نے انہیں بہت سا مال و زر اور ساز و سامان دے کر حاجیوں کے روپ میں مراکش سے اس منصوبے پر حجاز بھیجا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسدِ اقدس روضہ مبارک سے نکال کر لے آئیں۔ اس ناپاک منصوبے کی تکمیل کے لئے انہوں نے حج کا بہانہ کیا اور اس کے بعد روضہ¿ رسول سے نزدیک ترین جو مکان کرائے پر مل سکتا تھا’ وہ لے کر اپنا مذموم کام شروع کر دیا۔ ہر رات وہ سرنگ کھودتے جس کا رخ روضہ¿ مبارک کی طرف تھا اور ہر صبح کھدی ہوئی مٹی چمڑے کے تھیلوں میں بھر کر جنّت البقیع لے جاتے اور اسے قبروں پر بکھیر دیتے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ناپاک مہم بالکل آخری مراحل میں تھی کہ ایک رات موسلادھار بارش کے ساتھ ایسی گرج چمک ہوئی جیسے زلزلہ آ گیا ہو اور اب جب کہ ان کا کام پایہ¿ تکمیل کو پہنچنے والا تھا تو سلطان نہ جانے کیسے مدینے پہنچ گئے۔ سلطان ان کی گفتگو سنتے جاتے اور روتے جاتے اور ساتھ ہی فرماتے جاتے کہ “میرا نصیب !!! کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کےلئے اس غلام کو چنا گیا” سلطان نور ؒالدین زنگی نے حکم دیا کہ ان دونوں کو قتل کر دیا جائے اور روضہ¿ مبارک کے گرد ایک خندق کھودی جائے اور اسے پگھلے ہوئے سیسے سے پاٹ دیا جائے تاکہ آئندہ کوئی بدبخت ایسی مذموم حرکت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے یہ واقعہ 558ھ (مطابق 1142ئ) کا ہے۔. سلطان نورؒ الدین زنگی نے روضہ مبارک کے قریب ایک چبوترابھی بنوایا تاکہ اس پر ان قبور کی حفاظت کے لئے ہروقت پاسبان رہیں۔ یہ چبوترا اب بھی موجود ہے ہے یہ سازش بے نقاب ہوئی تو سلطان نورالدین زنگی بڑی دیر تک اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوکر روتے رہے کہ اللہ نے مجھے اپنے حبیب پاک ﷺ کی خدمت کی اتنی بڑی سعادت کے لئے منتخب فرمایا وہ کہا کرتے تھے میری بخشش کے لئے یہی کافی ہے قبلہ ¿ اول بیت المقدس کی فتح کے لئے سلطان نورؒ الدین زنگی ابھی حملے کی تیاریاں ہی کر رہا تھا کہ ان کو حشاشین نے زہر دیدیاجس سے ان کے گلے میں سوزش پیدا ہوگئی جو کہ ان کی موت کا باعث بنی۔ 15 مئی 1174ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ سلطان نور الدین کی ان خوبیوں اور کارناموں کی وجہ سے اس زمانے کے ایک مورخ ابن اثیر نے لکھا ہے کہ: “میں نے اسلامی عہد کے حکمرانوں سے لے کر اس وقت تک کے تمام بادشاہوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا لیکن خلفائے راشدین اور عمر بن عبد العزیز کے سوا سلطان نورؒ الدین زنگی سے زیادہ بہتر فرمانروا میری نظر سے نہیں گزرا”۔

Check Also

الزام ان کو دیتے تھے

  الزام ان کو دیتے تھے تمام سیاستدان جمہوریت ۔۔ جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *