Home / کالم / رناں والیاں دے پکن پراٹھے

رناں والیاں دے پکن پراٹھے

 

رناں والیاں دے پکن پراٹھے
ایک سہیلی نے دوسری سے پوچھا ”سناہے تم شادی کررہی ہو؟
”ہاں ۔۔مگر کیوں ایسے پوچھ رہی ہو تمہیں کیا پریشانی ہے؟
”کیا تمہارا دولہاایک سیاستدان ہے “ اس نے سہیلی کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے استفسار کیا
”ہاں۔اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا یہ سچ ہے
سہیلی نے بے ساختہ کہا شہلا! میری مانو کسی سیاستدان سے شادی مت کرنا کمبخت وعدے تو بہت کرتا ہے پورا ایک بھی نہیں کرتا ۔خیر یہ تو ایک لطیفہ تھا لیکن اس میں کمال کی سچائی چھپی ہوئی ہے ہمارے ملک کے کئی سیاستدانوں نے تو سرے سے شادی ہی نہیں کی ماضی میں مجاہد ِ ملت مولانا عبدالستارنیازی اور آغا شاہی نے شادی نہیں کی تھی یہی حال بھارتی وزیر اعظم آنجہانی مراڑ جی ڈیسائی کا تھا انہیں تو انٹرنیشنل کنواروں کو لقب دیا گیا انڈین وزیر ِ اعظم مودی کے بارے میں پکی خبرنہیں کہ وہ شادی شدہ ہیں کنوارے یا رنڈوے بہرحال جو بھی ہیں وہ ہمیشہ شین سین کا شکاررہتے ہیں اس جھنجلاہٹ میں انہیں یہ بھی پتہ نہیں چلتے وہ کیا کہہ جاتے ہیں پا کستان کے ایک سینئرسیاستدان شیخ رشید نے بھی تاحال شادی کا جھنجھٹ نہیں پالا لیکن کمال ہے بلاول بھٹو زرداری پر جنہوںنے اس حوالے سے ایک ایسا بیان دیاہے جس پر کئی لوگ حیران کچھ پریشان ہوگئے ہیں گذشتہ سال کراچی پریس کلب میں ‘میٹ دی پریس’ میں ایک صحافی نے پی پی پی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری سے سوال کیا کہ انتخابات سے قبل شادی کریں گے، یا وزیراعظم بننے کے بعد شادی ہوگی۔صحافی کے سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے ازراہ تفنن کہا کہ اس پر تفصیلی اور جامع منصوبہ بندی کےلئے اجلاس ہو رہے ہیں، اور باقاعدہ تاریخ مقرر کرنے کی حکمت عملی طے ہو رہی ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ طے کیا جا رہا ہے کہ ہم انتخابات سے قبل شادی کریں، یا انتخابات کے بعد شادی ہو، یا پھر انتخابی مہم کے دوران شادی کر لی جائے ہو سکتاہے میں چار شادیاں کرلوں۔واضح رہے کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے 2018کی انتخابی مہم کے باقاعدہ آغاز سے کچھ ماہ قبل تیسری شادی کی تھی، جبکہ پیپلز پارٹی اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مہم چلا رہی ہے، جس میں وزیر اعظم اور ان کی جماعت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے شادی کے حوالے سے پی پی پی کے چیئرمین کی گفتگو پر تقریب میں موجود افراد نے بھر پور قہقہے لگائے، تاہم بلاول نے اپنی بات جاری رکھی۔بلاول نے شادی کے حوالے سے سیاست کو مزید شامل کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ بھی طے کیا جا رہا ہے کہ میں ایک شادی کروں یا چار صوبے ہیں، تو ہر صوبے سے ایک بیوی ہونی چاہیے۔آفرین ہے بھٹی آفرین اسے کہتے ہیں ہونہاربرنا کے چکنے چکنے پات۔ ہرصوبے سے ایک ایک دلہن لانے پر کئی کنوارے
چیخ اٹھے ہوں گے
رناںوالیاںدے پکن پراٹھے
تے چھڑیاںدی اگ نہ بلے
ازراہ مذاق وہ یہ بھی کہہ گئے کہ یہ بات بھی زیر غور ہے کہ ان 4 شادیوں کا سیاست پر کیا اثر پڑے گا، اور جب اس حوالے سے رپورٹ بن جائے گی، تو سب کو مطلع کر دیا جائے گا۔خیال رہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ بلاول بھٹو زرداری کی شادی کے حوالے سے سوال پوچھا گیا ہو، پہلے بھی کئی بار اس حوالے سے بات ہوتی رہی ہے۔
ایک بار 2016 میں ان سے سوال کیا گیا تھا کہ آپ کو شادی کی بھی کوئی پیشکش ہے؟ تو بلاول نے جواب دیا تھا کہ ان کو شادی کی بہت ساری پیشکشیں ہیں، تاہم ان سے رشتہ اسی کا ہو سکے گا، جو ان کی بہنوں کو راضی کر لے۔31 سالہ بلاول بھٹو زرداری 2007 میں اپنی والدہ بینظیر بھٹو کی راولپنڈی میں بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بنائے گئے تھے، ان کی 2 چھوٹی بہنیں 28 سالہ بختاور اور 26 سالہ آصفہ ہیں۔پی پی پی کے سربراہ 2017 میں پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کے گھر شادی میں شریک تھے، تو ان سے سوال کیا گیا کہ وہ شادی کب کریں گے؟ اس سوال پر انہوں نے تھوڑا شرما کر جواب دیا تھا کہ وہ ابھی 29 سال کے ہی تو ہیں، شادی کی جلدی کیا، شادی بھی ہو جائے گی۔خیال رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک ایسے سیاسی خاندان میں پرورش پائی ہے جہاں ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی رہے، جبکہ دادا بھی اسی وزیر اعظم کے ساتھ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن بنے، ان کی والدہ بے نظیر بھٹو دو بار ملک کی وزیر اعظم رہیں جبکہ والد آصف علی زرداری پہلی بار جمہوری حکومت میں مقرر مدت پوری کرنے والی پہلے صدر گزرے ہیں، ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کی شادی اور سیاست دونوں کا قریبی تعلق کہا جا سکتا ہے۔گزشتہ کچھ برسوں میں جن سیاست دانوں کی شادیاں میڈیا میں سب سے زیادہ زیر بحث رہیں، ان میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان سرفہرست ہیں، جن کی 2015 میں ریحام خان سے شادی اور پھر اسی سال طلاق میڈیا کی شہہ سرخی بنی، 2018 ءکے عام انتخابات سے کچھ ماہ قبل عمران خان نے بشریٰ بی بی سے شادی کی تھی، جو تحریک انصاف کے چیئرمین کی تیسری شادی تھی۔
عمران خان کی تیسری شادی کی خبریں سامنے آنے پر گزشتہ برس ہی ایک انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری سے سوال کیا گیا تھا کہ وہ شادی کب کر رہے ہیں، تو پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا تھا کہ میں ابھی کم عمر ہوں، میرا نمبر بھی آئے گا، لیکن میری خواہش ہے کہ جب بھی میری شادی ہو ایک ہی ہو، لیکن اس میں بھی ابھی وقت ہے۔ویسے سیاستدانوںاور اداکاراﺅںکی شادیوں اور طلاق پر ہوٹلوں،چائے خانوںاور تھڑوں پرمزے لے لے کر تبصرے کرنالوگوںکا معمول ہے نجی محفلوں میں بھی ایسی باتوںپر تبادلہ ¿ خیال لوگوںکا پسندیدہ مشغلہ ہے یار لوگ اس پر چٹخارے لے لے کر باتیں کرتے ہیں ہم نے عمران خان کی شادیوں اور طلاقوںپرلوگوںکو بھانت بھانت کی بولیاں بولتے دیکھاہے ٹی وی چینلز پرکئی کئی گھنٹے ٹاک شوز بھی ہوئے جیسے یہ پاکستان کا نمبرون مسئلہ ہو سیانے کہتے ہیں یہ مسائل سے توجہ ہٹانے کا پرانا حربہ ہے بلاول بھٹوزرداری ایک شادی کرلے یا چار عوام کو کیا فرق پڑتاہے تبدیلی تو اس وقت آئے گی جب عوام کی حالت اور پاکستان کے حالات بہترہوںگے ہم تو فقط دعا ہی کرسکتے ہیں جگ جگ جیو۔ ایک بات کرنے کو جی چاہتاہے رناںوالیاںدے پکن پراٹھے
تے چھڑیاںدی اگ نہ بلے
کا محاورہ بھی دل کو کچھ جچ نہیں رہا کیونکہ آج تو عا م آدمی کایہ حال ہوگیا ہے اسی کی بیوی پراٹھے پکائے گی جس کی جیب میں مال ہوگا۔

Check Also

غلامی سے نجات !

  جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی حقیقت اور دعوےٰ دو الگ الگ باتیں ہیں یہ الگ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *