Home / کالم / روزنِ زنداں کی صدا!

روزنِ زنداں کی صدا!

 

 

روزنِ زنداں کی صدا!

تحریر:۔ ملک شفقت اللہ
”تم ضرور آزمائے جاﺅ گے اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ، اور کتنی ہی دل آزار باتیں تمہیں سننی پڑیں گی اہلِ کتاب اور مشرکین سے ، اور اس مقابلہ میں اگر تم نے صبر اور تقوے کی روش اختیار کی تو یہ یقینا عزم و ہمت کی بات ہے۔ (سورة العمران آیت 186 )۔ آپ ﷺ کی زندگی اگر کوئی جاننا چاہتا ہے تو اس کےلئے پورا قرآن مجید موجود ہے جس کا ہر ایک حرف آپ ﷺ کی زندگی کو بیان کرتا ہے۔ مذکورہ آیت کریمہ کی روشنی میں آپﷺ کی ذات کا جو پہلو سامنے آتا ہے وہ تحمل پر مبنی در گزر کرنے والا ہے ۔ دین اسلام کی تعلیم یہی ہے اور ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کا اسوہ مبارکہ بھی ہماری اسی طور رہنمائی کرتا ہے ۔ تحمل و بردباری کی حد یہ ہے کہ سردارِ منافقین عبد اللہ بن اُبیµ جس کی شرارتوں اور سازشوں سے آپﷺ کو شاید ہی مدنی زندگی کے کسی دن میں چین رہا ہو ؛ آپﷺ کا حال یہ رہا کہ اس کی موت پر آپ نے قمیص مبارک اس کے کفن کیلئے دی ، اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن برائے برکت ٹپکایا اور نمازِ جنازہ ، جو دعائے مغفرت کے ہم معنی ہے ، اس کے با وجود پڑھائی کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد نازل ہو چکا تھا ” ان منافقین کیلئے تم اے نبی مغفرت مانگو یا نہ مانگو ، اگر تم ستر بار بھی ان کیلئے مغفرت مانگو تب بھی اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا (سورة التوبہ آیت 80 )۔آپ کو یاد ہو گا کہ ہمارے ایک نوجوان نے ڈنمارک میں حبِ رسول ﷺ کے جذبہ سے اپنی جان کو کھلے خطرے میں ڈال کر وہاں کے ایک ملعون فلم ڈائریکٹر کا کام تمام کر دیا تھا ، اور پاکستان میں کچھ عرصہ قبل ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جسے بعد میں پھانسی دے دی گئی ۔ہمارے ہزار ہا مظاہروں کا اثر شیطان کے لشکر پر نہیں ہوا ۔ آئے دن کسی مغربی ملک میں ایک ملعون اٹھ رہا ہے اور اپنے پہلے والے سے بڑھ کر خباثت کی داد اپنے ہم وطنوں سے چاہ رہا ہے ، تو کیا رد عمل کی یہ بے اثری دیکھتے ہوئے بھی بجا ہوگا کہ اپنے غم و غصہ کے اظہار کیلئے یہ بے اثر طریقے مسلسل آزماتے رہنے کو ہم تقاضائے عشقِ رسولﷺ سمجھتے رہیں ؟ یہ تو ملتِ اسلامیہ کی بے بسی کا اظہار اور شیاطین کی ہمت افزائی ہے کہ وہ کچھ بھی کریں یہ چار دانگِ عالم میں پھیلی ہوئی امت اپنا سینہ پیٹ کر رہ جانے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی۔ آخر ہمیں کیونکر اپنی اس شرمناک کمزوری کا رہ رہ کر اظہار کرنا پسند ہے؟ کہیں ہم اپنے اس احتجاجی عمل کو اس کے مو¿ثر ہونے نہ ہونے سے قطع نظر بجائے خود ایک کارِ ثواب تو نہیں سمجھ رہے ہیں؟ خدا نخواستہ اگر ایسا ہے ، تو پھر ہم نے نہ سید المرسلﷺ کے مرتبہ ومنزلت کو سمجھا اور نہ آپ کی غلامی میں پوشیدہ عزت کو جانا ، ہم آپ ﷺ کے نام پر بے بسی کا اظہار کرتے مظاہروں اور جلوسوں کو کارِ ثواب سمجھ رہے ہیں ۔ افسوس صد افسوس!! تو پھر ہم کیا کریں ؟ یہ ایک مشکل سوال ہے ! لیکن میں اپنی فہم کے مطابق اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں!اسلامک ڈیفنس کونسل کی سرگرم جد و جہد رشدی کی کتاب کے خلاف کوئی نہیں بھولا ہوگا جس کیلئے برطانیہ میں بیس سے پچیس ہزار مسلمانوں نے مارچ کیا تھا لیکن برطانوی حکام کے کانوں پر جونک تک نہیں رینگی تھی ، یہ فروری 1989 کی بات ہے جب اسی احتجاجی مارچ کے ٹھیک دو ہفتے بعد آیت اللہ خمینی نے مصنف اور ناشرین کے خلاف قتل کا فتویٰ صادر کیا تو وہی حکومت جو انسانیت اور تہذیب و اخلاق کے ناطے اس اخلاقی اپیل سے کوئی اثر لینے کو تیار نہیں تھی وہ رشدی کے تحفظ کیلئے ایسی سرگرم ہوئی کہ ملعون تصنیف میں وہ اس کا ایجنٹ ہو۔ اس ایک واقعہ کے بعد اب امریکہ ، اسامہ اور طالبان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا تو شرارت کی تو جیسے لائن ہی لگ گئی ہے اور ہر شرارت پہلے والی کو پیچھے چھوڑ رہی ہے ۔مسلم حکومتوں کے اتحاد کی جانب سے 1999 سے اقوامِ متحدہ میں کوشش ہو رہی ہے کہ آزادی اظہار کے اس ننگ انسانیت مغربی کلچر کو کچھ حدود و قیود کا پابند کیا جائے ۔ لیکن مغربی حکومتیں اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے رہیں ۔محمد الرسول اللہ ﷺ کی شان میں مسلسل گستاخانہ اشاعتوں کے پیچھے اگر کوئی مقصد نظر آتا ہے تو وہ عالمِ اسلام میں نشاةِ ثانیہ کے اٹھتے ہوئے آثار سے خوف زدہ ہو کر اس کا راستہ روکنا ہے ۔ اس کا آغاز امریکہ نے 9/11 کے حوالہ سے دہشت پسندی کے خلاف جنگ کا نام دے کر کیا ، جسے اب اٹھارہواں سال چل رہا ہے اور جس کے ذریعہ وہ تمام جنگی قوتیں جنگی اسلحہ سے تباہ کردینے کی مہم جاری ہے ، جنھیں امریکہ اس نشاتی لہر کا بازوئے شمشیر زن سمجھتا ہے ۔اب ہمارے پاس دو راستے ہیں اس سب کوروکنے کیلئے۔ پہلا تو یہ ہے کہ سورة العمران کی مذکورہ بالا آیت کریمہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ان معاملات سے ایسے ہی در گزر کیا جائے جیسے آپ ﷺ نے عبد اللہ بن اُبیµ کے معاملے میں فرمائی ۔ یا پھر اگر امت مسلمہ ان سے لڑنے کی ہمت رکھتی ہے تو وہ فی الفور اقوام متحدہ سے تمام ساٹھ اسلامی ممالک کو الگ کر کے اپنی ایک یونائیٹڈ نیشن کا قیام عمل میں لائیں ، اگر یورپ متحد ہو سکتا ہے ، دیگر غیر اسلامی ممالک متحد ہو سکتے ہیں تو اسلامی ممالک کیوں نہیں ؟ پاکستانی حکام اور جہاں جہاں تک میری بات پہنچے تمام ممالک سے استدعا ہے کہ وہ اس معاملے پر اکٹھے ہو جائیں ، اپنی ایک الگ یونائیٹڈ نیشن بنائیں جس میں قانون سازی کی جائے ، حرمتِ رسول ﷺ اور دیگر معاملات میں اور ان قوانین کی عزت و تکریم اور پاسداری تمام مغرب ممالک سے کروائیں ۔ اقوامِ متحدہ کبھی بھی مسلمانوں کے حق کیلئے کچھ نہیں کرے گا سوائے انہیں دہشتگرد بنانے کے۔

Check Also

سعودی سفیر نواف بن سعید کی شخصیت

      سعودی سفیر نواف بن سعید کی شخصیت تقدیراورتدبیر میں بہت فرق ہے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *