Home / بزنس / زیرو ریٹنگ کے خاتمہ ایس آر او 1125کی منسوخی کے خلاف فائیو زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ سیکٹرکا ملک گیر احتجاج

زیرو ریٹنگ کے خاتمہ ایس آر او 1125کی منسوخی کے خلاف فائیو زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ سیکٹرکا ملک گیر احتجاج

زیرو ریٹنگ کے خاتمہ ایس آر او 1125کی منسوخی کے خلاف فائیو زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ سیکٹرکا ملک گیر احتجاج
بجٹ میںپانچ بڑے ایکسپورٹ سیکڑز (ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل، اسپورٹس گڈز، سرجیکل گڈز، لیدر اینڈ کارپیٹ)نے حالیہ بجٹ میں زیرو ریٹنگ کے خاتمہ ایس آر او 1125کی منسوخی اور نو پے منٹ نو ریفنڈ سسٹم کے خاتمہ کو مسترد کرتے ہوئے اسے آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دے دیا ۔ پاکستان ہوزری مےنوفےکچررز اےنڈ اےکسپورٹرز اےسوسی اےشن کے ایگزیکٹو ممبران نے کہا کہ حکومتی بجٹ پاکستان تحریک انصاف کے منشور اور ایکسپورٹ پالیسی سے متصادم ہے اورپاکستان کی ایکسپورٹس کو تباہ کرنے کے لئے ایک منصوبہ بند سازش دکھائی دیتی ہے جس سے نہ صرف ایکسپورٹس میں کمی واقع ہوگی بلکہ بے روزگاری پھیلنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کم ہو گا اور معیشت بھی کمزور ہو جائے گی۔ماضی میں حکومتوں نے 1فیصد یا 2فیصد کی شرح سے پانچ زیرو ریٹیڈ سکیٹرز پر سیلز ٹیکس عائد کئے مگر موجودہ حکومت نے 17فیصد سیلز ٹیکس کا بم ایکسپورٹ انڈسٹری پر گرانے کا قصد کیا ہے جو تمام ویلیو ایڈیڈ ایکسپورٹس کے ساتھ ساتھ مکمل انڈسٹرئیل چین اور الائیڈ انڈسٹریز کو بھی تباہ کر دے گا۔ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے اپنی نااہلی کو چھپانے کی خاطر تمام بوجھ ایکسپورٹ انڈسٹری پر ڈال دیا ہے جو پہلے ہی 22مختلف محکموں کو حکومت کیلئے ٹیکس جمع کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ 17فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذایکسپورٹانڈسٹریز کو بندہونے پر مجبور کر دے گا۔اس اقدام سے غیر ملکی خریدار بھی پاکستان سے خریداری کے بجائے خطے میں دیگر ممالک کی رخ کریں گے جس کے ہماری معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر حکومت نے ایکسپورٹر ز کو درپیش معاملات اور مسائل کے حل پر توجہ نہ دی تو اسٹیک ہولڈرز احتجاج کے طور پر NO EXPORT DAYS منائیں گے۔ سیلز ٹیکس کے نفاذ کے نتیجے میں ایکسپورٹرز کی لیکویڈیٹی پر تباہ کن ضرب اور ایکسپورٹرز کی مالی مشکلات تشویشناک حد تک اضافے کے خلاف اور پاکستان کی ایکسپورٹس اور انڈسٹریز کو بچانے کی خاطر زیرو ریٹیڈ اسکیم کے نو پے منٹ نو ریفنڈ کے نظام کو لازمی جاری رکھنے کے حق میںویلیو ایڈیڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشنزنے آج پاکستان کے بڑے شہروں فیصل آباد، کراچی، لاہور، سیالکوٹ، ملتان، قصور اور گوجرانوالہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاداور پرامن احتجاجی مظاہر ہ کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر چےمبر سےد ضےاءعلمدار حسےن نے کہا کہُٓ پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری کو پہلے ہی کئی چیلنجز اور بحرانی کیفیت کا سامنا ہے اور اس وقت تاریخ کے سے سب سخت لیکیویڈیٹی کرنچ کا شکار ہیں۔ ایکسپورٹرز کے 200بلین روپے سے زائد کے سیلز ٹیکس ریفنڈز، کسٹمز ریبیٹ، ودہولڈنگ ٹیکس، ڈیوٹی ڈرابیک آن لوکل ٹیکسس لیویز اور ڈی ڈی ٹی کے کلیمز کی حکومتوں نے تاحال ادا نہیں کئے۔زیروریٹنگ کے خاتمہ کی صورت میںایکسپورٹرز کی ہر شمپنٹ جو گارمنٹس کی تیاری سے شپمنٹ تک تقریباً چار ماہ لیتی ہے 14فیصد لیکویڈیٹی ہر چاہ ماہ میں پھنس جائے گی اور اسطرح سالانہ 42فیصد لیکویڈیٹی حکومت کے پاس پھنس جائے گی۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ آج تک گزشتہ تین دہائیوں میں کسی بھی حکومت نے ابتر معاشی حالات کے باعث ایکسپورٹرز کو ریفنڈز کی ادائیگیاں وقت پر نہیں کیں۔واضح ہے کہ وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کا سیلز ٹیکس کی شکل میں حکومت کا غیر سودی رقم جمع کرنے اور ریوینیو کے احداف حاصل کرنے کا ارادہ ایکسپورٹ کوداﺅ پر لگا دے گا۔اس موجود سخت معاشی بحران میں ریفنڈز کس طرح ادا کئے جا سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس کے ریفینڈ2ماہ کے اندر ادا کر دے گی جو حکومتی کی کم علمی اور عدم واقفیت پر مبنی ہے۔یارن سے گارمنٹس کی تیاری میں تقریباً 6ماہ کا عرصہ لگتا ہے جبکہ حکومت کا 2ماہ میں ریفنڈز کی ادائیگی کے دعوے کے وقت کا اطلاق ان 6ماہ کے بعد ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ نے پوسٹ بجٹ کانفرنس میں ٹیکسٹائل سے متعلق جو اعداد و شمار بیان کئے ان سے اتفاق نہیں کرتے۔مشیر خزانہ کے مطابق ٹیکسٹائل کی مقامی سیلز 1200ارب بتائی گئی جو مبالغہ پر مبنی ہے۔ پاکستان بیوری آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق سال 2017-18میں 1488ارب روپے کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کرنے والا سیکٹر مقامی سطح پر 1200ارب روپے کی مصنوعات کس طرح فروخت کر سکتا ہے؟انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیکسٹائلز کی لوکل سیلز 15تا20فیصد ہے جبکہ دیگر ایکسپورٹ سیکٹرز کی مقامی سیلز2تا5فیصد ہے۔ایکسپورٹ انڈسٹریز کو چلانے کی لاگت میں پے پناہ اضافہ، بجلی اور پانی کے بحران اور امن و امان کی صورتحالوں کے باوجود گزشتہ 15سالوں میں ایکسپورٹس میں 81.42فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سابق چیئرمین پی ایچ ایم اے نارتھ ذون میاں نعیم احمد نے کہاکہ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ آج تک گزشتہ تین دہائیوں میں کسی بھی حکومت نے اپنے وعدوں اور دعوں کے مطابق ایکسپورٹرز کو ریفنڈز کی ادائیگیاں وقت پر نہیں کیں۔ پہلے سیلز ٹیکس جمع کرنا اور اس کے بعد ریفنڈ کرنا ایک لاحاصل مشق ہے اور ایکسپورٹرز کیلئے پریشانی اور کرپشن بڑھنے کا باعث ہے۔ایکسپورٹ اور ریوینیو بڑھانے کیلئے پانچ زیرو ریٹیڈ سیکٹر کے لئے نو کلیکشن اور نو ریفنڈtried and testedفارمولا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں حکومت نے زیرو ریٹیڈ کو دو مرتبہ ختم کرنا چاہا جس میں ناکامی ہوئی اور زیرو ریٹیڈ اسکیم کو دوبارہ متعارف کروانا پڑا۔زیرو ریٹیڈ اسکیم میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت اس لاحاصل مشق میں پہلے سیلز ٹیکس جمع کرنے اور پھر ریفنڈ کرنے کے بجائے اپنی توانائیاں ایکٹو ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے میں لگائے۔
چیئرمین APBUMAعارف احسان ملک ، وحےد خالق رامے چےئرمےن پاور لومز اونرز اےسوسی اےشن ، چوہدری محمد نواز، عبدالحق کاٹن پاور لومز اےسوسی اےشن، محمد امجد خواجہ، چیئرمین اپٹپما حبیب گجر،میاں خالد پرویز، شاہین تبسم،عثمان ہادی،حاجی سلیم، راﺅ سکندر،امیر رضا،میاں عمران لطیف، و دےگر صنعتکاروں نے متفقہ طور پر بجٹ میںپانچ بڑے ایکسپورٹ سیکٹرکے لئے زیرو ریٹنگ کے خاتمہ ایس آر او 1125کی منسوخی کے خلاف ملک گیر پرامن احتجاج کا فیصلہ متفقہ ہے جو زیرو ریٹنگ میں نو پے منٹ نو ریفنڈ کے سسٹم کو بحال نہ ہونے تک جاری رہے گا۔پانچ بڑے ایکسپورٹ سیکٹر ملک کی مجموعی ایکسپورٹ میں 70فیصد حصہ رکھتے ہیں اور مجموعی طور پر50فیصد سے زائد ملازمتیں فراہم کرتے ہیں، اگر انڈسٹریز بند ہوئیں تو بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور انارکی پھیلے گی اور امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہو گی۔

٭٭٭

Check Also

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو فارن کرنسی کی خریدو فروخت کی اجازت دے دی

 کراچی: اسٹیٹ بینک نے فارن ایکسچینج میںوئل میں ترمیم کرکے بینکوں کو فارن کرنسی کی خریدو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *