Home / کالم / سب کی بگڑی بنانے کو وہ آگئے

سب کی بگڑی بنانے کو وہ آگئے

 

 

سب کی بگڑی بنانے کو وہ آگئے
تحریر:قاری محمد عبدالرحےم

عالمِ کون وفسادمیں روزِ ازل سے ستیزہ کاریئِ خیروشر جاری ہے،اسی کشمکش کو لے کر آدم جنت سے روئے ارضی پر رونق افروز ہوے،اللہ نے فرمایا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے ،اس نے جس طرح تمہیں جنت سے نکلوایا اسی طرح یہ تمہارے لیے دنیا اور آخرت دونوں کی خرابی کا باعث بنتا رہے گا ،اسے اپنا دشمن پکڑ لو،اور شیطان نے بھی اپنی لعنت کے بعداللہ سے ایک وعدہ کیاتھا کہ میں تیرے بندوں کی راہ ماروں گا اور ان میں سے مخلصین کے سوا سب کو تیری راہ سے بھٹکادوں گا،شیطان کے اس چنگل سے انسانیت کوبچانے کے لیے ا للہ نے حضرتِ آدم علیہ السلام سے لے کرحضرت محمد ﷺ تک ایک لاکھ چوبیس ہزاریا کم وبیش انبیاءمبعوث فرماے ،لیکن انسانیت شیطانی چنگل میں ایسی پھنسی کہ ہر نبی اللہ کے دور میں بھی اس راہ سے باز نہ آئی حتیٰ کہ عذابِ الٰہی کالقمہ بن کر باقی ماندہ انبیاءکی پیروی پر آمادہ ہوے،حتیٰ کہ وحشت وبربریت اس عروج پر پہنچ گئی کہ لوگ عام انسانوں کو درکنار اپنے لختِ جگر بچیوں کو زندہ در گور کرنے پر بھی ذرادل میں رقت وندامت محسوس نہ کرتے، فرعونیوں نے بنی اسرئیل کے بچوں کو قتل کیا اور بچیوں کو انہوں نے بھی زندہ رہنے دیا ،لیکن وحشت ودردنگی عرب میں کیا ٹپکی کے خود باپ اپنی بیٹی کو زندہ در گور کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے ،ایسی وحشی اور درندوں کی دنیا میں اللہ نے انسانیت کی دادرسی کے لیے اپنی رحمتِ مجسم نبی آخرالزمان حضر ت محمدﷺ کو مبعوث فرمایا،آپ رحمة للعٰلمین بن کر دنیا میں تشریف لائے،روایات میں ہے جس سال آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی مشیت ایزدی نے اس سال کسی ماں کو بیٹی نہیں دی بلکہ سب کے بچے پیدا ہوے کہ کہیں کوئی شقی القلب اپنی بیٹی کو پیدا ہوتے زندہ در گور نہ کردے،حضرت حلیمہ سعدیہ فرماتی ہیں کہ میرے بھی ایک بیٹا تھا ،اور حضورﷺ کی دائی بنی تو جب میں آپ کو دودھ پلاتی تو آپ ایک طرف سے دودھ پیتے اور دوسری طرف کو چھوڑدیتے، اسی لیے امام احمد رضا نے عرض کیا ہے کہ ” دودھ پیتوں کی نصفت پہ لاکھوں سلام“آپ نے اعلان ِ نبوت سے پہلے بھی لوگوں کو غلاموں اور زیر دستوں پر ظلم کرنے سے روکا،غریبوں مجبوروں اور بے کسوں کی امداد فرامائی ضعیفوں اور لاچاروں کی گٹھڑیاں اٹھائیں ،لوگوں کوجانوروں پر ظلم کرنے سے ر وکا ،زندگی اور انسانیت سے اسقدر پیار کیا کہ جنگل کے وحشی بھی آپ ﷺ کے دامن میں پناہ لیتے،یہی وہ رحمت تھی کہ جس کوبھانپ کر آپ ﷺ کی ولادت کے دن شیطان نے پہاڑوں میں چھپ کر چیخ چیخ کررونا شروع کردیا کہ اس کے چیلے حیران ہوگئے،اور جانوروں اور پرندوں اور دوسری وہ مخلوق جو رحمتِ خداوندی کے نزول کو دیکھ سکتے تھے ،مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کودوڑنا شروع کیا اور ایک دوسرے کو مبارک بادیاں دینے لگے کہ آج عالمِ گیتی میں اللہ کی رحمت لگاتار برس رہی ہے،اب زندگی کودرندگی سے پناہ ملے گی،اب رحمت سے نحوست کاخاتمہ کیا جائے گا،اب مظلوم وبے داد کو داد ملے گی،اب انسانیت کو عروج ملے گا،اب تمام مخلوق کو حق وانصاف ملے گا،صبحِ بہاراں کے اس عنوان کو کہا تک بیان کروں ،عالمِ دنیا آج بھی چودہ سو سال گزرنے کے باوجوداسی شہودِ وجود کوترس رہا ہے کہ کاش وہ لمحات مقدسہ ہم بھی پاسکتے،آج گلی گلی قریہ قریہ آپ کے حسنِ صورت اور آپ کے حسن ِ سیرت کے نغمے الاپے جارہے ہیں ،آپ کی آمد کی خوشیاںمناکر ہم آج بھی مظلوموں ،بے کسوں ،بے چاروں ،غم زدوں اورشیطانی دنیا کہ ظلم وستم میں پستی انسانیت کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ نبی رحمتﷺ کے متوالے آج جس طرح راہوں گلیوں اور فضاﺅں کو منورومعطر کررہے ہیں ،اسی طرح ظلم کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی انسانیت ،نحوست کی بربادیوں ،بھوک وننگ،افلاس میں سسکتی زندگی کو ایک بار پھرعشقِ رسولﷺ سے منورومعطر،صبح بہاراں کی طرح دلکش وروح افزا بنادیں گے،کہ ” قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے، دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کردے“ اے کاش وارفتگانِ عشقِ رسولﷺ اپنے اس عہد کوس جانیں کہ میرے نبی ﷺکی ولادت کی عید میرے نبی ﷺ کی امت کی عید بن جائے،میرے نبیﷺ کی امت آج چیتھڑے چیتھڑے ہے، کہیں اس کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے ہیں،کہیں بھوک وننگ میں لمحہ لمحہ سسک رہی ہے، کہیں اپنے نوچ رہے ہیں،کہیں غیر مسل رہے ہیں ،”اے خاصہ خاصانِ رسل اب وقتِ دعا ہے، امت پہ تیری عجب وقت آن پڑا ہے“آج پھر بچیاں زندہ در گورہورہی ہیں،آج پھرزندگی سسک رہی ہے،اسلامی دنیا انسانیت سے بے خبر ہوچکی ہے،اور کفر کی دنیا انسانیت کے فطری خلاف ہے، اے خدااب پھر فاران کی چوٹیوں سے وہ نور اجاگر ہو کرپھر کچھ سلیم الفطرتوں کے قلبوں پر جھلک جائے کہ کہیں کوئی صلاح الدین ایوبی،کہیں کوئی طارق بن زیاد ،کہیں کوئی محمد بن قاسم اٹھ کھڑا ہوکہ امتِ مظلوم کو اک بار پھر امتِ محمد ﷺ بنادے،آمین بجاہِ نبی الکریم الامین ﷺ۔

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *