Home / کالم / سرائیکی ثقافت دیاںوِسردیاں کھیڈاں

سرائیکی ثقافت دیاںوِسردیاں کھیڈاں


سرائیکی ثقافت دیاںوِسردیاں کھیڈاں
تحریر : عمران ظفر بھٹی

بچپن ایک ایسا وقت ہے جس میںبچہ کسی فکر کے بنا جیتا ہے اور خوب انجوائے کرتا ہے ۔ شہر کے بچپن میں اور دیہات کے بچپن میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے ۔ یہ ایسی عمر ہے جس میں بچہ جنت ، دوزخ، دنیا، آخرت ، کمائی، لڑائی، جھگڑے ، خون خرابہ سب چیزوں سے بے فکر ہوتا ہے دنیا میں ایسے بہت کم بچے ہوتے ہیں جو اپنے بچپن کو انجوائے نہیں کرپاتے مگر یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں ایسے بچے موجود ہیں جن کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ بچپن کیا ہوتا ہے کیونکہ وہ صرف اور صرف کمائی کرنے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کیلئے پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ پاک دنیا سےبے حسی ختم فرمائے۔ آج کل کے ترقی یافتہ اور تیز ترین دور کیوجہ سے بہت سارے روائتی کھیل ختم ہو رہے ہیں ۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ موبائلز، ایم پی تھری، ویڈیو گیمز اور بہت ساری الیکٹرانک گیمز ایجاد ہو چکی ہیں مگر یہ گیمز بچوں کی صحت پر بہت برے اثرات چھوڑتی ہیں جیسے صحت پر ،موبائل پر موجود گیمز ،کیونکہ جب بچہ موبائل استعمال کرتا ہے تو موبائل کے نقصان دہ اثرات بچے پر بھی اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں جو وقتی طور پر نظر نہیں آتے مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ خطرناک صورتوں میں سامنے آتے ہیںاور بہت سارے تو سنبھل ہی نہیں پاتے اور بہت کم لوگ ہیں جو سنبھل جاتے ہیں ۔اب ہم کچھ ایسے روائتی کھیلوں کا ذکر کرتے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ کم ہو رہے ہیں ۔
ماما ، ماما جمال خان سرائیکی کھیلوں میں مقبول ترین کھیل ہے جسے لڑکے اور لڑکیاں ملکر بھی کھیل سکتے ہیں اس کھیل میںجو بڑے بچے ہوں وہ کپتان بن جاتے ہیںایک بڑا ایک طرف جبکہ دوسرا دوسری جانب کھڑا ہو جاتا ہے جبکہ دیگر تمام بچے بچیاں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہو جاتے ہیں پہلی طرف کا کپتان یہ الفاظ بولتا ہے کہ ” ماما ، ماما جمال خان” دوسری طرف سے جواب ملتا ہے”جی بھنڑینجا لال خان” پھر پہلی طرف سے آواز آتی ہے کہ ” تیڈی بکری آٹ کھاوے، باٹ کھاوے، ست کنالیاں پانی پیوے، دھمکدی آوے ، چھنڑکدی” دوسری طرف کا کپتان ان دو فقروں میں سے ایک بولتا ہے ، دھمکدی آوے یا پھر چھنڑکدی” جس کے بعد پہلی جانب والے تمام بچے بچیاں دھام ، دھام دھام، دھام یا چھن پچھن، چھن پچھن کہتے ہوئے ایک بندے کو ایسے باندھ دیتے ہیں جیسے ایک نمازی نے ہاتھ باندھے ہوئے ہوتے ہیں۔اسی طرح دوسری جانب والے بولتے ہیں اور پہلی طرف والے جواب دیتے ہیں بالاآخر تمام بچے بچیاں نماز کی حالت میں بندھ جاتے ہیں۔جب بھی ایک بچہ بندھ جاتا ہے تو سب اسے یہ الفاظ بولتے ہیں ۔ بدھیج ماما دُلا کلہوٹی کولوں ٹھولہا،پھر سب کو چوکڑی لگا کر بیٹھا دیا جات ہے اور پاﺅں کے انگوٹھے ہاتھوں سے پکڑنے کو کہا جاتا ہے دونوں کپتان باری باری ہر بچے کو بازﺅں سے پکڑ کو زور سے جھولا دیتے ہوئے پوچھتے ہیں تیڈے مامے کیتی، ہر بچہ اپنی مرضی کا جواب دیتا ہے، کوئی تاریں جیتی، کوئی پانچ تو کوئی سات کہتا ہے ہر کسی کی مرضی ہوتی ہے۔ جب یہ تمام بچے طے کردہ نشان تک صحیح سلامت پہنچ جائے تو اس کو مسلمان قرار دیا جاتا ہے جبکہ جو نہ پہنچ سکے اسے کافر قرار دیا جاتا ہے۔ پھر مسلمانوں اور کافروں کے بیچ ایک پردہ لگا کر ایک جیسے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے تمام سوالات ہمارے مذہب کے عین مطابق ہوتے ہیں جبکہ کافروں کے جواب دین اسلام سے متصادم ہوتے ہیں ۔ آخر میں تمام مسلمان بچے یہ کہتے ہوئے بھاگ جاتے ہیں کہ” کیراڑیں دے گھر کوں بھاہ لائیوسے” مطلب کافروں کے گھر کو آگ لگا دی ہے۔ یہ کھیل جہاں ہمارے بچوں کی دینی تربیت کا بہترین ذریعہ تھا وہیں بچوں کی صحت کیلئے بھی بہترین تھا کیونکہ اس میں کافی بھاگ دوڑ تھی مگر افسوس کہ یہ کھیل اب آہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہے۔
کلے باندردیہات میں کھیلا جانے والا ایک اور زبردست کھیل ہے جس میںزیادہ تر نوجوان لڑکے یہ کھیل کھیلتے ہیں جس میں ایک نوجوان جو کہ باری دیتا ہے اور اسکے گرد سب اپنے اپنے جوتے رکھ دیتے ہیں اور باری دینے والا ایک کلے کے ساتھ رسی کو پکڑ کر کھڑا رہتا ہے اور جوتوں کی حفاظت کرتا ہے اور باقیوں میں سے کسی ایک کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا ہے اگر تو تمام جوتیاں کلے کے قریب سے اٹھا لی جائیں تو پھر اس کی شامت پکی کیونکہ پھر وہی جوتیاں اسے پڑتی ہیں تب تک جب تک کہ وہ طے شدہ مقام کو ہاتھ نہ لگا لے۔ اس تمام جوتیاں اٹھالینے سے پہلے کسی کو ہاتھ لگا لے تو اس کی جان چھوٹ جاتی ہے اور پھر شامت دوسرے کی آجاتی ہے اسی طرح دیہات میں ایک اور مشہور کھیل ” کانگڑا” ہے جس میں ایک ڈنڈا بنایا جاتا ہے اور درخت طے کیے جاتے ہیں ایک دو یا زیادہ سے زیادہ چاران کے علاوہ کسی درخت پر نہیں چڑھا جا سکتا ایک لڑکا باری دیتا ہے ایک اس ڈنڈے کو پوری طاقت سے اپنی ٹانگ اٹھا کر ایک ہاتھ سے جتنا ہو سکے دور پھینکتا ہے اور خود طے شدہ درخت پر چڑھ جاتا ہے باری دینے والا بھی جلدی سے ڈنڈا اٹھا کر طے شدہ دائرے میں ڈنڈا رکھتا ہے اور درختوں پر چڑھ کہ کسی ایک لڑکے کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا ہے اور یہ بھی دھیان رکھتا ہے کہ کوئی بھی لڑکا ڈنڈے کو اٹھا کر چوم نہ لے اگر کوئی لڑکا ڈنڈے کو چوم لے تو باری پھر سے دوبارہ شروع ہو جائے گی ۔ یوں ایک ہی لڑکا دو دو گھنٹے بھی باری دے سکتا ہے اور پانچ منٹ میں بھی ابھی باری ختم کر سکتا ہے۔ یہ بھی ایک بہترین اور بہت زیادہ مشہور کھیل رہا ہے اس میں دیہات کے لڑکوں میں چستی بہت زیادہ آتی تھی وہ بندر کی طرح ایک درخت سے دوسرے درختوں پربھی کود جاتے تھے اور ٹہنیوں کو پکڑ لیتے تھے مگر افسوس آج یہ کھیل بھی ختم ہو چکا ہے۔
شیدنڑ لڑکیوں کا ایک مشہور کھیل ہے جس میں لڑکیاں زمین پر چوکٹے نما خانے بناتی ہیں پھر اپنی ایک ایک باری سے ان میں الٹی گھوم کر مطلب خانے نظر نہ آئیں ایک جوتا یا پھر پٹھو پھینکتی ہیں ٹھیک خانے میں جانے پر پھر ایک ٹانگ پر جاتی ہیںاس بات کا خاص خیال رکھتی ہیں کہ لکیر پر پاﺅں نہ جائے ورنہ باری ختم ہو جاتی ہے پھر اس پٹھو یا جوتے کو اسی پاﺅں سے جو زمین پر ہوتا ہے اس سے ٹھڈا مارتی ہیں اور اسے تمام خانوں سے باہر نکالتی ہیں اس بات کا یہاں بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ جوتا یا پٹھو لکیر پر نہ رکے یا تو کسی خانے میں رکے یا پھر سیدھا باہر نکل جائے تو جس خانے سے وہ پٹھو یا جوتا نکالا گیا وہ خانہ اس لڑکی کا گھر ہو جاتا ہے اور اس میں وہ لڑکی دونوں پاﺅں رکھ سکتی ہیں مگر یہ دھیان رکھا جاتا ہے کہ باہر کی لکیروں کو پھر بھی پاﺅں نہ لگے اسی طرح جس لڑکی کے گھر زیادہ بن جائیں وہ جیت جاتی ہے ۔
پٹھو گرام وسیب کا ایک معروف کھیل رہا ہے جس میں کسی بھی مٹی کے برتن کے ٹکڑوں کو گول شکل میں پٹھو بنایا جاتا ہے اور ایک کے اوپر دوسرا اور دوسرے کے اوپر تیسرا اسی طرح پانچ سے دس تک پٹھو رکھے جاتے ہیں اس کھیل میں دو ٹیمیں ہوتی ہیں ایک ان پٹھوﺅں کے پیچھے جبکہ دوسری ٹیم کا کھلاڑی ان پٹھوﺅں پر زور سے بال مارتا ہے تاکہ پٹھو گر جائیںاور پیچھے کھڑی مخالف ٹیم بال بھی نہ پکڑ سکے۔ اگر پٹھو گر جائیں تو مخالف ٹیم بال اس ٹیم کے کسی کھلاڑی کو مارنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ کھیلنے والی ٹیم پٹھوﺅں کو دوبارہ اسی شکل میں ترتیب دینے کی کوشش کرتی ہے بال لگ جائے تو اس کھلاڑی کی باری ختم اگر نہ لگے اور پٹھوﺅں کو پہلے ترتیب دے دیا جائے تو پوائنٹ اس ٹیم کو مل جاتا ہے۔ اسی طرح سب کی باری آتی ہے اور پھر دوسری ٹیم بھی اسی طرح کھیلتی ہے۔
لک چھپک یا نوٹڑیں کہلایا جانے والا کھیل دیہاتوں کا مقبول ترین کھیل ہے اس کھیل میں بھی وہی مزہ ہے کہ جتنے لوگ بڑھ جائیں مزہ اتنا زیادہ ہوجاتا ہے اس میں ایک مخصوص جگہ (پیڑی)ہوتی ہے جسے مخالف بچوں نے ہاتھ لگانا ہوتا ہے باری دینے والا پیڑھی پر آنکھیں بندکرے کھڑارہتا ہے اورباقی بچے چھپ کے آواز دیتے ہیں پھرباری دینے والے کھلاڑی نے کسی ایک کو پکڑنا ہوتا ہے اگراس سے پہلے سب بچوں نے پیڑھی کو ہاتھ لگالیا تو دوبارہ باری دے گا۔ اس طرح یہ کھیل رات گئے تک چلتا ہے یہ کھیل گرمیوں سردیوں میں کھیلا جاتا ہے۔ڈیٹی ڈناںجسے اردو میں گلی ڈنڈا کہا جاتا ہے اور یہ کھیل پورے پاکستان کی طرح وسیب میں بھی بہت مقبول ہے لیکن سرائیکی خطہ میں اس کی اہمیت ونوعیت زیادہ منفردہے یہ کھیل بچوں ،بڑوں میں یکساں مقبول ہے اس کھیل میں ایک گلی ،ڈنڈہ اوردوٹیمیںکھیل پیش کرتی ہےں ٹیموں میں جتنے کھلاڑی ہوں اس کا کو مسئلہ نہیںباری لینے والے کھلاڑی گلی ڈنڈے کی مدد سے زورسے پھینکتے ہیں اگرمخالف ٹیم نے کیچ کرلیا توٹھیک ورنہ ڈنڈا مقررہ جگہ پر رکھا جائے گا جہاں سے گلی کو پھینکا گیا ہے اور مخالف ٹیم والے جہاں گلی پڑی ہے وہاں سے ڈنڈے کو نشانہ بنائیں گے اگر نشانہ ٹھیک لگا تو اس کھلاڑی کی باری ختم اور دوسراکھلاڑی کھیلے گاورنہ گلی اچھی طرح بنا کر اچکائے گا پھر ڈنڈے سے گلی کوٹھلا لگائے گا اس طرح طرح ٹھلے لگاتا ہوا جتنی مرضی دور لے جائے جہاں ٹھلا نہ لگا دہیں سے ڈنڈے کے مطابق نمبر مانگے جائیں گے۔ اگر تو نمبر (گھری یا پلی)تک پورے ہو گئے تو ٹھیک اگر نمبر مقررہ مقام سے آگے چلے گئے تو باری ختم ہو جائے گی۔ اوروہ ٹیم اس طرح اپنے سکوربنائے گی جو ٹیم مقررہ ہدف کو پہلے پا لے گی وہ جیت جائے گی اور ہارنے والی ٹیم کو سزاکے طورپرطے شدہ کوڈی بھرنی ہوگی ۔ پلی یا گھری سے جیتنے والی ٹیم کا ہر کھلاڑی طے شدہ ڈنڈوں سے گلی کو جتنا ہو سکا دور پھینکے گا ۔ اور ہارنے والی ٹیم ہر کھلاڑی ایک ایک سانس میں جتنی زیادہ کوڈی بھر سکا بھرے گااور کوڈی کوڈی کہتا ہوا گلی کو اٹھائے پلی یا گھری تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔ پھر دوسرا کھلاری پھر تیسرا کھلاڑی اگر تو گھری (کھیل کا مقام ) تک ہارنے والی ٹیم پہنچ گئی تو ٹھیک ورنہ دوبارہ سزا کے طور پر گلی دوبارہ ڈنڈے کی مدد سے دور پھینکی جائے گی۔ جب ہارنے والی ٹیم کھیل شروع ہونے والی جگہ پر پہنچے گی تو پھر باری اسی کی ہو گی اور پھر پہلے اس ٹیم کے کھلاڑی اپنا کھیل پیش کرینگے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے ۔نوڑاوٹ یا پھر کوکلاچھپا بھی وسیب کے مشہور کھیلوں میں شامل ہے جنہیں لڑکے اورلڑکیاں بڑے شوق سے کھیلتے ہیں اس کھیل میں بھی جتنے کھلاڑی ہوں اتنا مزہ دوبالا ہوتا ہے اسے کھیلنے کیلئے ایک کپڑے کو بل (وٹ)دینا ہوتا ہے جس سے وہ کوڑے کی شکل اختیا کرلیتا ہے باری دینے والا ایک چوکیدارکے مانندایک گول دائرے میں بیٹھے بچوں کے گردگھومتا رہتا ہے اورچپکے سے کسی ایک کے پیچھے نوڑارکھ دیتا ہے اگراسے پتہ چل جائے توباری دینے والے کو اس نوڑے سے مارتا ہے جب تک وہ خالی محفوظ جگہ پربیٹھ نہیں جاتا اورجس کے پیچھے نوڑارکھا ہو اسے پتہ نہ چلے پھر اسکی مارلگتی ہے اس طرح یہ کھیل چلتا رہتا ہے اور بچے اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔
کشتی ہمارے وسیب کا ایک بہترین کھیل ہے جو کہ آجکل بہت زیادہ زوال کا شکار ہے اور بہت کم کھیلا اور دیکھا جاتا ہے حالانکہ یہ کھیل صحت کیلئے انتہائی بہترین ہے اسی کھیل سے بہت بڑے پہلوان سامنے اور انہوں نے ملک پاکستان کا نام بھی روشن کیا اس کھیل میں بھی دو ٹیمیں ہوتی ہیں ۔ یہ کھیل بچے ، بڑے، بوڑھے جوان سبھی شوق دیکھتے ہیں یہ کھیل انٹرنیشنل کھیل کی حیثیت تو اختیار کر گیا ہے مگر افسوس کہ یہ کھیل ملک کے اندر دیہاتوں میں ختم ہو رہاہے اسی کھیل سے ملتا جلتا ایک اور کھیل ہے جو کہ آج کل صرف فلموں میں تو دکھائی دیتا ہے مگر اس دھرتی پر شاید ہی کسی کو نظر آتا ہے اس کھیل کا نام کوڈی ہے اس میں بھی دو ٹیمیں ہوتی ہیں اور ایک کھلا میدان درمیان میں لکیر دونوں طرف سے ایک ایک کر کے کھلاڑی کوڈی ، کوڈی (کبڈی، کبڈی) کہتے ہوئے آتے ہیں اور مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو ہاتھ لگا کر واپس لکیر کو ہاتھ لگانے کو تا کہ اپنی ٹیم کو نمبر دلا یا جا سکے جبکہ مخالف اسے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ اسے پکڑ کو وہ نمبر حاصل کر لیں۔ اس کھیل میں نمبر جمع بھی ہوتے ہیں اور منفی بھی۔ یہ ایک بہترین اور دلچسپ کھیل ہے مگر یہ بھی وسیب سے تقریباً ختم ہی ہو گیا ہے۔
“وِرلا” وسیب کا ایک بہترین اور مشہور کھیل ہے اس کا نام مختلف علاقوں میں مختلف ہے اس کھیل میں دو ٹیمیں بنائی جاتی ہیں دو کپتان بن جاتے ہیں ۔ زمین پر کسی کی مدد سے لائنیں لگائی جاتی ہیں جسے “وِرلا” کہا جاتا ہے یہ لائنیں شیدنڑ سے تھوڑا سا مختلف ہوتی ہیں اس میں بھی خانے بنائے جاتے ہیں اور اندر جو لائنیں لگائی جاتی ہیں وہ ڈبل ڈبل لگائی لگای ہیں۔ باری دینے والی ٹیم کے کھلاڑی ان لائنوں میں کھڑے رہتے ہیں تا کہ دوسری ٹیم کے کھلاڑیوں کو ان خانوں سے نہ گزرنے دیا جائے ۔ اگر باری دینے والی ٹیم مخالف ٹیم کے کسی بھی کھلاڑی کو ہاتھ لگا لے تو اس کی باری ختم اور نہ لگا سکے اور دوسری ٹیم کا کھلاڑی کامیابی سے ایک طرف سے دوسری طرف پھر دوسری طرف سے پہلی طرف نکل آئے اور فوری طور پر آواز لگائے کہ “پکی اے” تو اس ٹیم کو ایک پوائنٹ مل جاتا ہے اور وہ ٹیم دوبارہ سے باری دیتی رہتی ہے جب تک کہ پہلی ٹیم کے کسی کھلاڑی کو ہاتھ نہ لگا لے۔ یہ بات یاد رہے کہ یہ خانے کم از کم پانچ سے سات مربع بٹ کے بنائے جاتے ہیں اور یہ خانے ایسے بنائے جاتے ہیں کہ چار خانے ایک طرف اور چار خانے ایک طرف کل آٹھ خانے یا پھر زیادہ پانچ پانچ بھی ہو سکتے ہیں یہ ضرورت پر منحصر ہوتا ہے اس کے علاوہ ان خانوں کی لمبائی چوڑائی کم یا زیادہ بھی رکھی جا سکتی ہے۔ یہ کھیل انتہائی مزیدار کھیل رہا ہے وسیب میں کئی عرصہ پہلے راقم نے لڑکوں کو رات کے وقت کھیلتے دیکھا مگر ضروری نہیں کہ صرف رات کو کھیلا جائے یہ کھیل دن کو بھی کھیلا جا سکتا ہے ۔ مگر افسوس کہ اب ” وِرلا ” جیسے کھیل آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں جس کھیل سے بچوں ، بڑوں کی صحت تھی۔ خوشیاں تھیں وہ سب آہستہ آہستہ اس ترقی یافتہ دور میں ختم ہو رہی ہیں۔ اس بہترین کھیلوں کی جگہ موبائل گیمز نے لے لی ہے۔ وسیب کی اس خوبصورت ثقافت کو کون بچائے گا ۔ ان کھیلوں سے متعلق ہمیں اپنے بچوں کو بتانا ہوگا۔ انہیں موبائلز، الیکٹرونک گیمز سے دور کرنا ہوگا تاکہ ہمارے بچے ایک بار پھر صحت و تندرستی والی زندگی جئیں۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین۔

Check Also

کشمیر اور امت مسلمہ۔۔۔!

  کشمیر اور امت مسلمہ۔۔۔! مقبوضہ کشمےر کے تقرےباً اسی لاکھ افراد5اگست سے اپنے گھروں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *