تازہ ترین خبریں
Home / کالم / سعودی حکومت اورحج انتظامات

سعودی حکومت اورحج انتظامات

 

 

سعودی حکومت اورحج انتظامات
عمرفاروق /آگہی
دنیابھرسے عازمین حج لبیک لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلندکرتے ہوئے حرمین شریفین پہنچ رہے ہیں ایک اندازے کے مطابق اس سال 25لاکھ کے قریب افرادحج کی سعادت حاصل کریں گے پاکستان سے 1لاکھ 80 ہزارسے زائدعازمین حج کی سعادت حاصل کریں گے سعودی حکومت نے ہرسال کی طرح امسال بھی حج کے انتظامات مکمل کرلیے ہیں سعودی حکومت “آپ کے لیے حج کا اجر اور ہمارے لیے خدمت کا شرف” کے نام سے حاجیوں کی خدمت کوایک باقاعدہ مہم کی شکل دی ہے ،مدینہ منورہ کے پرنس محمد بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اللہ کے مہمانوں کا استقبال تحائف، کھجوروں، مٹھائی اور گلاب کے پھولوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے،اسی طرح مکہ میں سعودی عرب میں مقامی حکام اور اہل کاروں کی جانب سے مسکراہٹ اور گلاب کے پھولوں کے ساتھ عازمین حج کے استقبال کا سلسلہ جاری ہے، عازمین کے پہنچنے کے فوری بعداستقبالیہ مرکز میں ٹھنڈے اور گرم مشروبات سے تواضع کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔
سعودی وزیر داخلہ اور سپریم حج کمیٹی کے سربراہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز سکیورٹی فورسز اور دیگر اداروں کی خود نگرانی کررہے ہیں۔ سعودی عرب لاکھوں حاجیوں کو یکساں سہولتیں فراہم کرتاہے۔سعودی حکومت یہ انتظام کسی منافع کی غرض سے نہیں کرتی ہے بلکہ صرف حاجیوں کی خدمت کے جذبے سے کرتی ہے۔سعودی حکومت حج انتظامات پر اربوں ریال خرچ کرتی ہے اور مقامات مقدسہ کی تعمیر وترقی کے عظیم الشان منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کررہی ہے۔ ریاست حج انتظامات کو اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھتی ہے اورحج آپریشن سے کوئی منافع حاصل نہیں کرتی ہے۔
خادم الحرمین الشریفین کے مشیر، مکہ معظمہ کے گورنر اور مکہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین شہزادہ خالد الفیصل کے مطابق حج آپریشن پلان کی نگرانی مشاعر مقدسہ اتھارٹی کو سونپی گئی ہے۔ اس میں مشاعر مقدسہ ٹرین، الجمعرات تنصیبات، سیورج، طہارت خانوں کا قیام اور پانی کی فراہمی، حجاج بیت اللہ کو پانی پلانے کا منصوبہ، حج سروسز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے دیگر خدمات شامل ہیں،اتھارٹی کے ترجمان انجینیر جلال بن عبدالجلیل کعکی نے ایک بیان میں کہا کہ حج آپریشنل منصوبے کے تحت المشاعر ٹرین آٹھ ذی الحج کو منی سے حجاج کرام کو عرفات، وہاں سے پھر منی لائے گی۔ یوں المشاعر ٹرین کی مدد سے ساڑھے تین لاکھ حجاج کرام کو عرفات تک ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کی جائےگی جب کہ ایام تشریق میں مجموعی طوپر ایک ملین سے زاید عازمین حج المشاعر ٹرین سے سفر کرسکیں گے۔حجاج کرام کو سہولت کے لیے مشاعر میں36 ہزار ہنگامی غسل خانون کا اہتمام کیا گیا ہے۔ حجاج کرام کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے مشاعر مقدسہ میں 600 ٹینکیاں نصب کی گئی ہیں جہاں ایک گھنٹے میں اوسطا 700 مکعب میٹر پانی مہیا کیا جائے گا۔دوسری طرف حرمین انتظامیہ نے عازمین کی حفاظت اوررہنمائی کے لیے دس ہزارسے زائدافرادی قوت کابندوبست کیاہے زائرین 210دروازوں سے مسجدالحرام میں داخل ہوں گے 28الیکٹرانک زینوں ،10ہزارسے زائدوہیل چیئرز،25ہزارآب زم زم کے کولراور600سے زائددیوہیکل پنکھوں کاانتظام کیاگیاہے جبکہ معذوروں کے لیے 38سپیشل راستے بنائے گئے ہیں ایک لاکھ 7ہزار سے زائدافرادایک گھنٹے میں خانہ کعبہ کاطواف کرسکیں گے حجاج کرام کی دینی رہ نمائی کے لیے 128 علماءومبلغین کو مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مفت ٹیلیفون ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔
حرمین شریفین کی انتظامیہ نے حسب سابق حج کے ایام کی آمد کے ساتھ ہی خانہ کعبہ کے لیے نیا غلاف تیار کرلیا ہے۔ موجودہ غلاف کعبہ 9 ذی الحج بروز سوموار کو اتارنے کے بعد اس کی جگہ نیا غلاف کعبہ شریف پر چڑھا دیا جائے گا۔ غلافہ کعبہ کی تبدیلی کا عمل سدنہ بیت اللہ ڈاکٹر صالح الشیبی کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔غلاف کعبہ خاص قدرتی ریشم سے تیارکرنے کے بعد اس پر گہرا سیاہ رنگ چڑھایا جاتاہے گزشتہ سال حج کے موقع پرراقم نے بھی یہ روح پرورمنظراپنی آنکھوں سے دیکھاتھا، غلاف کی اونچائی14 میٹر ہے جب کہ اس کی بالائی پٹی 95 سینٹی میٹر چوڑی اور17میٹر لمبی ہے۔ چار کونوں والے چھ اجزا کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جائے گا۔
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر رواں برس یومِ عرفہ کے دن خطبہِ حج کی ذمے داری ڈاکٹر حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ کو سونپی گئی ہے۔ڈاکٹر حسین آل الشیخ کا شمار مسجد نبوی کے نمایاں ترین آئمہ اور خطیبوں میں ہوتا ہے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے مدینہ منورہ میں قاضی (جج) کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ خطبہ حج کا ترجمہ پانچ مختلف زبانوں انگریزی، فرانسیسی، اردو، فارسی اور مالی میں پیش کیا جائے گا۔
امسال بھی خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ضیافت میں 1300شخصیات فریضہ حج کی سعادت حاصل کریں گی۔ مہمانوں کا تعلق ایشیا، افریقہ اور یورپ کے براعظموں کے 90ممالک سے ہے۔اب تک اس پروگرام سے 43547ہزار افراد فیضیاب ہوچکے ہیں۔ اسکا سلسلہ 1417ھ میں شروع کیاگیا تھا۔اس کے علاوہ مصری فوج اورپولیس کے شہید ہونےوالے افسروں اور جوانوں کے 1000 قریبی عزیزخادم الحرمین الشریفین اعزازی حج اسکیم کے تحت حج کریں گے ۔جبکہ فلسطینی شہدا کے خاندانوں کے ایک ہزار افراد بھی اس سکیم کے تحت حج کریں گے ۔سعودی عرب کے وزیر برائے اسلامی امور اور دعو وارشاد شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ نے کہا ہے کہ یہ خادم الحرمین الشریفین کی فلسطینی نصب العین کی مسلسل حمایت کا آئینہ دار ہے اور فلسطینی عوام کی عظیم قربانیوں کو ان کے خراجِ تحسین کا مظہر ہے۔
گزشتہ انہی خصوصی مہمانوں کے اعزازمیں سعودی سفارتخانے میں منعقدہونے والی تقریب سے پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیرنواف سعیدالمالکی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں سعودی سفارتخانہ حجاج کرام کوبھرپورسہولتیں فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، خادم حرمین شریفین اوران کے و لی عہد کی تعلیمات بھی یہی ہیں کہ حجاج کرام اورعمرہ زائرین کوہرممکن سہولت فراہم کی جائیں سعودی عرب نے اپنے تمام تروسائل حجاج کرام اورعمرہ زائرین کے وقف کردیئے ہیں تاکہ واپنے فرائض کوبآسانی اداکرسکیں ۔
مسجدالحرام اورمسجدنبوی شریف کی انتظامیہ کے سربراہ اعلی شیخ ڈاکٹرعبدالرحمن السدیس نے کہاہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیزہرروزحرمین شریفین کی رپورٹ لیے بغیرنہیں سوتے سعودی اخبارکے مطابق شاہ سلمان ہررات اللہ تعالی سے حرمین شریفین کواپنے حفظ وامان میں رکھنے کی خصوصی دعاکرتے ہیں ۔ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے مزیدکہاکہ مقدس مقامات سیاسی نعروں اور فرقہ وارانہ جھڑپوں کی جگہ نہیں، سعودی عرب مسلمانوں کے مسائل کے حل اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ سعودی عرب تمام مسلمانوں کے مسائل میں دلچسپی لیتا ہے اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے کوششیں کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و اخوت کے موضوعات کو خاص اہمیت دیتا ہے۔کچھ قوتوں کی طرف سے کوشش ہے کہ حج کے موسم میں فرقہ وارانہ اورسیاسی اختلافات کوہوادی جائے ڈاکٹرسدیس کایہ بیان ان کے لیے انتباہ ہے ۔
سعودی عرب عازمین حج کے ساتھ کوئی تفریق کامعاملہ نہیںکرتابلکہ جن ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہیں ان کے حاجیوںکوخصوصی اہمیت دیتاہے یہی وجہ ہے کہ ایران اورقطرسے تعلقات خراب ہونے کے باوجود سعودی حکومت وہاں کے عازمین کوخصوصی سہولیات فراہم کرتی ہے ، سعودی قیادت کا کہنا ہے کہ قطر سے آنے والے عازمین حج ان کے خاص مہمان ہیں اور انہیں ہرممکن سہولت مہیا کی جائے گی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطری عازمین حج قطر کی سرکاری ایئرلائن کے سوا کسی بھی دوسری فضائی کمپنی کے ذریعے سعودی عرب آسکتے ہیں۔

Check Also

کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “

      ”کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “ یہ بہادر بیٹی کیوں رو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *