Home / تعلیم / سندھ حکومت ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کا نظام وضع کرنے میں ناکام

سندھ حکومت ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کا نظام وضع کرنے میں ناکام

 

 

 

کراچی: سندھ حکومت پرائمری اسکول سے قبل چھوٹے بچوں کی تعلیم کے لیے بنائے گئے ’ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن‘ کا نظام تیار کرنے میں ناکام ہوگئی۔سندھ حکومت کے تحت قائم ارلی چائلد ہڈ ایجوکیشن پالیسی کے تحت سرکاری اسکولوں میں قائم مونٹیسوریز کے حوالے سے ہوش ربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ بجٹ کی عدم فراہمی، نصاب اور مونٹیسوری مواد کے بغیر تعلیم، بدترین انفرا اسٹرکچر، فرنیچر کی عدم فراہمی، مونٹیسوری ٹریننگ سے ناآشنا غیر تربیت یافتہ اسکول اساتذہ، پانی اور بجلی کی عدم فراہمی اور چٹائیوں و دریوں پر بٹھا کر چھوٹے اور معصوم بچوں کو روایتی طور پر تعلیم دینے کا سلسلہ ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کی مجموعی تصویر بن کر سامنے آیا ہے۔عملی طور پر حکومت سندھ کا محکمہ اسکول ایجوکیشن (Montessori, kindergarten ,nursery ) کی شکل میں کراچی سمیت پورے صوبے میں ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کا نظام وضع کرنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے، تقریباً تین سال قبل دسمبر 2015ء میں حتمی شکل دی گئی ارلی چائلڈ ہڈ پالیسی اب بھی محکمہ اسکول ایجوکیشن کی فائلوں میں بند ہے۔اس بات کا انکشاف ’’ایکسپریس‘‘کے کراچی کے مختلف ٹاؤنز کے ایک درجن کے قریب سرکاری اسکولوں میں قائم ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن سینٹر کے دورے کے موقع پر ہوا۔معلوم ہوا ہے کہ سوائے چند کے کراچی کے تقریباً تمام ہی سرکاری اسکولوں میں قائم ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن مونٹیسریز میں (پری اسکول) اسکول جانے کی عمرسے قبل کے چھوٹے طلبہ کی دلچسپی اوراسکول میں ان کا دل لگانے کے لیے کلاس رومز میں کسی قسم کا تعلیمی ماحول تخلیق ہی نہیں کیا گیا اور حکومت سندھ کی ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کا منصوبہ 21 ویں  صدی میں بھی ’’کچی پہلی‘‘ کا نقشہ پیش کررہا ہے۔’’ایکسپریس‘‘ کی جانب سے کئی پرائمری اسکولوں کے کیے گئے دورے کے موقع پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کا نظام بجٹ کے اجرا کے بغیر چلایا جارہا ہے جبکہ اس نظام کو چلانے کے لیے ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کا سندھ میں کوئی نصاب موجود ہی نہیں ہے جواشاعت کے بعد متعلقہ اسکولوں کوفراہم کیا جاسکے۔سندھ کے سرکاری اسکولوں میں ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن میں پہلی جماعت کی کتابیں پڑھائی جارہی ہیں اورپرائمری کلاسز کے لیے تعینات جونیئر اسکول اساتذہ  ’’ارلی چائلڈ ایجوکیشن‘‘ میں آنے والے طلبہ کو پہلی جماعت کی کتاب میں سے مواد نکال کر پڑھا رہے ہیں ۔’’ایکسپریس‘‘ نے سہراب گوٹھ کے قریب علامہ اقبال اسکول کے احاطے میں قائم فل برائٹ گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول میں موجود مونٹیسوری کا دورہ کیا تو انکشاف ہوا کہ فل برائٹ گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کی مونٹیسوری کلاس میں بچوں کے بیٹھنے کے لیے فرنیچر ہی موجود نہیں۔اسکول یونیفارم میں ملبوس 35 سے زائد طلبہ دریوں پر بیٹھ کر کلاس ون کی کتاب پڑھ رہے ہیں بیٹھنے کے لیے کرسی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ لکھنے کے لیے بھی کوئی  ’’رائٹنگ ٹیبل‘‘ موجود نہیں تھی طلبہ کے جوتے ان ہی کے ساتھ ایک جانب رکھے ہوئے تھے، پرانے زمانے میں استعمال ہونے والی کچھ لوہے کی الماریاں کمرہ جماعت کے اندر رکھی ہوئی تھیں تاہم کرسیوں یا ڈیسک کلاس روم میں موجود نہیں تھیں جبکہ کلاس روم یا اس کے باہرطلبہ کے اسکول بیگ یا دیگر سامان رکھنے کے لیے مخصوص الماری یا دوسرا فرنیچر موجود نہیں تھا۔ایک جے ایس ٹی خاتون ٹیچر وہاں بچوں کو سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا پہلی جماعت کا اردو قاعدہ پڑھا رہی تھیں مونٹیسوری کلاس کے نزدیک ایک ہی کمرہ جماعت میں بیک وقت چوتھی اور پانچویں جماعت کی تدریس بھی ہونے کا انکشاف ہوا مطلوبہ تعداد میں کلاس روم نہ ہونے کے سبب چوتھی جماعت کے طلبہ کا رخ مرکزی بلیک بورڈ جبکہ پانچویں جماعت کے طلبہ کا رخ اس کلاس میں ایک دوسری جانب بنائے گئے بلیک بورڈ کی جانب تھا اور دو علیحدہ علیحدہ اساتذہ ایک ہی کمرہ جماعت میں اپنی اپنی کلاسز کی تدریس کررہے تھے اسی کیمپس اسکول میں معصومیہ گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول نمبر1 کے نام سے موجود ایک دوسرے اسکول کی مونٹیسوری کلاس کے طلبہ کو بیٹھنے کے لیے انتہائی بوسیدہ ڈیسک فراہم کی گئی تھیں تاہم کم گنجائش اور طلبہ کی زیادہ تعداد کے سبب یہاں ایک ہی کمرہ جماعت (کلاس روم) میں ارلی چائلڈ ہڈ کی بیک وقت دو کلاسز لگائی گئی تھیں۔ایک ہی کمرہ جماعت میں موجود مونٹیسوری کی ان دوکلاسز کے لیے ایک ہی مرد استاد موجود تھا جہاں 6 سال یاا س سے کم عمر کے طلبہ کو بلیک بورڈ پر چاک کی مدد سے لکھنا سکھایا جارہا تھا۔ اس کلاس روم میں بیشتر کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں ٹریفک کی آوازوں کے ساتھ ساتھ اسکول کے میدان کی مٹی اور دھول بھی ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کے ذریعے طلبا کی تدریس کا حصہ بن رہی تھی۔علاوہ ازیں گلبرگ کے علاقہ النور کے قریب ابراہیم علی بھائی گرلز اسکول کے کیمپس میں قائم گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول 19/1 گلبرگ ٹاؤن کی نرسری کا دورہ کرنے پر وہاں موجود ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے تحت قائم مونٹیسوری گزشتہ دو مونٹیسوریزکے مقابلے میں قدرے بہترپائی گئی۔ یہ مونٹیسوری کلاس ایک کشادہ کمرہ جماعت میں بنائی گئی تھی جہاں کچھ برس قبل خصوصی طورپر مونٹیسوری کلاس کے لیے فراہم کیا گیا فرنیچر اب بھی موجود تھا جبکہ کم عمرطلبہ کی دلچسپی کے لیے دیوار پر نجی اسکولوں کی نرسریز کی طرز پر تدریسی یا تعلیمی آرائشی سامان موجود تھا اور حیرت انگیز طور پر کمرہ جماعت کے فرش پر ٹائل لگے ہوئے تھے۔اسکول پرنسپل شاہینہ ناہید کے مطابق یہ فرنیچر ابتدا میں فراہم کیا گیا تھا جبکہ باقی تمام اشیا مذکورہ اساتذہ اپنی مدد آپ کے تحت لے کرآئے ہیں اورمحکمے کی جانب سے مزیدکسی قسم کی معاونت نہیں کی گئی اس موٹیسری میں طلبہ کی دلچسپی کے لیے قدرے بہترماحول پیش کیاگیاتھاجبکہ وہاں موجود2میں سے ایک خاتون استاد محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری ٹیچرریسورس سینٹرمیں کرائی جانے والی ٹیچرٹریننگ کاحصہ تھیں اورانھوں نے اس تربیت سے تجربے کی بنیاد پرکچھ نصاب اپنی جانب سے مرتب کررکھاتھاتاہم گزشتہ 2اسکولوں کی طرزپرمحکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے اس مونٹیسری کوبھی سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کاشائع کردہ پہلی جماعت کانصاب ہی فراہم کیاگیاتھا۔مزیدبراں فیڈرل بی ایریا کے علاقے عزیزآبادمیں قائم ایک ہی کیمپس اسکول میں 2علیحدہ علیحدہ اسکول اینگلواورینٹل گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول اوررائل اکیڈمی گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کے نام سے چل رہے تھے ان دونوں اسکولوں میں 2ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کی2علیحدہ علیحدہ مونٹیسریزقائم تھی تاہم ایک ہی کیمپس اسکول میں قائم ان دونوں مونٹیسریز میں بھی آسمان زمین کاتضاد پایاگیااینگلواورینٹل گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کی مونٹیسری میں سہراب گوٹھ پر قائم معصومیہ گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول نمبر1اورفل برائٹ گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کی طرح فرنیچرموجودنہیں تھااورمونٹیسری میں زیرتعلیم کم عمرطلبہ دریوں پر بیٹھے ہوئے پائے گئے۔مونٹیسری میں 40سے زائد طلبہ موجودتھے اورکم گنجائش ہونے کے سبب طلبہ ایک دوسرے سے جڑے بیٹھے تھے اس کمرہ جماعت میں بھی طلبا کے لیے تدریسی وتعلیمی آرائش کاسامان تومہیاتھاتاہم پرنسپل سے بات کرنے پر معلوم ہواہے کہ ایجوکیشن ڈپارٹنمٹ کی جانب سے کئی باردرخواستیں دینے کے باوجودان طلبا کے لیے فرنیچرفراہم نہیں کیاگیاہے۔جس کے سبب وہ ان کم عمرطلبا کودریوں پر ہی بٹھانے پر مجبورہیں جبکہ اس کے برعکس اسی احاطے میں قائم رائل اکیڈمی گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کی نرسری کافی حدتک عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نظرآئی حسب دستوریہاں بھی سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے شائع پہلی جماعت کے نصاب ہی پڑھایاجارہاتھاتاہم پرنسپل نے دعویٰ کیاکہ ارلی چائلڈہڈایجوکیشن کے لیے وہ تیارنصاب جواب تک شائع نہیں ہوسکاہے ان کی رسائی اس نصاب تک ہوپائی ہے اورطلبا کوکچھ اسباق اس نصاب سے بھی پڑھائے جارہے ہیں تاہم اس اسکول میں بھی غیرتربیت یافتہ جونیراسکول اساتذہ ہی ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کی تعلیم دے رہے تھے۔علاوہ ازیں ناظم آباد کے علاقے پاپوش کے قریب قائم گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول میں قائم میڈیم مونٹیسری پہنچنے پرانکشاف ہواہے اس بقایاجات کی عدم ادائیگی پرکے الیکٹرک کی جانب سے بجلی منقطع کی جاچکی ہے اورکئی روزسے مونٹیسری سمیت پرائمری کلاسزبجلی کی عدم فراہمی کے بغیرہی جاری ہیں۔اسکول کی پرنسپل نے بتایاکہ کئی روزسے بجلی منقطع ہے جس کے سبب پانی کی موٹرنہیں چل رہی اور’’اوورہیڈ ٹینک‘‘خالی ہیں اوراب پانی نلوں میں نہیں آرہااسکول پرنسپل کاکہناتھاکہ ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن میں زیرتعلیم بچے کم عمرہوتے ہیں ان کے لیے واش روم اورپانی لازمی ہے تاہم بجلی اورپانی دونوں ہی بنیادی سہولتوں سے ان کااسکول محروم ہوچکاہے۔واضح رہے کہ اس اسکول کی مونٹیسری کامنظربھی روایتی سرکاری اسکولوں جیساہی تھابچوں کے بیٹھنے کے لیے مونٹیسری کے خصوصی فرنیچرکے بجائے روایتی طورپرٹوٹی ہوئی ڈیکس ہی کلاس روم میں موجودتھیں کم عمربچیوں کے لیے یہاں بھی مونٹیسری کاکوئی نصاب یاارلی چائلڈ ہڈایجوکیشن سے متعلق بچوں کی دلچسپی کے لیے کسی قسم کاخصوصی موادموجودتھااورنہ ہی کوئی تربیت یافتہ اساتذہ موجودتھے۔ناظم آباد ہی کے علاقے میں ہی قائم کراچی مونٹیسری ،اسلامیہ انگلش اسکول اورازاں بعد فیڈرل اسکول بڑامارکیٹ میں جونیئراسکول ٹیچر(جے ایس ٹی)اساتذہ ہی ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن میں زیرتعلیم بچوں کوپہلی جماعت کانصاب پڑھاتے ہوئے نظرآئے ان اسکولوں میں کلاس رومزکے ماحول کی ابترحالت مشترک تھی جہاں رنگ وروغن جھڑرہاتھاان اسکولوں کی مونٹیسری میں بھی طلبہ دریوں اورچٹائیوں پر بیٹھے ارلی چائلڈہڈایجوکیشن میں مصروف نظرآئے تاہم اسکول میں تیسرے درجے کی سہولتیں بھی میسرنہیں تھیں تاہم لیاقت آبادٹاؤن کے علاقے میں قائم الزہرا اسکول کی مونٹیسری میں وہاں کی صدرمعلمہ نوشین زہرانے اپنی مددآپ کے تحت کلاس رومزمیں رنگ وروغن کرایاتھا۔یہاں کی ارلی چائلڈ ہڈکلاس میں بچوں کی دلچسپی کے لیے متعلقہ مواد وہاں کی دیواروں پر آراستہ تھااوربچوں کے لیے ارلی چائلڈ ہڈ سے متعلق خصوصی کرسیاں اورمیزیں بھی موجودتھیں تاہم جگہ کی تنگی کے سبب اسی اسکول کی بعض سینئرکلاسز اسکول کی راہدری(کوریڈور) میں لگی ہوئی تھیں۔الزہرا اسکول کی صدرمعلہ افشین زہراکاکہناتھاکہ اسی کیمپس میں موجودسیکنڈری اسکول کی انتظامیہ نے بعض خالی کلاس رومزمیں تالالگارکھاہے یہ کلاس رومزاستعمال نہیں ہوتے اس کے باوجود انتظامیہ ہمیں یہ کلاس رومزدینے کوتیارنہیں جس کے سبب ہمارے طلبہ کوریڈورمیں بیٹھ کرتعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ڈائریکٹوریٹ کاعملہ یامحکمہ اسکول ایجوکیشن بھی اس سلسلے میں کچھ کرنے کوتیارنہیں ہے۔یادرہے کہ سندھ میں ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کاباقاعدہ نظام قائم کرنے کے لیے سابق سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہونے 3مارچ 2014کوایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے افسران،اس پیشے سے وابستہ قابل ذکراورماہرافسرادپرمشتمل 24رکنی ٹاسک فورس قائم کی تھی اس ٹاسک فورس کاچیئرمین اس وقت کے چیف پروگرام منیجرریفارم سپورٹ یونٹ کوبنایاگیاتھاجبکہ دیگراراکین میں سندھ ٹیچرایجوکیشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی(STEDA ) ،پرووینشل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (PITE)، بیوروآف کریکولم،سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ،سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن،یونیسکو،انڈس ریسورس سینٹر،رائٹ ٹوپلے ، سیوودی چلڈرن،پلان انٹرنیشنل پاکستان،ہینڈ،اے کے یو(آئی ای ڈی)، ٹیچر ریسورس سینٹر،ادارہ تعلیم وآگہی،نیشنل کمیشن فارہیومن ڈیویلپمنٹ اوریونیسیف سمیت دیگر چند اداروں کے نمائندوں کوشامل کیاگیاتھا۔اس ٹاسک فورس کو ارلی چائلڈ ہڈکے نصاب، مطلوبہ اسنادکی ساتھ اساتذہ کی تقرریوں کے طریقہ کار،ای سی ای کے قیام کے لیے باقاعدہ مکینزم کی تیاری اورای سی ای کے لیے علاقوں اوراسکولوں کاتعین سمیت پوری پالیسی ترتیب دینی تھی مارچ 2014کے اس نوٹیفیکیشین پرتقریباًپونے دوسال تک ٹاسک فورس اس پالیسی پرکام کرتی رہی اورٹاسک فورس کی سفارشات سامنے آنے کے بعد 4دسمبر2015کومذکورہ سیکریٹری فضل اللہ پیچوہوکی جانب سے ایک اورنوٹفیفیکیشن کے ذریعے ’’ارلی چائلڈ ہڈ کیئراینڈ ایجوکیشن (ای سی سی ای )پالیسی جاری کی گئی۔ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے آغازکی منصوبہ بندی کی گئی تھی جس کے لیے 3سے 5سال تک کے بچوں کوپری پرائمری سے قبل کم از کم ایک سال کی ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کی تعلیم سے وابستہ رکھناتھاجس کے لیے پرائمری اسکولوں کاانتخاب کرکے انھیں اضافی بجٹ کے ساتھ ساتھ ،اساتذہ اورانھیں دیگرمتعلقہ سہولتیں فراہم کی جانی تھی جبکہ چھوٹے بچوں کی نفسیات کوسمجھنے کی غرض سے انھیں ماہراورتربیت یافتہ اساتذہ فراہم کیے جانے تھے جبکہ ان اسکولوں میں ارلی چائلڈ ہڈ کے باقاعدہ آغاز کے لیے بچوں اوراساتذہ کے لیے خصوصی میزیں ، کرسیاں ،سوفٹ بورڈز،وائٹ بورڈ،کتابوں کے کیبنٹ،کی بورڈ،ڈی وی ڈی پلیئر،ایل سی ڈیز،ملٹی میڈیا، کمپیوٹرز ، ٹیپ ریکارڈ،آڈیوسی ڈی پلیئرز، الیکٹرک واٹر کولر، لائبریری ٹیبلز،لائبریری بکس، کارپٹ، پورٹیبل سوفٹ بورڈز،مونٹیسری میٹیریلز، نمبرپزلس،اینیمل کارڈز (پزسل)، فروٹ پزلس، اردو حروف تہجی، کلرپینسلز سمیت دیگرمتعلقہ سامان فراہم کیا جانا تھا تاہم پورے سندھ میں پری پرائمری اسکولنگ کانظام اپنے علیحدہ تشخص کے ساتھ قائم ہی نہیں ہوسکا۔ادھر ’’ایکسپریس‘‘ نے اس سلسلے میںجب صوبائی وزیرتعلیم سید سردارشاہ سے معاملے پر بات کی توان کاکہناتھاکہ محکمہ اسکول ایجوکیشن ہرصورت میں آئندہ تعلیمی سیشن کے آغاز پر ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کانصاب شائع کردے گا۔

Check Also

سابق چیف جسٹس کے پلاٹ پر قبضے اور اہل خانہ پر فائرنگ کا مقدمہ درج

 راولپنڈی: سابق چیف جسٹس سعید الزماں کے پلاٹ پر قبضے اور اہل خانہ پر فائرنگ کرنے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *