Home / کالم / سیاستدانوں کے سکینڈل

سیاستدانوں کے سکینڈل

 

سیاستدانوں کے سکینڈل
تحریر:علی جان
ای میل aj119922@gmail.com
آج کے آرٹیکل کی شروعات ایک واقعہ سے شروع کرتاہوں کہ ایک دفعہ کاذکرہے کہ ایک ریاست تھی جس کاقانون تھاکہ اس میں جوبھی بادشاہ بنے گا ایک سال کے بعدجنگل کے جانوروں کے آگے ڈال کے اس کو ماردیاجائے گاجوبادشاہ بھی آتاکھاتاپیتااورسال گزارکے جنگلی جانوروں کاکھانابن جاتا ان میں ایک ایسابادشاہ آیاجس نے سوچاکہ ایک سال زندگی کوانجوائے کرنے سے بہترہے کہ اس سال کام زیادہ کرکے ساری زندگی مزے کیے جائےں اس نے وزیروں مشیروں سے پوچھاکہ جتنے بھی بادشاہ مرے انہیں کس جگہ پھینکاجاتارہاانہوں نے بادشاہ کووہ جگہ دکھائی بادشاہ نے اس جنگل میں سے جانوروں کودوسرے جنگل میں شفٹ کردیااوراس جنگل میں ایک عالی شان محل بنوادیا اورہمہ قسمی ضروریات کی اشیاوہاں پہنچوادیں یہاں تک کہ لونڈیاں بھی جب سال پوراہواتوطے کردہ جگہ پربادشاہ کوبھیج دیاگیا بادشاہ وہاں اترااوراپنے محل کی طرف ہولیاوہاں جاکے اس نے اپنی حکمرانی پھرسے سنبھال لی ۔ہمارے ملک کاحال پہلے والے بادشاہوں جیساہے آتے ہیں عیاشیاں کرتے ہیں اورااپنی جیبیں بھرتے ہیں حکومت کی مدت پورے ہونے کے بعدپھراپنی باری کاانتظارکرتے ہیں اورسکیمیں لڑاتے ہیں کہ اس ملک کو کیسے لوٹناہے میرے ملک کی ہسٹری بتاتی ہے کہ جب سے ہم آزادہوئے جوبھی آیااس نے مہنگائی کوبڑھایااس پرسنجیدگی سے نہیں سوچااس وقت ملک کے 80%لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں کروڑوں افرادبے روزگاراورعلاج کیلئے سہولت نہیں آج اس ترقی یافتہ دورمیں بھی لوگ جانوں کے ساتھ پانی پینے پرمجبورہیں اور55%لوگ غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزاررہے ہیں اوراوپرسے اس مہنگائی نے عوم سے جینے کاحق بھی چھین لیاروز اخبارایسے سرخیوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں فلاں گھرمیں اتنے لوگوں نے غربت سے تنگ آکرموت کوگلے سے لگالیااس مہنگائی کے سونامی نے عوام کی امیدوں کوبہاکرلے گیاہے جوتبدیلی کے نعرے لگاتے تھے آج وہ لوگوں کے بیچ بیٹھنے سے ڈرتے ہیں اگرکوئی ان کے ساتھ آکربیٹھ بھی جائے توڈھیٹ پن کامظاہرہ کرتے ہیں کہ سب ن لیگ اورپی پی کاکیادھراہے جولوگ ایسی باتیں کرتے ہیں میراان سے سوال ہے کہ کیاحریمشاہ اورصندل خٹک کے تحفے بھی ن لیگ نے دیے ہیں جن کی طرف سے ویڈیوز اورتصاویرپبلک کرنے کاسلسلہ جاری ہے اب توقوم کوجان لیناچاہیے کہ ہمارے حکمران 62-63کی کسوٹی پرجانچے ہوئے حکمران ہیں اگریہ آئین کے ساتھ مذاق نہیں توکیاہے ۔ منٹونے غلط تونہیں کہاتھاکہ شہرکے شرفاءکوشہرکی طوائفوں سے زیادہ کوئی نہیں جانتااب دیکھیں ان بولڈخواتین نے کس طرح بڑے بڑوں کوہیجڑابناکے رکھاہواہے میرے خیال میں اس پرتبصرے کی ضرورت نہیں اورراقم کے مطابق کوئی یہ سوچتاہے کہ ایسی ویڈیوز اورتصاویرمحض تفریح ہے تواس جیسااحمق کوئی ہوہی نہیں سکتا۔اب عوام وہ ویڈیودیکھ بھی رہی ہے وائرل بھی کررہی ہے اورحریم شاہ،صندل کوالقابات سے بھی نواز رہی ہے ہوسکتاہے جن کے ساتھ انکی ویڈیوزہیں وہ سکتاہو وہ ان کے ہیرورہ چکے ہوں باقی تورب کی ذات بہترجانتی ہے اس کے برعکس اگرایسی کوئی تصویرکسی مڈل کلاس فیملی کے لڑکے لڑکی کی ہوتی توپولیس کی منتھلی بھی لگ چکی ہوتی اورہم جیسی عوام انہیں ملک بدربھی کرچکی ہوتی اوراسکاپوراخاندان عبرت کانشان بن چکاہوتا۔اگرمیں اپنے ملک کی پولیس کی انویسٹیکشن کی بات کروں تو وہ توسگے بہن بھائی کوبھی بھرے بازارمیں روک کرمشکوک حرکات کامرتکب قراردے سکتی ہے اورہم عوام بھی کہیں گے پولیس سچی ہے انہوں نے کوئی ایسی حرکت ضرورکی ہوگی بجائے یہ سوچنے کے کہ اتنے مقدس رشتے پرانگلی اٹھ رہی ہے کیونکہ ریاست مدینہ کے محافظ توجھوٹ بول نہیں سکتے اب پتہ نہیں اورکتنی صندل اورحریم شاہ ہیں جنہوں نے بڑے بڑوں کونکیل ڈالی ہوئی ہیں قانون صرف غریب لوگوں کیلئے ہے جس کی مثال میں اپنے لکھے آرٹیکل جس کاعنوان تھا کادارلامان کاشانہ پرعوام کاردعمل جس میں راقم نے لکھاتھا کہ وزیراجمل چیمہ کواس میں ملوث کیاگیاہے جس کیلئے سابق سپریٹنڈنٹ خود نشانہ بنے گی کل کی تازہ خبریہی تھی کہ سابق صوبائی وزیراجمل چیمہ کو کلین چٹ مل گئی اب سارانزلہ افشاں لطیف پرگرے گا اس نیوز میں یہ بھی کہاگیاکہ بچیوں کے بیان جھوٹ پرمبنی ہیں اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ افشاں لطیف غلط ہوسکتی ہے کہ اس نے اپنی سرکاری نوکری ،گھراورگاڑی بچانی ہے مگربچیاں کیوں جھوٹ بولیں گی ۔پاکستان اورآئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس ہدف میں 233ارب روپے کی کمی کردی گئی ہے یادرہے ٹیکس کمی کی درخواست اس لیے کی گئی کہ ملک کی 50فیصدآمدنی ،درآمدات کے ذریعے ہوتی ہے جبکہ دیگرٹیکسزجیساکہ انکم ٹیکس،جی ٹی ایس،جوودہولڈنگ ٹیکس کی صورت میں درآمدات کے ذیل میں ہوتاہے اس کاحصہ 30سے32فیصدیعنی یعنی درآمدات کے حوالے سے آمدنی 40سے 50فیصدہوتی ہے ۔ایف بی آرکے اعلیٰ حکام کاکہنا تھاکہ پاکستان کی جانب سے ایف بی آررینوکے ہدف میں کمی کی مزیددرخواست نہیں کی گئی کیونکہ ٹیکس جمع کرنے کی درست صلاحیت نہیں کی گئی کیونکہ ٹیکس جمع کرنے کااندازہ جنوری 2020میں پتہ چلے گا اب تک رواں مالی سال کے ابتدائی چارماہ کے دوران ایف بی آرکوریونیوہدف میں 163ارب کی کمی کاسامنا ہے۔حکومت سالانہ محاصل کے اہداف پورے کرنے کیلئے ٹیکسوں کے نظام میں بہتری لانے کیلئے کوشاں ہیں اورٹیکس نیٹ وسیع ہونے کی اچھی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں تاہم یہ کوششیں بھی بارآورثابت ہونگی جب ادائیگیوں کاتوازن بہترہوگا۔بزنس مینوں سے ٹیکس وصول کرکے حکومت نے ملک کیلئے اچھی شروعات کی ہے اس کے ساتھ سال 2019میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے بھی کروڑوں روپے وصول کیے جس وجہ سے لوگ قانون کی پاسداری کی طرف آرہے ہیں اس کے علاوہ ماحول کوآلودگی سے بچانے اورسموگ سے صاف کرنے کیلئے کروڑوں درخت لگائے ان سب خوبیوں کے باوجود میں آخرمیں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اتناعرض کرناچاہوں گاکہ آئے روز آپکی مدینہ ریاست پربننے والے نئے پاکستان میں آئے روز وزراءکی عیاشیوں کی ویڈیوز،آڈیوز اوربے ہودہ تصاویراورسکینڈلزسامنے آرہے ہیں کیا22سالہ جدوجہداورقربانیوں کامنطقی مقصدفقت یہی عیش وعشرت تھا؟خدارااس بات کوسیاست کی نظرنہ ہونے دیں ایسے وزیروں مشیروں کوعبرت کانشان بنائیں تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے ورنہ آپکی ریاست مدینہ پوری دنیامیں بدنام ہوکرمثال قائم کردے گی۔

Check Also

غلامی سے نجات !

  جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی حقیقت اور دعوےٰ دو الگ الگ باتیں ہیں یہ الگ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *