Home / کالم / سیاسی فوٹو سیشن جاری

سیاسی فوٹو سیشن جاری

سیاسی فوٹو سیشن جاری
تحریر:علی جان

aj119922@gmail.com
اس ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے سستی شہرت مل جاتی ہے اس کا خوب استعمال ہمارے جیتے ہوئے ایم این ایز اورایم پی ایز نے کیا ہے ہم سوچتے تھے الیکشن جیت کے عوامی مسائل کے ساتھ ساتھ علاقے کے مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں مگراس کیلئے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھنا ضروری ہوتا ہے مگرسیاسی ماحول میں ہرکوئی اپنی چودھراہٹ بنانے میں کرسی پرقابض رہنے میں کسی حد تک جاسکتے ہیں ۔ضلع مظفرگڑھ میں جتوئی گروپ اورلغاری بخاری اتحاد گروپ کے درمیان الیکشن ہواجس میں جتوئی گروپ بری طرح ناکام ہواجن سے ترقیاتی کام کی کوئی امیدنہیں رکھی جاسکتی خرم سہیل لغاری نے پہلی مرتبہ نوجوان امیدوارنے جیت کراس ضلع میں تاریخ رقم کی ۔بات کریں فوٹوسیشن اورسستی شہرت کی تو مشیرخاص وزیراعلٰی پنجاب نے وعدہ کیا تھا کہ اپنے حلقہ کے لوگوںکی محرومیوں کوختم کروں گامگرخرم سہیل بھی صرف فوٹو سیشن تک ہی چل رہے ہیںحکومت وقت کو سال ہونے کوآیا مگرلغاری صاحب اپنے علاقے میں کوئی بھی منصوبہ لے کے نہ آسکے ۔قارائین کو یاد دلاتاچلوں کہ پی پی 275میں ضلع بھرکا دستی کے بعددوسرابڑااپ سیٹ ہوا جس میں ایک نوجوان نے سیاست کے ٹھاکر صوبائی وفاقی وزیربرائے دفاعی پیدوارسردارعبدالقیوم جتوئی کو ہراکرنئی تاریخ رقم کردی خرم لغاری آزادامیدوار تھے جنہوں نے 48729ووٹ لیکر13امیدوارں میں سے جیت اپنے نام کی اور عبدالقیوم جتوئی 33781ووٹ حاصل کرسکے تھے یاد رہے لغاری بخاری کامنشورتھا1۔الگ صوبہ کا قیام2۔تحصیل جتوئی میں یونیورسٹی کا قیام3۔کرمدادقریشی سے علی پور ون وے روڈ کی تعمیر4۔تحصیل جتوئی کے تمام ملحقہ علاقوں میں سوئی گیس کی فراہمی5۔میرہزارخان میں گرلزوبوائز ڈگری کالجز کاقیام6۔بکائنی میں گرلزوبوائز ہائی سکولز اورہسپتال کا قیام7۔تحصیل ہیڈکوآرٹرہسپتال،رورل ہیلتھ سنٹرشہرسلطان کی اپ گریڈیشن8۔مظفرگڑھ تاترنڈہ ون وے روڈ9۔تحصیل جتوئی کے تمام ہیلتھ سنٹرز کی اپ گریڈیشنز10۔تحصیل جتوئی کی تمام رابطہ سڑکوں کی از سرنوتعمیر11۔دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پرلنڈی پتافی،رام پوراورجھگی والا میں سپربندکی تعمیر12۔دریائے سندھ کے کٹاﺅ سے متاثرین کی مستقل بحالی13۔تحصیل جتوئی میں صاف پانی مہیا کرنے کیلئے فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب14۔تحصیل جتوئی کے تمام دیہی علاقوں میں بجلی کی سپلائی میرامقصداپنے قارائین کو منشوریاددلوانے کے ساتھ ساتھ معاون خصوصی وزیراعلیٰ کوبھی یاددلانا تھا کہ آپ نے اپنے علاقے سے جووعدے کیے ہیں وہ وفا ضرورکرنا ورنہ عوام بڑی بے وفا ہے میں آپ نے الیکشن سے پہلے اور اب تک لوگوں کے دلوں میں جوجگہ بنائی ہے وہ ہمیشہ قائم رکھنااسی لیے تخت لہور کوبھول کے اپنوں کو زیادہ ترجیح دینا تاکہ اپنے غیرنہ بنیں۔اگرباسط سلطان بخاری ایم این اے کی بات کریں تووہ تواستاد بندے ہیں سیاست کے ہرپینترے سے واقف ہیں اسی وجہ سے جنوبی پنجاب صوبہ تحریک کے ذریعے پی ٹی میںشمولیت اختیارکی اوراپنی کرسی پکی کرلی مگرالگ صوبے کانام ایک باربھی نہ لیاکیونکہ (تمانکلیا….درکھان وسریا)حکومت کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگینے بھی بھرپورطریقے سے ناخوش کیا ہے جیسے کہ حکومت نے کہا تھا احتساب سب کا مگرچوربھاگنے میں کامیاب چوربِل میں چھپ گئے جنہیں پی ٹی آئی تلاش نہیں کرسکتی مگریہ احتساب والا معاملہ توپچھلے 70سال سے چلاآرہا ہے ہمیں لگ رہا تھا اس باراحتساب کا عمل رکنے والا نہیں ہمارااحتسابی ماضی بھی توہے جیسے کبھی ایوب خان کاایبڈوکے ذریعے احتساب ہوناتوکبھی احتساب کے نام پرضیاءالحق نے مخالفین کی گردنیں اڑوادیں توکبھی انتقامی پوڈااورپروڈااحتساب اگرجنرل امجدکااحتسابی دباﺅیادکریں توجنرل مقبول کا احتساب خودہی یادآجاتا ہے اورزرداری کاشریف برادران کااحتساب توکبھی شریفوں کا زرداری احتساب مگرہم بات کررہے تھے باسط بخاری کی جنہوں نے اپنے ووٹرزکاجینادوبھرکردیا ہے جس کی وجہ سے بخاری گروپ کے ووٹرز نے ان کے خلاف فیسبک پربخاری بھگاﺅ تحریک چلا رکھی ہے اس کی وجہ آپکوفیسبک کی پوسٹوں سے بتاتاہوں انصرملک نامی ایک شخص نے لکھا کہ باسط بخاری ہم آپکی اورآپکے منشیوں کی سازش کو کسی طورپرکامیاب نہیں ہونے دیں گے کہ موضع خالطی کہ کوٹ رتہ کی عوام آپ کے گروپ سے پچھلے 25سال سے وابسطہ ہے اورہرمشکل حال میں بھی آپکے والداورآپ کے ساتھ کھڑے رہے مگرستم ظرفی آپ نے اپنے محسنوں پریہ ڈھائی ہے لوگ اپنے اقتدارمیں اپنے ووٹرز کوآسانیاں دیتے ہیں اورآپ ہیں کہ محسن کُش بن رہے ہیں۔پانچ سال سے کوٹلہ روڈ انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے یہاں سے گزرنا پل صراط کے گزرنے کے مترادف ہے آپکواس سڑک کی منظوری کیلئے بارہاکہاگیا مگرآپ کے کان پرجوں تک نہ رینگی اب جب ہم علاقے والوں نے اپنی مددآپ کے تحت منظورکروائی توآپ اس کو دوسری جگہ منتقل کروانے پرلگ گئے اب کی بارہم آپ کے حامی نے بلکہ سب سے بڑے مخالف ہیں اب سیاسی جنگ بھی خوب ہوگی اوراس حوالے سے قانونی جنگ بھی خوب ہوگی اگرہم سڑک منظورکرواسکتے ہیں تواس کی منتقلی بھی رکواسکتے ہیںآپ اورآپ کے چمچوں کوپیغام ہے کہ موضع خالطی میں سوچ سمجھ کرآیے گا۔بس اس کے بعدبخاری بھگاﺅتحریک ایسی چل پڑی جیسے مچھربھگاﺅتحریک ہومدثرشکورنے لکھایہ سلسلے ہیں جوفضول لوگوں کے ہاتھ میں ہیں یہ سلسلے توڑنے کیلئے قانون چاہیے جوآج تک ان سیاسی کارندوں کیلئے نہیں بناآپ اکیلے کچھ نہیں کرسکتے عوام سدھرنے والی ہے نہیں جنہوں نے آج تک نہیں سوچا ووٹ دینا چاہیے ؟کیوں دینا چاہیے؟کس کودیناچاہیے؟توجلنے دوانکو اس آگ میں جوانہوں نے خودجلائی ہے ہم نے انکوووٹ نہیں دیابلکہ اپنافرض اداکیا ہے مگریہ مافیااپنے پاﺅں پرخودکلہاڑی ماررہی ہے۔ایڈووکیٹ محمدعلی ڈوگرنے لکھاایسے سیاستدانوں کواپنی خودپسندی لے ڈوبے گی میں نے جھگی والاروڈ کا مقدمہ تین سال حکومتی ایوانوں تک پہنچایااس حکومت نے اس کاپازیٹیوجواب جواب بھی ملا مگریہ نامنہاد خدمت گارآج تک اس روڈ کانام بھی لینے سے کتراتے ہیںملک جعفرنے دھمکی خیزپوسٹ کی کہ مجاہداورکورائی والی سڑک بھی کوٹ رتہ اورخالطی کی تھی مگرانکی منتقلی کرادی گئی شاہ جی کیا ہم آپ کوووٹ نہیں دیتے اب کوٹ رتہ میں سوچ سمجھ کرآیئے گاکیونکہ انڈے اورٹماٹرکوٹ رتہ میں بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔اللہ ہمارااور آپ کا حامی وناصرہو آمین آخر میں میںتمام سیاستدانوں سے صرف اتنا کہوں گا کہ خدارا آپ الیکشن لڑیں آپ ہی جیتیں مگراپنی اس جنگ میں معصوم عوام کو مت پسیں اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور ایک دوسرے کو براثابت کرنے کیلئے علاقے کی ترقی کے دشمن نہ بنیں کیوں کہ آپ بھی اسی علاقے میںرہتے ہیں اور شایدآپ کے بچے بھی یہیں پررہتے ہوں۔

Check Also

موم کا پتھر

  موم کا پتھر تبصرہ نگار: شہزاد حسین بھٹی “موم کا پتھر” کیمبل پور کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *