Home / کالم / سیب قدرت کا انمول تحفہ

سیب قدرت کا انمول تحفہ

 

 

سیب قدرت کا انمول تحفہ
حفیظ چوہدری
مرکزی صدر :۔اسلامک رائٹرزموومنٹ پاکستان
سیب ایک مشہور پھل ہے ،جس کا درخت 28تا30فٹ اونچا ہوتا ہے ۔سیب کے درخت پرسیفد رنگ کے پھول کھلتے ہیں جن میں سرخ چھینٹے ہوتے ہیں ۔پھول لگنے کا موسم بیساکھ سے بھاگن تک ہے ۔سیب کی رنگت سبز،سرخ یا زرد ہوتی ہے ،کچا پھل ترش یا پھیکا ہوتا ہے جو پکنے کے بعد میٹھا ہوجاتا ہے ۔ترش سیب سینے اور پٹھوں کیلئے مضر ہے ،اس کا زیادہ استعمال کرنا سستی اور نسیان کا باعث بنتا ہے ۔
سیب کی تاریخ :۔
سیب ایک نہایت صحت افزا غذا اور طاقت بخش دوا ہے ۔اس کی خوبی کی بنا پر اسے بے شمار خوبیوں کا پھل کہا جاتا ہے ۔ایک عام سیب میں تقریبا ًایک سو کیلریزکی قوت ہوتی ہے ۔سیب کا ذکر قدیم مذہبی کتابوں اور گےتوں میںملتا ہے ۔پتھر کے زمانے کی جوتصویریں دریافت ہوئی ہیں ان پر سیب کی تصویریں کندہ ہیں ۔سیب کا ذکر بائیبل میں بھی کیا گےا ہے ۔کولمبیا انسائیکلوپیڈیا اور ورلڈبک انسائیکلوپیڈیا میں درج ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا ؑ جس پھل کے کھانے کی وجہ سے جنت سے نکالے گئے تھے وہ بھی سیب ہی کی ایک قسم تھی ۔
دنیا میں یہ سب سے پہلے بحیرہ مرداراور بحیرہ کیپئین کے درمیان کا کسس نامی مقام پر پیدا ہوتا تھا ۔اہل روم برطانیہ میں اس کے بیج لے گئے 1269ءمیں اس کا ایک پودا برطانیہ سے امریکہ لے جاےا گےا ۔آج کل اس کی پیداوار دنیا کے ان تما م حصوں میں ہوتی ہے جہاں نہ بہت زیادہ سردی ہوتی ہے اور نہ بہت زیادہ گرمی ۔دوسری جنگ عظیم کے بعد اس کی پیدا وار بہت بڑھ گئی ہے ۔فرانس ،جرمنی ،اٹلی اور امریکہ میں یہ سب سے زیادہ پیدا ہوتا ہے ۔دنیا میں اس کی سالانہ تجارت قریباًچارکروڑ من ہے ۔اٹلی سب سے زیادہ برآمد کرتا ہے اور مغربی جرمنی سب سے زیادہ در آمد کرتاہے۔
سیب ایک ایسا پھل ہے جو منڈی میں سارا سال ملتا ہے ۔تاجر سیب کی پیدا وار کے وقت اسے سر دخانوں میں رکھ دےتے ہیں اور پھر سارا سال اسے فروخت کرتے ہیں۔سردخانوں کا درجہ حرارت نقطہ انجمادکے قریب 28.5فارن ہیٹ رکھا جاتا ہے ۔اس طرح وہاں رکھی ہوئی کوئی بھی چیز خراب نہیں ہوتی ۔
اقسام کے لحاظ سے سیب کی بھی سینکڑوں قسمیں ہیں ۔چنانچہ اب تک سیب کی تقریباً1500قسمیں ماہرین اثمار کے مشاہدہ میں آچکی ہیں ۔صرف ایک کشمیر ہی کے چھوٹے سے خطہ میں تقریباً50قسم کے سیب پیدا ہوتے ہیں ،جو قدوقامت ،ذائقہ اور رنگ وبو کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔
تازہ سیب میں 84فیصد پانی ہوتا ہے اور باقی ٹھوس ۔اس میں زیادہ تر کھانڈ اور پروٹےن ہوتی ہے ۔سیب میں Malicacidبھی ہوتا ہے ،جو مختلف سیبوں میں مختلف نسبت سے پایا جاتا ہے ۔سیب مین فاسفورس دیگر تمام پھلوں اورسبزیوں سے زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے ۔سیب کا چھلکا اتار دینا ،سیب کے ایک بہت قیمتی جز و کو پھینک دےنے کے مترادف ہے ۔تازہ ترین تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ سیب ے چھلکے میں وتامن سی بہت بری مقدار میں پایا جاتا ہے ۔اس لئے سیب کے اکسیری فوائد سے پورءطور پر مستفےد ہونے کیلئے ضروری ہے کہ اس کا چھلکا جدانہ کیا جائے بلکہ اسے ایک قیمتی جزو سمجھ استعمال کیا جائے ۔
سیب ایک نہایت صحت افزا غذااور ایک نہایت طاقت بخش دوا ہے ۔اس کے متواتر استعمال سے صحت وشباب میں چار چاند گ جاتے ہیں ۔روزانہ نہارمنہ تےن چار سیب کھا نے کے بعد اگر دودھ پیا جائے تو ایک دومہینوں میں ہی صحت قابل رشک بن جاتی ہے ۔جلد کا رنگ وروغن نکھر آتا ہے۔چہرے پر سرخی کی لہر آجاتی ہے ۔ اعضائے رئیسہ کی تمام کمزوریاں دورہوکر ان میں ایک نئی زندگی کی روح سرایت کرنے لگتی ہے ۔مختصر الفاظ میں یوں کہنا چاہیے کہ اس غزا سے وہ تمام فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کا ذکر بری بڑی قیمتی دواﺅں کے اشتہاروں میں تو پایا جا تا ہے مگر جو دراصل کسی دوا سے حاصل نہیں ہوتے ۔
سیب کے چھلکے سے نہایت لذیذاورخوشبودارچائے تےار ہوتی ہے جو عام چائے قہوہ اور کافی کی طرح مضرت رساں ہونے کی بجائے حد درجہ صحت بخش پائی گئی ۔ خصوصیت سے بوڑھوں اور کمزورں کیلئے تو اس کا اثر بہت قوی تسلیم کیا گےا ہے ۔اس میں اگر حسب ضرورت اور حسب ذائقہ لیموں کا رس اور شہد ملالیا جائے تو صحت بخش اجز میں تےن گنا اضافہ ہوجاتا ہے ۔
میٹھا سیب:۔
فرحت بخش اور مقوی ہے ۔معدہ اور جگر کو تقوےت دیتا ہے ۔جسم میں خون کی پیدائش کو بڑھاتا ہے ۔اس کے استعمال سے وحشت وسوداوےت کا غلبہ دور ہوجاتا ہے۔
ترش سیب:۔
میٹھا سیب جن خصوصیات کا حامل ہے ترش سیب میں بھی وہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ ان کے علاقہ یہ قے اور پیاس کو دور کرتا ہے ،نیز صفراوی مزاج کے افراد کیلئے موزوں ہے ۔اس سے صفراوی دست بھی رک جاتے ہیں ۔
کھٹا میٹھا سیب:۔
اس میں ترش وشیریں سب کی تما خوبےاں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔علاوہ ازیں خونی مزاج کیلئے بھی مفید ہے ۔
سیب بدن انسانی کی متعدد بیماریوں کیلئے انتہائی مفید غذا اور دوا ہے ۔ذیل میں ان امراض کا مختصر تذکرہ کیا جارہا ہے جن کا علاج سیب کے ذریعہ ممکن ہے ۔
سردرد:۔
سردرد کی بے شمار اقسام ہیں جن کا یا درکھنا عام آدمیوں کیلئے انتہائی مشکل کام ہے۔اگر ہم اس کی اقسام کو یاد کرکرنے لگیں تو خود سردرد کا شکا رہوجائیں ۔اس لئے اس طویل بحث سے بچنے کیلئے اس مرض کو رفع کرنے کے دو نسخے درج کئے جارہے ہیں ۔
(1)ایک سیب لے کر اسے چاقو سے چھیل لیں اور قاشیں کرکے نمک چھڑکنے کے بعد نہار منہ نوش فرمائیں ۔تےن چار روز کے مسلسل استعمال سے انشاءاللہ کنہسے کہنہ سردرد دور ہوجائے گا ۔یہ ناشتہ کا ناشتہ اور دوا کی دواہے ۔
(2)خشک شدہ سیب اور جنگلی اپلوں کی راکھ ہم وزن لے کرباریک پیس لیں اور شیشی میں بحفاظت رکھیں ۔بوقت ضرورت ”بسم اللہ “ پڑھکر دونوں نتھنوں میں بطور نسوار استعمال کریں۔یہ سردرد کیلئے حکمی دوا ہے ۔علاوہ ازیں نزلہ زکام کو بھی مفید ہے ۔یہ دوا فاسدمادہ کو خارج کرکے دماغ کو ہلکا پھلکا بنادیتی ہے ۔
ضعف دماغ :۔
سیب مقوی دماغ پھل ہے ۔قدیم ہند وکتب میں اسے دیوتاﺅں کی غذظاہر کیا گےا ہے ۔جدیدطبی تحقیقات کے مطابق اس میں فاسفورس کا جزوبھی موجود ہے۔ جس کے استعمال سے دماغ کے علاوہ اعصاب اور ہڈیاں بھی نشوونماحاصل کرتی ہیں ۔ ضعف دماغ کا مرض آج کل برصغیر پاکستان وہندوستا ن میں عام ہے ۔دائمی نزلہ وزکام کے 80فیصد مریض در اصل ضعف دماغ ہی کا شکا رہیں۔ایسے مریض کو دافع نزل وزکام ادویات سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ تاوقتیکہ دماغ کو تقوےت پہنچا کر مضبوط نہ بنایا جائے ۔ضعف دماغ کیلئے سیب سے تےار ہونے والے نسخہ جات درج ذیل ہیں ۔
یہ نسخہ دماغ کومضبوط بنانے کیلئے ایک مسلمہ چیزہے:۔
ضعف دماغ کے مریض کھاناکھانے سے 10منٹ پیشتر ایک یادو نہاےت اعلیٰ درجہ کے سیب لے کر بغیر چھلکا اتارکے نوش فرمایا کریں۔مسلسل استعمال سے دماغ نہایت طاقت ور ہوجاتا ہے اور بھولی بسری باتےں یا دآنے لگتی ہیں ۔
سیب کا مربہ :۔
بوقت صبح بطور ناشتہ سیب کا مربہ ورق نقرہ میں لپیٹ کر استعمال کرنا صرف مقوی قلب ہی نہیں بلکہ مقوی دماغ بھی ہے ۔اگر مغزبادام مقشر(چھلے ہوئے)تمام رات عرق کیوڑہ میں بھگو کر ناشتہ میں شامل کرلیئے جائیں تو فوائد میں بیش بہا اضافہ ہوجاتا ہے ۔
اس علاج کو سیبی علاج کے نام سے موسوم کیا جاتاہے ۔یہ ضعف دماغ ،سردرد ،اکثر قسم دوران سر یعنی سر چکرانا اور بدہضمی کیلئے انتہائی مفید ہے ۔اس علاج میں پہلے شکر پانی میں حل کرکے اس سے انیما کیا جاتا ہے ،تاکہ آنتےں اچھی طرح صاف ہوجائیں بعدہ مریض کو کھانے میں فقط سیب دےے جاتے ہیں ۔یہاں تک کہ ہفتہ عشرہ میں ڈیڑھ سیر کے قریب سیب مریض کو کھلا دیے جائیں ۔سیب یا تو تازہ ہونے چاہیئں یا سٹیم پر لگاکر نرم کئے ہوئے ہوں ۔کسی بھی صورت میں اس کے چھلکے کو اتار نا نہیں چاہئے ،کیونکہ وہ ہضم کرنے میں مدددیتا ہے ۔
خمیرہ سیب :۔
گل سیب اور مصری ہم وزن لے کر اچھی طرح کوٹ لیں ۔جب اچھی طرح مل جائیں تو برتن میں بند کرکے چالیس روز تک دھوپ میں رکھیں اور بعد میں ایک تولہ صبح نوش جان کیا کریں ۔مقوی دماغ ہی نہیں معدہ ،جگر اور دل کو بھی تقوےت دیتا ہے۔
آشوب ِچشم :۔
آج کل آشوب چشم کی مرض وبا کی شکل میں نازل ہورہی ہے ۔یہ مرض کراچی سے شروع ہو کر پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور ہر شہر میں بہت سے لوگ اس مرض کا شکار پائے جاتے ہیں ۔قارئین علوم ربانیہ کی خدمت میں تےن نسخہ جات آشوب چشم کیلئے تحریر کیئے جارہے ہیں ۔آپ خود بھی ان پر عمل کریں اور اپنے جاننے والوں کو بھی ان نسخہ جات سے آگاہ کریں ۔
سیب کا ایک ٹکڑا لے کر چاقوسے چھیل لیں اور نغدہ کر کے دکھتی آنکھوں پر رکھ کر اوپر سے ململ کی پٹی باندھ دیں ۔انشاءاللہ فوراًآرام آجائے گا ۔
نغدہ :۔سیب کو پانی میں تر کرکے گھوٹ لیں اور ٹیکہ بنا لیں اس عمل کو نگدہ کرنا کہتے ہیں ۔
یہ لوشن زنک لوشن سے بھی زیادہ مفید ہے ۔تےار کرکے قدرت کی حیرت انگیزیوں کا مشاہدہ کریں اور اس موذی مرض کے پنجہ سے خلق خدا کو نجات دلائیں ۔
ہوالشافی :۔حسب ضروت سیب لے کر انہیں چوبی ہاون دستہ میں ڈال کر کوٹ لیں اور کسی ململ کے کپڑے سے پانی نچوڑیں۔اس جوس میں4رتی فی تولہ کے حساب ست پھٹکڑی بریاں خوب اچھی طرح شامل کریں ۔بس معجز نما لوشن تےار ہے ۔بوقت ضرورت ڈراپر سے تےن تےن قطرے آنکوں میں ڈالیں ۔بچے سے لے کر بوڑھے تک بلاجھجک استعمال کرکے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔
یہ نسخہ جملہ امراض چشم کیلئے بے حد مفید ثابت ہوا ہے ۔خصوصاًآنکھوں سے پانی بہنا ، سرخی چشم ،ضعف بصر ،دھند ،جالا اور خارش چشم کیلئے نہایت مجرب عمل ہے ۔
سرمہ سیاہ 2تولہ،قلمی شورہ3ماشہ ،کف دریا3ماشہ ،سیاہ مرچ 7عدد ،تےن دن سیب کے پانی میں خوب کھرل کریں اور خشک ہونے پر ڈراپر میں مھفوط کر لیں ۔رات سوتے وقت ”بسم اللہ “پڑھ کر دو ،تےن سلائی آنکھوں میں ڈالیں نہایت مفید ہے ۔
بے خوابی کا علاج :۔نیند اللہ تعالیٰ کی ایک ہت بڑی نعمت ہے ۔دن بھر کام کاج میں مصروف رہنے کے بعد جب آدمی تھک کر چور ہوجاتا ہے تو حکم ایزدی کے مطابق نیند کی دیوی چپکے سے اسے اپنے پہلو میں جگہ دیتی ہے اور وہ دنیا ومافیہا سے گافل ہوکر خواب خرگوش کے مزے لینے لگتا ہے اور جب بیدا رہوتا ہے تو تھکاوٹ اور پریشانیوں سے نجات پاچکا ہوتا ہے ۔اگر کسی وجہ سے نیند نہ آئے اور آدمی بے خوابی کا شکا رہوجائے تو اس کے حصول کیلئے انسان کو کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا ۔بے خوابی کا مریض کبھی ستارے گننے لگتاہے اورکبھی گنتی گننا شروع کردیتا ہے اور کبھی خواب آور گولیوں کا ایسا عادی بن جاتا ہے کہ ان کے بغےر اسے نیند ہی نہیں آتی ۔سیب اس مرض کیلئے بھی نہاےت فائدہ مند ہے ۔ درج ذیل نسخہ کے استعمال سے نیند خوب آئے گی اور دماغ بھی قوی ہوگا۔
نسخہ :۔ہر روز صبح کے وقت تےن ماشے بہی دانہ پوٹلی باندھ کر تےن چھٹانک پختہ سیب کے رس میں جوش دیں اور ٹھنڈا کر کے پلائیں انشاءاللہ مسلسل7دن کے استعمال سے بے خوابی کا مرض قطعاً دور ہوجائے گا ۔

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *