Home / کالم / شادی کا خوبصورت بندھن ساس سے یا خاوند سے ؟

شادی کا خوبصورت بندھن ساس سے یا خاوند سے ؟

 

شادی کا خوبصورت بندھن ساس سے یا خاوند سے ؟

ایک تلخ سوال تحریر۔اریبہ فاطمہ ،سیالکوٹ
میں انکی گفتگو کو بہت توجہ سے سن رہی تھی۔پھر اچانک سے بابا جان فرمانے لگے کہ میں آج ایک تلخ حقیقت نہ بتاؤں تمہیں ؟ میں نے سر ہلایا اور وہ درد بھری باتیں کرتے کرتے ہر حقیقت سے پردہ ہٹاتے جارہے تھے۔فرمانے لگے کہ آج کے معاشرے کی ایک حقیقت ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ہر گھر میں ایک ہی گونج ہے۔ ’’کچھ ڈھنگ سیکھ لواگلے گھر(سسرال ) جاکے کیا کرے گی؟‘‘ہر لڑکی جوں ہی جوانی کی عمر کو پہنچتی ہے اسے یسے ہی بے بہا کلمات سننے کو ملتے ہیں۔ہر ماں اس کوشش میں ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی بیاہ کر جب سسرال جائے اس کے پاس ہر طرح کا ہنر ہو۔ اسے گھر کے کام کاج سے لیکر سلائی کڑھائی تک سیکھا دیا جائے۔ہم بالکل بھی اس فکر کو فراموش نہیں کرنا چاہتے کیونکہ زندگی گزارنے کے لیے ایسے تمام امورکا آنا ضروری ہے۔لیکن اس اہم موقع پہ ہم ایک اہم تربیت کو بھول جاتے ہیں۔ہم نے شادی کا مقصد صرف ساس کی خدمت بنا دیا ہے۔ماں تربیت کرتی ہے کہ ساس کو خوش رکھنا اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اس کے سارے کام خود نمٹانا۔۔۔اور دوسری طرف ساس پہ جب تھوڑا بڑھاپا آنا شروع ہوتا ہے تو اسی سوچ سے وہ بیٹے کی شادی کر دیتی ہے کہ بہو کام کرے گی۔مجھ سے اب کام نہیں ہوتا۔۔۔یہ تمام باتیں اور مثالیں ہمیں ہر گھر میں ملیں گی۔کیا ہم ابھی بھی اس شادی کو ساس سے شادی نہیں کہیں گے؟؟؟؟؟شادی کے کچھ عرصہ بعد جب بہو ساس کو خوش نہ رکھ پائے اس کے مزاج کے مطابق زندگی نہ گزارے۔اسکے اطوار پہ نہ چلے تو یہی ساس اپنے بیٹے کی طلاق کروانے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔آج کل۰ ۵فیصد جدائیاں ساس کو خوش نہ رکھنے کی بنا پہ ہو رہی ہیں۔وہ یہ نہیں سوچتی کہ میرا بیٹا خوش ہے اسکے ساتھ کہ نہیں ؟ اسکی ازدواجی زندگی بہتر چل رہی ہے کہ نہیں۔۔۔۔اور بیٹے نہ چاہتے ہوئے ماں کی خوشی کی خاطر اپنے اس پاک رشتے کو طلاق کے نام کا دھبہ لگا دیتے ہیں پھر بابا جان فرمانے لگے کہ بیٹا یہ تو جدید دور کے حالات کی وضاحت تھی۔ چلو اب سنو ازدواجی زندگی یا شادی کس چیز کا نام ہے؟؟؟آج سے چودہ سوسال پہلے میرے اللہ نے اپنے حبیبﷺسے کہہ دیا کہ ہم نے جوڑے اس لیے بنائے تاکہ وہ ایک دوسرے کا سکون بن سکیں ایک دوسرے کا تخفظ بن سکیں۔ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔پھر دنوں میں سے ایک کو زیادہ درجہ دے دیا اور فرمایا ’اور مردوں کو ان (یعنی عورتوں )پہ درجہ دیا گیا ہے۔‘‘مرد کو مزاجی خدا کا درجہ دے دیا اور اسکی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ’’ اگر میں اپنے بعد کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم کرتا ہے کہ اپنے خاوند کو سجدہ کریں‘‘۔یہی نہیں بیشتر مقامات پہ میرے حبیبﷺنے فرمایا کہ تم میں سے بہتر عورت وہ ہے کہ جب اس کا خاوند اسے دیکھیے تو وہ اسے خوش کر دے۔ ہر صورت میں خاوند کو ایک اہم اور خاص مقام دے دیا اور بیوی کو اسکا سکون اسکی دن بھر کی تھکن کو سکونیت میں بدلنے کا ذریعہ بنایا گیا۔ بیٹا !!!ازدواجی زندگی رب العالمین کا بنایا ہوا ایک پاک رشتہ ہے۔عورت کو اللہ اور اسکے حبیب ﷺکے بعد خاوند کی اطاعت کا حکم دے دیا گیا۔خاوند کو حاکم کا درجہ دیا۔ کیا ہمارے گھروں میں اپنی جوان بیٹی کو اس چیز کی ترغیب کی جاتی ہے کہ وہ ازدواجی زندگی کو کیسے خوشحال رکھ سکتی ہے ؟ اسے یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ خاوند کی اہمیت کیا ہے ؟اسے یہ نہیں سکھایا جاتا کہ اسکے ساتھ کیسا سلوک روا رکھنا ہے ؟ اسے یہ بھی نہیں سکھایا جاتا کہ وہ ناراض ہو تو اس کو اکڑ دیکھانے کی بجائے راضی کیسے کرنا ہے ؟؟ اسے تو یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ اگر وہ منع کرے کسی کام سے تو اس کو کرنا اسکی نافرمانی ہے ؟ اسے یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ اطاعت کی ترتیب میں جہاں والدین کا تیسرا نمبر تھا اب اس مقام پہ ازدوجی بند ھن میں آنے کے بعد اسے بٹھا دیاگیا ہے ؟؟؟ جو کام اسے خوش کرے اس کو کرنا ہے جو عادت اسے پسند ہوں اسے اپنانا ہے وہ چلنے کو کہے تو چلنا ہے وہ رکنے کو کہے تو رکنا ہے۔۔۔وہ غلط ہے تو اسے معاف کرنا ہے اس سے بدلہ نہیں لینا۔اسکے والدین کی خدمت کرو تو صرف اسکو خوش رکھنے کے لیے کرو۔وہ کہتا ہے کہ میرے والدین کی خدمت کرو تو اسکا فرض بن جاتا ہے کہ وہ اپنی ہر ممکن کوشش سے ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرے کیونکہ خاوند کے والدین کی خوشی ہی خاوند کی خوشی ہے۔ان کو خوش رکھنا دراصل اپنے شریک حیات کو خوش رکھنا ہے۔ لیکن ساری بنیاد کو فراموش کر کے مخض خاوند کے والدین کی خدمت کو شادی کا مقصد بنا لیا جائے تو وہ رشتہ بے بنیاد کھوکھلا رہتا ہے۔یہ رشتہ جو انتہائی پاک اور سکون کا ذریعہ بنتا تھا آج وہی بے سکون کیوں کرتا ہے ؟ آج اسی رشتے سے منسلک ہوتے ہوئے لوگوں کو ایک عجیب سا خوف گھیر لیتا ہے۔جیسے والدین اور اولاد کے رشتے میں اولاد کو جھکنے کا حکم دیا وہ غلط بھی ہو تو ان کو اْف بھی نہ کہنے کی تلقین کی ایسا ہی مقام ازدواجی زندگی میں خاوند کا ہے۔ہمارے معاشرے کا المیہ ہے جوان بیٹی کو ہر کام سکھا دیاجاتا ہے مگر اس رشتے کی بنیاد نہیں سکھائی جاتی۔ پھر وہ خاوند کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہتی ہے۔وہ روکے تو اسے تنگ نظر کہتی ہے۔وہ ناراض ہو تو منانا اپنی توہین سمجھتی ہے۔وہ ایسا صرف اسی لیے کرتی ہے کیوں کہ اس یہ نہیں علم کہ اس کا مقام کیا ہے ؟ اس کو ازدواجی زندگی گزارنے کا طریقہ نہیں سیکھایا جاتا۔میری التجا والدین سے ہے کہ جہاں باقی گھریلو کام سکھائے جاتے ہیں خدارا اس بنیاد کو ازدواجی زندگی کے اصل مقصد سے روشناس کروایا جائے۔عورت کو مرد کے حقوق اسکے مقام کی اہمیت بتائے۔اور مرد کو عورت کے حقوق پورا کرنے کی تلقین کی جائے۔میں ایک گہری سوچ میں کھو گئی باباجان کی باتیں میرے دل تک جارہی تھی۔میری آنکھیں نم تھی اس سوچ سے کہ ازدواجی زندگی کی اس بنیاد کو ہم فراموش کر چکے ہیں۔میرا دل رب کا شکر ادا کررہا تھا کہ اس نے مجھے باباجان کی صورت میں ایک انمول تخفہ عطا کیا جو مجھے تلخ حقیقتوں کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔

Check Also

ہم خیال یوتھ ووٹرز اور”الیکشن ڈے“ !!

  اشفاق رحمانی ہم خیال یوتھ ووٹرز اور”الیکشن ڈے“ !! قومی الیکشن کسی بھی ملک ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *