Home / کالم / شانِ کائنات حضرت محمدﷺ

شانِ کائنات حضرت محمدﷺ

 

 

شانِ کائنات حضرت محمدﷺ
تحریر عقیل خان
aqeelkhancolumnist@gmail.com
12ربیع الاول کو پورے عالم اسلام مےں حضور نبی کرےم ﷺکی ولادت کا دن بڑے جوش و جذبے اورمذہبی عقےدت و احترام سے مناےا جا تا ہے۔ دنےابھر کے مسلمان اس دن بڑا اہتمام کرتے ہیں ۔اپنے اپنے شہر اور گاو¿ں کے مساجد ،گھراور گلیاں تک سجائی جاتی ہیں ۔شام کو مساجد کے ساتھ ساتھ مسلمان اپنے گھر وں پر لائٹنگ کراتے ہیں۔ کےونکہ اس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب کو اس دنیا میں بھیجا۔مساجد اور گھروں میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
یہ دنیا جس ہستی کے لیے بنائی گئی وہ ہستی آقائے دوجہاں حضرت محمد ﷺ ہیں۔آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت مشہور عام تاریخ کے مطابق 12 ربیع الاول عام الفیل بمطابق 570ءیا 571ءکو ہوئی۔آپ کے والد کا نام حضرت عبد اللہ اور والدہ کا نام حضرت آمنہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پیشوا¶ں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیا اکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کیلئے دنیا میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمرمیں نازل ہوئی۔ 610ءمیں ایک روز حضرت جبرائیل علیہ السلام (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہنچایا وہ یہ ہے۔اق±رَا¿± بِاس±مِ رَبِّکَ الَّذِ¸ خَلَقَ،خَلَقَ ال±Êِنسَانَ مِن± عَلَقٍ — القرآن
ترجمہ: پڑھو (اے نبی) اپنے رب کا نام لے کر جس نے پیدا کیا ۔پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے
یہ ابتدائی آیات بعد میں قرآن کا حصہ بنیں۔ اس واقعہ کے بعد سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رسول کی حیثیت سے تبلیغ اسلام کی ابتداءکی اور لوگوں کو خالق کی وحدانیت کی دعوت دینا شروع کی۔ انہوں نے لوگوں کو روزقیامت کی فکر کرنے کی تعلیم دی کہ جب تمام مخلوق اپنے اعمال کا حساب دینے کے لئے خالق کے سامنے ہوگی۔آپ کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ءمیں مدینہ میں ہوا۔
آپﷺ پیغمبر ہونے سے پہلے ہی انصاف اور دیانتداری کی وجہ سے ملک بھر میں صادق وامین کے لقب سے مشہور تھے۔ حضور اکرم ﷺ انصاف کے معاملے میں کسی سے رعایت نہ کرتے تھے چاہے آپ کا عزیزکیوں نہ ہو۔ عرب کے لوگ آپﷺ کو نبی تونہیں مانتے تھے لیکن وہ فیصلے آپسے کرواتے تھے۔
ٓمسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی آپ ﷺ کے گرویدہ تھے۔ مغربی مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب The Hundred میں دنیا کے ان سو عظیم ترین آدمیوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے دنیا کی تشکیل میں بڑا کردار ادا کیا۔ اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے پہلے شمار پر رکھا ہے۔ ایک عیسائی مصنف بھی اپنے دلائل سے یہ ثابت کرتاہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پورے نسل انسانی میں سیّدالبشر کہنے کے لائق ہیں۔ تھامس کارلائیل نے اپنے لیکچرز میں کہا کہ ”میں محمد سے محبت کرتاہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان کی طبیعت میں نام ونمود اور ریا کا شائبہ تک نہ تھا۔ ہم انہی صفات کے بدلے میں آپ کی خدمت میں ہدیہً اخلاص پیش کرتے ہیں“۔ فرانس کا شہنشاہ نپولین بوناپارٹ کہتاہے ”محمد دراصل سروراعظم تھے۔جن کی وجہ سے 15سال کے قلیل عرصے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جھوٹے دیوتاو¿ں کی پرستش سے توبہ کرڈالی۔ مٹی کی بنی دیویاں مٹی میں ملا دی گئیں۔ جارج برناڈشا لکھتا ہے ”موجودہ انسانی مصائب سے نجات ملنے کی واحد صورت یہی ہے کہ محمد اس دنیا کے رہنما بنیں“۔ہندو گاندھی لکھتا ہے کہ ”بانی اسلام نے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی جس نے انسان کو سچائی کا راستہ دکھایا اور برابری کی تعلیم دی۔ میں اسلام کا جتنا مطالعہ کرتاہوں اتنا مجھے یقین راسخ ہوجاتاہے کہ یہ مذہب تلوار سے نہیں پھیلا“
آج پورے عالم اسلام مےں رسول اکرمﷺ ،پےغمبر انسانےت ،رُوحِ اےماں ، شانِ کائنات اورسراپا نور کے پےکر مےں ڈھلے حضور نبی کرےم ﷺ کی ولادت با سعادت کی خوشی منائی جا رہی ہے۔ہر طرف آمد رسول کے نعرے لگ رہے ہیں مگرمیرا سوال ان لوگوں سے ہے جو رسول اکرم ﷺ کی آمد پر تو جشن منا رہے ہیں مگر کبھی ان کی سنت پر عمل کیا؟ کیا کبھی ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے کی کوشش کی؟ جن چیزوں سے آپ ﷺ نے منع فرمایا کیا ہم لوگ اس سے دور رہے ؟ ہم جتنی خوشی اور جوش کے ساتھ یہ جشن مناتے ہیں کا ش اسی جوش و جذبے کے ساتھ ہم اپنے پیارے آقا حضرت محمدﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرکے پوری دنیا میں اسلام کا بول بالا کردیں۔ دنیا سے برائی کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیں۔ تمام مسلمان ایک کتاب اور ایک نبی کے سائے میں اکٹھے ہوجائیںتاکہ ہم غیر مسلموں کو بتا سکیں کہ ہم ایک خدا اور ایک رسول کے ماننے والے ہیں ۔اس طرح کسی غیر مسلم کی مسلمانوں کی طر ف آنکھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوگی۔اگر ہم ایک امتی ہوکر اپنے ہے بھائی کواور اپنے ملک کو نقصان پہنچائیں گے تو غیر مسلم ہمارے اوپر حاوی ہونگے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی بسر کریں تاکہ ہمارا رب ہم سے راضی ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضورﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *