Home / کالم / شعبان المعظم سے غفلت

شعبان المعظم سے غفلت

شعبان المعظم سے غفلت
تحریر:علی جان ای میل

aj119922@gmail.com
یہ تو سب مسلمان جانتے ہیں کہ رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں مگرحضورپاک شعبان کے مہینے میں بھی سارے روزے رکھتے حضرت اسامہ بن زیدفرماتے ہیں میں نے آقا دوجہاں حضرت محمدﷺ سے عرض کی کہ یارسول اللہ آپ اس مہینے میں سب سے زیادہ روزے رکھتے ہیں آخراس کی وجہ کیا ہے؟توآپ ﷺ نے فرمایارجب اوررمضان المبارک کے درمیان کا مہینہ ہے مگرلوگ اس سے غافل ہیں اس مہینے میں لوگوں کے اعمال اللہ رب العزت کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اورمیں چاہتاہوں جب میں عمل اٹھائے جائے میں روزے کی حالت میں ہوں اس لیے یہ مہینہ مجھے محبوب ہے ۔اسی لیے حضورپاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ شعبان المعظم میرامہینہ ہے اوررمضان المبارک اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں اورانسانوں کو اپنی عبادت کیلئے پیداکیا ہے اللہ تعالیٰ کے بندے اللہ کی رضا اورخوشنودی کیلئے ہروقت عبادات میں لگے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے قربِ خداکیلئے ہرفرائض کی ادائیگی میں لگے رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی رضااورخوشنودی فرائض سے ہی ملنی ہے اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے ہروقت روبروہونے کے بہانے کیلئے اللہ پاک نے انسانوں کو نوافل کی ترغیب بھی دی ہے جس طرح حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حضورپاک ﷺ نے فرمای جب پندرہ شعبان کی رات آئے تو بندہ رات کو عبادت کرے اوردن میں روزہ رکھے تواللہ پاک غروب آفتاب آسمان دنیا پرخاص تجلی فرماتے ہیں اورکہتے ہیں ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا جسے میں بخش سکوں ،ہے کوئی روزی کی طلب والا کہ میں اسے کشادہ رزق سے نوازوں ، ہے کوئی مصیبت میں مبتلا کہ میں اسے عافیت عطا کروں،ہے کوئی ایسا اوریہ فرمان تب تک جاری رہتا ہے جب تک فجرطلوع نہیں ہوجاتی۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں حضورپاک سب سے زیادہ نفلی روزے شعبان میں رکھتے اسی وجہ سے میں اپنے قضاروزے اسی مہینے میں رکھتی ۔جس طرح نمازیں فرض اورکچھ نفلی ہیں اسی طرح کچھ روزے فرض اورکچھ نفلی ہیں ۔ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ فرماتے ہیں جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ پاک اس کیلئے جہنم کی آگ کو ستربرس تک دوررکھتے ہیں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں بہترین روزے داﺅد ؑ کے ہیں کیونکہ وہ ایک دن چھوڑ کردوسرے روز روزہ رکھتے تھے ۔اللہ تعالیٰ ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو قبیلہ بنی کلب کے بکریوں کے بالوں کے برابرگناہ گاروں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتے ہیں (ماثبت بالسنتہ193)میں نے ایک جگہ پرشعبان المبارک کی تجلیات کے بارے میں پڑھا جو میں اپنے قارائین کو بھی بتانا چاہوں گا لفظ شعبان کے پانچ حروف ہیں (ش،ع،ب،ا،ن)ش سے مراد شرف یعنی بزرگی ع سے مراد علو یعنی بلندی ب سے مراد بریعنی :یعنی کے بھلائی اوراحسان اور”ا“سے مراد الفت اور ن سے مراد نور ہے تو یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس مہینے میں عطافرماتے ہیں یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروزے کھول دیے جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے اور خطائیں ترک کردی جاتی ہیں اورگناہوں کا کفارہ عطاکیا جاتا ہے اوراس مہینے میں حضورپاک ﷺ پردورود بھیجنے کا مہینہ ہے کیونکہ اسی میں ہماری مغفرت ہے (غنیتہ الطالبین ج،۱،ص۶۴۲) ۔وہ مسلمان جسے نیکی اوربھلائی کے کاموں میں رغبت ہے وہ فرائض کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات کو بھی ترجیح دیتا ہے ۔جس طرح ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ ماہ شعبان میں نفلی روزے رکھتے تھے اللہ پاک ہمیں بھی توفیق عطافرمائیں اور ہمارا شمار ان لوگوں میں کریں جن کو جہنم سے نجات ملی ہے۔

Check Also

تحریک ِ ختم ِ نبوت ﷺ کچھ یادیں کچھ باتیں

  تحریک ِ ختم ِ نبوت ﷺ کچھ یادیں کچھ باتیں جمہور کی آواز ایم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *